Wednesday, 16 September 2020

(افسانوی مجموعہ ’’الجھن‘‘ سے)

متجسس فنکار

  اعجاز پروانہ ؔ ناندوروی  


    انسان اور حیوان میں بنیادی فرق نطق اور شعور کا ہے۔ان دو خدادادصلاحیتوں نے انسان کو نہ صرف اشرف المخلوقات کا درجہ دیابلکہ اسے کائنات کے ان اسرارورموز سے بھی آشنا کیا جو اسے ذہنی اور روحانی ترقی کی معراج تک لے جاسکتے ہیں۔بولا ہوا لفظ ہو یا لکھا ہوا لفظ،نسل در نسل علم کی منتقلی کا سب سے مؤثر وسیلہ ہے۔لکھے ہوئے لفظ کی عمر بولے ہوئے لفظ سے زیادہ ہوتی ہے۔اسی لئے انسان نے تحریر کا فن ایجاد کیا۔کتابیں لفظوں کا ذخیرہ ہیں اور اسی نسبت سے مختلف علوم و فنون کا سرچشمہ ہیں۔
 جب انسان کو کافی فرصت تھی تب وہ ایسے قصے سنتا اور پڑھتاتھا جو کافی طویل ہوتے تھے۔اس زمانے میں وہ قصے اور کہانیوں میں عقل کو دنگ کردینے والی چیزوں اور باتوں پر یقین کرلیتا تھا۔موجودہ زمانے میں انسان کی مصروفیت میں اضافہ ہو گیا،جس کی وجہ سے اس نے غیر ضروری طوالت سے بچتے ہوئے داستان سے، ناول،ناول سے ناولٹ، ناولٹ سے افسانہ اور مختصر و منی افسانہ کو اظہار کا وسیلہ بنایا۔ساتھ ہی فوق الفطری عناصر سے دامن بچا کر حقیقی واقعات کو اپنی کہانی کا موضوع بنایا۔افسانہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس میں زندگی کے پورے واقعات بیان نہیں کئے جا سکتے۔اس میں زندگی کے کسی ایک رخ یا کردار کے کسی ایک پہلو پر روشنی ڈالی جا تی ہے۔
شہر ناندورہ کے اعلی تعلیم یافتہ نوجوان، محمد علیم اسماعیل (مدرس)نے درجہ ہفتم تک نگر پریشد اردو اسکول، ناندورہ اور درجہ ہشتم سے درجہ دوازدہم،عنایتیہ ہائی اسکول و جونیئر کالج، ناندورہ بعدہٗ ڈی۔ایڈ،بی۔اے،ایم۔اے،بی۔ایڈ،ایم ایچ سیٹ اور یو جی سی۔ نیٹ(اردو) جیسے مشکل ترین امتحانات میں نمایاں طور پر کامیابی حاصل کی۔ لکھنے پڑھنے کے شوق نے انھیں چین سے بیٹھے نہیں دیا۔عموماََ ڈگریاں پانے اور ملازمت مل جانے کے بعد لوگ کتابوں سے رشتہ توڑ لیتے ہیں۔پڑھنے کے اسی شوق نے انھیں کہانی کار وافسانہ نگار بنادیا۔موصوف نے اس کتاب کو خود ہی ان پیج میں لکھ کر کتابی شکل میں سیٹنگ بھی خود ہی کی ہیں اور انھیں مہاراشٹر اسٹیٹ سرٹیفیکیٹآف انفارمیشن ٹیکنالوجی (MSCIT) کے آ ن لائن امتحان میں سو فیصد نمبرات حاصل کرنے کا اعزازبھی حاصل ہے۔
      الجھن محمد علیم اسماعیل کے افسانچوں اور افسانوں کا مجموعہ ہے۔یہ ایک خوبصورت گلدستے کی مانند ہے جس میں طرح طرح کی کہانیاں ہیں۔کہانی ’خیالی دنیا‘ میں جدید ذرائع ابلاغ، موبائیل اور واٹس ایپ کی خیالی دنیا میں وقت برباد کرنے کی بجائے حقیقی دنیا سے رشتہ استوار کرنے پر زور دیا گیا۔کہانی ”انتظار“ میں ایک ٹیچر کے کرب کوبیان کیا گیا ہے۔ افسانہ ”تاک جھانک“ ایک غریب بچے کی ٹوٹتی بکھرتی امیدوں کی پر درد کہانی ہے۔ افسانہ ”خوف ارواح“ ایک بھائی اپنی بہن کی محبت میں کس حد تک جا سکتا ہے،اس بات کو بتایا گیا ہے۔افسانہ ”خطا“ میں مصنف نے بتایا ہے کہ ایک چھوٹی سی غلطی کس طرح مشکلات پیدا کر کے زندگی بربادکر سکتی ہے۔
افسانچہ ایجاز و اختصار کا فن ہے۔تخلیقی تجسس کے بغیر افسانچوں کو سمجھنا مشکل ہے۔اور جوگندر پال صاحب نے افسانچوں کو سمجھنے کی ذمہ داری قاری کو سونپ دی ہے۔ اس لیے افسانچہ لکھنا کوئی کھیل تماشہ نہیں۔محمد علیم اسماعیل ایک متجسس طبیعت کے مالک ہیں اورا نھوں نے افسانچہ نگاری پر اچھی خاصی پکڑ حاصل کر لی ہے۔ محمد علیم کے افسانچوں کے کلائمکس سے طمانچوں کی گونج سنائی دیتی ہے اور قاری کو ایک نا معلوم وچونکانے والا نشتر لگتا ہے۔
 جب کوئی واقعہ محمد علیم کے مشاہدے میں آتاہے تو اسے اپنے پر اثر پیرائے میں بیان کر کے ایک نئی کہانی وجود میں لانے کی سعی کرتے ہیں،جس سے قاری محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔موصوف نے سہل اور سیدھے سادے الفاظ استعمال کر کے کہانیوں کے ذریعے اپنے قلم کا جادو جگانے کی حتی الامکان کو شش کی ہے۔ہم علم دوست محمد علیم کو اپنی اس کاوش پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں ان کے قلم سے اسی طرح اور بھی کتابیں منظر عام پر آئیں۔      


No comments:

Post a Comment