بزمِ افسانہ میں،افسانہ’چھُٹّی‘
’بزمِ افسانہ‘ ایک واٹس ایپ افسانہ فورم ہے۔ جو مشہور و معروف افسانہ نگار سلام بن رزاق کی سر پرستی میں افسانے کی ترویج و ترقی کا فعل انجام دے رہا ہے۔ یہاں ایڈمن پینل کی جانب سے روزانہ ایک افسانہ پیش کیا جاتا ہے۔ شامل گروپ اراکین پیش کردہ افسانے پر تبصرے، تجزیے اور اظہارِ خیال کرتے ہیں۔ زبان و بیان، اسلوب، تکنیک غرض کہ افسانے کے مختلف پہلوؤں پر 23 گھنٹے بات ہوتی ہے۔ آخری ایک گھنٹے میں تخلیق کار اپنے تاثرات پیش کرتا ہے۔ پھر اس کے بعد دوسرا افسانہ پیش کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ سلسلہ 19 اپریل 2020 سے جاری ہے۔ گروپ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ جس میں پورے ملک (انڈیا) سے معروف، غیر معروف، سینئر اور جونیئر 257 افسانہ نگار و نقاد شامل ہیں۔ یہاں کئی فکشن کے نقاد موجود ہیں، جو عوام کے مسائل، زبان و قواعد، کرداروں کی نفسیات، اسلوب، حسن و مسرت، جمالیاتی اقدار اور سائنٹفک نقطہء نظر کے تحت افسانے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ دیگر اراکین کی جانب سے سرسری تاثرات بھی مل رہے ہیں۔ اس طرح ایک افسانے پر ترقی پسندی، نفسیاتی، اسلوبیاتی، تاثراتی، سائنٹفک اور جمالیاتی تنقیدی نظریات کے تحت بات ہو رہی ہے۔ بزمِ افسانہ پورے ہندوستان میں، افسانے کا ایک بہترین تنقیدی فورم بن گیا ہے۔ یہاں آسمان ادب کے کئی ستارے اکھٹا ہوئے ہیں۔ گروپ کے ایڈمن پینل میں وسیم عقیل شاہ، طاہر انجم صدیقی، محمد علیم اسماعیل اور اسمعیل گوہر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اس گروپ میں محمد علیم اسماعیل کا افسانہ ”چھُٹّی“ برائے تنقید و تبصرہ پیش ہوا تھا۔’بزمِ افسانہ‘ سے چند منتخب تبصرے، تجزیے اور تاثرات۔
سلام بن رزاق:
کہانی اچھی ہے۔ شعور کی رو کے تحت اکہرے بیانیہ میں کہانی۔ بُننا آسان نہیں ہوتا۔ تاہم علیم نے اپنی رواں اور شستہ نثر کے سہارے کہانی کو بچالیا۔ علیم اسماعیل ایک ہونہار، ذہین اور محنتی قلم کار ہیں۔ ان کی تحریروں کا میں بھی مداح ہوں۔ افسانہ ”چھُٹّی“ ان کا تازہ افسانہ ہے۔ افسانے میں علیم اسماعیل نے کہیں یہ نہیں بتایا ہے کہ وکیل صاحب افسانہ نگار کے بڑے بھائی تھے۔ لیکن ان کی تحریر سے جھلکتا درد یہ راز فاش کرتا ہے کہ راوی خود افسانہ نگار ہے، اور وکیل صاحب افسانہ نگار کے بھائی تھے۔ اس اعتبار سے بڑے بھائی کی موت پر جذبات کے اظہار میں تو افسانہ نگار کامیاب ہے مگر جذبات کا وفور افسانے کی افسانویت کو نگل جاتا ہے۔ افسانہ لکھتے ہوئے معروضیت لازمی ہے کیوں کہ معروضیت ہی ایسا انکُش ہے جو جذبات کے ہاتھی کو قابو میں کر سکتا ہے۔ ورنہ جذبات کا ریلا افسانہ نگار اور افسانہ دونوں کو غرق کر سکتا ہے۔ بیشتر مبصرین نے علیم اسماعیل کے روشن مستقبل کی پیشن گوئی کی ہے، خاکسار بھی ان سے اتفاق رکھتا ہے۔ علیم اسماعیل ابھی لکھنے کے ابتدائی مراحل سے گزر رہے ہیں لیکن ان کی تازگی اور زبان و بیان پر ان کی قدرت حیرت انگیز ہے۔ یہی زبان و بیان کا انداز انھیں بہت دور تک لے جائے گا۔ اان شاء اللہ تعالٰی! نیک خواہشات اور توقعات کے ساتھ!
