Thursday, 29 July 2021

بزمِ افسانہ میں محمد علیم اسماعیل کا افسانہ دیوار پر بنی ہوئی تصویریں

سلام بن رزاق

محمد علیم اسماعیل ایک ہونہار افسانہ نگار ہیں۔ ’’دیوار پر بنی ہوئی تصویریں‘‘ ناسٹلجیائی کیفیت کو ظاہر کرتا ایک خوبصورت افسانہ ہے۔ ہر انسان کا ایک ماضی ہوتا ہے بالخصوص بچپن کی یادیں اسے بہت عزیز ہوتی ہیں۔  زیرِنظر افسانے میں افسانہ نگار نے بڑی ہنر مندی سے بچپن کی ایک یاد کو افسانے کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔

علیم خوب لکھتے ہیں اور خوب چھپتے ہیں۔ ان کے تقریباً سبھی افسانے میں نے پڑھے ہیں۔ کثرت نویسی کے سبب ان کے افسانوں میں یک رنگی آ گئی تھی لیکن ایسا لگتا ہے۔ یہ افسانہ ان کے سفر کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو گا۔ اور خدا کرے کہ ایساہی ہو۔ افسانہ نگار کو مبارکباد اور دعائیں۔ 


حسین الحق

اچھی کہانی ہے۔ قاری کہانی میں مشغول ہو جاتا ہے، کچھ نہ کہنے کے باوجود کہانی مسلسل کچھ ترسیل کرتی رہتی ہے اور اچھی بات ہے کہ جو کچھ تخلیقی شعور تک پہنچ رہا ہے اس کے بارے میں حتمی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جو ترسیل ہو رہی ہے یہ وہی ہے جو کہانی کار قاری تک پہنچانا چاہ رہا ہے۔ متن اپنی ترسیل میں قدرے آزاد محسوس ہو رہا ہے۔ اس کہانی میں تخلیقی تقاضوں کا خیال رکھا گیا ہے۔


ڈاکٹر رضوان الحق

افسانہ دلچسپ اور نہایت تخلیقی ہے۔ تخلیقی سے میری مراد یہ ہے کہ کسی واقعہ کو خواہ وہ حقیقی ہو، براہ راست نہیں پیش کیا گیا ہے۔ بلکہ ایک ایسی دنیا خلق کی گئی ہے جو افسانہ نگار کی خلق کردہ ہے محض سامنے کی حقیقت نہیں ہے۔


ملکیت سنگھ مچھانا

دیوار پر بنی ہوئی تصویریں، نے اپنا بچپن یاد دلا دیا۔

میں جب بھی شہر (بٹھنڈہ) سے اپنے گاؤں (مچھانا) جاتا ہوں تو بچپن کی یادیں مجھے گھیر لیتی ہیں۔ میں بڑی مشکل سے انھیں فاند کر شہر لوٹتا ہوں۔ سہل و سادہ جملوں میں ایک اچھا افسانہ تحریر کرنے پر میں جناب محمد علیم اسماعیل جی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔


محمد سراج عظیم

محمد علیم اسمعیل دنیائے افسانہ پہ ابھرنے والا ایک روشن ستارہ ہے جو اپنی روشنی سے ہر ایک کو اپنی جانب متوجہ کر لیتا ہے۔ یہ علیم کی کامیابی کی نشانی ہے۔ ’دیوار پر بنی ہوئی تصویریں‘ میں علیم عصر حاضر کی بھاگتی دوڑتی دنیا میں محض اپنی ذات کی غرض میں الجھ کر تمام سماجی سروکاروں کو بھلا کر بس مصروف ہے، اپنے ہی گردوپیش میں مگر یادوں کا nostalgia لاشعور میں مستقل دستک دیتا رہتا ہے اور نتیجتاً آخر کار دل کا دروازہ کھولنا پڑتا ہے اور پھر دل و دماغ پر اپنے وجود کی بارآوری سے کیف و سرور چھا جاتا ہے۔ 

