اُلجھن:ایک تاثر
وصیل خان ، ممبئی
وصیل خان ، ممبئی
ایک زمانہ تھا جب لوگوں کے پاس فرصت کے لمحات بہت ہوتے تھے، وقت گزاری کے لیے لوگ کھیل کود اور مختلف تفریحات کے خوگر ہوجاتے تھے، اسی طرح ادب میں بھی یہی ذوق و شوق بڑھا ہوا تھالوگ طویل طویل داستانیں قصہ گو حضرات سے سنا کرتے اور محظوظ ہوتے۔پھر جیسے جیسے وقت تنگ ہوتا گیا داستانیں ناولوں میں ناول افسانوں میں اور افسانے افسانچوں میں تبدیل ہوتے گئے۔ لیکن ان تمام تر تبدیلیوں کے باجود تکنیک، کیفیت، ہیئت اورمعیار سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ افسانے طویل ہوں یا انتہائی مختصر،اس کے بنیادی تقاضوں کے بغیر تخلیق تکمیل کے درجہ تک نہیں پہنچ سکتی۔
ناندورہ، بلڈانہ سے تعلق رکھنے والے محمد علیم اسماعیل یوں تو ایک عرصے سے متعدد اخبارات ورسائل میں لکھ رہے ہیں لیکن افسانوں اور افسانچوں پر مشتمل ان کی کتاب ”الجھن“ دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ان کے اندر کا فن کار بہت کچھ کرگزرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بشرطیکہ وہ اپنی نگاہیں منزل پر مرکوز رکھیں اور مبالغہ آمیز تقریظی تحریروں کے سراب میں الجھ کر پانی کی تلاش میں نہ نکل پڑیں اور فریب کاری کے اسیر ہوجائیں۔ خود پر اعتماد کرتے ہوئے بلند فکری اور فن کاری کے ساتھ آگے بڑھنے کا عمل جاری رکھیں۔ ان کے زیادہ تر افسانوں اور افسانچوں میں زندگی کے مسائل نہ صرف پوری طرح موجود ہیں بلکہ ان کے تدارک کا بھی معقول حد تک حل بھی انھوں نے پیش کیا ہے۔الجھن، کرب، انتظار، اشک پشیمانی کے اور خیالی دنیا کو نمائندہ افسانہ کہا جاسکتا ہے اسی طرح افسانچوں میں بھی متعدد افسانے دل ودماغ پر گہرائی سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان کے بہتر مستقبل کی راہیں روشن نظر آرہی ہیں کیونکہ ان کے اندر وہ صلاحیت مترشح ہورہی ہے جس کے زور پر آگے کے راستے کو صاف و شفاف بنایا جاسکتا ہے۔ امید ہی نہیں یقین بھی ہے کہ محمد علیم اسماعیل جلد ہی اپنے فن کی بلندیوں سے آشنا ہوں گے۔
٭٭٭
No comments:
Post a Comment