ذکیہ مشہدی:
میں اگر کسی افسانے پر کچھ کہنا چاہتی ہوں تو عموماً دوسرے تبصروں کو نہیں دیکھتی ہوں کہ وہ راے پر اثر انداز نہ ہوں لیکن کچھ دیر پہلے موبائل کھولا تو غضنفر صاحب کے نام پر نظر پڑی اور ان کی یہ بات بہت صحیح محسوس ہوئی کہ آپ افسانہ نگار پر کوی تکنیک لاد نہیں سکتے کہ یوں لکھو، ووں نہ لکھو۔ اور ایسے اصول و ضوابط ہیں بھی نہیں جن کی پیروی کرنی لازمی ہو۔ اس لیے افسانہ چھٹی کی تکنیک کا جہاں تک سوال ہے اس پر انگلی اٹھانا (اگر کسی نے اٹھائی ہو تو) مناسب نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ تکنیک جو بھی ہو افسانہ موثر ہے یا نہیں۔ تو علیم اسماعیل صاحب تاثر پیدا کرنے میں خاصی بڑی حد تک کامیاب ہیں۔ کچھ جملوں میں درد کی کاٹ ہے جیسے والد کا جملہ اور آگے کہیں یہ کہ ایک کامیاب وکیل کی لاش علاج کے اخراجات نے غربت کی دہلیز پر لاکر رکھ دی۔ یہ بھی خوبی ہے کہ کہیں میلو ڈرامائی ہاے ہاے نہیں ہے۔ غم کا اظہار مبالغہ آمیز نہیں ہے۔ آپ میں مجھے صلاحیت نظر ارہی ہے لکھیے، لکھیے اور لکھیے۔
سید محمد اشرف:
محمد علیم اسمعیل کا افسانہ ”چھُٹّی“ پڑھا۔ محرومی اور غم و اندوہ کے ایک تجربے یا مشاہدے کو خود کلامی کی تکنیک کے سہارے سوانحی انداز سے لکھنے کی پر خلوص کو شش ہے۔ یہ کوئی کلیہ نہیں لیکن عموماً افسانے میں ”عمل“ کا بہت بڑا دخل ہوتا ہے یعنی کچھ ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے۔ اس افسانے میں عمل کے ذکر کی کمی کی وجہ سے افسانہ پوری طاقت نہیں پکڑ پاتا۔ وکیل صاحب کے کردار سے ہمدردی تو پیدا ہوتی ہے لیکن ہمدردی کا وہ جذبہ کہانی میں شروع سے آخر تک یکساں رہتا ہے کیونکہ پوری کہانی کا سراغ ابتدا میں ہی دے دیا گیا ہے۔ سن اور تاریخ دینے کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ سب لکھتے وقت دل کو اچھا نہیں لگ رہا ہے کیوں کہ ممکن ہے ان باتوں سے ایک جواں سال اور با حوصلہ قلم کار کی دل شکنی ہو رہی ہو لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ یہ افسانہ نگار اپنے اندر بیان کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے اور افسانے میں کوئی تو ایسی چیز ہے جو قاری کو افسانہ نگار کے غم میں دیر تک شریک رکھتی ہے۔ یہ بھی کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ محمد علیم اسمعیٰل کے لیے بہت سی دعائیں اور نیک خواہشات۔
پروفیسر غضنفر:
افسانے کی کوئی مخصوص تکنیک نہیں ہوتی۔ افسانہ نگار کسی بھی تیکنیک میں کہانی کہہ سکتا ہے۔ ہم اسے ڈکٹیٹ نہیں کر سکتے کہ وہ اپنی کہانی کسی مخصوص ٹیکنیک ہی میں کہے۔ ویسے میرے خیال میں کہانی کہنے کا جو انداز افسانہ ”چھُٹّی“ میں اپنایا گیا ہے، وہ اس سے ہٹ کر ہے جو انداز عام طور پر افسانوں میں اپنایا جاتا ہے۔ اسی لیے اس کہانی کو پڑھتے ہوئے تھوڑی تازگی کا احساس بھی ہوا۔ یہ بھی اچھی بات ہے کہ وفور، جذبات کے باوجود افسانہ نگار کہانی کہنے کے اس انداز کو آخر تک نبھانے میں کامیاب رہا ہے۔ کہانی کا ایک وصف یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ قاری کو اپنی گرفت میں لے لے۔ مجھے اپنی گرفت میں لینے میں یہ کہانی کامیاب ہوئی ہے۔ اس کے لیے داد اور مبارک باد۔
پروفیسر طارق چھتاری:
