محمد علیم اسماعیل کی ’الجھن‘
استوتی اگروال، مدھیہ پردیش
محمد علیم اسماعیل نے سماجی مسائل کو محسوس کیا اور بہترین اسلوب میں ان مسائل کو ”الجھن“ کی شکل میں ہمارے سامنے پیش کردیا۔ جس طرح میرؔ کی آپ بیتی جگ بیتی بن گئی ہے، اسی طرح محمد علیم اسماعیل کی پیش کردہ الجھنیں ہر شخص کی اپنی ہوگئی ہیں۔ محمد علیم اسماعیل نئے لکھنے والوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اردو ادب میں ان کی کہانیاں کافی مقبولیت حاصل کر رہی ہیں کیونکہ ان کے افسانے مختصر ضرور ہیں پر ہمارے حالات کی عکاسی کرتے ہیں۔ میں ان کے افسانے کئی رسائل میں بھی پڑھ چکی ہوں جیسے بیباک،شاعر وغیرہ۔ ان کا تازہ ترین افسانوی مجموعہ ”الجھن“ بھی منظرِ عام پر آ چکا ہے۔ اس افسانوی مجموعے میں 13 کہانیاں ہیں۔ الجھن، انتظار،خطا،خوفِ ارواح، شوکت پہ زوال، قربان، تاک جھانک،خیالی دنیا، مٹھا، اشک پشیمانی کے، وفا، پریشانی اور کرب۔ مجموعے میں درجنوں افسانچے بھی ہیں جن میں قیامت،ندامت، شرط، مصروفیت وغیرہ نمایاں ہیں۔ کچھ لکھنے سے پہلے میں ڈاکٹر ایم اے حق کی رائے کا ایک اقتباس پیش کرتی ہوں:
”محمد علیم اسماعیل کی افسانچہ نگاری نے رفتار پکڑ لی ہے،لیکن ان کی تیز رفتار نے افسانچے کے معیار کو کبھی مجروح نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ زیر نظر مجموعہ ”الجھن“ میں ان کے افسانچے اس صنف کی شرائط پر کھرے اترتے ہیں۔“
علیم اسماعیل نے دلچسپ انداز میں افسانے لکھے ہیں۔ افسانہ ”وفا“ میں انھوں نے والد کی سچی محبت اور بیٹے کی بد سلوکی کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ جس طرح ماں باپ اپنے بچوں کی تربیت کرنے میں ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور جی جان لگا دیتے ہیں کہ ان کا بچہ ترقی کرے اور کامیابی سے ہم کنار ہو،کامیابی اس کے قدم چومے،لوگ اس کی عزت کریں اور بھی ہر ممکن کوشش کرنے کو تیار رہتے ہیں،بلکہ حد تو یہ ہے ناممکن کو بھی ممکن بنا دیتے ہیں،لیکن بچے کیا کرتے ہیں جب ان کا مستقبل سنور جاتا ہے اور اچھی طرح سیٹل (settle) ہو جاتے ہیں تو انھیں گھر سے باہر نکال دیتے ہیں۔ انھیں بوجھ سمجھنے لگتے ہیں،کوشش کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ جلدی سے وہ اس دنیا سے رخصت ہو جائیں اور اولڈ ایج ہومز یعنی وردھا آشرم میں بھیج دیتے ہیں اور بے چارے ماں باپ چپ چاپ بغیر کچھ کہے چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح اس کہانی میں جس باپ نے بچے کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھا، بچے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا اسی بچے نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے دھکے مار کر گھر سے نکال دیا کہ ”آپ نے ہماری زندگی کو دوزخ بنا دیا ہے۔“ اس بات کو علیم اسماعیل نے اتنی خوبصورتی سے پیش کیا ہے، جس کے چند اقتباس پیش ہیں:
