Monday, 7 September 2020

اُلجھن:ایک مطالعہ
منصور خوشتر، ایڈیٹر سہ ماہی دربھنگہ ٹائمز

پیش نظرافسانچے وافسا نوں کا مجموعہ”الجھن“محمد علیم اسماعیل کی تخلیق ہے۔اس کتاب میں کل 60افسانچے اور 13افسانے ہیں۔محمد علیم اسماعیل کی پہلی تحریر”علامہ اقبال کی باتیں“کے عنوان سے2013میں منظر عام پر آئی۔ان کا پہلا افسانہ”خیالی دنیا“2016میں ممبئی اردونیوز میں شائع ہوا۔علیم اسماعیل کے بہت سے افسانے اور افسانچے مختلف رسائل اور جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ان کے افسانچوں اور افسانوں میں سماجی مسائل کی عکاسی،جوانوں کی امنگیں،اصلاح کا جذبہ اور کچھ نیاکردکھانے کا جنون ہے۔بہت سے افسانے اخلاقی درس دیتے ہیں۔
اعجازپروانہ ناندوروی نے اپنی تقریظ میں محمد علیم اسماعیل اور ان کی افسانہ نگاری سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کئی کارآمد باتیں پیش کی ہیں۔ملاحظہ کریں:
”الجھن“میں محمد علیم اسماعیل کے افسانچے اور افسانوں کا مجموعہ ہے۔یہ ایک خوب صورت گلدستہ کی مانندہے جس میں طرح طرح کی کہانیاں ہیں۔کہانی ”خیالی دنیا“میں جدیدذرائع ابلاغ،موبائل اور وہاٹس ایپ کی خیالی دنیا میں وقت برباد کرنے کے بجائے حقیقی دنیا سے رشتہ استوار کرنے پر زور دیاگیا ہے۔کہانی ”انتظار“میں ایک ٹیچر کے کرب کو بیان کیا گیا ہے۔افسانہ ”تانک جھانک“میں ایک غریب بچے کی ٹوٹتی بکھرتی امیدوں کی پردرد کہانی ہے۔افسانہ”خوف ارواح“ میں ایک بھائی اپنی بہن کی محبت میں کس حد تک جاسکتا ہے،اس بات کو بتایاگیاہے۔افسانہ ”خطا“میں مصنف نے بتایاہے کہ ایک چھوٹی سی غلطی کس طرح مشکلات پیداکرکے زندگی برباد کرسکتی ہے۔“
”سخن قلب“کے عنوان سے علیم اسماعیل نے اپنا پیش لفظ تحریرکیاہے۔اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مصنف پروفیسر طارق چھتاری کے مضمون ”جدید افسانے کا فن“سے ایک اقتباس نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”افسانے کا فن بنیادی طورپر کہانی کہنے کا فن ہے۔اگر کسی افسانے میں ”کہانی پن“ نہیں ہے تو وہ افسانہ،مضمون،انشائیہ یا محض نثر کا ایک ٹکڑاہی معلوم ہوگا۔1960کے بعد اردو میں ایسی کہانیاں بھی لکھی گئی ہیں جن میں کہانی پن کا فقدان ہے۔یا ان کا عدم ووجود برابر نظرآتاہے۔مثال کے طورپر سریندرپرکاش کی کہانی”تلقارمس“میں یہ عنصر قطعاً مفقودہے۔کسی افسانے میں کہانی پن ہے یا نہیں اسے پرکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جب کوئی کہانی پڑھ چکے تواس افسانے کی کہانی زبانی سنانے کوکہاجائے۔اگر اس میں کہانی پن ہوگا توخواہ کیسی بھی تجریدی کہانی کیوں نہ ہواور واقعات کو کتنا ہی توڑمروڑکر یا ان کی ترتیب بگاڑکر کیوں نہ پیش کیاگیاہو،زبانی بیان کرتے وقت سنانے والالاشعوری طور پر اپنے حساب سے واقعات کو ترتیب دے کر کہانی سنادے گا۔جیسے انور سجادکی کہانی”مرگی“جو ایک تجریدی کہانی ہے اور بظاہراس کی ہیئت نظر نہیں آتی۔“