آزاد تلازمہء خیال کی تکتیک میں راوی اپنے بھائی کی زندگی کا تجزیہ اس کی موت کے حوالے سے کر رہا ہے۔ کبھی اس سے detach ہوکر تو کبھی جذباتی طور پر اس کی ذات کا حصہ بن کر۔ یادوں کا چشمہ پھوٹتا ہے اور بظاہر غیر مربوط مگر باطنی طور پر نہایت مربوط یادیں شعور کی رو کی طرح اس کے ذہن میں آتی چلی جاتی ہیں۔ راوی کا مرنے والے سے رشتہ اور تکلیفوں کے ساتھ موت کا واقعہ بیان میں جذباتیت پیدا کر دیتا ہے، جو عین فطری ہے۔ اس افسانے کا موضوع شاید ”صبر“ ہے۔ صبر کرنے میں راوی کو ان واقعات اور خیالات سے مدد ملتی ہے کہ مرنے والے کی زندگی میں آنے والی بے شمار تکلیفوں نے اسے گناہوں سے پاک کر دیا ہے اور اسکی خطائیں اللہ نے معاف کر دی ہیں۔ علاوہ ازیں بھائی کی موت پر صبر کرنے میں وہ واقعات بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں جو اس کے نیک کاموں، اور دوسروں کی مدد کرنے، طرح طرح سے ان کے کام آنے سے متعلق ہیں۔ لہذا اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کا بھائی موت کے وقت نو زائیدہ ”بچے“ کی مانند گناہوں سے پاک ہے۔ لہذا اللہ اس کی مغفرت کرے گا۔ اور اس طرح ”صبر“ اس کا بنیادی موضوع قرار پا سکتا ہے۔ میری رائے میں 2nd person میں افسانے کا بیان کیا جانا موضوع کے لحاظ سے مناسب تجربہ معلوم ہوتا ہے۔ مردے سے ہم کلام ہونا راوی سے قربت اور وابستگی کا ثبوت بھی ہے۔
پروفیسر بیگ احساس:
علیم اسماعیل کا افسانہ ”چھُٹّی“ پڑھا۔ مجھے اچھا لگا۔ علیم نے دل نکال کر رکھ دیا ہے۔ اور خون دل میں انگلیاں ڈبو کر یہ افسانہ لکھا ہے۔ جن سے جذباتی تعلق ہوتا ہے وہ خود لکھوا لیتے ہیں۔ ایسے کئی نوجوان ہیں جنھوں نے گھریلو ذمہ داریاں نبھاتے نبھاتے خود کو ختم کر لیا ہے۔ ایک تو بچنے کی امید نہیں، پیسہ خرچ ہو جانے کا اذیت ناک احساس، نا قابل برداشت تکالیف، ایک ایک عضو کا دھیرے دھیرے بے کا ر ہو جانا، قسطوں میں مرنا آسان نہیں ہوتا۔ علیم نے متوسط گھرانے کے کرب کی سچی تصویر کشی کی ہے۔ ایک بھائی کو اس سے بہتر خراجِ عقیدت پیش نہیں کیا جا سکتا۔ مبارک باد دوں کہ پرسہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ ذاتی صدمہ بہترین ادب کی تخلیق میں ممد و معاون ہوتا ہے۔
ڈاکٹر ایم اے حق:
کہانی کی بنت میں کردار اہم رول ادا کرتا ہے۔ شوکت حیات، مشرف عالم ذوقی، محمد بشیر مالیر کوٹلوی، نورالحسنین، سید احمد قادری، پروفیسر اسلم جمشید پوری، اور اشتیاق سعید جیسے بڑے قلمکاروں نے کردار میں خود کو سمو کر کامیابی کی بلندیاں حاصل کی ہے۔زیر نظر افسانوی مجموعہ ”رنجش“ کی کہانی ’چھٹی‘ میں علیم اسماعیل نے چھوٹے بھائی کے کردار میں خود کو بالکل ضم کر دیا ہے۔ اور اپنے سارے جذبات و احساسات کے ساتھ بھائی کی محبت کو جنون کی حد تک اپنے وجود پر اوڑھ لیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ قاری کی آنکھیں بھی کہانی کے اختتام پر بھیگ جاتی ہیں۔ اتنی کم عمری میں علیم نے اس فن میں مہارت حاصل کرنے کی جو کوشش کی ہے وہ لائق ستائش ہے۔ ان کی بیشتر کہانیوں میں بھی کردار نگاری کا فن، عروج کی جانب گامزن نظر آتا ہے، جیسے افسانہ ’قصور‘ میں ویٹر کا کردار۔
مشتاق احمد نوری:
محمد علیم اسمٰعیل کی ”چھُٹّی“ پر اتنی ساری باتیں پڑھ کر میں تھوڑا گھبرا گیا کہ اب کہانی پڑھ کر کیا فائدہ جب لوگوں نے اس کے کہانی ہونے سے ہی انکار کردیا ہے۔لیکن ہمت کرکے جو شروع کیا تو کہانی نے مجھے ایسا پکڑا کہ ختم کرکے ہی دم لیا۔ جو کہانی خود کو پڑھوا لے وہ کامیاب ہوتی ہے۔ ہر کہانی اپنا اسلوب لے کر آتی ہے، اور یہ کہانی کار طے کرتا ہے کہ اسے کس طرح بیان کرنی ہے۔ راوی میں، تم یا وہ سے شروع کرے، یہ اس کا حق ہے۔ کہانی یہاں قربت کی وجہ سے تم سے شروع ہوئی جو بہتر ہے۔ 1978 میں نے ایک افسانہ لکھا تھا، جو تم سے شروع ہوا تھا۔ شوہر دفتر سے کافی رات گئے واپس آتا ہے اور بیمار بیوی کو اپنی روداد کے ساتھ اس کی محبت یاد دلاکر باتیں کرتا ہے۔ آخر میں راز کھلتا ہے کہ بیوی مرچکی ہے۔ لیکن علیم کا کمال یہ ہے سب کو معلوم ہے وکیل صاحب مرگئے پھر بھی کہانی زندہ رہ گئی۔ کچھ لوگوں کو واقعات کے بیان میں بے ترتیبی نظر آئی، یہی تو حسن ہے کہانی فلیش بیک تکنیک میں بیان کی گئی ہے۔ اگر ترتیب سے سارے مناظر پیش کئے جاتے تو یہ رپوتاژ ہوجاتی۔میں نے علیم کا نام اس سے قبل نہیں سنا ان کی یہ پہلی کہانی پڑھی جو مجھے تو نہ بے ربط لگی نہ ہی کہانی پن سے محروم۔تنقید کا بنیادی مقصد ہوتا ہے تخلیق سے جمالیات کشید کرنا نہ کہ کرید کر نقائص گنانا یا پھر قلم کار کو ڈکٹیٹ کرنا کہ اسے ایسا کرنا چاہیے ایسا نہیں کرنا چاہیے بلکہ لطف اس نکتے کو تلاش کرنے میں ہے کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔میں علیم اسمٰعیل کو یہ بتانا چاہوں گا کہ میں نے ان کی تحریر میں ان کے خوش آئند مستقبل کی دھمک محسوس کی ہے۔
شبیر احمد:
بڑی پراثر تحریر ہے۔ فضا بندی کا کیا کہنا! ایسا لگتا ہے مصنف نے اس کرب کو جھیلا ہے۔ دل خراش زندگی کا ایک ایک لمحہ جیا ہے۔ ہر سطر سے سوز و گداز ابلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایک لفظ درد میں نہا ہے۔ جو دل کے تاروں کو جھنجھوڑ جاتا ہے۔اس پر کہانی کہنے کا یہ انداز۔ معلوم ہوتا ہے، تمام مناظر آنکھوں کے سامنے ابھر آئے ہیں۔ اس افسانے سے ظاہر ہوا کہ محمد علیم اسمعیل صاحب اختراعی ذہن رکھتے ہیں، جو ایک تخلیق کار کا بہت بڑا سرمایہ ہے۔ امید ہے وہ مستقبل میں اس سرمائے کا استعمال اور بھی موثر اور نفع بخش انداز میں کریں گے۔ خوش باش۔ اللہ کرے ہو زور قلم اور زیادہ۔
معین الدین عثمانی:
چھٹی جس کا نام رخصت یا پھر ڈسچارج بھی ہو سکتا تھا۔ یہ علیم اسماعیل کی انسانی رشتوں پر مبنی فریم سے ہٹ کر لکھی گی ایک موثر کہانی ہے۔ جس میں مطالعاتی وصف ہی اس کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ دراصل ہم اکثر روایتوں کی پاسداری ہی میں عافیت سمجھتے ہیں جبکہ بعض دفعہ روایت شکنی بھی حسن کے اضافے کا باعث بن جاتی ہے۔ بس ذرا حوصلہ اور ڈگر سے ہٹ کر چلنے کی جرات چاہیے۔ علیم نے اپنے ابتدائی ایام ہی میں یہ جرات رندانہ کی سعی فرمائی ہے۔ جس کے لے داد ہی دینا چاہیے کہ،.....
رفتہ رفتہ آجاتا ہے اظہار جذبات کا ڈھنگ
تازہ تازہ درد اٹھا ہے پہلا پہلا رونا ہے
علیم کے لیے روشن ادبی مستقبل کی دعائیں۔
پروفیسر اسلم جمشید پوری:
”چھُٹّی“ محمد علیم اسماعیل کا دوسرے مجموعے ”رنجش“ کا پہلا افسانہ ہے۔ علیم اسماعیل اردو کے تازہ کار افسانہ نگار ہیں۔ ان کا اردو افسانے کی دنیا میں ابھی چار پانچ برس قبل ہی داخلہ ہوا ہے۔ لہٰذا ان کے افسانوں کو اسی پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ ”چھُٹّی“ درد و غم کو اپنے دامن میں سمیٹے ایک اچھی کوشش ہے۔ کہیں کہیں افسانہ نگار خود بھی نظر آ رہا ہے بلکہ کھل جاتا ہے کہ یہ راوی کوئی اور نہیں محمد علیم ہی ہے۔ بہرِ حال یہ محمد علیم اسماعیل کی اچھی کاوش ہے۔ سب سے بڑی اور اہم بات یہ ہے کہ یہ محمد علیم کا افسانہ ہے۔ بہت بڑا اور شہکار افسانہ جیسے الفاظ سے گریز کرتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک نو وارد کا نقشِ اول ہے۔ علیم کے اندر لگن، نیا کرنے کا جذبہ اور کہانی کی چنگاری ہے۔ مجھے یقین ہے۔
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
محمد سراج عظیم:
