Monday, 7 September 2020

رنجش: ایک مطالعہ
سید اسمعیل گوہر 
ریسرچ اسکالر، امراوتی یونیورسٹی (مہاراشٹر)


جدید اُردو افسانہ نگاری کی ابتدا 1960 کے آس پاس ہوئی۔ ترقی پسند تحریک کی نفی کرتی ہوئی جدیدیت نے ایک نئی ادبی تھیوری پیش کی۔ شمس الرحمن فاروقی کے رسالے ’شب خون‘ نے 1966 سے 2006 تک نہ صرف جدید اُردو افسانہ کو سمت و رفتار عطا کی بلکہ جدیدیت کا علمبردار بن کر جدید افسانے کی رہنمائی بھی کی۔ اردو زبان و ادب میں افسانہ اپنے موضوعاتی تنوع کی وجہ سے ہمیشہ دلچسپی اور مطالعے کا محور و مرکز رہا ہے۔
زیر تبصرہ کتاب ”رنجش“ نوجوان افسانہ نگار محمد علیم اسماعیل کا دوسرا افسانوی مجموعہ ہے۔ سنہ 2018 میں ’الجھن‘ کے نام سے ان کا پہلا افسانوی مجموعہ زیور طباعت سے آراستہ ہو کر ادبی حلقوں سے پذیرائی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ   خاص و عام میں بھی مقبولیت پا چکا ہے۔ زیر نظر افسانوی مجموعہ ’رنجش‘ اپنے دیدہ زیب، مجلد سر ورق اور عمدہ چھپائی کی بدولت پہلی نظر میں ہی قاری کا دل موہ لیتا ہے۔ 120 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں کل 21 افسانے ہیں، جن کے عناوین چھٹی، قصور، رنجش، سبِ سرخاب، ریجیکٹ، اجنبی، مولوی صاحب، ادھورے خواب، عقیل مند، سودا، گریما، ظالم، وقت، زہر، یہ ماجرا کیا ہے!، حادثہ، اعتماد، سر اٹھاتی شکایتیں، منٹو، جنون، مردہ پرستی ہیں اور 5 افسانچے بعنوان آگ، تعلیم، تجربہ، مسکراہٹ؛ پردہ  شامل ہیں۔تمام افسانے پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ کوئی ایک نمبر اور دو نمبر نہیں۔ سبھی افسانوں میں تجسّس کا عنصر بدرجہئ اتم موجود ہے۔ جو ہر قاری کو پڑھنے کے لیے مجبور کرے گا، اس بات کی مجھے پوری امید ہے۔ جیسا کہ علیم اسماعیل کے افسانچوں کی خصوصیات ہے کہ وہ اپنے اختتام پر قاری کو چونکادیتے ہیں، یہی خوبی زیر نظر مجموعے کے افسانچوں میں بھی موجود ہے۔علیم اسماعیل کے ذہن میں کہانیاں تو بے شمار ہیں، پھر بھی ان کا شمار الم غلم لکھنے والوں میں نہیں ہوتا۔ افسانہ نگاری کے میدان میں انھوں نے اپنی ایک الگ شناخت بنائی ہے۔ افسانوی مجموعہ ”رنجش“ کے مطالعے کے بعد یہ بات صاف ظاہر ہے کہ ان کے یہاں زبان وہ بیان اور اسلوب کی سطح پر کافی نکھار آیا ہے۔
تقریضات کے ضمن میں نورالحسنین اور محمد بشیر مالیر کوٹلوی نے علیم اسماعیل کے فکر و فن اور ان کے قلم کی زرخیزی کا اعتراف کیا ہے۔ نورالحسنین رقمطراز ہیں: ”محمد علیم اسماعیل افسانوں کے ساتھ ہی ساتھ افسانچے بھی لکھتے ہیں۔ جو قاری کو چونکاتے بھی ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ افسانہ لکھنے کے لیے محمد علیم اسماعیل کو کسی بڑے موضوع کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ مصنف اپنے اطراف و اکناف سے باخبر ہے۔ وہ ایک با صلاحیت نوجوان قلم کار ہیں۔ اُردو افسانے کو ان سے بڑی توقعات ہیں۔“
محمد بشیر مالیر کوٹلوی لکھتے ہیں: ”علیم اسماعیل خالص بیانیہ افسانے تخلیق کرتا ہے۔ اگر میں کہوں کہ علیم اسماعیل اُردو افسانے کا مستقبل ہے تو شاید درست ہی ہوگا۔“
