Sunday, 4 August 2024

 افسانوی ادب کے افق پر ابھرتا ستارہ: محمد علیم اسماعیل


مضمون نگار: ایازالدین اشہر ناندوروی



9960305780


شہر ناندوره کی زمین ادبی لحاظ سے زرخیز رہی ہے۔ اس سر زمین سے تعلق رکھنے والے کچھ افسانہ نگار ایسے ہیں جنھوں نے علاقے کا نام برصغیر میں روشن کیا ہے جن میں غنی غازی اور حمید ادیبی ناندوروی کے نام نمایاں ہیں۔ اسی سرزمین سے تعلق رکھنے والا نوجوان فن کار آج اپنے فن سے اردو فکشن کی شمع روشن کیے ہوئے ہے۔ میری مراد بے حد فعال اور محنتی افسانہ و افسانچہ نگار محمد علیم اسماعیل سے ہے۔ 


محمد علیم اسماعیل کی پیدائش ناندورہ ضلع بلڈھانہ(مہاراشٹر) میں ہوئی۔ ابتدائی اور اعلیٰ ثانوی تعلیم ناندورہ میں حاصل کی۔ عنایتیہ ہائی اسکول و جونیر کالج ناندورہ کے میرے اعلیٰ تعلیم یافتہ لائق و مستعد شاگردوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ آپ ضلع پریشد اردو اپر پرائمری اسکول پیپل گاؤں کالے میں معلم کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ محمد علیم اسماعیل کی اب تک 4 کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں تین افسانوی مجموعے الجھن، رنجش اور تماشا کے علاوہ مضامین کا مجموعہ ’افسانچے کا فن‘ شامل ہے۔ موصوف کو گراں قدر انعامات و اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی ممبئی کی جانب سے اردو زبان و ادب کی ہمہ جہت خدمات پر 2020 کے خصوصی ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔ اتر پردیش اردو اکادمی لکھنو کی جانب سے کتاب ’افسانچے کا فن‘ کو 2021 میں انعام سے نوازا گیا۔ 


مہاراشٹر کی ریاستی تنظیم AMUSS کی جانب سے طالبِ ادب ایوارڈ 2018، بزمِ ارباب سخن ناندورہ کی جانب سے ’تنویرِ ادب ایوارڈ 2019، بزمِ تحریکِ شعر و ادب ناندورہ کی جانب سے سفیرِ تعلیم ایوارڈ 2019‘ مہاراشٹر راجیہ پراتھمک شکشک سنگھ ناندورہ کی جانب سے قابلِ فخر کار کردگی ایوارڈ 2022 سے سرفراز کیا گیا۔ ادارہ ادبِ اسلامی ناندورہ کی جانب سے یو جی سی نیٹ (اردو) اردو ایم ایچ سیٹ (اردو) امتحانات کوالیفائی کرنے پر اعزاز کیا گیا۔ اس کے علاوہ کئی ادبی سماجی اور تعلیمی تنظیموں نے آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اعزاز کیا۔


’الجھن‘ محمد علیم اسماعیل کی پہلی تصنیف ہے جس میں افسانے اور افسانچے شامل ہیں۔ یہ کتاب موصوف نے بذات خود میرے گھر تشریف لاکر مجھے بطورِ سوغات پیش کی تھی۔ چلیے کتاب ’الجھن‘ پر بات کرتے ہیں۔ یہ کتاب کا پہلا ایڈیشن ہے جو 128 صفحات پر مشتمل ہے۔ جس کی اشاعت میں اچھے کاغذ کا استعمال کیا گیا ہے۔ سرورق دیدہ زیب ہے جو متاثر کن اور پرکشش ہے۔ کتاب 2018 میں زیورِ اشاعت سے آراستہ ہوئی۔


افسانچہ اردو فکشن کی ایک جدید صنف ہے۔ جو کہانی کی مختصر ترین صورت ہے جسے پہلے پہل منی افسانہ اور منی کہانی بھی کہا گیا۔ اس صنف کو لکھنے والوں نے مختلف ناموں سے لکھا۔ مثلاً: مختصر افسانہ، منی کہانی، منی افسانہ، مختصر ترین افسانہ اور افسانچہ وغیرہ مگر اس نئی نثری صنف نے اردو ادب میں ’افسانچہ‘ کے نام سے اپنی صنفی شناخت قائم کی۔ جس طرح کہانی نے اپنی شکل و صورت وقت کے ساتھ تبدیل کی۔ کبھی داستان تو کبھی ناول کی صورت کبھی افسانہ تو کبھی افسانچہ بن کر زندگی کی حقیقتوں کو پیش کیا۔ افسانچہ آج وقت کا تقاضہ ہے کیونکہ آج ہر کسی کے پاس وقت کی قلت ہے۔ یہی وہ صنف ہے جس میں زندگی کے مختلف پہلوؤں کو پیش کیا جا سکتا ہے۔


محمد علیم اسماعیل کے افسانچے قاری کے دل و دماغ کو جھنجوڑتے ہیں اور غور وفکر کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہی اچھے افسانچوں کی خوبی ہوتی ہے، جو موصوف کے افسانچوں میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ محمد علیم اسماعیل نے کافی محنت، ریاضت، لگن اور توجہ کے ساتھ وسیع مطالعہ کیا ہے۔ انھوں نے اپنے افسانوں اور افسانچوں میں موضوعات کو خاص اہمیت دی۔ اختصار، پلاٹ، نقطہء عروج، کہانی کا تاثر اور اختتام کو کافی اہمیت دی۔ کہانیوں کے معیار کو قائم رکھا۔ ساتھ ہی ان کی کہانیاں اس صنف کی شرائط کا پورا احاطہ کرتے ہوئے نظر آتی ہیں۔ جو سماجی مسائل کا عکس بھی ہیں۔


ہندوستان کے معروف افسانچہ و افسانہ نگار ڈاکٹر ایم اے حق اپنے مضمون ’بڑی تیزی سے ابھرتا ایک باشعور افسانچہ نگار‘ میں لکھتے ہیں:

’’اب محمد علیم کی افسانچہ نگاری نے رفتار پکڑ لی ہے لیکن ان کی تیز رفتاری نے افسانچے کے معیار کو کبھی مجروح نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ زیرِ نظر مجموعہ ’الجھن‘ میں ان کے افسانچے اس صنف کے شرائط پر کھرے اترتے ہیں۔‘‘


ڈاکٹر اسلم جمشید پوری ’چنگاریاں ضرور ایک دن شعلہ بنیں گی‘ عنوان کے تحت اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں: ’’مختلف رسائل میں علیم اسماعیل کے متعدد افسانے اور افسانچے میری نظر سے گزرے ہیں۔ جب کبھی میں ان کی تخلیق پڑھتا تو میرے ذہن میں ایک ہی خیال آتا کہ اس ادیب کے اندر چنگاریاں ہیں جنھیں مناسب رہنمائی اور توانائی کی ضرورت ہے۔ جس کے بعد یہ چنگاریاں ضرور ایک دن شعلہ بنیں گی۔ علیم اسماعیل کے زیادہ تر افسانچے اور افسانے سماجی مسائل کا عکس ہیں۔‘‘


اسی طرح معروف افسانہ نگار سلام بن رزاق نے اپنے تاثرات کچھ اس طرح پیش کیے ہیں:

’’تمھاری کہانی ’انتظار‘ پڑھی۔ کہانی مجھے اچھی لگی۔ تم نے ایک ٹیچر کے کرب کو جس طرح بیان کیا ہے وہ ایک ٹیچر ہی کر سکتا ہے۔ میں بھی ایک ٹیچر رہ چکا ہوں اس لیے مسائل کو سمجھ سکتا ہوں۔ حالانکہ ہم اتنے سنگین مسئلے سے نہیں گزرے لیکن اس کے باوجود آج کے مسائل کی گہرائی کو سمجھ سکتے ہیں۔ زبان و بیان بھی ماشاء اللہ اچھا ہے تمھارا۔ اللہ تمھیں اچھا رکھے۔‘‘


’الجھن‘ محمد علیم اسماعیل کی پہلی تصنیف ہے۔ جو دو حصوں میں منقسم ہے۔ جس میں کل 59 افسانچے اور 13 افسانے شامل ہیں۔ افسانہ نگار نے افسانچہ ’شرمندگی‘ میں خواتین کے پردے کے موضوع پر کہانی کا تانا بانا بنا ہے۔ افسانچہ ’چور‘ میں غربت اور سیاست کا موازنہ کیا گیا ہے۔ جس میں ایک غریب چور کو چھوٹی سی چوری پر سماج خوب سزا دیتا ہے مگر ایک امیر سیاستدان کے لاکھوں روپیوں کے گھوٹالے کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ لہٰذا معاشرے کو بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔ افسانچہ ’عبادت‘ میں صلہ رحمی کی طرف نشاندہی کی گئی ہے، نیز اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جہاں نماز اور حج فرض ہے وہیں اسلام میں رشتوں کو بھی بے حد اہمیت دی گئی ہے۔ ’حلال‘ اس افسانچے میں حرام ذریعہء معاش کی بجائے حلال کمائی کی طرف توجہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ افسانچہ ’اعتماد‘ میں افسانچہ نگار نے سرکاری اردو اسکولوں میں دن بہ دن کم ہونے والی طلبہ کی تعداد کی وجہ اجاگر کی ہے۔ جب اردو اسکول کے اساتذہ اپنے خود کے بچوں کو انگریزی میڈیم اسکول میں پڑھاتے ہیں تو اس عمل سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ انھیں اپنی اردو اسکول کی تعلیم پر اعتماد نہیں۔ لہٰذا پہلے اردو اسکول کے معلمین کو اپنی اسکول کے معیارِ تعلیم کو بہتر بنانا ہوگا اور اپنے بچوں کو انگریزی کی بجائے اردو اسکول میں ہی پڑھانا ہوگا تاکہ طلبہ کی تعداد کم نہ ہو اور اردو اسکولوں میں منظور پوسٹ ختم نہ ہو، نیز اردو اسکول کی ترقی ہو سکے۔ اس کے علاوہ بھی اس کتاب میں بہترین افسانچے شامل ہیں جس میں سماجی، معاشی، سیاسی، تعلیمی، اخلاقی غرض کہ زندگی کے ہر شعبہ میں آنے والے مسائل پر تنقید برائے اصلاح کی گئی ہے۔ 


محمد علیم اسماعیل کے افسانوں کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ موصوف کے افسانے بھی اس صنف کی شرائط پر کھرے اترتے ہیں۔ افسانہ اردو ادب کی نثری صنف ہے۔ یہ ایک تخیلی مختصر نثری بیانیہ ہے۔ افسانہ زندگی کا جز جبکہ ناول زندگی کا کُل پیش کرتا ہے۔ دونوں میں طوالت اور وحدت تاثر کا فرق ہوتا ہے۔ افسانے کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ یہ اپنے اختتام پر قاری کے ذہن پر واحد اثر قائم کرتا ہے جسے وحدت تاثر کہتے ہیں۔ علیم اسماعیل کے افسانوں میں وحدت تاثر محسوس ہوتی ہے۔ افسانے کے ذریعے فرد کی زندگی کے کسی ایک پہلو کی نفسیاتی، جذباتی کیفیت یا کسی تجربے کو تخلیقی پیرائے میں پیش کیا جاتا ہے۔ علیم اسماعیل نے اپنے افسانوں میں واقعات کا بیان، کرداروں کی گفتگو، منظر اور ماحول کا بیان بڑے بے نپے تلے انداز میں کیا ہے۔


محمد علیم اسماعیل نے اپنے افسانوں میں اجزائے ترکیبی کا خاص خیال رکھا ہے۔ کہانی کا پلاٹ، واقعات کے مجموعی تاثر کو نمایاں کرنے میں معاون ہے۔ ان کے افسانوں میں کرداروں کا واضح نقش ابھر آتا ہے۔ ایک اچھے افسانے کے لیے ضروری ہے کہ افسانہ نگار، کردار نگاری پر مضبوط گرفت رکھتا ہو۔ یہ خوبی موصوف میں پائی جاتی ہے۔ اسی کے ساتھ علیم اسماعیل جزئیات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور کرداروں کے زمانی پس منظر سے اچھی طرح واقفیت بھی۔