”باپ بیٹے میں آج پھر توتو میں میں ہو گئی تھی۔بیٹے نے کہا: ”آپ ہماری زندگی کو اور جہنم کیوں بنا رہے ہیں۔ آپ ہم کو اکیلا چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔“باپ کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں،اور بھرائی آواز میں کہا:”جب سب کی پریشانی کی وجہ میں ہوں، تو میں اس گھر میں کیا کررہا ہوں۔؟بیٹا۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ تم ہمیشہ خوش رہو۔۔۔۔۔۔تم جیو اپنی زندگی۔۔۔۔ میں چلا اس گھر سے۔۔۔۔یہ کہہ کر باپ جانے لگا تو بیٹے نے روک لیا اور کہا”آپ یوں ہی چلے جائیں گے تو اس میں ہماری بدنامی ہوگی،لوگ ہم کو برا کہیں گے۔میں آپ کو آشرم چھوڑ دوں گا،آپ اپنی تیاری کرلیں۔“
بیٹا اپنے پتا کو اشرم چھوڑ آیا اور بہت خوش ہوا،لیکن راستے میں لوٹتے وقت اس نے پُل پر کھڑے ایک شخص کو دیکھا جس نے پانی میں بلّی کے بچے کو پھینک دیا ہے اور وہ بلّی کا بچہ بار بار پانی میں ڈوب جاتا ہے،لیکن باہر آنے کی پوری پوری کوشش کرتا۔ اگر آج کی جنریشن میں دیکھا جائے تو بلی اور تمام جانور انسانوں سے اچھے ہیں، کم سے کم ہار تو نہیں مانتے۔ اسی بیچ اس کی ملاقات اپنے والد کے ایک پرانے دوست سے ہوئی۔ انھوں نے اسے ایک تصویر دکھاتے ہوئے کہا کہ بیٹا! دیکھویہ تصویر میں تمہارے والد تمہیں گود میں پکڑے ہوئے ہیں۔ یہ تصویر تمہارے والد کے مشہور کاٹیج کی ہے جو انھوں نے تمہارے علاج کے لیے بیچ دی تھی۔یہ سن کر بیٹے پر ایک سکتہ سا طاری ہو گیا اور وہ سب بھول گیا۔ اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس بلی کے بچے کو نہیں،بلکہ اسے گہرائی میں پھینک دیا گیا ہو۔ محمد علیم اسماعیل نے اس کہانی میں ایک سچائی کو اجاگر کیا ہے۔
ان کا افسانہ ”خیالی دنیا“ بھی ایک ایسا ہی دلچسپ افسانہ ہے۔ اس افسانے میں ایک شخص جو بڑا ہی خوش مزاج تھا۔ ہمیشہ نرم و نازک لہجے میں بات کرنا پسند کرتا تھا، اپنے دوستوں کے لیے جان دینے کو تیار رہتا، ہمیشہ خوش رہتا، بہت ہر د ل عزیزشخصیت کا مالک تھا۔ ایک دن اس کے پاس اچانک ایک میسج آیا جس میں لکھا تھا: ”آپ کا انٹرنیٹ ڈاٹا ختم ہو نے والا ہے۔“ اس نے سوچا میرا انٹرنیٹ ڈاٹا ختم ہو اس سے پہلے ہی ریچارچ کرا لینا مناسب ہے اور وہ تیزی سے گاڑی بھگاتے ہوئے جا رہا تھا کہ اچانک ایک کار والے نے اسے ٹکر ماردی اور بھاگ گیا۔ وہ خون سے لت پت پڑا رہا۔ پھر آس پاس کے لوگوں نے اسے اسپتال پہنچایا۔ اس کے گھروالے ماں بھائی، بہن سب دوڑے دوڑے آ گئے، ان کی آنکھیں نم تھیں، سب اس کی صحت یابی کی دعا کر رہے تھے۔ اور جب اسے ہوش آیا تو اس نے دیکھا کہ جن کے لیے اس کے پاس کبھی وقت نہیں ہوتا تھا۔ وہی لوگ اس کے ارد گرد جمع ہیں اور اس کے لیے پریشان ہیں، وہی لوگ اس کے اپنے ہیں اور وہ خیالی دنیا سے نکل کر حقیقی دنیا میں آگیا۔
اسی طرح محمد علیم اسماعیل کے سبھی افسانے نصیحت آموز ہیں۔ ان کی ایک کہانی ”انتظار“ سے متعلق سلام بن رزاق صاحب نے بہت خوب لکھا ہے:
”تمہاری کہانی ”انتظار“ پڑھی۔ کہانی مجھے اچھی لگی۔ تم نے ایک ٹیچر کے کرب کو جس طرح بیان کیا ہے وہ ایک ٹیچر ہی کر سکتا ہے، چونکہ میں بھی ایک ٹیچر رہ چکا ہوں اس لیے مسائل کو سمجھ سکتا ہوں۔ زبان و بیان بھی ماشااللہ اچھا ہے تمہارا۔“ان کی تمام کہانیاں پڑھ کر بس میں یہی کہنا چاہوں گی کہ محمد علیم اسماعیل جلد ہی اپنے معاصرین میں ایک منفرد مقام بنا لیں گے۔
٭٭٭
No comments:
Post a Comment