میں نے پہلی بار ’بزمِ افسانہ‘ کے توسط سے محمد علیم اسماعیل کا افسانہ پڑھا۔ اس سے پہلے ان کا کوئی افسانہ میری نظر سے نہیں گزرا۔ بہرِحال علیم کے سلسلے میں ایک بات پورے وثیق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ان کی تحریر سے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ ہم مستقبل کا ایک بہترین مصنف دیکھ رہے ہیں۔ اب اس کو میں افسانہ کہوں یا انتہائی دلگداز تاثرات جو ان کا ذاتی درد لگتا ہے کیون کہ بیانیہ میں جن جزئیات کا ذکر کیا گیا ہے وہ کبھی بھی اج تک میری نظروں سے اتنے منظم طریقے سے نہیں گزرے۔ جزئیات کے بغیر منظر نگاری ممکن نہیں۔ چھوٹی چھوٹی دیٹیل اور اتنی صحیح سیکیوئنس میں افسانہ میں کم ہی ملتی ہے۔ یہ علیم صاحب کا ذاتی یا کسی رشتے دار یا دوست کا واقعہ ہے جسکو انھوں نے بہت رقیق اور دلسوز انداز میں قلمبند کیا ہے۔ علیم اپنی تحریر سے قاری کے اوپر کلائمکس تک گرفت قائم رکھنے میں کامیاب ہیں۔ میں اس بات سے متفق ہوں کہ قلم کار کی تحریر اس کی اپنی ذہنی کیفیت، گردو پیش، ذاتی جذبات، کہانی، محرکات، تخیلات پر منحصر ہوتی ہے۔ افسانہ ”چھُٹّی“ بہت خوبصورت اور پر تاثر افسانہ جس نے تھوڑی سی دیر کے لیے ملول کر دیا، یہی فاضل قلم کار کی کامیابی ہے۔ میں علیم اسماعیل کے روشن مستق میں اس بات سے متفق ہوں کہ قلم کار کی تحریر اس کی اپنی ذہنی کیفیت، گردو پیش، ذاتی جذبات، کہانی، محرکات، تخیلات پر منحصر ہوتی ہے۔ افسانہ ”چھُٹّی“ بہت خوبصورت اور پر تاثر افسانہ جس نے تھوڑی سی دیر کے لیے ملول کر دیا، یہی فاضل قلم کار کی کامیابی ہے۔ میں علیم اسماعیل کے روشن مستقبل کے لیے دعاگو ہوں اور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ڈاکٹر ریاض توحیدی:
محمد علیم اسماعیل کے افسانے/افسانچے فیس بک، آخبارات و رسائل میں نظر سے گزرتے رہتے ہیں۔ چند افسانچے پسند بھی آئے ہیں۔ پیش نظر افسانے کی کہانی پڑھ کر ایسا محسوس ہوا کہ جیسے یہ ان کے کسی قریبی رشتہ دار یا دوست کی وفات کی جزبات انگیز نوحہ خوانی ہے، جو کہ تخلیقی قالب پیکر میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور واقعی افسانہ نگار نیبھائی کی جدائی کے درد و کرب کو لفظوں میں ایسے پیش کیا ہے کہ قاری کا دل بھی خون کے آنسو رونے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اور ابّا کی بھرائی ہوئی آواز ”طبعیت خراب ہے یا انتقال ہوگیا ہے۔“ ایک جملا داستان پر بھاری ہے۔ میں سوچتا ہوں اس وقت ابّا اور گھر والوں کی کیا حالت رہی ہوگی۔ یہ تو رہا موضوعاتی بیان اب اگر فنی نظر سے دیکھیں گے تو افسانہ پہلے کچھ حد تک کہانی کی صورت اختیار کر گیا ہے، تاہم بعد میں جذبات کا غلبہ پلاٹ پر اتنا اثر انداز ہوا کہ پلاٹ منتشر ہوکر اطلاعاتی پیغام جیسا بن گیا ہے جس میں بھائی کی زندگی، پیشہ اور روابط کی تفصیل دی گئی ہے۔ البتہ بچھڑنے کا کرب ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔
انور مرزا:
افسانہ بیان کرنے کی تکنیک اچھی ہے۔?وکیل صاحب کی کردار نگاری خوب ہے۔ کرب ناک حالات سے دوچار انسان کی زندگی کے آخری مگر پر امید دنوں کی روداد انتہائی جذباتی انداز میں پیش کی گئی ہے۔ خاص طور پراسپتال سے گھر لوٹ آنے کی فطری خواہش۔ بیانیہ میں روانی خوب ہے۔میں سمجھتا ہوں افسانہ جیسا بھی ہو، مگر قاری کو اپنے ساتھ لے چلنے میں اور آبدیدہ کر دینے میں تو کامیاب ہے۔ مبارکباد
طاہر انجم صدیقی:
محمد علیم اسماعیل صاحب کا افسانہ ”چھٹی“ کرشن چندر کے افسانہ ”کالوبھنگی“ کی سی تکنیک پر لکھا گیا افسانہ ہے۔ اس میں وہ کالو بھنگی کی زندگی کی بے وقعتی پر لکھتے چلے جاتے ہیں اور محمد علیم اسماعیل صاحب راوی کی زبانی اپنے بھائی کی بیماری اور موت کے بارے میں لکھتے جاتے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ وہ اس اس افسانے میں کامیاب ہیں۔ بس ایک بھائی کا بار بار وکیل صاحب وکیل صاحب بولتے چلے جانا ذرا بھلا نہیں لگتا۔