ان کے افسانوں میں منظر نگاری اور جذبات نگاری متاثر کن اور مرکزی خیال میں گہرائی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے افسانوں میں معنوی وسعت پیدا ہو گئی ہے۔ موصوف کے افسانے منفرد اور دلچسپ اسلوب لیے ہوتے ہیں، جن میں سادگی، روانی اور حقیقت پسندی کے عناصر افسانے کو دلچسپ بنا دیتے ہیں۔ 


افسانہ ’الجھن‘ ایسے دو بھائیوں کی کہانی ہے جو ایک دوسرے پر جان نچھاور کرتے ہیں، ایک دوسرے کا دکھ دیکھ کر تڑپ اٹھتے ہیں، دونوں سائے کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں لیکن بڑے بھائی کی شادی کے بعد پوری جائیداد حاصل کرنے کی لالچ میں وہ اپنے چھوٹے بھائی کا قتل کر دیتا ہے، اور ختم نہ ہونے والی الجھن میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ ڈر اور خوف میں ہر وقت مبتلا رہتا ہے کہ اس کا بھی کہیں ایسا ہی انجام نہ ہو جائے جیسا اس نے اخبار میں پڑھا تھا:

’’اپنے بھائی کو بہت ہی عزیز رکھنے والے ایک شخص نے زمین کی لالچ میں اسی بھائی کا قتل کر کے گھر کے آنگن میں دفن کر دیا تھا..... آج اسی راز سے پردہ فاش..... قاتل کو پھانسی کی سزا۔‘‘

اس کہانی میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ امانت میں خیانت کرنے اور حق تلفی کرنے سے انسان کا اطمینان اور سکون مکمل طور پر برباد ہو جاتا ہے۔ اس کی آرام دہ زندگی جہنم بن جاتی ہے۔ لہٰذا لالچ بری بلا ہے۔


افسانہ ’انتظار‘ میں افسانہ نگار نے ایک نان گرانٹ اسکول کے معلم کو درپیش مسائل بیان کیے ہیں۔ اس کے علاوہ اسکول اور گھر میں آنے والے معاشی مسائل کی بہترین انداز میں عکاسی کی گئی ہے۔ اسکول میں طالب علم کا ’’بن پگاری فل ادھیکاری‘‘ کہہ کر اپنے استاد پر طنز کرنا اور اسے ذلیل کرنا نیز گھر میں مالی مشکلات کی وجہ سے بیوی کے طعنے سننا، بچوں کی فرمائش کی تکمیل نہ کر پانا کس قدر ذہنی کوفت کا باعث بنتا ہے۔ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والوں کی وجہ سے اسکول کے نظم وضبط میں خلل پیدا کرنے کی کوشش کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اسکولی انتظامیہ کا ایک نان گرانٹ اسکول کے ٹیچر کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کرنے کی بجائے اس پر مالی بوجھ ڈالنا اور اس کے ذہنی سکون و اطمینان کو غارت کرنا قابلِ مذمت ہے۔ اگر ٹیچر ذہنی و مالی اعتبار سے مطمئن ہو تو وہ درس و تدریس کے فرائض بہتر طریقے سے انجام دے سکتا ہے۔ ان تعلیمی امور کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا حکومت کو اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے تاکہ اساتذہ کی مالی دشواری دور ہو۔ اس طرح معلمین اپنی خوشحال زندگی کے ساتھ، خوش گوار ماحول میں طلبہ کو بہترین تعلیم و تربیت سے آراستہ کر سکیں گے۔


’کرب‘ اس افسانے میں افسانہ نگار نے آج کے دور میں والدین پر اپنے بہو بیٹوں کی طرف سے ہونے والی زیادتیوں کا کربناک نقشہ کھینچا ہے۔ جس میں ایک ضعیف خاتون کو اس کا بیٹا اور بہو اپنی روز مرہ زندگی کی ضروریات کو پوری کرنے کے لیے افطاری کی اشیاء فروخت کرنے پر مجبور کرتے ہیں لیکن ایک عمر دراز بزرگ، خاتون کی حالاتِ زار دیکھ کر اس سے پورا سامان خرید لیتا ہے۔ وہ خریدار کو دعائیں دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ آج میں پیٹ بھر کھانا کھا کر پرسکون نیند سوؤں گی۔ اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ وہ بزرگ خاتون بہو اور بیٹے کے ہاتھوں کس قدر اذیت کا شکار ہیں۔ لہٰذا یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ماں باپ تکلیفیں اٹھا کر اپنی اولاد کی پرورش کرتے ہیں۔ انھیں اپنی حیثیت کے مطابق اس لائق بناتے ہیں کہ جب وہ بزرگی کو پہنچے تب اولاد ان کی ہر ضروریات کا خیال رکھے۔


محمد علیم اسماعیل کے افسانچے اور افسانے سماجی مسائل کا عکس ہے ساتھ ہی اخلاقی پیغام بھی دیتے ہیں۔ ان کے فن پارے نہایت منفرد انداز سے قاری کے سامنے آتے ہیں۔ ان کے افسانچوں اور افسانوں میں کوئی نہ کوئی مقصد پوشیدہ ہوتا ہے، جس سے قاری یقیناً غور وفکر کے سمندر میں غوطے لگانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ کتاب ’الجھن‘ کے بیشتر افسانچوں اور افسانوں میں معاشرتی گہما گہمی کی فضا دکھائی دیتی ہے۔ علیم اسماعیل نے افسانہ نگاری کو حقیقت نگاری کے ساتھ اس طرح جوڑا ہے کہ ان کی کہانیاں حقیقت سے بہت قریب محسوس ہوتی ہے۔ ساتھ ہی وہ قاری کو اپنے سحر میں لے لیتے ہیں۔ جس سے قاری اس وقت آزاد ہوتا ہے جب وہ پڑھ رہے افسانے یا افسانچے کو ختم کرتا ہے، اور یہی ایک اچھے فن کار کی خوبی ہوتی ہے جو علیم اسماعیل میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ اپنی بات اس امید پر ختم کرتا ہوں کہ علیم اسماعیل کی مزید تخلیقات و تصنیفات شائع ہو کر اسی طرح ادبی قارئین کی پیاس بجھاتی رہیں گی۔


..... ختم شد .....

Thursday, 29 July 2021

بزمِ افسانہ میں محمد علیم اسماعیل کا افسانہ دیوار پر بنی ہوئی تصویریں

سلام بن رزاق

محمد علیم اسماعیل ایک ہونہار افسانہ نگار ہیں۔ ’’دیوار پر بنی ہوئی تصویریں‘‘ ناسٹلجیائی کیفیت کو ظاہر کرتا ایک خوبصورت افسانہ ہے۔ ہر انسان کا ایک ماضی ہوتا ہے بالخصوص بچپن کی یادیں اسے بہت عزیز ہوتی ہیں۔  زیرِنظر افسانے میں افسانہ نگار نے بڑی ہنر مندی سے بچپن کی ایک یاد کو افسانے کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔

علیم خوب لکھتے ہیں اور خوب چھپتے ہیں۔ ان کے تقریباً سبھی افسانے میں نے پڑھے ہیں۔ کثرت نویسی کے سبب ان کے افسانوں میں یک رنگی آ گئی تھی لیکن ایسا لگتا ہے۔ یہ افسانہ ان کے سفر کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو گا۔ اور خدا کرے کہ ایساہی ہو۔ افسانہ نگار کو مبارکباد اور دعائیں۔ 


حسین الحق

اچھی کہانی ہے۔ قاری کہانی میں مشغول ہو جاتا ہے، کچھ نہ کہنے کے باوجود کہانی مسلسل کچھ ترسیل کرتی رہتی ہے اور اچھی بات ہے کہ جو کچھ تخلیقی شعور تک پہنچ رہا ہے اس کے بارے میں حتمی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جو ترسیل ہو رہی ہے یہ وہی ہے جو کہانی کار قاری تک پہنچانا چاہ رہا ہے۔ متن اپنی ترسیل میں قدرے آزاد محسوس ہو رہا ہے۔ اس کہانی میں تخلیقی تقاضوں کا خیال رکھا گیا ہے۔


ڈاکٹر رضوان الحق

افسانہ دلچسپ اور نہایت تخلیقی ہے۔ تخلیقی سے میری مراد یہ ہے کہ کسی واقعہ کو خواہ وہ حقیقی ہو، براہ راست نہیں پیش کیا گیا ہے۔ بلکہ ایک ایسی دنیا خلق کی گئی ہے جو افسانہ نگار کی خلق کردہ ہے محض سامنے کی حقیقت نہیں ہے۔


ملکیت سنگھ مچھانا

دیوار پر بنی ہوئی تصویریں، نے اپنا بچپن یاد دلا دیا۔

میں جب بھی شہر (بٹھنڈہ) سے اپنے گاؤں (مچھانا) جاتا ہوں تو بچپن کی یادیں مجھے گھیر لیتی ہیں۔ میں بڑی مشکل سے انھیں فاند کر شہر لوٹتا ہوں۔ سہل و سادہ جملوں میں ایک اچھا افسانہ تحریر کرنے پر میں جناب محمد علیم اسماعیل جی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔


محمد سراج عظیم

محمد علیم اسمعیل دنیائے افسانہ پہ ابھرنے والا ایک روشن ستارہ ہے جو اپنی روشنی سے ہر ایک کو اپنی جانب متوجہ کر لیتا ہے۔ یہ علیم کی کامیابی کی نشانی ہے۔ ’دیوار پر بنی ہوئی تصویریں‘ میں علیم عصر حاضر کی بھاگتی دوڑتی دنیا میں محض اپنی ذات کی غرض میں الجھ کر تمام سماجی سروکاروں کو بھلا کر بس مصروف ہے، اپنے ہی گردوپیش میں مگر یادوں کا nostalgia لاشعور میں مستقل دستک دیتا رہتا ہے اور نتیجتاً آخر کار دل کا دروازہ کھولنا پڑتا ہے اور پھر دل و دماغ پر اپنے وجود کی بارآوری سے کیف و سرور چھا جاتا ہے۔ 

ایک خوبصورت بیانیہ... بہت چابکدستی سے خود کلامی کے پیرائے میں کہانی کو ڈھالا گیا ہے۔ مجھے کہنے میں تردد نہیں یہ بہت اچھی کہانی ہے۔ علیم کو اس خوبصورت انداز پر ڈھیروں مبارکباد۔


انور مِرزا

دیوار پر بنی ہوئی تصویریں ... مطلب؟ کیا یہ راوی کے بچپن کی تصویریں ہیں...  یا ان تصویروں میں اُس کے رشتے دار ...ماں باپ یا بھائی بہن بھی ھیں...؟  جو اُس کے دُور چلے جانے پر رو رہے ہیں...اور اُسے اپنے پاس بُلا رھے ہیں...؟ ابتدا میں قاری صرف اندازہ لگاتا ہے کہ شاید ایسا ہی کچھ ہوگا...کیونکہ راوی کا اندازِ بیاں رمزیہ ہے... بالا آخر راوی بیس سال بعد امریکہ سے اپنے آبائی گاؤں آ جاتا ہے... ’امریکہ ریٹرن‘ راوی، گھر پریوار کے لوگوں سے ملاقات کا محض سرسری سا ذکر کرتا ہے...لیکن پُرانے دوستوں کے ساتھ گھنٹوں گزارنے اور گاؤں کے روایتی ’سکون‘ کی باتیں کرتا ہے...تب یہ راز کھُلتا ھے کہ راوی کو اُس کا کھویا ہوا بچپن بُلا رھا تھا...اور وہ بچپن اور بچّہ اُسے مِل بھی جاتا ھے... اِس طرح دیکھا جائے تو افسانہ نِگار محمد علیم اسماعیل صاحب کہانی میں تجسُس کی فضا برقرار رکھنے میں...اور اپنے خواب کو تعبیر دینے میں کامیاب ہیں... علیم صاحب کے لیے مبارکباد اور نیک خواہشات