ایک خوبصورت بیانیہ... بہت چابکدستی سے خود کلامی کے پیرائے میں کہانی کو ڈھالا گیا ہے۔ مجھے کہنے میں تردد نہیں یہ بہت اچھی کہانی ہے۔ علیم کو اس خوبصورت انداز پر ڈھیروں مبارکباد۔


انور مِرزا

دیوار پر بنی ہوئی تصویریں ... مطلب؟ کیا یہ راوی کے بچپن کی تصویریں ہیں...  یا ان تصویروں میں اُس کے رشتے دار ...ماں باپ یا بھائی بہن بھی ھیں...؟  جو اُس کے دُور چلے جانے پر رو رہے ہیں...اور اُسے اپنے پاس بُلا رھے ہیں...؟ ابتدا میں قاری صرف اندازہ لگاتا ہے کہ شاید ایسا ہی کچھ ہوگا...کیونکہ راوی کا اندازِ بیاں رمزیہ ہے... بالا آخر راوی بیس سال بعد امریکہ سے اپنے آبائی گاؤں آ جاتا ہے... ’امریکہ ریٹرن‘ راوی، گھر پریوار کے لوگوں سے ملاقات کا محض سرسری سا ذکر کرتا ہے...لیکن پُرانے دوستوں کے ساتھ گھنٹوں گزارنے اور گاؤں کے روایتی ’سکون‘ کی باتیں کرتا ہے...تب یہ راز کھُلتا ھے کہ راوی کو اُس کا کھویا ہوا بچپن بُلا رھا تھا...اور وہ بچپن اور بچّہ اُسے مِل بھی جاتا ھے... اِس طرح دیکھا جائے تو افسانہ نِگار محمد علیم اسماعیل صاحب کہانی میں تجسُس کی فضا برقرار رکھنے میں...اور اپنے خواب کو تعبیر دینے میں کامیاب ہیں... علیم صاحب کے لیے مبارکباد اور نیک خواہشات


جاوید نہال حشمی

انسان اپنی جڑوں سے جتنا بھی دور کیوں نہ ہو جائے، اپنی مٹّی سے تعلق بھلا نہیں پاتا۔ بھاگتی دوڑتی زندگی، موجودہ ماحول کی مصروفیات اس کے شعور پر تو اثر انداز ہوتی ہیں مگر لاشعور پر خود اس کا قابو نہیں ہوتا، لاشعور میں دبی خواہشات، امنگیں اور یادیں کب کس شکل میں اسے چونکا جائیں اسے خود پتہ نہیں ہوتا۔ روایتی بیانیہ سے ہٹ کر ایک نئے انداز میں ایک نئے طرز کے افسانے کی تخلیق پر علیم اسماعیل صاحب کو بہت بہت مبارک باد۔علیم صاحب تخلیقی فن کاری کی ارتقائی سیڑھیاں تیزی سے چڑھتے معلوم پڑ رہے ہیں۔


ڈاکٹر ذاکر فیضی

کہتے ہیں انسان کا اصل اثاثہ اُس کی یادیں ہوتی ہیں۔ اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ہم کسی نہ کسی شکل میں اپنے ماضی کو یاد کرتے  ہی رہتے ہیں۔ گُزرے زمانے کی کُچھ باتیں ہماری کوشش کے باوجود ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ علیم اسماعیل صاحب کی کہانی ’’دیوار پر بنی ہوئی تصویریں‘‘ کا مرکزی خیال یہی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار امریکہ سے جب گاؤں واپس آتا تو جس دیوار پر وہ  اپنے ساتھیوں کے ساتھ تصویریں بناتا تھا اُسی دیوار پر اُسے اپنا بچپن کھڑا ملتا ہے۔ خیال اچھا ہے۔ افسانہ مجھے پسند آیا۔ میں علیم اسماعیل صاحب کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔


طاہر انجم صدیقی

علیم اسماعیل صاحب کا افسانہ ’’دیوار پر بنی ہوئی تصویریں‘‘ واقعی ان کے دیگر افسانوں سے مختلف ہے۔ اس کا رنگ بھی جدا ہے اور انداز بھی۔ بس کہیں کہیں فطری طور پر پرانے رنگوں کی آمیزش ہوگئی ہے۔