اپنے افسانے میں جذبات نگاری میں علیم صاحب کامیاب ہیں۔نیز افسانے کے آخری پیراگراف میں راوی کی زبان سے ذیل کے جملے ذرا عجیب لگتے ہیں:
”کئی راتوں کی نیند باقی ہے میرے بھائی اب قبر میں سکون سے پوری کر لینا۔ تم نے دنیا میں اتنی ساری تکلیفیں صبر و شکر کے ساتھ برداشت کیں، جس نے تمھارے تمام گناہوں، خطاؤں کو ایسے جھڑا دیا جیسے پت جھڑ کے موسم میں درختوں سے پتے اور تم اب ایسے ہو گئے جیسے ابھی ماں کے پیٹ سے جنم لیا ہو۔“
البتہ اگر یہاں ”ہوسکتا ہے“ کا استعمال کرلیتے تو علیم صاحب اس اعتراض سے بچ جاتے۔
رخسانہ نازنین:
یہ افسانہ پہلے بھی پڑھا تھا۔ ایک بار پھر وہی درد دل میں اتر گیا۔ سب سے زیادہ دکھ بھرا لمحہ وہ ہے جب اسپتال سے چھٹی ملنے کے بعد گھر جانے کی تیاری ہورہی تھی اور اجل کا بلاوا آگیا۔ کیا سماں ہوگا وہ اور کیسی قیامت بیتی ہوگی دلوں پر، سوچ کر بھی روح کانپ جاتی ہے۔ عام طور پر ایک فرضی افسانہ لکھنا آسان ہوتا ہے مگر جو دل پہ بیت چکی ہو اسے قلمبند کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ قلمکار نے اس تحریر میں اپنے سچے جذبات واحساسات کا اظہار کیا ہے۔ قاری کے دل میں اتر جانے والا دکھ۔
منور پاشا ساحل:
افسانہ کو عصری موضوعات اور رجحانات سے آراستہ کرنے کی لگن لیکر بزم افسانہ کا قیام اور اس کی کاوروائی کو ذمہ داری سے پورا کرنے والے محترم علیم اسماعیل صاحب نے افسانہ کو چھٹی کے ذریعہ ایک نیا ویژن دیا ہے تاکہ اگلے دور میں جب افسانہ اپنی روایاتی شناخت کو کھو چکا ہوگا تب چھٹی سے ہی تازہ دم ہوگا۔فنی تنقیص پر نظر رکھنے والے اپنی جانیں لیکن ایسی تخلیقات آنے والی پیڑھی کے لئے مشعل ثابت ہوگی۔جن کے لئے اردوافسانہ کا رنگ و روغن سڑکوں پربے حجاب بھٹکتا ملے گا۔دلی مبارکباد۔
ڈاکٹر نورالصباح:
میں علیم اسماعیل صاحب سے افسانوں کے ذریعہ سے ہی واقفیت رکھتی ہوں۔ ان کے افسانے حقیقت پر مبنی ہوتے ہیں۔ زیر نظر افسانہ بھی انھیں حقائق کو پیش کررہا ہے۔ اس میں ان چیزوں کی نوحہ گری کی گئی ہے جو ہمارے ہندوستان کے تقریبا بیشتر گھروں میں موجود ہے۔ افسانے کا کردار جس کے ارد گرد کہانی کا تانا بانا بنا گیا ہے وہ متوسط اور فلاکت زدہ گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کا ایسے گھرانے سے تعلیم حاصل کرنا وکالت کا پیشہ اختیار کرنا پھر ملازمت کرتے کرتے مہلک مرض میں مبتلا ہوجانا اور پھر ذخیرہ کیے گیے پیسوں کا اپنے ہی علاج پر خرچ ہوجانا۔یہ افسانہ المیاتی بھی ہے اور دنیا کی بے ثباتی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔یہ افسانہ نسل نو کے لیے مشعل راہ ہے۔ موجودہ عہد میں لوگ پیشہ ورانہ زندگی کو ترجیح دیتے ہیں مگر ایسی زندگی کے لیے یہ سوال قائم کرتا ہے۔ اور غوروفکر کی دعوت دیتا ہے۔
سید اسماعیل گوہر:
نئی نسل کے افسانہ نگاروں میں محمد علیم اسماعیل ایک ابھرتا ہوا ستارہ ہے۔ قلیل عرصہ میں انھوں نے سوشل میڈیا، اخبارات اور رسائل میں اپنے افسانوں اور افسانچوں کی اشاعت سے ایک اہم مقام حاصل کیا ہے۔ محض تین برسوں کے دوران ان کے دو افسانوی مجموعے الجھن (2018)اور رنجش (2020) زیور طباعت سے آراستہ ہو کر ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکے ہیں۔محمد علیم اسماعیل پیشے سے معلم ہیں۔ چونکہ معلم اور سماج کا باہمی رشتہ بہت اٹوٹ ہوتا ہے اس لیے ان کے بیشتر افسانوں میں سماجی مسائل اور معاشرہ کا درد سمایا ہوتا ہے۔زیر تبصرہ افسانہ چھُٹی ان کے بھائی جو پیشے سے وکییل تھے، کی ناگہانی موت سے متاثر ہو کر لکھا گیا ہے۔ ظاہر ہے بھائی کی موت پر جذبات سے بھری تحریر ہی ان کے قلم سے نکل سکتی تھی۔ انھوں نے اپنے جذبات واحساسات کے ذریعے وکیل صاحب کے کردار کو افسانہ کی شکل میں ڈھال کر قاری کے سامنے رکھ دیا ہے۔ وکیل صاحب کی ساری اچھّائیاں اور خوبیاں انھیں رہ رہ کر یاد آرہی ہیں۔ وکیل صاحب نے زندگی بھر ضرورت مندوں کی مدد کی،خاندان کی کفالت کی چھوٹے بھائیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا مگر خود کی ذات اور بیماری پر توجہ نہیں دی۔ آگر کردار نگاری کے لحاظ سے افسانہ کو پرکھا جائے تو انہوں نے وکیل صاحب کا کردار بخوبی پیش کیا ہے۔مجھے مستقبل میں بھی محمد علیم اسماعیل سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔
راحیل ابن انجم:
علیم اسمعیل کا نام سوشل میڈیا، اخبارات و مختلف رسائل میں اکثر دکھائی دیتا ہے۔ وہ نئی نسل کے ایک ابھرتے ہوئے افسانہ نگار ہیں۔ اور اپنے شہر میں ادبی سرگرمیوں کو رفتار دینے والے بھی ہیں۔افسانہ چھٹی حقیقت پر مبنی ہے۔ افسانہ نگار نے کچھ برسوں قبل ہی اپنے بڑے بھائی کو کھویا ہے۔ اور بھائی کی محبتیں اور قربانیوں کو افسانوی شکل میں پیش کر دیا ہے۔ وکیل صاحب بیماری کے دلدل سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے رہے لیکن نکل نہیں پائے۔ اسپتال میں ان کا دم گھٹنے لگتا ہے اور وہ چھُٹّی لے کر گھر جانے کی ضد کرتے ہیں۔ لیکن اس دنیا سے ہی ان کی چھُٹّی ہو جاتی ہے اور وہ مالکِ حقیقی سے جا ملتے ہیں۔ اس افسانے کو اس طرح بیان کیا گیا ہے دل دہل جاتا ہے۔ وسیم عقیل شاہ نے کیا خوب کہا ہے کہ افسانے کے لفظ لفظ سے آنسو مترشح ہے۔
وکیل صاحب ذہین تھے۔ محنتی تھے۔ چھوٹے بھائیوں کی پڑھائی پر خاص توجہ دیتے تھے۔ غریبوں اور مظلوموں کے کیس کم فیس پر لڑتے تھے۔ وہ گھر اور خاندان کا خوب خیال رکھتے تھے لیکن خود کی اتنی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ وہ گھر کے بڑے تھے۔ گھر کے سبھی اہم فیصلے وہی کرتے تھے۔ راوی کی پڑھائی پر بھی ان کی خصوصی توجہ رہی تھی۔ اس طرح وکیل صاحب کا پورا کردار ہمارے سامنے عیاں ہوجاتا ہے۔افسانہ پڑھتے پڑھتے قاری وکیل صاحب کے غم میں برابر شریک ہے۔ قاری کو وکیل صاحب کے کردار سے اتنی زیادہ ہم دردی ہو جاتی ہے کہ درمیان میں ہی اس کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔
وکیل صاحب کی بیماری، ان کا درد سے کراہنا، ان کا مسلسل کھانسنا، یہ سب منظر نظروں کے سامنے گھوم گئے ہیں۔ ابھی بھی کانوں میں کسی کے کھانسنے کی آوازیں آ رہی ہیں۔افسانے پر جذباتی فضا چھائی ہوئی ہے۔ مبارک ہو کہ بزمِ افسانہ کو ایک اچھا افسانہ نگار مل گیا۔علیم اسمعیل سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔ بزمِ افسانہ میں اپنا افسانہ پیش کرنے کے لیے مبارکباد۔
محمد علیم اسماعیل کے تاثرات:
افسانہ چھُٹّی کے مبصرین اور بزمِ افسانہ کے تمام اراکین، السلام علیکم
ڈاکٹر مشتاق احمد وانی، ڈاکٹر ریاض توحیدی، محترم راجہ یوسف، عزیزم مسعود انصاری، محترم منور پاشا ساحل تماپوری، ڈاکٹر نورالصبا، عزیزم وسیم عقیل شاہ، محترم شاد اعظمی ندوی، محترم قیوم اثر، ڈاکٹر شہروز خاور، محترم رضوان الحق، محترم ایم مبین، محترم غضنفر، محترم مشتاق احمد نوری، ڈاکٹر نور الامین، ڈاکٹر فریدہ بیگم، ڈاکٹر فیروز عالم، محترم احمد صغیر، محترمہ عارفہ خالد شیخ، محترم شبیر احمد، محترمہ ذکیہ مشہدی، محترم سید اسمعیل گوہر، محترم معین الدین عثمانی، محترمہ رخسانہ نازنین، محترم شبیر احمد، عزیزم راحیل ابن انجم، محترم رفیع الدین مجاہد، ڈاکٹر عائشہ فرحین، محترم محمد سراج عظیم، محترم اظہر ابرار، پروفیسر اسلم جمشید پوری، محترم قمر سلیم، محترم طاہر انجم صدیقی، محترم سید محمد اشرف، محترم سلام بن رزاق، محترم بیگ احساس، محترم شاہد اختر، محترم عمران امین، عزیزم ذبیح اللہ ذبیع، محترم انور مرزا،پروفیسر طارق چھتاری۔۔۔۔۔