جاوید نہال حشمی

انسان اپنی جڑوں سے جتنا بھی دور کیوں نہ ہو جائے، اپنی مٹّی سے تعلق بھلا نہیں پاتا۔ بھاگتی دوڑتی زندگی، موجودہ ماحول کی مصروفیات اس کے شعور پر تو اثر انداز ہوتی ہیں مگر لاشعور پر خود اس کا قابو نہیں ہوتا، لاشعور میں دبی خواہشات، امنگیں اور یادیں کب کس شکل میں اسے چونکا جائیں اسے خود پتہ نہیں ہوتا۔ روایتی بیانیہ سے ہٹ کر ایک نئے انداز میں ایک نئے طرز کے افسانے کی تخلیق پر علیم اسماعیل صاحب کو بہت بہت مبارک باد۔علیم صاحب تخلیقی فن کاری کی ارتقائی سیڑھیاں تیزی سے چڑھتے معلوم پڑ رہے ہیں۔


ڈاکٹر ذاکر فیضی

کہتے ہیں انسان کا اصل اثاثہ اُس کی یادیں ہوتی ہیں۔ اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ہم کسی نہ کسی شکل میں اپنے ماضی کو یاد کرتے  ہی رہتے ہیں۔ گُزرے زمانے کی کُچھ باتیں ہماری کوشش کے باوجود ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ علیم اسماعیل صاحب کی کہانی ’’دیوار پر بنی ہوئی تصویریں‘‘ کا مرکزی خیال یہی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار امریکہ سے جب گاؤں واپس آتا تو جس دیوار پر وہ  اپنے ساتھیوں کے ساتھ تصویریں بناتا تھا اُسی دیوار پر اُسے اپنا بچپن کھڑا ملتا ہے۔ خیال اچھا ہے۔ افسانہ مجھے پسند آیا۔ میں علیم اسماعیل صاحب کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔


طاہر انجم صدیقی

علیم اسماعیل صاحب کا افسانہ ’’دیوار پر بنی ہوئی تصویریں‘‘ واقعی ان کے دیگر افسانوں سے مختلف ہے۔ اس کا رنگ بھی جدا ہے اور انداز بھی۔ بس کہیں کہیں فطری طور پر پرانے رنگوں کی آمیزش ہوگئی ہے۔

اپنوں سے دور رہنے والوں کا کرب اور ماضی کی یادوں کے کچوکوں کو اس افسانے کا مرکز کرنے اور کامیابی کے ساتھ ایک متاثر کن افسانہ لکھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب محمد علیم اسماعیل صاحب شاید پرانے ڈھرے سے ہٹنا چاہتے ہیں اور ندرت کی تلاش میں ہیں۔ اللہ انھیں کامیاب و کامران رکھے۔


وسیم عقیل شاہ

علیم اسماعیل عصر حاضر کے تازہ کار افسانہ نگار ہیں۔ متواتر لکھتے رہنے اور چھپنے چھپانے کے اعتبار سے ان کی شہرت نوجوان نسل کے لکھنے پڑھنے والوں میں قدرے جدا ہے۔ ہندوستان بھر کے اکثر رسائل اور اخبارات ان کی تحریریں شائع کر چکے ہیں، پاکستان میں بھی آپ کی تحریریں یکساں طور پر شائع ہو رہی ہیں۔ اساتذہ کے مطابق علیم اسماعیل کے افسانے پہلے کے مقابلے اب بہت صاف، واضح اور نکھرے ہوئے آ رہے ہیں۔ پیش کردہ ان کا افسانہ ’’دیوار پر بنی ہوئی تصویریں‘‘ عمدہ اسلوب و تکنیک میں تحریر ہے جو فطرت کے ایک اہم خیال کو پیش کرتا ہے۔

اس افسانے (دیوار پر بنی ہوئی تصویریں) میں علیم اسماعیل نے غریب الوطنی کے کرب کو تازہ و شگفتہ اسلوب میں بہت ہی دردمندانہ اور متاثر کن طریقہ سے پیش کیا ہے۔

ہم ہر نئے دن نیا اجالا، نیا جہاں دیکھتے ہیں، زندگی کرنے کی تگ و دو میں بڑی سے بڑی منزل کو جا لیتے ہیں۔ ترقی کے نام پر دنیا ہمارے قدموں میں تک آ جاتی ہے۔ لیکن جہاں ہمارے ابتدائی دن گزرے اور جہاں کی دھرتی کے گداز لمس کو ہمارے پیر کے کومل تلّو نے اپنے وجود میں سرایت کیا تھا، انسانی فطرت ہے کہ ہم اس زمین کو فراموش نہیں کر پاتے۔ اس زمین کا تقاضا بھی یہ نہیں ہوتا کہ وہاں کوئی یادگار تعمیر کر کے اسے مقدس ثابت کیا جائے مگر وہ اس کی بھی آشا نہیں کرتی کہ اسے یکسر بھلا دیا جائے۔

یہاں علیم اسماعیل نے بظاہر  انسان کی اسی جذباتی کیفیت کو موضوع قلم بنایا ہے۔ تاہم کچھ ذاتی مفادات اور جھوٹی شان کے لیے اپنی ذات کو کسی دوسری مشہور جگہ، مقام سے منسوب کرنے کے غیر اخلاقی عمل کا یہ خیال بھی منکشف ہوتا ہے۔ شاید یہ خیال لا شعوری طور پر افسانے کا حصہ ہوگیا ہے کیوں کہ اس میں اس بات کا کوئی واضح اِشارہ نہیں ہے۔ لیکن اچھے افسانے اپنے اندر معنوی تہہ داریاں اور مفہوم کے مختلف جہات رکھتے ہیں۔ ایک بہت اچھے افسانے پر علیم اسماعیل صاحب کو مبارک باد۔


فریدہ نثار احمد انصاری

انسان کبھی اپنے خوابوں کے راستے کا تعین نہیں کرتا، وہ خود بخود ہی نظر آتے ہیں۔ انھیں کبھی تصور کا نام منسوب کیا گیا تو کبھی خیالات کا۔ انسان کے خیالات اس کے تحت الشعور سے لاشعور کا سفر کرتے ہیں اور یوں کسی چیز کی چاہ اس کے خوابوں میں نظر آتی ہے۔ بعض دفعہ یہ اتنے اسٹرانگ ہو جاتے ہیں کہ ان کا اثر سیدھا زندگی پر پڑتا ہے۔ سائیکالوجی کی اصطلاح میں یہ وہ عکس ہوتے ہیں جو دل کی چاہ کو آنکھوں کے غلاف میں چھپا لیتے ہیں۔ مذکورہ افسانہ بھی ایک خواب نامہ ہے جس میں راوی ایک دیوار کو ہمیشہ دیکھتا ہے اور یہ خواب اسے آخر سالوں بعد اپنے وطن کا سفر کروتا ہیں۔ مشاہدے گواہ ہیں کہ بہت دور سمندر پار مثلاً امریکہ، کینڈا یا کوئی یورپی ملک جانے والے جلد لوٹ کر نہیں آتے۔ حالات اجازت ہی نہیں دیتے۔ یہی اسباب انھیں خوابوں کے جھروکوں میں لے جاتے ہیں اور ان میں سے وہ تارکین وطن حالات کے موافق ہوتے ہی اپنی جڑوں کی طرف پھر لوٹ آتے ہیں۔

قابل قلم کار نے اسی درد کو دیوار بنا کر پیش کیا اور راوی اپنے دیس بچپن کی یادیں لیے لوٹ آیا اور آخر اس کا خواب شرمندہ ء تعبیر ہو گیا۔ قلم کار نے منفرد انداز اپنایا۔ اور قلم کی جولانیوں نے ایک عمدہ کاوش کو قرطاس پر پینٹ کیا۔ اختتام نے عنوان کا حق ادا کیا۔ دلی مبارکباد و نیک خواہشات


ڈاکٹر نور الصباح

موصوف کا یہ افسانہ ان کے دوسرے افسانوں سے مختلف ہے۔ دیوار کو علامت بناکر انھوں نے لاشعور میں مجتمع یادوں کو باہر لانے کی سعی کی ہے، جو کامیاب ہے۔ بچپن کی یادوں کو روایت کے الگ مختلف تکنیک میں بیان کرکے انھوں نے ایک عمدہ افسانہ لکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔


تنویر احمد تماپوری

عموماً علیم صاحب کے افسانے الگ طرح کے ہوتے ہیں۔ ان کی زنبیل میں نئے طرز کا اضافہ دیکھ کر خوشی اور حیرت ہوئی۔ مختصر اور چست۔ بچپن کی بے سروپا باتوں اور سوچ کو نہایت اچھے پیرائے میں باندھا گیا ہے۔ اچھا لگا۔ تحریر بچپن کی یاد دلاگئی۔مبارکباد۔


ڈاکٹر عارف انصاری

تحت الشعور میں موجود یادیں سبھی کو خواب کی شکل میں نظر آتی ہیں چاہے وہ کل ہی بات کیوں نہ ہو، اس حقیقت کو علیم اسماعیل صاحب نے افسانہ کے قالب میں ڈھالا ہے۔ یہ افسانہ ان کے دیگر افسانوں، افسانچوں سے واقعتاً مختلف ہے۔ اس بار افسانہ نگار نے لمبی چھلانگ لگائی ہے اور اس افسانے کو نئے انداز سے گڑھنے کی سعی کی ہے۔ جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ علیم صاحب کی نئے پن کی تلاش اور اس افسانے کو بزم کی وال پر لگا نے پر موصوف کی خدمت میں مبارک باد...


ڈاکٹر انیس رشید خان، امراؤتی

یہ افسانہ ایک آئینے کی طرح ہے جس میں جھانکنے والے کو اپنی ہی صورت دکھائی دیتی ہے۔ ’’وہ ایک بڑی سی دیوار ہے‘‘ جو ماضی کے، خصوصاً بچپن کے زمانے کی تحت الشعور میں بسے گاؤں کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک انسان زندگی میں چاہے کتنی بھی ترقی کرلے، کہیں بھی چلا جائے، بچپن کی یادیں ایک تصویر کی طرح اس کے دماغ میں محفوظ رہتی ہیں۔ اچھا انداز بیان ہے۔ افسانہ نگار کو بہت بہت مبارک باد۔۔۔


سید اسماعیل گوہر

اگر کسی افسانہ میں انسانی جذبات و احساسات کو شامل کردیا جائے تو وہ افسانہ قاری کے دل و دماغ پر دیرپا تاثرات چھوڑتا ہے۔ افسانہ پڑھتے ہوئے قاری جذبات کی رو میں بہنے لگتا ہے۔ احساس کی ایک نئی چنگاری اس کے دل و دماغ کے کسی کونے میں پڑی راکھ کو ہوا دینے لگتی ہے۔ قاری کے اندرون میں کشمکش جاری ہو جاتی ہے۔ علیم اسماعیل کے بیشتر افسانے جزبات و احساسات سے بھرے ہوتے ہیں۔ ان کی تحریر سے قاری کے دل ودماغ پر ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ 

زیر بحث افسانہ... دیوار پر بنی ہوئی تصویریں... علیم اسماعیل کا بالکل تازہ افسانہ ہے۔ ان کے بیشتر افسانے سادہ بیانیہ ہوتے ہیں، لیکن اس افسانے میں انھوں نے کچھ نیا کرنے کی کوشش کی ہے۔ 

جہاں تک مجھے معلوم ہے۔ آجکل وہ سریندر پرکاش کے افسانوں کا مطالعہ کر رہے ہیں، اسی لیے اس طرح کا فکشن ان کے قلم سے نمودار ہوا ہے۔

افسانے میں ماضی کے واقعات راوی کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ وہ سمجھ نہیں پاتا کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے۔ آخر کار جب وہ امریکہ سے اپنے گاؤں لوٹتا ہے۔ اور اپنے بچپن، کے دوستوں سے ملتا ہے۔ تو چلتے چلتے اسے وہی دیوار اور اس پر ابھری ہوئی تصویریں دکھائی دیتی ہیں جو عرصہ سے اسے لاشعوری طور پر اپنی طرف کھینچے ہوئی تھیں۔ علیم اسماعیل کی عام روش سے ہٹ کر لکھنے کی یہ کوشش قابلِ ستائیش ہے۔