علیم اسماعیل کے افسانوں کے زیادہ تر کردار ہمیں اپنے اردگرد چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔افسانہ ”چھٹی“ میں مصنف نے اپنے بڑے بھائی کی درد بھری داستان بیان کی ہے۔اس افسانے پر تبصرہ کرتے ہوئے وسیم عقیل شاہ لکھتے ہیں:”افسانہ ’چھٹی‘ جو اس افسانوی مجموعے کا اولین افسانہ ہے، دراصل علیم اسماعیل کے بڑے بھائی کی ناگہانی موت کے سبب ان کی زندگی میں برپا ہوئے ایک بھونچال   کی لفظی تصویر ہے۔ جس میں انھوں نے ظاہراً مرکزی کردار کے بھائی کی رحلت اور اس کے بعد کے حزن و ملال کا جذباتی منظر کشید کیا ہے، مگر صاف محسوس ہوتا ہے کہ وہی اس کہانی کے مرکزی کردار ہیں۔ افسانے میں پلاٹ کی تنظیم، کہانی کی فضا بندی اور جذبات سے پر لفظی برتاؤ سے پورا افسانہ سوگوار کیفیت کا مرقع بن گیا ہے۔ افسانے کی قرآت کرتے وقت لگتا ہے گویا لفظ لفظ سے آنسو مترشح ہیں۔“
 افسانہ ’قصور‘ کا مرکزی کردار ایک کم عمر لڑکا ہے، جو اپنی ذرا سی غلطی کی وجہ سے پشیمان ہو جاتا ہے اور ازالے کے طور پر ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ دو دوستوں کی آپسی رنجش اور محبت کی کہانی افسانہ ”رنجش“ میں پیش ہوئی ہے۔ افسانہ ’ریجیکٹ‘ کا عنوان ایک عام سا انگریزی لفظ ہے، جس کے معنی ہیں رد کرنا۔ لیکن علیم اسماعیل نے افسانے کے توسط سے اس عام سے لفظ کو بڑی گہرائی عطا کردی ہے۔ افسانے کا مرکزی کردار ’منّان خان‘ نامی نوجوان ہے جو شادی کے لیے کئی لڑکیوں کو ریجیکٹ کرتا ہے اور أخر میں خود بھی ایک لڑکی کے ہاتھوں ریجیکٹ ہو جاتا ہے۔ جس کے پیچھے ایک عبرت آموز کہانی ہے۔ جسے مصنف نے بڑے ہی اچھے انداز میں پیش کیا ہے۔شک مضبوط سے مضبوط رشتے کی بنیادوں کو ہلا دیتا ہے، جڑ سے اکھاڑ دیتا ہے، تباہ برباد کر دیتا ہے۔ بس یہی کہانی کا حاصل ہے افسانہ ”اجنبی“ کا۔افسانہ”اعتماد“ میں مصنف یہ پیغام دینے میں کامیاب ہے کہ ہر کسی پر بھروسہ کرنا ٹھیک نہیں۔ جو لوگ اپنوں سے زیادہ دوسروں پر بھروسہ کرتے ہیں ان کا اعتماد پاش پاش ہو کر ہی رہتا ہے۔افسانہ منٹو میں علیم اسماعیل نے بتایا ہے کہ منٹو کے زمانے میں جو لوگ اسے گالیاں دیتے تھے دراصل وہی اس کے شیدائی تھے۔افسانہ مردہ پرستی میں مصنف نے اس بات پر طنز کیا ہے کہ ایک ادیب کی پذیرائی اس کے مرنے کے بعد ہوتی ہے۔
علیم اسماعیل نے اپنی افسانہ نگاری کے ذریعے معاشرے کے ان تمام اسرار و رموز سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے جو رازداری کی دبیز تہہ کے نیچے دبے ہوئے تھے۔ مجموعے کے تمام افسانے سادہ بیانیہ میں لکھے گئے ہیں۔ افسانوں کا اسلوب دلچسپ ہے۔ تحریر میں روانی غضب کی ہے۔ زبان بھی افسانوی ہے۔ مکالمے کرداروں کے عین مطابق ہیں۔ افسانے پڑھنے کے ایک تازگی کا احساس ہوتا ہے۔ عام قاری بھی ان افسانوں کو بآسانی سمجھ سکتا ہے۔ مجموعے کے بیشتر افسانے موجودہ عہد کے سلگتے ہوئے موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔ مجھے قوی امید ہے کہ ان کی یہ کاوش بھی ادبی حلقوں میں شرف قبولیت حاصل کرے گی۔ خواہش مند حضرات کتاب ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس دہلی سے اور مصنف سے رعایتی قیمت پر حاصل کر سکتے ہیں۔
٭٭٭

No comments:

Post a Comment