Monday, 7 September 2020

(افسانوی مجموعہ ’رنجش‘ سے انتخاب)
دیدۂ دل تووا کرے کوئی
 نورالحسنین (اورنگ آباد،دکن)  
پچھلے دس پندرہ برسوں سے اپنے معاصرین کی طرح مجھے بھی اس بات نے پریشان کر رکھا تھا کہ ہمارے بعد آنے والی نثر نگاروں کی ادبی نسل دور دور تک نظر نہیں آتی تو کیا نثر نگاری کے سورج غروب ہونے کا وقت آگیا؟ میں نے بہت کوشش کی کہ یہ کارواں ہر حال میں جاری رہے۔ اس کوشش کے نتیجے میں دو چار نوجوان سامنے آئے ضرور لیکن معاشی ذمے داریوں نے اُن کے ہاتھوں میں سے افسانہ نگاری کا قلم چھین کر صحافت کا کیمرہ اور قلم تھمادیااور بہت حد تک مجھے مایوس بھی کر دیا تھا۔ میں نے بھی یہ سوچ کر صبر کرلیا تھا کہ قلم کار بنائے نہیں جاتے، پیدا ہوتے ہیں، لیکن گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان بھرسے نثر لکھنے والوں کی پوری ایک کھیپ صرف سامنے ہی نہیں آئی بلکہ اُن کی کتابیں بھی مطالعے کا حصہ بن گئیں۔ ان نوجوانوں میں کوئی افسانہ لکھ رہا ہے، کسی نے تنقید کی کیاری میں گل بوٹے اُگانا شروع کردیے ہیں، کوئی مختلف موضوعات پر مضامین لکھ رہا ہے۔ اُن کی تخلیقات مسلسل اخبارات و رسائل میں شائع ہو رہی ہیں۔
ان ہی نوجوانوں میں ایک نام محمد علیم اسماعیل کا بھی ہے، جس کے افسانے اور مضامین آج کل مختلف رسائل و اخبارات میں تواتر کے ساتھ شائع ہو رہے ہیں اور جو نہایت تیزی کے ساتھ ادبی افق پر اپنی شناخت بنا رہا ہے۔ اس کے افسانے زندگی کی چھوٹی بڑی حقیقتوں کو نہایت روانی کے ساتھ پیش کرتے ہیں بلکہ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ اُس کے ہاتھ وہ سِرا لگ گیا ہے جو فرد کے داخلی اور خارجی مسائل،احساس و فکر کے کچوکوں سے جوجھتے ذہن، سیاسی ہتھکنڈوں میں جکڑی ہوئی بے بسی، تنہائی کا کرب، معاشی گھٹن، رشتوں کی پاسداری اور بے اطمینانی بھی، دکھ اور بیماریاں اور غیر محفوظ مستقبل کی وہ فکریں بھی،جس کا کرب چاروں طرف دکھائی دیتا ہے۔ بلا شبہ علیم ان موضوعات کو سلیقے سے برت رہا ہے۔
اس مجموعے میں شامل افسانوں میں افسانہ ’ چھٹّی‘ خاندان کے اُس بڑے بیٹے کی کہانی ہے جو نہ صرف اپنے والدین کا فرماں بردار بیٹا ہے بلکہ اپنے چھوٹے بھائیوں کی تعلیم و تربیت اور اُن کے مستقبل کو سنوارنے میں بھی پوری دلچسپی لیتا ہے۔وہ وکالت کے پیشے سے وابستہ ہے اور زیادہ تر اُن لوگوں کے مقدمات کی پیروی کرتا ہے جو پہلے ہی سے غربت کی سزا کاٹ رہے ہوتے ہیں یا پھر غلط الزامات میں پھنسے ہوئے ہوتے، اچانک وہ ایک ایسی بیماری کا شکار ہوجاتا ہے، جس سے جانبر ہونا ناممکن ہے۔ایسی حالت میں بھی وہ حوصلہ نہیں ہارتا لیکن اس بار وہ اپنی بیوی اوربچوں کے مستقبل کے لیے پریشان رہتا ہے اور چاہتا ہے کہ اُسے اسپتال سے جلد چھٹّی مل جائے۔ اُسے چھٹّی تو مل جاتی ہے لیکن زندگی کو ہار کر۔ یہ موضوع اگرچہ نیا نہیں ہے۔ بڑے بھائی کی قربانیوں پر بہت سارے افسانے لکھے جا چکے ہیں، لیکن محمد علیم نے اس افسانے میں جوکرب کی فضا باندھی ہے وہ حقیقت سے اس قدر قریب ہے گویا یہ افسانہ نہیں محمد علیم کی زندگی ہی میں رونما ہونے والا کوئی حقیقی سانحہ ہو۔