راحیل ابن انجم

علیم اسمعیل دور حاضر کے تازہ کار افسانہ نگار ہیں۔ ملک کے اکثر رسائل و اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں۔

’’دیوار پر بنی تصویر یں‘‘ ان کا بالکل تازہ اور جدا افسانہ ہے۔

افسانہ شروع ہوتا ہے اور دھیرے دھیرے اپنے اختتام کی طرف بڑھتا ہے۔ افسانہ پڑھتے ہوئے میرے ذہن میں بار بار یہ سوالات آ رہے تھے کہ آگے کیا ہوگا؟ اور جو ہو رہا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ افسانے  کی بنت کافی مضبوط ہے۔ کہانی میں اپنے آپ کو پڑھوانے کی بھرپور طاقت ہے۔ بیانیہ ذرا ہٹ کر ہے۔ ایسا بالکل بھی محسوس نہیں ہوا کہ افسانے کا کوئی حصہ غیر ضروری ہو۔ افسانے  میں اپنی مٹی سے محبت اور بچپن کی یادوں کو تخلیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اختتام بھی بڑا معنی خیز ہے۔ مجموعی طور سے افسانہ مجھے پسند آیا۔


محمودہ قریشی آگرہ

دیوار پر بنی ہوئی تصویریں ایک نیم علامتی افسانہ ہے۔

علامتی افسانے جلد سمجھ میں نہیں آتے لکین یہ افسانہ ایک ہی قرأت میں سمجھ میں آ گیا۔ جو ایک کامیاب افسانے کی دلیل ہے۔ افسانہ ذہن کو کافی متوجہ کر کے لکھا گیا ہے۔


Monday, 7 December 2020

محمد علیم اسماعیل بطورافسانہ نگار---- تحریر: مخدوم عرفان طاہر (جھنگ، پاکستان)

 محمد علیم اسماعیل بطورافسانہ نگار

تحریر: مخدوم عرفان طاہر (جھنگ، پاکستان)


افسانہ ایک ایسی فکری کہانی ہوتی ہے جس میں کسی ایک خاص واقعہ اورکسی ایک خاص کردار پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ اکیسویں صدی کے اردو افسانے میں محمد علیم اسماعیل کی حیثیت ایک ہمہ جہت تخلیق کار کی ہے۔ وہ جتنے اہم افسانہ نگار ہیں، اسی قدر ایک افسانچہ نگار کے طور پر بھی فنی عظمت کے مالک ہیں۔ وہ ذہنی، جذباتی اور فطری مسرت کی حفاظت کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔ ان کا شمار نمایاں مقام رکھنے والے ادیبوں میں ہوتا ہے۔ علیم اسماعیل نے اپنے افسانوں اور افسانچوں کے ذریعے معاشرے کی چھوٹی چھوٹی برائیوں اور مسائل کو قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔ وہ مہاراشٹر میں شعبہئ تعلیم سے منسلک ہیں اور درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اپنے فن پاروں کے ذریعے انھوں نے ثابت کیا کہ اُن میں افسانہ و افسانچہ نویسی کے جراثیم موجود ہیں اور اس فن میں وہ بھرپور صلاحیت کے مالک ہیں۔ انھوں نے روایتی افسانے بھی لکھے اور تکنیکی تجربے بھی کیے۔ اُن کے افسانوں کی خاص بات یہ ہے کہ پڑھنے والا افسانہ شروع کرتے ہی ان کی گرفت میں آ جاتا ہے اور پھر مکمل افسانہ پڑھے بغیر رہ نہیں سکتا۔ ان کے افسانوں کا مطالعہ کرنے کے دوران قاری مختلف کیفیات سے گزرتا ہے۔ اُن کے موضوعات کا دائرہ کافی وسیع ہے اور ان موضوعات میں جدت و ندرت ہے۔
علیم اسماعیل نے اپنا پہلا مضمون ’علامہ اقبال کی باتیں‘، پہلا افسانہ ’خیالی دنیا‘ اور افسانچہ ’شرمندگی‘ سے لکھنے کا آغاز کیا۔ اب تک اُن کی دو تصانیف منظر عام پر آئی ہیں، جن میں ’الجھن‘ (افسانے و افسانچے) اور ’رنجش‘ (افسانے) شامل ہیں۔ ادبی خدمات پر انھیں مہاراشٹر کی رساستی تنظیم اموس (AMUSS) نے ”طالبِ ادب ایوارڈ 2018“ سے نوازا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ انھیں دیگر انعامات و اعزازات سے بھی سرفراز کیا گیا ہے۔ علیم اسماعیل نے اپنے افسانوں میں دیہی زندگی کے حالات، واقعات اور مسائل، وکیل صاحب کا درد، متوسط طبقے کی کش مکش، مرد کی نفسیات اور معاشرتی ناہمواریاں جیسے اہم موضوعات کو قلم بند کیا۔ان کی تحریریں اپنے وجود کا راز جاننے کی جستجو ہیں۔اس کوشش میں وہ معاشرے، سماج کا درد، انسانوں کے افسردہ چہرے اور مشکل حالات سے گزرتے ہوئے، وقت کے چہرے میں خود کو تلاش کرتے ہیں۔ ان کی کہانیاں ایک نیا روپ لے کر ظاہر ہوتی ہیں اور وہ کہانیاں آج کے زمانے کی تصویر کشی اس طرح کرتی ہیں کہ معاشرے کے مسائل ایک متاثر کن اسلوب میں ہمارے سامنے کھڑے نظر آتے ہیں۔ جن میں سے کچھ مسائل سماج میں جابجا نظر آتے ہیں تو کچھ ان کے تجربات بھی ہیں۔ ان کے اندر معاشرتی اصلاح کا جذبہ ہے۔ انھوں نے حقیقت کی آنکھ سے انسان اور انسانی مسائل کو دیکھا اور ایک سچے فنکار کے مانند انھیں قارئین کے رو بہ رو پیش کیاہے۔مزید انھوں نے علم، بصیرت، مشاہدات اور عمدہ ذوق سے اپنے فن کو استوار کیا ہے۔
محمد علیم اسماعیل کی مختلف خوبیوں میں، ان کے افسانوں میں سادہ زبان کا استعمال بھی ہے۔ انھوں نے دلکش اسلوب کا استعمال کرتے ہوئے، سادہ زبان کا استعمال کیا تاکہ ہر قاری بآسانی ان کی کہانیوں کا مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ بھی سکے۔ انھوں نے اکثر کرداروں کے مکالمے ان کی معاشی اور معاشرتی حیثیت کے مطابق لکھے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ ان کے لیے مکالمے ان کے لہجے اور تلفظ میں ہی تخلیق کیے ہیں، جو اُن کے زبردست مشاہدے کا غماز ہے۔ علیم اسماعیل نے اپنے افسانوں میں زندگی کے ہر دو پہلوؤں المیہ و طربیہ کو سمو دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں ہر طبقے کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح مجموعی حوالے سے دیکھا جائے تو اُن کے ہاں جذبات نگاری بھی متاثر کرتی ہے۔ ان کا فن تنقید ِحیات ہے اور ترغیب و اصلاح بھی۔ علیم اسماعیل کے افسانے اُن کے اخلاقی، معاشرتی اور سیاسی شعور کی ترجمانی کرتے ہیں، اور یہی وہ معاشرتی اور سیاسی شعور ہے جس نے علیم اسماعیل کو حقیقت پسند افسانہ نگاروں کی صف میں کھڑا کر دیا ہے۔
حقیقت نگاری سے مراد ایک شے کو اُس کے حقیقی خدوخال کے ساتھ بیان کرنے کے ہیں۔ حقیقت نگاری میں چیزوں کو اِس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ وہ زندگی کا جزومعلوم ہوتی ہوں۔ محمد علیم اسماعیل کے افسانے کا ہر موضوع حقیقت کا آئینہ دار ہے۔ افسانہ ’مردہ پرستی‘ سے اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
”عارف کو رسالے سے جواب ملا: آپ نے بہت اچھامضمون قلم بند کیا ہے، لیکن ہمارے یہاں زندہ شخصیات پر مضامین شائع نہیں ہوتے۔“
نہ جانے کس طرح ہمارے ذہنوں میں ایک بات بیٹھ گئی ہے کہ جب تک کوئی فنکار زندہ ہے تو اسے ہاتھ نہیں لگانا، اس کے فن سے قارئین کو متعارف نہیں کروانا۔ دراصل یہ ناقدین کی ذمے داری ہے کہ وہ فنکار کی خدمات کا اعتراف اس کی زندگی میں کریں۔ لیکن یہاں تو یہ رواج ہے کہ بعد مرنے کے ہوتی ہے ایسی پذیرائی کہ بس۔ علیم اسماعیل نے، رنجش، قصور، چھٹی، ریجیکٹ، اجنبی، مولوی صاحب، ادھورے خواب، سودا، ظالم جیسے اہم افسانوں میں معاشرے کے خاص پہلوؤں پر قلم اٹھایاہے۔
افسانہ ’چھُٹّی‘ میں ایک وکیل صاحب کا کردار دکھایا گیا ہے، جو گھر کے سربراہ ہیں۔ وہ اپنے گھر، بیوی بچوں کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنے بھائیوں کی تعلیم و تربیت پر بھی خاصی توجہ دیتے ہیں۔ وکیل صاحب کو چونکہ مرکزی کردار کے طور پر دیکھایا گیا ہے، جو غریبوں اور مستحق لوگوں کے کیس کم فیس پر لڑتے ہیں۔ وکیل صاحب کو ایک بڑی بیماری لاحق ہو جاتی ہے، جس کے بعد وہ کافی عرصہ اسپتال میں زیر علاج رہتے ہیں۔ وہ جینے کی حسرت کے ساتھ گھر جانے کی فکر بھی کرتے ہیں۔ اُن کی خواہش ہوتی ہے کہ جلد چھٹی ملے اور وہ گھر جائیں۔ چھٹی تو ملتی ہے مگر وہ ہمیشہ کے لیے سب سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ نورالحسنین اس کے بارے میں لکھتے ہیں:
”لیکن محمد علیم نے اس افسانے میں جو کرب کی فضا باندھی ہے وہ حقیقت سے اس قدر قریب ہے گویا یہ افسانہ نہیں محمد علیم کی زندگی ہی میں رونما ہونے والا کوئی حقیقی سانحہ ہو۔“
اس کردار کے ذریعے علیم اسماعیل نے انسانی جذبات کو فطری انداز اور تخلیقی آہنگ میں پیش کیا ہے۔ وکیل صاحب کے کردار میں انسان اور انسانیت کی آواز ایک صدائے باز گشت بن جاتی ہے۔ اس افسانہ کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ کہانی نہیں حقیقت ہے جسے علیم اسماعیل نے افسانوی رنگ میں رنگ دیا ہے۔ افسانے سے یہ جملہ دیکھیے:
”دعا کرو میں اچھا ہو جاؤں نہیں تو میرے بچے تنہا رہ جائیں گے۔“
وکیل صاحب کئی جذبوں سے سرشار نظر آتے ہیں۔ لیکن وہ اپنی بے شمار آرزوئیں لیے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔افسانہ چھُٹّی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے پروفیسر بیگ احساس فرماتے ہیں:
”علیم اسماعیل کا افسانہ ’چھُٹّی‘ پڑھا۔ مجھے اچھا لگا۔ علیم نے دل نکال کر رکھ دیا ہے۔ اور خون دل میں انگلیاں ڈبو کر یہ افسانہ لکھا ہے۔ جن سے جذباتی تعلق ہوتا ہے وہ خود لکھوا لیتے ہیں۔ ایسے کئی نوجوان ہیں جنھوں نے گھریلو ذمے داریاں نبھاتے نبھاتے خود کو ختم کر لیا ہے۔ ایک تو بچنے کی امید نہیں، پیسہ خرچ ہو جانے کا اذیت ناک احساس، نا قابل برداشت تکالیف، ایک ایک عضو کا دھیرے دھیرے بے کا ر ہو جانا، قسطوں میں مرنا آسان نہیں ہوتا۔ علیم نے متوسط گھرانے کے کرب کی سچی تصویر کشی کی ہے۔ ایک بھائی کو اس سے بہتر خراجِ عقیدت پیش نہیں کیا جا سکتا۔ مبارک باد دوں کہ پرسہ، سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ ذاتی صدمہ بہترین ادب کی تخلیق میں ممد و معاون ہوتا ہے۔“
افسانہ ’قصور‘ میں ایک غریب انسان کی کہانی پیش کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی غلطی کا کفارہ کس طرح ادا کرتا ہے۔ اور یہی اس افسانے کی بڑی خوبی ہے۔ افسانے کا مرکزی کردار ایک بھلا مانس نوجوان لڑکا ہے۔وہ نوجوان ایک ہوٹل میں ویٹر کا کام کرتا ہے۔ دوران ویٹرنگ وہ ایک مسافر پر بریانی کی پلیٹ گرا دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے مسافر کے کپڑے خراب ہو جاتے ہیں۔ مسافر اپنے کپڑے صاف کرنے جاتا ہے تو اس کی بس چھوٹ جاتی ہے۔ جس سے اس مسافر کو ویٹر پر غصہ آتا ہے۔ ویٹر کے اصرار کرنے پر مسافر وہاں رک جاتا ہے، اور صبح اٹھ کے جب بل دینے کے لیے کاونٹر پر پہنچا تو معلوم ہوتا ہے کہ ویٹر نے بل ادا کر دیا ہے۔ ویٹر محسوس کرتا ہے کہ اس کی وجہ سے بس چھوٹ گئی ہے۔ اس لیے وہ اپنے آپ کو قصور وار سمجھتا ہے۔ افسانہ سے اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
”میں نے کہا۔ ”تم آگے بڑھو میں آتا ہوں۔“
میں نے ہوٹل منیجر کو روم کا کرایہ دینا چاہا لیکن اس نے انکار کر دیا، وجہ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اسی ویٹر نے کرایہ ادا کر دیا ہے۔“
ویٹر اس واقعے کا قصوروار اپنے آپ کو گردانتا ہے۔اسے لگتا ہے کہ شرٹ پر بریانی گرنے سے ہی مصنف کی بس چھوٹی۔ اسے کیا معلوم کہ یہ سارا کھیل قسمت کا ہے۔ افسانہ سے اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
”نہیں صاحب میری وجہ سے آپ کی بس چھوٹ گئی، یہ میں نہیں لوں گا۔“
ویٹر ایک غریب فیملی سے تعلق رکھتا ہے، مگر اپنی غلطی کا کفارہ ادا کرنے میں کافی حساس نظر آتا ہے۔ افسانے کی خوبی یہ ہے کہ علیم اسماعیل نے کرداروں کو بڑی مہارت سے پیش کیا ہے۔ اس افسانے کے پس منظر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ علیم اسماعیل منظر نگاری میں مہارت رکھتے ہیں۔ ویٹر اگر چاہتا تو اس حادثے کو ایک چھوٹا سا واقعہ سمجھ کر اسے اتنی اہمیت نہیں بھی دے سکتا تھا، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو راوی اس کا کیا کر سکتا تھا، کچھ بھی نہیں۔ کچھ لمحوں کے بعد راوی یہ معاملہ بھول جاتا، مگر ویٹر کے اندر احساس ندامت گھر کر گیا۔ اور ایک کہانی وجود میں آئی۔ علیم اسماعیل نے جس طرز میں ویٹر کے کردار کو پیش کیا ہے، آج کے دور میں احساس کا یہ جذبہ شاذ و نادر ہی دکھائی دیتا ہے۔ لیکن جو لوگ حساس ہوتے ہیں، ان کے دل نرم ہوتے ہیں۔
’رنجش‘ افسانے میں دوستی کی مثال پیش کی گئی ہے۔ جس کا مطالعہ کر لینے کے بعد بھی قاری اسی افسانے کے اردگرد گھومتا رہتا ہے۔ کہانی میں تجسّس کا عنصر موجود ہے۔ کاظم کی طبیعت خراب ہونے کے باوجود کاشف کا سوئے رہنے کا ناٹک کرنا اور اس واقعے کی منظر نگاری قاری کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ کاظم مرنے سے قبل اپنی دوستی کے فرائض سرانجام دیتا ہے۔
”کاشف بھیا، جلدی چلیے، آپ کے دوست کاظم کی طبیعت بہت خراب ہو گئی ہے۔ لیکن کاشف نہیں اٹھا، نہ ہی دروازہ کھولا، وہ خاموش اپنے نرم بستر پر پڑا رہا۔“
اچھا دوست وہ ہوتا ہے جو اپنے دوست کا سچا خیر خواہ ہو۔ وہ ہمیشہ اپنے دوست کی بھلائی سوچتا ہو۔
’سودا‘ افسانے میں علیم اسماعیل نے سماج کی بے بسی اور افسردگی کے پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی معاشرے کی کج روی کے خلاف آواز بھی اٹھائی ہے۔ علیم اسماعیل کے یہاں زندگی کی کڑوی حقیقت اور اس کے منفی نتائج بھی بڑی بے باکی سے بیان ہوئے ہیں۔ وہ معاشرہ کی غلط پالیسیوں سے نفرت نہیں کرتے بلکہ انھیں قریب سے دیکھتے ہیں اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہیں۔ افسانہ ’سودا‘ میں عبرت ناک واقعہ پُر اثر اسلوب میں بیان ہوا ہے۔ افسانے سے یہ چند سطریں دیکھیں:
”خبردار جو مجھے ہاتھ لگایا تو۔
میں ہکابکا رہ گیا اور حیرت سے پوچھا۔ کیوں؟
اس نے کہا۔ میں کسی اور سے پیار کرتی ہوں۔“
ہم اس معاشرہ میں سانسیں لے رہے ہیں، جہاں عورت کی شادی اس کی مرضی کے خلاف کر دی جاتی ہے۔ جب ہم اپنے معاشرے پر نظر کرتے ہیں تو شادی بیاہ کے حوالے سے یہ بھی نظر آتا ہے کہ عورتوں کو یہاں تک بے خبر رکھا جاتا ہے کہ ان کی شادی ایک ایسے شخص کے ساتھ کی جارہی ہے جو انتہائی بوڑھا ہے۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ مذکورہ شخص زمین دار اور مال دار ہے۔ اور اگر کسی نہ کسی طرح لڑکی کو یہ علم ہوجاتا ہے تب بھی اسے اس ظلم و بربریت کے خلاف چیخنے چلانے اور احتجاج کرنے کا حق حاصل نہیں ہے اور وہ لڑکی اپنے والدین کے مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ ماں باپ کی ضد کی خاطر لڑکی شادی کرنے پر رضامند تو ہو جاتی ہے مگر بعد ازاں بے شمار مسائل میں گھر جاتی ہے۔ محمد علیم اسماعیل نے معاشرے کے تلخ حقائق کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس کا زہر، قطرہ قطرہ اپنے اندر محسوس کیا۔ اپنے قلم کے ذریعے سماج سے لڑنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے۔ قلم سے نکلے ہوئے لفظ موتی بھی ہوتے ہیں اور خنجر بھی۔ افسانوی مجموعہ’رنجش‘ کے سبھی افسانے کافی متاثر کرتے ہیں۔ اپنے بیش تر افسانوں میں انھوں نے رمزیہ انداز استعمال کیا ہے۔ بہر حال علیم اسماعیل کے یہاں کر دار، پلاٹ، اسلوب حقیقت نگاری، وحدت تاثر، زبان و بیان اور دیگر فنی محاسن ان کی فنِ افسانہ نگاری پر دسترس کے غماز ہیں۔
٭٭٭٭٭
 