اپنوں سے دور رہنے والوں کا کرب اور ماضی کی یادوں کے کچوکوں کو اس افسانے کا مرکز کرنے اور کامیابی کے ساتھ ایک متاثر کن افسانہ لکھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب محمد علیم اسماعیل صاحب شاید پرانے ڈھرے سے ہٹنا چاہتے ہیں اور ندرت کی تلاش میں ہیں۔ اللہ انھیں کامیاب و کامران رکھے۔


وسیم عقیل شاہ

علیم اسماعیل عصر حاضر کے تازہ کار افسانہ نگار ہیں۔ متواتر لکھتے رہنے اور چھپنے چھپانے کے اعتبار سے ان کی شہرت نوجوان نسل کے لکھنے پڑھنے والوں میں قدرے جدا ہے۔ ہندوستان بھر کے اکثر رسائل اور اخبارات ان کی تحریریں شائع کر چکے ہیں، پاکستان میں بھی آپ کی تحریریں یکساں طور پر شائع ہو رہی ہیں۔ اساتذہ کے مطابق علیم اسماعیل کے افسانے پہلے کے مقابلے اب بہت صاف، واضح اور نکھرے ہوئے آ رہے ہیں۔ پیش کردہ ان کا افسانہ ’’دیوار پر بنی ہوئی تصویریں‘‘ عمدہ اسلوب و تکنیک میں تحریر ہے جو فطرت کے ایک اہم خیال کو پیش کرتا ہے۔

اس افسانے (دیوار پر بنی ہوئی تصویریں) میں علیم اسماعیل نے غریب الوطنی کے کرب کو تازہ و شگفتہ اسلوب میں بہت ہی دردمندانہ اور متاثر کن طریقہ سے پیش کیا ہے۔

ہم ہر نئے دن نیا اجالا، نیا جہاں دیکھتے ہیں، زندگی کرنے کی تگ و دو میں بڑی سے بڑی منزل کو جا لیتے ہیں۔ ترقی کے نام پر دنیا ہمارے قدموں میں تک آ جاتی ہے۔ لیکن جہاں ہمارے ابتدائی دن گزرے اور جہاں کی دھرتی کے گداز لمس کو ہمارے پیر کے کومل تلّو نے اپنے وجود میں سرایت کیا تھا، انسانی فطرت ہے کہ ہم اس زمین کو فراموش نہیں کر پاتے۔ اس زمین کا تقاضا بھی یہ نہیں ہوتا کہ وہاں کوئی یادگار تعمیر کر کے اسے مقدس ثابت کیا جائے مگر وہ اس کی بھی آشا نہیں کرتی کہ اسے یکسر بھلا دیا جائے۔

یہاں علیم اسماعیل نے بظاہر  انسان کی اسی جذباتی کیفیت کو موضوع قلم بنایا ہے۔ تاہم کچھ ذاتی مفادات اور جھوٹی شان کے لیے اپنی ذات کو کسی دوسری مشہور جگہ، مقام سے منسوب کرنے کے غیر اخلاقی عمل کا یہ خیال بھی منکشف ہوتا ہے۔ شاید یہ خیال لا شعوری طور پر افسانے کا حصہ ہوگیا ہے کیوں کہ اس میں اس بات کا کوئی واضح اِشارہ نہیں ہے۔ لیکن اچھے افسانے اپنے اندر معنوی تہہ داریاں اور مفہوم کے مختلف جہات رکھتے ہیں۔ ایک بہت اچھے افسانے پر علیم اسماعیل صاحب کو مبارک باد۔