خوشحالی کا خواب انسان کو کیسی کیسی آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے۔ اپنی زمین سے ہجرت اور اپنوں سے دور کرتا ہے لیکن انسان جیسے جیسے دور ہوتا جاتا ہے، رشتوں کی ڈور اور محبتوں کا بندھن دِلوں کو مزید جکڑتا جاتا ہے۔ افسانہ ’ادھورے خواب‘ اسی کیفیت کو بیان کرتا ہے۔افسانے کا کلائمکس رشتوں کی تڑپ اور محبت کی حقیقت کو ناقابل بیان بنا دیتا ہے۔اسی لیے فسانہ، فسانہ ہوتا ہے اور اپنے قاری کو باندھے رکھتا ہے۔ کہیں جلد دولت مند بننے کا ارمان اور خوش فہمیوں کے خواب کس طرح سزا دیتے ہیں اُس کا احوال افسانہ ’ریجیکٹ‘ بیان کرتا ہے۔ افسانہ ’رنجش‘  ایک پُر تاثر افسانہ ہے جو اختتام کے بعد بھی قاری کے ذہن میں باقی رہتا ہے۔افسانہ ’قصور‘ پراثر ہے،لیکن کچھ انہونا سا لگتا ہے۔افسانہ ’منٹو‘ منٹو کے نظریات اور قاری کی ذہنیت کی عمدہ عکاسی کرتا ہے۔ فیس بک کے ذریعے کیا کچھ ہو رہا ہے اس کی ایک مثال علیم نے بھی دی ہے۔ افسانہ ’جنون‘خود کلامی کی تکنیک میں لکھی ہوئی ایک خوب صورت کہانی ہے جس کا سسپنس آخر تک باقی رہتا ہے۔
محمد علیم اسماعیل افسانوں کے ساتھ ہی ساتھ افسانچے بھی لکھتے ہیں۔ جو قاری کو چونکاتے بھی ہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ افسانہ لکھنے کے لیے محمد علیم کو کسی بڑے موضوع کی ضرورت نہیں ہوتی۔یہ بہت اچھی بات ہے کہ مصنف اپنے اطراف و اکناف سے باخبر رہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات احتیاط کی ایک ایسی کلید ہیں جس کی وجہ سے کانوں کی قوت ِ سماعت اور آنکھوں کی بصارت اورعمل میں پاکیزگی پیدا ہوتی ہے، لیکن ایک ایسے ماحول میں جبکہ دنیا سمٹ کر ایک گاؤں بن گئی ہے محمد علیم کو چاہیے کہ وہ اپنی افسانہ نگاری کے لیے موضوعات کے انتخاب میں احتیاط برتیں۔ آج اُردو افسانہ اپنے بیانیہ کے تمام اسرار اور اسلوب وہیئت کی ساری گٹھریاں کھول چکا ہے۔ اُنھیں پامال موضوعات سے گریز کرتے ہوئے نئے اُفق تلاش کرنا ہے۔ وہ ایک باصلاحیت نوجوان قلم کار ہیں۔اُردو افسانے کو اُن سے بڑی توقعات ہیں۔وہ جس قدر بھی اپنے کو نکھاریں گے اُن کے فن میں پختگی پیدا ہوگی اور ایک ایسا وقت بھی آئے گا جب اُن کا فن اعتبار حاصل کرلے گا۔ میری نیک تمنائیں اُن کے ساتھ ہیں۔
٭٭٭ 

No comments:

Post a Comment