x

Thursday, 3 December 2020

رنجش کے پس منظر میں ڈاکٹر نورالصباح (مؤ ناتھ بھنجن)

 رنجش کے پس منظر میں

ڈاکٹر نورالصباح (مؤ ناتھ بھنجن)


کہتے ہیں کہ ہر فنکار اپنے عہد کا نباض ہوتا ہے۔ اپنے اطراف میں پڑی چیزوں کو عمیق نظروں سے دیکھتا ہے۔اسے ہر قدم پر ایک کہانی مل جاتی ہے۔ گھر کے اندر ہو یا باہر، دوسروں کے ساتھ پیش آنے والے حادثات ہوں یا اپنے ساتھ، ہر حادثہ ایک اہم واقعہ کی صورت میں اس کی کہانی بن کر لفظوں کے روپ میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ یہاں پر یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ کسی فنکار کے نئے اور پرانے ہونے سے مطلب نہیں ہوتا۔ مطلب ہوتا ہے تو صرف اس بات سے کہ وہ اپنے ارد گرد کی چیزوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے، انھیں کس انداز سے پیش کرتا ہے، اس کا اسلوب کیا ہے، اس کا پیرایہ اظہار کیا ہے، اس کا نقطہ نظر کیا ہوتا ہے، اس کا پلاٹ کیا ہوتا ہے، اس کی بنت کیسی ہے، اس کا زبان و بیان کیسا ہے، کیا قاری کے دل پر اس کی بیان کی ہوئی کہانی نقش ہوتی ہے، اگر ہم ان ساری چیزوں کو مد نظر رکھیں تومحمد علیم اسماعیل جیسے نوجوان قلمکار مذکورہ باتوں پر کھرے اترتے ہیں۔ وہ اپنی کہانیوں کو بہت ہی چابکدستی کے ساتھ بنتے ہیں۔ زبان و بیان سادہ، سلیس اور سہل ہوتا ہے، طرز ادا بیانیہ پرکشش ہوتا ہے۔ وہ معمولی سے معمولی واقعات کو الفاظ کا جامہ اس طرح پہناتے ہیں کہ قاری پر رقت طاری ہوجاتی ہے۔ ان کا قلم ہر قسم کے موضوعات کا احاطہ کرتا ہے۔ داخلی اور خارجی سبھی مسائل ان کے قلم کی زد میں ہوتے ہیں، تعلیم یافتہ فرد کی بے روزگاری، بے روزگاری کی وجہ سے اس کی ذلت، طعن و تشنیع اور پھر ان مسائل کا حل۔ وہ مسئلوں کو پیش بھی کرتے ہیں اور اس کا حل بھی تلاش کرلیتے ہیں، اگرچہ وہ ایک نوجوان قلمکار ہیں۔ ادبی افق پر ابھرتا ہوا ستارہ ہیں، لیکن ان کے موضوعات میں وسعت اور سنجیدگی ہے، جو ان کی انفرادیت کا پتا دیتی ہے۔اس سلسلے میں نورالحسنین صاحب نے بلاشبہ بجا فرمایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
”ان ہی نوجوانوں میں ایک نام محمد علیم اسماعیل کا بھی ہے، جس کے افسانے اور مضامین آج کل مختلف رسائل و اخبارات میں تواتر کے ساتھ شائع ہو رہے ہیں اور جو نہایت تیزی کے ساتھ ادبی افق پر اپنی شناخت بنا رہا ہے۔ اس کے افسانے زندگی کی چھوٹی بڑی حقیقتوں کو نہایت روانی کے ساتھ پیش کرتے ہیں بلکہ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ اس کے ہاتھ وہ سِرا لگ گیا ہے جو فرد کے داخلی اور خارجی مسائل، احساس و فکر کے کچوکوں سے جوجھتے ذہن، سیاسی ہتھکنڈوں میں جکڑی ہوئی بے بسی، تنہائی کا کرب، معاشی گھٹن، رشتوں کی پاسداری اور بے اطمینانی بھی، دکھ  اور بیماریاں اور غیرمحفوظ مستقبل کی وہ فکریں بھی، جس کا کرب چاروں طرف دکھائی دیتا ہے۔ بلاشبہ علیم  ان موضوعات کو سلیقے سے برت رہا ہے۔“ (ص:10۔رنجش)
افسانوی مجموعہ ’رنجش‘ میں شامل افسانے زندگی کے حقائق کو بیان کرتے ہیں۔ انھوں نے عورتوں کے مسائل کی بخوبی عکاسی کی ہے۔ ان کے نفسیاتی مسائل، جذباتی مسائل، ازدواجی مسائل، لڑکیوں کی شادی کے مسائل، ان کی عصمت و عفت کے مسائل کے ساتھ ساتھ خانگی مسائل، داخلی مسائل، خارجی مسائل، بے روزگاری کے مسائل اور اخلاقی اقدار کی پامالی کے مسائل۔
اخلاقی قدروں کے حوالے سے ان کا افسانہ ’قصور‘ انتہائی متاثر کن ہے جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ اس کے متعلق ڈاکٹر صالحہ رشید رقمطراز ہیں:
”حال ہی میں ان کا افسانہ ’قصور‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ افسانے کے شروع کے چار چھ جملوں نے ہی ذہن کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا۔ اس کا موضوع تو برسوں سے برتا جارہا ہے اور وہ ہے اخلاقی قدریں اور کردار وہی عام آدمی ہے جو اخلاقی قدروں کا پاسدار ہے۔“
’قصور‘ کا کردار ہوٹل میں ویٹر کی حیثیت سے کام کرتا ہے جو ظاہر ہے مفلوک الحال ہے لیکن اس کے ہاتھوں، گاہک کے کپڑے خراب ہو جانے کی وجہ سے وہ احساس ندامت کا اس قدر شکار ہوتا ہے کہ گاہک کا ہوٹل سے لے کر بس، کھانے، پینے تک کا کرایہ ادا کرتا ہے۔ اس سے مصنف کی باریک بیں نگاہوں اور عمیق مشاہدے کا اندازہ ہوتا ہے، جس کو انھوں نے ایک عمدہ پیرایہ اظہار عطا کیا اور متاثرکن لہجہ دیا۔ جس میں افسانہ نگار تو افسانہ نگار، قاری بھی محو ہوگیا۔ 
ان کی آواز میں تانیثیت کا لحن بھی سنائی دیتا ہے جو ’اجنبی‘، ’گریما‘، ’شب سرخاب‘، ’سودا‘، اور ’اعتماد‘ میں نظر آتا ہے۔ ’شب سرخاب‘ کا نسوانی کردار خود ایک عورت کے ظلم کا شکار ہوتی ہے۔ اس کا شوہر اور جیٹھانی اس کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ اور وہ اپنی سہیلی شبنم کے خون کا نمونہ اپنی جیٹھانی اجالا کے رگوں میں دوڈا دیتی ہے۔ اور اس کام کو شبنم ہی انجام دیتی ہے۔ کیونکہ شبنم ایڈز کی مریضہ ہے۔ افسانہ نگار نے شبنم کے مرض کا ذکر ایک جگہ کیا ہے، پھر آخر میں بھی اس کا ذکر کیا ہے کہ”شبنم ایڈز کی مریضہ تھی“ انھیں دوبارہ اس جملے کو رقم کرنے کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ یہ جملہ اضافی ہے۔ یہ نہ ہوتا تو افسانے کی تاثیر میں مزید اضافہ ہوتا۔ 
اسی طرح ’گریما‘ کا نسوانی کردار معاشرتی و سماجی رویوں کا شکار تھا، اس کا کالاپن لوگوں کے برے رویے اور بے رخی کی وجہ بن گیا تھا۔ یہ بے رخی اتنی زیادہ ہوگئی تھی کہ اس کی شادی میں بھی روکاوٹ کا باعث بنی اور پھر آخر میں ایک ضعیف العمر شخص سے رشتہ ازدواج میں منسوب کردی گئی۔ نتیجتاً کسی اجنبی کے جال میں پھنس کر زندگی اجیرن بنا بیٹھی۔ یہاں سے کہانی ایک نیا موڑ لیتی ہے۔ نسوانی کردار اس اجنبی سے بچھڑ کر ایک شیلٹر ہوم میں پہنچتا ہے جو شیلٹر ہوم کی جگہ ایک طوائف خانہ ہوتا ہے  وہاں سے بھاگ کر ایک پولیس والے کے ذریعہ کسی سادھو کے ہتھے چڑھ جاتی ہے، جہاں معزز افراد کا بھی آنا جانا ہوتا ہے۔ جو دن کی روشنی میں سفید ہوتے ہیں اور رات کی روشنی میں سیاہ۔ اس موضوع کو ابتدا سے ہی برتا جارہا ہے لیکن علیم کا انداز بیاں نئے عہد نئے زمانے کے مطابق ہے۔ جس میں محافظ ہی بربریت کا عمدہ شاہکار نظر آتے ہیں۔ایسے شاہکار ہمیں خدیجہ مستور اور ہاجرہ مسرور کے افسانوں میں ملتے ہیں۔ قرۃ العین حیدر کے یہاں بھی ایسے محافظ نظر آتے ہیں لیکن فرق اتنا ہے کہ وہ سارے محافظ فرقہ واریت کے خونی ماحول اور فسادات کی بہیمیت کی پیداوار تھے مگر آزادی کے ستر برسوں بعد جبکہ زمانہ اتنی ترقی کرچکا ہے، ہر طرف تعلیم کا بول بالا ہے، انسانیت نوازی کا شور و غوغا ہے۔ ایسے ماحول میں بھی لڑکیوں کی وہی حالت ہے جو ستر برس قبل تھی۔ لڑکیاں خودکشی کرنے پر مجبور ہیں، چاہے وہ تعلیم یافتہ شوہر ہو یا تعلیم یافتہ بھائی یا باپ، سبھی متشکک نگاہوں ہی سے عورتوں کی طرف دیکھتے ہیں، چاہے وہ دوسروں کو خیر کا درس ہی دیتے ہوں۔ اس کا ذکر ان کے افسانہ ّاجنبی‘ میں ملتا ہے۔ اس کا مرکزی کردار مسکان اور کبیر ہیں جو ازدواجی رشتے میں منسلک ہیں اور خوش و خرم زندگی گزارتے ہیں۔ کبیر اپنے شکی دوستوں کو سمجھاتا بھی ہے کہ بیوی کے معاملے میں سمجھداری سے کام لینا چاہیے لیکن خود اپنی بیوی پر اتنا شک کرنے لگتا ہے کہ بیوی بچے کو ساتھ لے کر خود کشی پر آمادہ ہو جاتی ہے۔ ان کے درج ذیل جملے کسی دانشمند انسان سے کم نہیں ہیں:
