Wednesday, 16 September 2020

(افسانوی مجموعہ ’’الجھن‘‘ سے)

چنگاریاں ضرور ایک دن شعلہ بنیں گی
ڈاکٹر اسلم جمشید پوری


اردو افسانے اور افسانچے کے میدان میں چار پانچ برسوں سے جو چند نوجوان سامنے آئے ہیں، انھوں نے اردو فکشن کی شمع روشن رکھنے کی امید جگائی ہے۔ اس نسل کے ایک بے حد فعال اور محنتی افسانہ اور افسانچہ نگار محمد علیم اسماعیل ہیں۔
مختلف رسائل میں علیم اسماعیل کے متعدد افسانے اور افسانچے میری نظر سے گزرے ہیں۔ جب کبھی میں ان کی تخلیق پڑھتا تو میرے ذہن میں یہی خیال آتا کہ اس ادیب کے اندر چنگاریاں ہیں، جنھیں مناسب رہنمائی اور توانائی کی ضرورت ہے۔ جس کے بعد یہ چنگاریاں ضرور ایک دن شعلہ بنیں گی۔  
علیم اسماعیل کے زیادہ تر افسانچے اور افسانے سماجی مسائل کا عکس ہیں، جوان کی امنگیں ہیں، اصلاح کا جذبہ ہے اور کچھ نیا کرنے کی دھن ہے۔ زیادہ تر افسانوں میں اخلاقی درس ہے۔ سماجی تعمیر و تشکیل میں جن مثبت اقدار کی ضرورت ہوتی ہے، اور جو اب ہمارے معاشرے سے ختم ہوتی جا رہی ہیں، علیم کے افسانے اور افسانچے ان کے ثبات میں کوشاں ہیں۔
جہاں تک ان کی تحریروں کو فنی کسوٹی پر جانچنے کی بات ہے تو میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ علیم فن سے واقفیت رکھتے ہیں۔ لیکن ابھی قصے کی پیش کش کو مؤثر بنانے کے ہنر میں مزید بہتری کی گنجائش ہے۔ان کے یہاں جذبات ہیں، پیش کرنے کا ڈھنگ بھی ہے لیکن
 برجستگی اورcompactnessمشق کی متقاضی ہے۔
”الجھن“ ان کا پہلا مجموعہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ مستقبل میں مزید بہتر افسانے /افسانچے تخلیق کریں گے اور ایک کامیاب افسانہ نگار بن کر ابھریں گے۔ میری دعا ہے کہ ان کی یہ کتاب ان کے ادبی سفر کی پہلی منزل ثابت ہو اور وہ ایسی متعدد منزلیں عبور کریں۔ 


No comments:

Post a Comment