میں آپ سبھی کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے افسانہ پڑھا اور اپنے تاثرات دیے۔ ساتھ ہی ساتھ ان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جو کسی مصروفیت کے تحت تاثرات دے نہ سکے۔
دراصل گروپ کا مزاج کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔ ہر کوئی کنفیوژ ہیں۔ میں ایڈمن پینل میں ہوں اور جانتا ہوں کہ تخلیق کار کتنی دفعہ اپنے افسانے تبدیل کر رہے ہیں۔ میری نظر میں بھی گروپ کے مزاج کے اعتبار سے چار افسانے تھے۔۔۔۔انتظار، رنجش، قصور، اور چھُٹّی، میں بھی کشمکش میں تھا۔ جس میں سے میں نے کہانی ''چھُٹی'' کا انتخاب کیا، کیونکہ یہ حقیقت پر مبنی ہے، اور حقیقت پر مبنی تخلیق میں جھول نہیں ہوتا۔ میں یہ کہانی جب بھی پڑھتا ہوں زخم تازہ ہو جاتا ہے۔
بزمِ افسانہ کے مبصرین کی نگاہوں سے بچنا ناممکن ہے۔ کوئی زبان کی غلطیاں بتا رہا ہے تو کوئی افسانے کے جھول کھول رہا ہے۔
مشتاق احمد نوری فرماتے ہیں:
”بزمِ افسانہ میں ہرطرح کے لوگ موجود ہیں۔ کوئی منفیت کو فروغ دے رہا ہے، تو کوئی بال کی کھال کھینچ رہا ہے، کوئی مفہوم کشید کر رہا ہے ہیں تو کوئی املے کی غلطی پر لٹھ لے کر دوڑ رہا ہے۔ کوئی درس دے رہا ہے تو کوئی اپنی علمیت بگھار رہا ہے۔ یعنی سبھی لوگ اپنے کام میں مستعدی سے لگے ہوئے ہیں۔“
اب آپ ہی بتائیے کہ اس بزمِ سے کوئی افسانہ کیسے بچے۔
اتنی معیاری محفل، جہاں ادب کے آسمان کے ستارے موجود ہوں اور میرا افسانہ زیرِ غور ہو، یہ موقع کب نصیب ہونا تھا، لیکن بزمِ افسانہ نے اسے ممکن کر دیا ہے۔ میرے خیال سے بزمِ افسانہ واحد گروپ ہے جس میں اتنے سارے ستارے ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا ہوئے ہیں۔ اس بزم کے مبصرین لوڈ کی ہوئی پستول لیے بیٹھے ہیں۔ تمام مبصرین قابلیت سے بھرپور ہیں اور پورے جوش و ولولے کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
کچھ تبصروں سے میں اتفاق کرتا ہوں تو کچھ سے نہیں بھی۔ اور یہ ضروری بھی ہے کہ ہر قلم کار کا اپنا ایک نظریہ ہونا چاہیے۔سننا سب کی لیکن کرنا وہی جو من کو بھائے۔
میں اپنی کہانی کی حمایت میں ایک لفظ بھی کہنے کے حق میں نہیں ہوں، لیکن ایک گزارش ضرور کروں گا کہ جنھوں نے احمد ندیم قاسمی کا افسانہ ”بین“ اور پروفیسر طارق چھتاری کا مضمون ”جدید افسانے کا فن“ نہ پڑھا ہو، وہ ایک بار ضرور پڑھیں۔
افسانے سے ایک اقتباس:
”کئی راتوں کی نیند باقی ہے میرے بھائی اب قبر میں سکون سے پوری کر لینا۔ تم نے دنیا میں اتنی ساری تکلیفیں صبر و شکر کے ساتھ برداشت کیں، جس نے تمھارے تمام گناہوں، خطاؤں کو ایسے جھڑا دیا جیسے پت جھڑ کے موسم میں درختوں سے پتے اور تم اب ایسے ہو گئے جیسے ابھی ماں کے پیٹ سے جنم لیا ہو۔“
اس اقتباس پر اعتراض یہ ہے کہ مجھے غیب کا علم ہو گیا ہے یا میں فتویٰ دے رہا ہوں۔
اب یہ دو احادیث ملاحظہ فرمائیں:
1) حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمان جب بھی کسی تھکاوٹ، بیماری، فکر، رنج و ملال، تکلیف اور غم سے دو چار ہوتا ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے گناہوں کو معاف فرمادیتے ہیں۔(بخاری)
2) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جب کسی مسلمان کو کانٹا چبھتا ہے یا اس سے بھی کوئی کم تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لئے ایک درجہ لکھ دیا جاتا ہے اور اس کا ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے۔(مسلم)
اسے کسی تبصرے کا جواب نہ سمجھیں۔ ایک بار پھر تمام مبصرین کا تہہ دل سے شکریہ!!!
٭٭٭