”کبیر نے اپنے شکی دوست کو سمجھاتے ہوئے کہا تھا۔ میں نے پڑھا تھا کہ رشتوں میں بھروسہ اور موبائی میں نیٹ ورک نہ ہو تو لوگ گیمز کھیلنا شروع کردیتے ہیں۔بھروسہ رشتوں کا حسن ہے۔ ایک دفعہ جب بھروسہ ٹوت جائے تو وہ اپنی خوبصورتی اور مضبوطی کھو دیتا ہے۔“
ایسے سمجھدار انسان کا اپنی بیوی پر شک کرنا اور اسے موت کے لیے مجبور کرنا کسی بھی طرح زیب نہیں دیتا۔وہ بھی بنا کسی تحقیق کے بیوی پر شک کرنا، بنا اس سے پوچھے اس پر جبر کرنا، تشدد کرنا، اور خود کے بچے کو دوسرے کا ٹھہرانا۔ یہ ساری چیزیں انتہائی سطحی انسان کی ہوسکتی ہیں۔ وہ بھی صرف اس لیے کہ اس کی بیوی نے کسی اجنبی کو راستہ بتادیا تھا۔ ہمارا سماج دوسروں کے لیے چاہے جتنا بھی روشن خیال ہوجائے مگر یہ روشن خیالی اپنے معاملے میں نو دو گیارہ ہوجاتی ہے۔مصنف نے اس افسانے کے ذریعہ بین السطور میں بہت کچھ کہنے کی کوشش کی ہے کہ ایک لڑکی جب شادی کر کے دوسرے سے منسلک کردی جاتی ہے تو وہ انتہائی مجبور اور بے سہارا ہوجاتی ہے، نہ تو وہ گھر جاسکتی ہے نہ باہر قدم رکھ سکتی ہے۔ ہر دو صورت میں اس کا حشر وہی ہوتا جو اس افسانے کے مرکزی کردار کا ہوا۔ افسانے کا بین السطور جہیز جیسی لعنت کو بھی ابھارتا ہے، جو والدین کی کمر توڑ دیتا ہے، جس کی بہترین عکاسی دیگر افسانہ نگاروں کے ساتھ ساتھ بلونت سنگھ کے افسانے ”جھرجھری“ میں ہوتی ہے۔ علیم کے زیر تذکرہ افسانے کا نسوانی کردار شوہر کی شکی نگاہوں کی تاب نہ لاکر خودکشی کو اس لیے ترجیح دیتا ہے کہ اس کے والدین اسے جہیز دینے کے بعد اس قابل نہیں ہوتے کہ دوبارہ بیٹی کی کفالت کر سکیں اور بلونت سنگھ کا کردار قرض میں اسقدر ڈوب چکا ہوتا ہے کہ بیٹی کی عین شادی کے دن اس کی موت پر اس کے جسم میں جھرجھری بھر جاتی ہے اس لیے کہ اب اسے قرض خواہوں کو قرض لوٹانے میں آسانی ہوگی۔
اب آتے ہیں ان کے کرداروں کی طرف، ان کے کردار بہت سیدھے سادے اور معصوم سے ہوتے ہیں۔ ان کے اندر کوئی کجی نہیں ہوتی۔ اگر کجی آتی بھی ہے تو معاشرہ اس کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ شاید مصنف اس سے یہ کہنا چاہتے ہوں کہ انسان فطری طور پرکج رو نہیں ہوتا بلکہ ہم جس ماحول کے پروردہ ہوتے ہیں یا جو چیزیں ہمارے اطراف میں ہوتی ہیں، اس سے ہم غیر فطری طور پر اخذ کرتے چلے جاتے ہیں یا تو ہمارے ساتھ برے سلوک ہمیں سیدھے راستے سے بھٹکا دیتے ہیں۔ جس طرح گریما بھٹک کر وحشی درندوں کے چنگل میں پھنستی ہے۔ یا پھر ’اجنبی‘ کی مسکان خودکشی کا آخری قدم اٹھاتی ہے۔
علیم صاحب منظر نگاری میں بھی یکتا ہیں۔ وہ جب  خوشی کے ماحول کی منظر کشی کرتے ہیں تو ساری فضا، نظارہء دلکش کا ایک خوشنما منظر بن جاتی ہے۔ اور جب غمگین فضا کو بیان کرتے ہیں تو قاری کے اندر حزن وملال طاری ہوجاتا ہے اور وہی مضمحل منظر اس کی نظروں کے سامنے رقصاں ہوجاتا ہے۔ چند سطریں نظر نواز ہیں:
”دن بھر زمین پر آگ کے شعلے برسانے کے بعد سورج اب ڈوب چکا تھا۔ ماحول میں گرم ہوا شامل ہوکر لو کے تھپیڑے دینے لگی تھی۔ ٹھہری ٹھہری سی ہوائیں تیز ہوکر جھونکوں میں تبدیل ہوگئی تھیں اور ان جھونکوں کی سنسناہٹ رگ وپے میں سرایت کررہی تھی۔ زمین پر پڑے سوکھے پتے لرز اٹھے تھے۔(افسانہ اعتماد)
مشینی زندگی کی برق رفتاری، زندگی کی گہماگہمی، انسانوں کی بھاگ دوڑ، شاہراہ عام کی بھیڑ بھاڑ کا منظر اور پھر اچانک بلڈنگ پر بیٹھے کبوتروں کی غٹرغوں اور نالی پر رینگتے کیڑوں کی منظر کشی کچھ یوں کرتے ہیں کہ ہم خود کو اسی کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں اور اچانک ٹھٹھک بھی جاتے ہیں۔ کچھ سطریں درج ذیل ہیں:
”زندگی بڑی تیز رفتاری سے بھاگ رہی تھی۔ چہارسو انسان دوڑ رہے تھے، گویا گاڑیوں کی ریس لگی ہوئی تھی۔ صبح کے اجلاے کب سے پھیل چکے تھے۔ صفائی والا اپنے کام میں مصروف تھا۔ بچے اسکول جارہے تھے۔چھن چھن کر آتی سورج کی کرنیں زمین پر رینگتی ہوئی پھیل رہی تھیں۔ بہت سے لوگ چہل قدمی کرتے ہوئے ادھر سے ادھر گزر رہے تھے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ ایک سرور بخش سنگیت سے بھی زیادہ بھلی معلوم ہورہی تھی۔ آسمان میں پرندوں کے غول نظر آرہے تھے۔ سامنے کھلی ہوئی بڑی نالی پر مکھیوں کا جھلڑ بھنبھنا رہا تھا۔قریب کی بلڈنگ پر بیٹھے چند کبوتر غٹرغوں کررہے تھے۔سڑکوں پر چل رہے راہ گیر ان قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہورہے تھے کہ اچانک بھاگتی دوڑتی زندگی تھم گئی۔“
درج بالا اقتباس ”حادثہ“ سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس میں صبح کی منظر کشی موجودہ عہد کی بھاگتی دوڑتی زندگی کے ساتھ کی گئی ہے۔ بچوں کا اسکول جانا، صبح کی روشنی کے ساتھ ہی گاڑیوں کی بھاگم بھاگ، موجودہ عہد کی مشینی زندگی کی عکاس ہے، ساتھ میں ہی انھوں نے کبوتر کی غٹر غوں، آسمان میں پرندوں کے ذکر کے ساتھ نالی پر بھنبھنا رہے کیڑوں کو قدرتی مناظر میں شامل کردیا کہ راہگیر ان مناظر سے لطف اندوز ہورہے تھے، گندے کیڑے قدرت کے مناظر کا حصہ کیسے ہو سکتے ہیں۔ ہاں پرندوں کی چہچہاہٹ، سورج کی روشنی، صبح کے فرحت بخش مناظر، خنک ہوائیں، قدرتی مناظر کا حصہ ہوسکتے ہیں، جس سے لوگ بھی لطف اندوز ہوں اور قاری بھی محظوظ ہو۔ شاید اس سے انھوں نے غریبوں کی بستی کی طرف اشارہ کیا ہو جہاں ایک مفلس شخص کے ساتھ حادثہ پیش آیا۔ 
افسانہ نگار مناظر کی عکاسی کے ساتھ ساتھ کردار کی داخلی اداسی کو چہرے سے عیاں کرنے کا ہنر بخوبی رکھتے ہیں جس سے قاری پہلے ہی جملے میں کردار کی مفلوک الحالی کو سمجھ جائے۔ درج ذیل جملہ دیکھیے:
”گنگا کے چہرے پر اداسی کی لکیریں کچھ زیادہ ہی نمایاں ہوگئی تھیں اور آنکوں کی ویرانی تو شکستہ کھندرات کا نمونہ پیش کررہی تھی۔ وہ چپ چاپ بیٹھی سوچوں میں گم تھی۔“
اس طرح ہم دیکھتے ہیں علیم صاحب افسانہ بیان کرنے کے ہنر سے پوری طرح واقفیت رکھتے ہیں۔ انھیں افسانے کو برتنے، انھیں لفظوں کا جامہ پہنانے، جملوں کی ساخت درست کرنے اور قاری کے دل پر تادیر نقش کرنے کے فن سے آگاہی ہے۔ ان کے بیان میں ندرت، سادگی، صفائی، سہل انگیزی حتی المقدور شامل ہے، جو ان کو منفرد شناخت دینے میں اہمیت کی حامل ہے۔

