Monday, 7 September 2020

علیم اسماعیل ایک ابھرتا ہوا قلم کار
راحیل بن انجم، ناندورہ

شہرِ ناندورہ کی زمین ادبی لحاظ سے زرخیز رہی ہے۔ بات شاعری کی ہوتو تو نیرنگ ناندوروی و عبدالقادر رازؔ سے لیکر وسیم اندازؔ تک شعرا کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ وہی اگر ہم نثری میدان میں نظر دوڑائے تو یہاں فہرست چند ناموں تک ہی محیط ہوجاتی ہے۔ شہرِ عزیز کے نمایاں افسانہ نگاروں میں سب سے پہلے حمید ادیبیؔ ناندوروی کانام آتا ہے۔ جن کی نثری کاوشیں قابلِ تعریف ہیں۔موصوف کو شہر کے پہلے صاحب کتاب ہونے کا فخر بھی حاصل ہے۔ موصوف کی اب تک پانچ کتابیں منظرِ عام پر آچکی ہیں۔دیگر کچھ لوگوں نے بھی نثر میں اپنے ہاتھ آزمائے ہیں لیکن بات اگر افسانچے کے بارے میں ہو تو اس صنف کے لیے علیم اسماعیل کو کلّی طور پر شہرِ عزیز کا پہلا افسانچہ نگار کہتے ہوئے مجھے کوئی جھجک نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ وہ افسانہ نگاری کے فن سے بھی واقفیت رکھتے ہیں۔اور ان کے افسانے بھی ادبی حلقوں میں پسند کیے جا رہے ہیں۔
علیم اسماعیل کچھ عرصہ قبل اچانک شہر کے ادبی افق پر نمودار ہوئے اور اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر شہر کے ادبی حلقوں میں اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوئے۔علیم اسماعیل نے پہلے پہل بچوں کی کہانیاں لکھی۔ پیشے سے استاد ہونے کے سبب انھوں نے بچوں کی نفسیات کو پرکھتے ہوئے اپنی ابتدا ہی اس صنف سے کی۔ میں نے جب علیم اسماعیل کی کچھ کہانیاں اخبار میں پڑھیں تومتاثر ہوئے بغیر نہیں رہا۔ وہ اعلی تعلیم یافتہ شخصیت ہیں۔ ایم۔ اے، بی۔ ایڈ ہونے کے ساتھ موصوف کو ایم۔ایچ۔سیٹ اور یو۔ سی۔ جی۔نیٹ (اردو) جیسے مشکل ترین امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ اور اس نمایان کامیابی کے لیے آئیٹا کی جانب سے علیم اسماعیل کو توصیفی سند سے سرفراز بھی کیا گیا ہے۔
عموما    لوگ تعلیم مکمل کرنے اور نوکری ملنے کے بعد کتابوں سے رشتہ ختم کردیتے ہیں، لیکن اس کے برخلاف علیم اسماعیل درس و تدریس سے منسلک ہونے کے بعد اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے اور آج نتیجتاً ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ”الجھن“ کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔جس میں 13 افسانے اور 59 افسانچے ہیں۔جس میں انھوں نے بڑی بیباکی سے ہمارے سامنے سماجی الجھنیں پیش کی ہیں۔ان کی ایک کہانی ”انتظار“نے سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا کے سا تھ ساتھ شہر کے ادبی حلقے میں بہت دھوم مچائی۔ وہ میرے دل میں اپنی اسی کہانی کے ساتھ داخل ہوئے۔ اپنے قرب وجوار میں ہونے والے واقعات و مشاہدات کو افسانوی رنگ میں جس طرح سے موصوف نے رنگا ہے یہ انکی تخلیقی صلاحیتوں کا بین ثبوت ہے۔ اس کہانی کے متعلق مشہور و معروف افسانہ نگار سلام بن رزاق فرماتے ہیں:
”تمہاری کہانی ”انتظار“ پڑھی، کہانی مجھے اچھی لگی۔ تم نے ایک ٹیچر کے کرب کو جس طرح بیان کیا ہے وہ ایک ٹیچر ہی کر سکتا ہے۔چونکہ میں بھی ایک ٹیچر رہ چکا ہوں اس لیے مسائل کو سمجھ سکتا ہوں۔حالانکہ ہم اتنے سنگین مسئلے سے نہیں گزرے لیکن اس کے باوجود آج کے مسائل کی گہرائی کو سمجھ سکتے ہیں۔زبان و بیان بھی ماشاء اللہ اچھا ہے تمہارا۔ اللہ تمھیں اچھا رکھے۔“
میں نے علیم اسماعیل کو جب جب بھی پڑھا میری تمنا ہر بار یہی رہی کہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بس اسی صنف کی زلف گیری کے اسیر رہیں۔ علیم اسماعیل ان چند لوگوں میں سے جو بے پناہ امکانات سے بھرے ہوئے ہیں، جس طرح پستول گولی و بارود سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔ان کی تخلیقی صلاحیت صرف افسانے و افسانچے تک محیط نہیں بلکہ انھوں اس رہ گزر کا بھی سفر شروع کیا ہے جہاں جانے سے لوگ کتراتے ہیں، اور وہ ہے شخصیت شناسی، شخصیت کا باریک بینی سے مطالعہ کرنا۔ کسی ادبی شخصیت اور اس کے فن کو اپنے مطالعہ کی بنیاد پر صفحہِ قرطاس پر اتارناکوئی معمولی فن نہیں۔ اور اس فن میں علیم اسماعیل برق رفتاری سے اپنی تخلیقی فتوحات میں اضافہ کررہے ہیں۔ ان کے مضامین ڈاکٹر ایم۔ اے۔حق، ڈاکٹر اسلم جمشید پوری، معین عثمانی،محمد بشیر مالیر کوٹلوی، ڈاکٹر عظیم راہی سے لیکر ابھی ابھی ان کا ایک مضمون نورالحسنین کی شخصیت پر میری نظروں سے گزرا ہے۔
 ان کا شہرِ عزیز ناندورہ کی ادبی سرگرمیوں و ادبی فضا کے عنوان سے ایک مضمون زیرِ قلم ہیں جس میں شہر کے تمام بقیدِ حیات شعراء و ادبا کے ادبی سفر کی روداد شامل ہے اور جلد ہی ان شاء اللہ شخصیت نامے پر ان کی ایک اور کتاب منظرِ عام پر آجائے گی۔اگرمقامی سطح کی بات کروں توانھوں نے ناندورہ میں ایک فعال ادبی بزم”فکشن ایسو سی ایشن“کے نام سے قائم کی،جس کے وہ صدر بھی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ کچھ نئے نثر نگاروں کی ایک ٹیم بھی بنالی ہے جس میں سید اسمٰعیل گوہر، اشفاق حمید انصاری، راحیل انجم اوروسیم انداز کے نام نمایاں طور پر لیے جاسکتے ہیں۔اخیر میں میں علیم اسماعیل کے مزید بہتر ادبی مستقبل کی دعا کے سا تھ اپنی گفتگو ختم کرتا ہوں۔ 
٭٭٭

No comments:

Post a Comment