فریدہ نثار احمد انصاری

انسان کبھی اپنے خوابوں کے راستے کا تعین نہیں کرتا، وہ خود بخود ہی نظر آتے ہیں۔ انھیں کبھی تصور کا نام منسوب کیا گیا تو کبھی خیالات کا۔ انسان کے خیالات اس کے تحت الشعور سے لاشعور کا سفر کرتے ہیں اور یوں کسی چیز کی چاہ اس کے خوابوں میں نظر آتی ہے۔ بعض دفعہ یہ اتنے اسٹرانگ ہو جاتے ہیں کہ ان کا اثر سیدھا زندگی پر پڑتا ہے۔ سائیکالوجی کی اصطلاح میں یہ وہ عکس ہوتے ہیں جو دل کی چاہ کو آنکھوں کے غلاف میں چھپا لیتے ہیں۔ مذکورہ افسانہ بھی ایک خواب نامہ ہے جس میں راوی ایک دیوار کو ہمیشہ دیکھتا ہے اور یہ خواب اسے آخر سالوں بعد اپنے وطن کا سفر کروتا ہیں۔ مشاہدے گواہ ہیں کہ بہت دور سمندر پار مثلاً امریکہ، کینڈا یا کوئی یورپی ملک جانے والے جلد لوٹ کر نہیں آتے۔ حالات اجازت ہی نہیں دیتے۔ یہی اسباب انھیں خوابوں کے جھروکوں میں لے جاتے ہیں اور ان میں سے وہ تارکین وطن حالات کے موافق ہوتے ہی اپنی جڑوں کی طرف پھر لوٹ آتے ہیں۔

قابل قلم کار نے اسی درد کو دیوار بنا کر پیش کیا اور راوی اپنے دیس بچپن کی یادیں لیے لوٹ آیا اور آخر اس کا خواب شرمندہ ء تعبیر ہو گیا۔ قلم کار نے منفرد انداز اپنایا۔ اور قلم کی جولانیوں نے ایک عمدہ کاوش کو قرطاس پر پینٹ کیا۔ اختتام نے عنوان کا حق ادا کیا۔ دلی مبارکباد و نیک خواہشات


ڈاکٹر نور الصباح

موصوف کا یہ افسانہ ان کے دوسرے افسانوں سے مختلف ہے۔ دیوار کو علامت بناکر انھوں نے لاشعور میں مجتمع یادوں کو باہر لانے کی سعی کی ہے، جو کامیاب ہے۔ بچپن کی یادوں کو روایت کے الگ مختلف تکنیک میں بیان کرکے انھوں نے ایک عمدہ افسانہ لکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔


تنویر احمد تماپوری

عموماً علیم صاحب کے افسانے الگ طرح کے ہوتے ہیں۔ ان کی زنبیل میں نئے طرز کا اضافہ دیکھ کر خوشی اور حیرت ہوئی۔ مختصر اور چست۔ بچپن کی بے سروپا باتوں اور سوچ کو نہایت اچھے پیرائے میں باندھا گیا ہے۔ اچھا لگا۔ تحریر بچپن کی یاد دلاگئی۔مبارکباد۔


ڈاکٹر عارف انصاری

تحت الشعور میں موجود یادیں سبھی کو خواب کی شکل میں نظر آتی ہیں چاہے وہ کل ہی بات کیوں نہ ہو، اس حقیقت کو علیم اسماعیل صاحب نے افسانہ کے قالب میں ڈھالا ہے۔ یہ افسانہ ان کے دیگر افسانوں، افسانچوں سے واقعتاً مختلف ہے۔ اس بار افسانہ نگار نے لمبی چھلانگ لگائی ہے اور اس افسانے کو نئے انداز سے گڑھنے کی سعی کی ہے۔ جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ علیم صاحب کی نئے پن کی تلاش اور اس افسانے کو بزم کی وال پر لگا نے پر موصوف کی خدمت میں مبارک باد...