کتاب کی شروعات افسانچے سے ہوتی ہے۔تقریباً60افسانچے ہیں۔پہلا افسانچہ ”شرمندگی“کے عنوان سے ہے۔دوسطرکے اس افسانچے میں ہنرمندی ملاحظہ کیجیے:
”رات کا وقت.....پوراہال فانوس کی روشنی سے جگ مگ.....شہر کے ایک بڑے رئیس کی جنم دن کی پارٹی۔ریشمی اور مخملی کپڑوں سے ڈھکی ٹیبل، کرسیاں نیم برہنہ خواتین سے پردہ کررہی تھیں۔“
ایک افسانہ ”عبادت“ہے۔ایک انسان کی تہجدگزاری کوپیش کرتے ہوئے علیم اسماعیل بڑی خوب صورتی سے انسان کے دلی جذبات کا اظہار کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ایک طرف تو حاجی صاحب تہجد گزارہیں اور دوسری جانب انھیں اپنے بھائی سے اتنی نفرت ہے کہ وہ اس سے موبائل پر بات کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔یہ کیسی عبادت ہے۔عبادت سے بھی بڑی کوئی چیزہے وہ انسانیت کے رشتے کو نبھانا ہے۔
ایک اور افسانچہ”کمیشن“کے عنوان سے ہے۔علیم اسماعیل کے اس ایک جملے کے افسانچے میں بہت بڑا طنزنمایاں ہے۔ایک خوب صورت لڑکی ہیروئن بننے کا خواب دیکھتی ہے۔وہ وعدہ کرتی ہے کہ اپنی فیس کا 30فیصدتمھیں بطور کمیشن دے دوں گی۔لیکن پریوڈسر اور ڈائریکٹرکا جی اس سے نہیں بھرتا،وہ کہتا ہے کمیشن تو بعد کی بات ہے،پہلے کیا دوگی۔اس کی بری نگاہ لڑکی کے جسم پرتھی۔
کتاب میں 13افسانے شامل ہیں۔ہر افسانے میں کوئی نہ کوئی نصیحت پوشیدہ ہے۔سماجی،سیاسی،نفسیاتی،تعلیمی حالات کی عکاسی ہے۔افسانہ پڑھتے ہوئے قاری کہیں بھی بوجھ اور بوریت نہیں محسوس کرتا۔آج محبت کا بازار بہت گرم ہے۔لڑکوں کے پاس گرل فرینڈاور لڑکیوں کے پاس بوائے فرینڈز کی فروانی ہے۔حقیقی محبت تو ہے ہی نہیں۔ان محبتوں کی بنیادیاتومادّی ہے یا جسمانی ہے۔علیم اسماعیل نے بڑی خوب صورتی سے اسے اپنے افسانے”خطا“میں پیش کیاہے:
”تمھاری سہیلیاں آپس میں باتیں کررہی تھیں:
”آج میں نے جاوید کو خوب الّو بنایا۔“
”راحیل نے مجھے اپنی موٹر سائیکل پر بٹھاکر بہت گھمایا۔ہم نے بہت انجوائے کیا،خوب مزہ آیا۔“
”میرے بوائے فرینڈ نے میرے مہینے بھر کا انٹر نیٹ اور ٹاک ٹائم ریچارج کروادیا۔“
”میں نے ابھی نیا مرغا پھنسایاہے،پہلے والا بڑا کنجوس تھا کمبخت۔“
اس طرح علیم اسماعیل کے افسانوں میں نصیحت آموز باتوں کے ساتھ ساتھ دل چسپی کے اسباب بھی ہیں۔کہانی مطالعہ طلب ہے۔امید ہے کہ یہ کتاب قارئین کے ذریعے ہاتھوں ہاتھ لی جائے گی۔
٭٭٭

No comments:

Post a Comment