محمد علیم اسماعیل کا ’’قصور‘‘ اور انسانیت (گفتگو: طاہر انجم صدیقی ، مالیگاؤں، مہاراشٹر)

 محمد علیم اسماعیل کا ’’قصور‘‘ اور انسانیت

(گفتگو: طاہر انجم صدیقی ، مالیگاؤں، مہاراشٹر)


محمد علیم اسماعیل نے چھوٹے چھوٹے افسانوں سے لکھنے کا آغاز کیا اور رفتہ رفتہ ان کی شناخت ایک نوجوان افسانہ نگار کی بنتی چلی گئی۔ ناندورہ جیسے چھوٹے قصبے سے تعلق رکھنے والے محمد علیم اسماعیل کے دو افسانوی مجموعے ’’الجھن‘‘ اور ’’رنجش‘‘ منظرِعام پر آ کر ان کی شناخت میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔

افسانہ ’’قصور‘‘ ان کے دوسرے افسانوی مجموعہ ’’رنجش‘‘ میں شامل ہے۔

اس افسانے کی ایک خاص بات اس کا بیانیہ ہے۔ افسانے کی کہانی بالکل سیدھی سی ہے۔ اپنی نوکری کے لیے درپیش سفر کے درمیان افسانے کے مرکزی کردار سے افسانے کے راوی کی ملاقات ہوتی ہے۔ وہ کردار ایک ہوٹل میں ویٹر ہے۔ اس کا نام پتہ تک راوی کو معلوم نہیں ہوتا اس لئے افسانے کا قاری بھی اس کا نام و پتہ نہیں جانتا مگر افسانہ اس ڈھنگ سے بُنا گیا ہے کہ قاری اس کردار کو اچھی طرح جان لیتا ہے اور صاف محسوس ہوتا ہے کہ افسانے کے اس کردار کو اپنے ذہن کی سلیٹ سے کھرچ پانا قاری کے لئے اتنا آسان نہیں ہوگا۔

افسانے کا آغاز بہت اچھا ہے۔ اچھا آغاز بھی افسانے کی ایک اہم صفت ہے کہ اس طرح افسانہ نگار بڑی آسانی کے ساتھ  اپنی ابتدائی سطور سے ہی قاری کو اپنے ساتھ باندھ لیتا ہے۔ دیکھیں:

’’کیا وہ اس کا قصور تھا؟ یا وہ واقعہ محض ایک اتفاق تھا۔‘‘

تجسس فکشن کی جان ہے اور ایک افسانہ نگار اسی تجسّس کے ذریعے قاری کو اپنے افسانے کے انجام تک کھینچ لے جاتا ہے۔ قاری اسی تجسّس کے سبب افسانہ نگار کے ایک ایک لفظ کے سہارے کہانی کو سمجھتا ہے۔اس کے بیان کردہ مناظر سے لطف اندوز ہوتا ہے اور اس کے پیش کردہ واقعات سے اپنے ادبی ذوق کی تسکین کرتا ہے۔ محمد علیم اسماعیل نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنے افسانے کا آغاز کیا ہے اور قاری کو اپنے افسانے کے ساتھ جوڑ لیا ہے۔ مزید یہ کہ قصور کا دوسرا جملہ بھی سونے پر سہاگہ کا کام کرتا نظر آرہا ہے اور قاری کے تجسّس کو مزید ہوا دے رہا ہے تاکہ وہ سوچے کہ محمد علیم اسماعیل نے جس کے تعلق سے لکھا ہے وہ کون ہے؟ اس کے کس قصور کے تعلق سے انھوں نے لکھا ہے؟ دیکھیں:

’’وہ روز دوڑتا ہے، ٹکراتا ہے، گر جاتا ہے، پھر کھڑا ہوتا ہے اور ہانپتا رہتا ہے۔‘‘

یقینی طور پر قاری ان جملوں کی بدولت سوچنے پر مجبور ہوجائے گا کہ وہ کیوں روز دوڑتا ہے؟ کیوں ٹکراتا ہے؟ کیوں گرتا ہے؟ اور کیوں پھر سے کھڑا ہو کر ہانپنے لگتا ہے؟ اور قاری ان سوالات کے جوابات کی تلاش میں افسانے کو پڑھنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ قاری اس افسانے میں بیان کئے گئے واقعات کو اپنے ذہن کی سطح پر رو بہ عمل دیکھتا ہے اور افسانے کے مرکزی کردار سے پوری پوری ہمدردی کے جذبات اپنے دل میں موجزن پاتا ہے۔

اس افسانے کو پڑھتے ہوئے افسانے کے مرکزی کردار سے میرے دل میں جس قسم کی ہمدردی پیدا ہوئی اسے محسوس کرنے کے بعد مجھے کرشن چندر کا افسانہ ’’کالو بھنگی‘‘ یاد آگیا۔ ’’قصور‘‘ اور ’’الو بھنگی‘‘ کے کرداروں میں جو ایک بات مماثل ہے وہ قاری کے دل میں پیدا ہونے والی ہمدردی ہے بلکہ کرشن چندر کے کردار کا بھی تو نام پتا معلوم پڑ جاتا ہے لیکن محمد علیم اسماعیل کے افسانے کے کردار کا نام تک معلوم نہیں پڑتا اور قاری اپنے دل میں اس کے لیے ہمدردی کے جذبات صاف طور پر محسوس کرتا ہے۔ یہ محمد علیم اسماعیل کے فن کا کمال ہی تو ہے۔

انھوں نے ایک چھوٹی سی بات کو افسانہ بنا دیا ہے اور بڑا تاثر انگیز افسانہ بنایا ہے۔ افسانہ پڑھ لینے کے بعد جی کرتا ہے کہ افسانے کے مرکزی کردار سے ملاقات کی جائے محمد علیم اسماعیل نے ’’قصور‘‘ کے ابتدائی پیراگراف میں ایک جگہ لکھا ہے:

’’اگر میرے اختیار میں ہوتا یا میرے پاس کوئی جادو ہوتا تو میں وقت کی طنابیں کھینچ کر وقت کو پیچھے لےجاتا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیتا۔ پھر خوب باتیں کرتا۔ اس نے تو میرے قدموں تلے اپنی آنکھیں بچھا دی تھیں اور میں ان کو روندتا ہوا گزر گیا۔‘‘

راوی کا یہی احساس قاری کا احساس بن جاتا ہے اور وہ کچوکے قاری اپنے دل پر بھی محسوس کرتا ہے جو افسانے کے راوی کے دل پر لگتے ہیں اور قاری صاف طور پر محسوس کرتا ہے کہ افسانے کے اس مرکزی کردار کے ساتھ کچھ تو بھی غلط ہوا ہے تبھی تو افسانے کا راوی بھی اس کے لیے اپنے دل میں اس قسم کے ہمدردانہ جذبات کو محسوس کر رہا ہے۔ بلکہ اس اقتباس کے آخری جملے کو پڑھ کر یقین کر لیتا ہے کہ راوی نے اس کردار کے ساتھ بڑی بے اعتنائی برتی ہوگی اور اس خلوص کے پیکر کے جذبات کو مجروح کر گیا ہو گا۔ وہ جملے دوبارہ دیکھیں:

’’اس نے تو میرے قدموں میں اپنی آنکھیں بچھا دی تھیں اور میں ان آنکھوں کو روندتا ہوا آگے بڑھ گیا۔‘‘

محمد علیم اسماعیل کا مذکورہ بالا بیان بڑا متاثرین بیان ہے۔ پر بیان ہے۔ یہ بیان راست دل پر چوٹ کر رہا ہے۔ کسی کا خلوص سے آنکھیں بچھانا اور کسی کا ان آنکھوں کو روند کر گزر جانا ایک حساس دل کو متاثر کرنے والا بیان ہے۔

اس تاثر انگیز بیان کے بعد افسانے کی سطور بتاتی ہیں کہ افسانے کا مرکزی کردار ایک ہوٹل میں ویٹر ہے اور افسانے کا راوی اسی ہوٹل میں کھانا کھانے کے لئے بس سے اترتا ہے لیکن بریانی کی پلیٹ راوی پر گر جانے کی وجہ سے راوی کے واش روم میں صفائی کرنے کے درمیان بس اسے چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔ حالانکہ آسانی سے بس راوی کو چھوڑ کر چلی جاتی ہے اسی آسانی سے افسانے کے اس واقعہ پر اعتراض بھی درج کیا جاسکتا ہے۔

بس کے چھوٹ جانے کے بعد اس ویٹر کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور وہ اس کا کفارہ ادا کرنے کے لیے کسی ہوٹل کے کمرے میں ہی راوی کو دوسری بس کے آنے تک ٹھہر جانے کا انتظام اپنے ذاتی خرچ سے کر دیتا ہے۔