ڈاکٹر انیس رشید خان، امراؤتی

یہ افسانہ ایک آئینے کی طرح ہے جس میں جھانکنے والے کو اپنی ہی صورت دکھائی دیتی ہے۔ ’’وہ ایک بڑی سی دیوار ہے‘‘ جو ماضی کے، خصوصاً بچپن کے زمانے کی تحت الشعور میں بسے گاؤں کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک انسان زندگی میں چاہے کتنی بھی ترقی کرلے، کہیں بھی چلا جائے، بچپن کی یادیں ایک تصویر کی طرح اس کے دماغ میں محفوظ رہتی ہیں۔ اچھا انداز بیان ہے۔ افسانہ نگار کو بہت بہت مبارک باد۔۔۔


سید اسماعیل گوہر

اگر کسی افسانہ میں انسانی جذبات و احساسات کو شامل کردیا جائے تو وہ افسانہ قاری کے دل و دماغ پر دیرپا تاثرات چھوڑتا ہے۔ افسانہ پڑھتے ہوئے قاری جذبات کی رو میں بہنے لگتا ہے۔ احساس کی ایک نئی چنگاری اس کے دل و دماغ کے کسی کونے میں پڑی راکھ کو ہوا دینے لگتی ہے۔ قاری کے اندرون میں کشمکش جاری ہو جاتی ہے۔ علیم اسماعیل کے بیشتر افسانے جزبات و احساسات سے بھرے ہوتے ہیں۔ ان کی تحریر سے قاری کے دل ودماغ پر ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ 

زیر بحث افسانہ... دیوار پر بنی ہوئی تصویریں... علیم اسماعیل کا بالکل تازہ افسانہ ہے۔ ان کے بیشتر افسانے سادہ بیانیہ ہوتے ہیں، لیکن اس افسانے میں انھوں نے کچھ نیا کرنے کی کوشش کی ہے۔ 

جہاں تک مجھے معلوم ہے۔ آجکل وہ سریندر پرکاش کے افسانوں کا مطالعہ کر رہے ہیں، اسی لیے اس طرح کا فکشن ان کے قلم سے نمودار ہوا ہے۔

افسانے میں ماضی کے واقعات راوی کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ وہ سمجھ نہیں پاتا کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے۔ آخر کار جب وہ امریکہ سے اپنے گاؤں لوٹتا ہے۔ اور اپنے بچپن، کے دوستوں سے ملتا ہے۔ تو چلتے چلتے اسے وہی دیوار اور اس پر ابھری ہوئی تصویریں دکھائی دیتی ہیں جو عرصہ سے اسے لاشعوری طور پر اپنی طرف کھینچے ہوئی تھیں۔ علیم اسماعیل کی عام روش سے ہٹ کر لکھنے کی یہ کوشش قابلِ ستائیش ہے۔


راحیل ابن انجم

علیم اسمعیل دور حاضر کے تازہ کار افسانہ نگار ہیں۔ ملک کے اکثر رسائل و اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں۔

’’دیوار پر بنی تصویر یں‘‘ ان کا بالکل تازہ اور جدا افسانہ ہے۔

افسانہ شروع ہوتا ہے اور دھیرے دھیرے اپنے اختتام کی طرف بڑھتا ہے۔ افسانہ پڑھتے ہوئے میرے ذہن میں بار بار یہ سوالات آ رہے تھے کہ آگے کیا ہوگا؟ اور جو ہو رہا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ افسانے  کی بنت کافی مضبوط ہے۔ کہانی میں اپنے آپ کو پڑھوانے کی بھرپور طاقت ہے۔ بیانیہ ذرا ہٹ کر ہے۔ ایسا بالکل بھی محسوس نہیں ہوا کہ افسانے کا کوئی حصہ غیر ضروری ہو۔ افسانے  میں اپنی مٹی سے محبت اور بچپن کی یادوں کو تخلیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اختتام بھی بڑا معنی خیز ہے۔ مجموعی طور سے افسانہ مجھے پسند آیا۔


محمودہ قریشی آگرہ

دیوار پر بنی ہوئی تصویریں ایک نیم علامتی افسانہ ہے۔

علامتی افسانے جلد سمجھ میں نہیں آتے لکین یہ افسانہ ایک ہی قرأت میں سمجھ میں آ گیا۔ جو ایک کامیاب افسانے کی دلیل ہے۔ افسانہ ذہن کو کافی متوجہ کر کے لکھا گیا ہے۔