 دوسری بس کے آجانے پر جب راوی روم کا کرایہ ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے معلوم پڑتا ہے کہ وہی ویٹر اس کا کرایہ ادا کرچکا ہے  پھر وہ بس میں بیٹھ جاتا ہے اور راوی ویٹر کے ہنس ہنس کر باتیں کرنے کا مطلب احسان جتانا سمجھتا ہے اور وہ اسے ٹالنے کے لئے اس سے سیب منگواتا ہے۔

ویٹر بغیر رقم لئے سیب لانے کے لئے دوڑ پڑتا ہے مگر اس کے آنے سے پہلے ہی بس چل پڑتی ہے۔ ویٹر سیب بھری کیری بیگ لئے بس کے پیچھے پیچھے بھاگنے لگتا ہے۔ بس کی رفتار بڑھ جاتی ہے اور اسے پکڑ لینے کے جوش میں ویٹر دھڑام سے گرجاتاہے۔ سیب بکھر جاتے ہیں اور بس میں موجود کنڈیکٹر کو جب راوی اپنا کرایا دینا چاہتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ وہی ویٹر بس کا کرایہ بھی دے چکا ہے۔

تب شرمندگی کا کھیل راوی کے لئے شروع ہوتا ہے اور یہی احساسِ ندامت افسانے کو انسانی نفسیات کا مظہر بنا کر قاری کے دل میں اس ویٹر کے لئے ہمدردی کے جذبات پیدا کرجاتا ہے جس کا اسے نام، پتہ تک معلوم نہیں ہوتا۔

محمد علیم اسماعیل اپنے ’’قصور‘‘ کے توسط سے اپنے قاری تک یہ پیغام پہنچانے میں کامیاب ہیں کہ انسانیت چھوٹوں اور کمزوروں سے ہمدردی کا نام ہے۔


Sunday, 27 September 2020

 کامران غنی صبا

شعبہئ اردو نتیشورکالج، مظفرپور

علیم اسماعیل کا تخلیقی شعور اور”رنجش“

حُسنِ ذات سے حُسن کائنات اور کربِ ذات سے کربِ کائنات کا سفر کیے بغیر تخلیقی شعور کا حصول ناممکن ہے۔ بات چاہے نثری ادب کی ہو یا شعری، ایک تخلیق کار اُسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب وہ کائنات کے حسن کو، کائنات کے غم کوبلکہ یوں کہہ لیجیے کہ کائنات کو اس کی تمام جزئیات سمیت اپنے اندر ضم کرنے کی صلاحیت پیدا کر لے۔اس مقام تک پہنچنے کے لیے اپنی ذات کو آئینہ بنانا پڑتا ہے۔ ایک ایسا آئینہ جس کے سامنے بھلی بری ہر طرح کی شکلیں آتی ہوں اور وہ خاموشی سے ہر منظر کی گواہی دیتا ہو۔ اس کی گواہی میں چیخ تو ہو لیکن ہر کسی کو سنائی نہ دے، جھنجلاہٹ بھی ہو، لیکن ہر کسی کو دکھائی نہ دے۔تخلیق کا فن ہر لحظہ ”ھل من مزید“ کا متقاضی ہوتا ہے۔ اسی لیے ایک کامیاب تخلیق کار کبھی اپنی ذات سے مطمئن نظر نہیں آتا۔ وہ کبھی کائنات کے حُسن سے ”شرابِ حسن“ کشید کرتا ہے اور کبھی غمِ کائنات سے ”شرابِ حزن و ملال۔ یہ شرابیں وقتی طور پر ایک تخلیق کار کو آسودہ کر سکتی ہیں لیکن جب وہ نشے کی کیفیت سے باہر آتا ہے تو پھر مختلف طرح کے نظارے اس کا تعاقب کرتے ہیں۔وہ ہر نظارے کو ایک نئی تخلیقی صورت دینے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ عمل متواترجاری رہتا ہے۔ اس پورے عمل میں تخلیق کار کن کن اذیتوں سے گزرتا ہے یہ وہی جانتا ہے۔ ماہرین فن کی نظر میں ایک اچھا تخلیق کار بننے کے لیے وسیع المطالعہ، وسیع المشاہدہ اور حساس ہونا ضروری ہے لیکن سچ پوچھیے تو ایک تخلیق کار کے تخلیقی شعور کی اساس ”رنجیدگی“ ہے۔ وہ اگر حُسن کی بات کر رہا ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ جو نظارے حسن سے خالی ہیں تخلیق کار ان نظاروں سے رنجیدہ ہے۔ موسم خزاں کی رنجش نہ ہو تو موسمِ بہار کا حسن بھلا کس کام کا؟ذات اور کائنات کی ’رنجش‘ سے ہی تخلیق کا فن وجود میں آتا ہے۔ 

اس طویل تمہیدی گفتگو کے بعد میں نوجوان افسانہ نگار محمد علیم اسماعیل کے تازہ افسانوی مجموعہ ”رنجش“ سے آپ کو روبرو کروانا چاہتا ہوں۔ علیم اسماعیل کا نام اردو فکشن کی دنیا میں اب بہت زیادہ تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ ادبی حلقے میں ان کا نام اپنے تعارف کے لیے کافی ہے۔ بہت کم وقت میں انہوں نے فکشن کی دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ علیم اسماعیل کے افسانوں کے موضوعات گرچہ بہت انوکھے نہیں ہیں لیکن ان کے افسانوں میں ہمیں امکانات کی ایک روشن دنیا نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کا ذکر میں نے اوپر کیا یعنی علیم اسماعیل کے افسانوں میں حسن ذات سے حسن کائنات اور کرب ذات سے کربِ کائنات کا سفر ملتا ہے۔”رنجش“ کا پہلا افسانہ ”چھٹی“ صد فی صد سچ پر مبنی ہے۔ یہاں افسانہ نگار کا کرب ”چھٹی“ کے بعد بھی ختم نہیں ہوتا بلکہ چھٹی کے ساتھ ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتا ہے۔ اس افسانہ کی قرأت قاری کو رنجیدہ کرتی ہے۔ ”رنجش“کا پہلا افسانہ ہی قاری کے دل میں افسانہ نگار کے تئیں ہمدردی کا بیچ بو دیتا ہے۔ 

”افسانہ“ قصور علیم اسماعیل کے نمائندہ افسانوں میں سے ایک ہے۔ افسانہ کا مرکزی خیال ایک غریب ویٹر کی حساسیت ہے۔ وہ اپنی ایک چھوٹی سی غلطی کا کفارہ ادا کرنا چاہتا ہے۔ ویٹر کی معمولی سی غلطی سے صاحب کے کپڑے پر چکن بریانی کی پوری پلیٹ گر گئی ہے۔ واش روم سے فریش ہوکر آنے میں اتنا وقت لگ جاتا ہے کہ بس نکل چکی ہوتی ہے۔دوسری بس آنے میں کافی تاخیر ہے۔ ویٹر، صاحب کو ہوٹل میں ایک کمرے میں ٹھہراتا ہے، خاموشی سے کمرے کا کرایہ ادا کرتا ہے۔ دوسری بس آتی ہے تو انہیں بس تک چھوڑتا ہے۔ راستے کے لیے انہیں ناشتہ اور پانی کی بوتل پیش کرتا ہے۔ صاحب پاس کی دکان سے سیب لانے کے لیے اسے پیسہ دینا چاہتے ہیں لیکن وہ بنا پیسہ لیے ہی پھل کی دکان کی طرف لپک پڑتا ہے۔ اس بیچ بس چلنے لگتی ہے۔ وہ بس کا تعاقب کرنا چاہتا ہے لیکن ناکام ہو جاتا ہے۔ وہ گر پڑتا ہے۔ اس کے ہاتھ سے سیب گر کر بکھر جاتے ہیں۔ اس عالم میں بھی وہ اپنی چوٹ کی پروا کیے بغیر اپنے ہاتھ ہلا کر صاحب کو الوداع کہنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہاں پہنچ کر صاحب (واحد متکلم) کا سویا ہوا انسان جاگ اٹھتا ہے لیکن اب کافی دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ افسانہ کا اخری حصہ ملاحظہ فرمائیں:

”میں نے بس کی نشست سے ٹیک لگاتے ہوئے ایک لمبی سانس لی اور اپنے دونوں ہاتھوں کو چہرے پر پھیرا۔ میرا چہرہ تمتما گیا تھا۔ کان دہکتا ہوا شعلہ بن گئے تھے۔ جسم سے آگ کی لپٹیں نکل رہی تھیں۔ باہر کھڑکی سے آنے والی سرد

 تبصرہ و تجزیہ

افسانہ ”آپ نے کہانی پڑھی؟“ ایک تجزیہ

(محمودہ قریشی، آگرہ)


اکیسویں صدی کے اہم افسانہ نگاروں میں نوجوانوں افسانہ نگار محمد علیم اسماعیل کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ بہت کم وقت میں وہ اردو دنیا میں اپنا سکہ جما چکے ہیں۔ اب تک ان کے دو افسانوی مجموعے ’الجھن‘ (2018) اور ’رنجش‘ (2020) اشاعت عمل میں آچکے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ادبی مضامین بھی منظر عام پر آچکے ہیں۔ اور وقتاً فوقتاً ان کے افسانے، افسانچے اور مضامین معیاری اخبارات و رسائل کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی آپ کافی سرگرم ہیں۔ فیس بک پر انھوں نے مشہور افسانہ نگاروں کی افسانہ نگاری اور ان کی ادبی خدمات  پر تبصرے کے حوالے سے کافی متاثر کن سلسلہ شروع کیا ہے۔

واٹس ایپ گروپ ’بزمِ افسانہ‘ میں محمد علیم اسماعیل کا افسانہ ’چھُٹّی‘ برائے تنقید و تبصرہ پیش ہوا تھا۔ جہاں مشہور و معروف افسانہ نگار سلام بن رزاق فرماتے ہیں:

”کہانی اچھی ہے۔ شعور کی رو کے تحت اکہرے بیانیہ میں کہانی بُننا آسان نہیں ہوتا۔ تاہم علیم نے اپنی رواں اور شستہ نثر کے سہارے کہانی کو بچالیا۔ علیم اسماعیل ایک ہونہار، ذہین اور محنتی قلم کار ہیں۔ ان کی تحریروں کا میں بھی مداح ہوں۔“

اور عہد حاضر کے ممتاز فکشن نگار سید محمد اشرف لکھتے ہیں:

”یہ افسانہ نگار اپنے اندر بیان کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے اور افسانے میں کوئی تو ایسی چیز ہے جو قاری کو افسانہ نگار کے غم میں دیر تک شریک رکھتی ہے۔ یہ بھی کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ محمد علیم اسماعیل کے لیے بہت سی دعائیں اور نیک خواہشات۔“

  موصوف کا ایک غیر مطبوعہ افسانہ ’آپ نے کہانی پڑھی؟‘ ہے۔ جس نے ہمیں کافی متاثر کیا ہے۔ جس کا آخری جملہ، ”کیا آپ نے کہانی پڑھی؟“ ایک سوالیہ انداز پیش کرتا ہے۔ افسانہ بیانیاں ہیت میں لکھا گیا ہے۔ جو کہ موصوف کا لکھنے کا انداز ہے۔ افسانہ بہت زیادہ طویل نہیں ہے۔ لیکن اس میں ایک کشیش ہے۔ جو قاری کو پڑھنے کے لیے اُکساتی ہے۔ پلاٹ مربوط اور گتھا ہوا ہے۔ افسانے میں صرف دو مرکزی کردار ہیں۔ زبان و بیان کے اعتبار سے بھی افسانہ کہیں گراں نہیں گزرتا۔ افسانہ اپنے پڑھنے والے پر ایک گہری چھاپ چھوڑ جاتا یے۔ افسانہ نگار نے افسانے میں ڈیجیٹلازیشن، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی اہمیت و افادیت کو پیش کرتے ہوئے اس کے نقصانات کو بھی دیکھایا ہے۔ اس افسانے کے ذریعے علیم اسماعیل نے عہد حاضر کی اہم سچچائی کو عیاں کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔ افسانے کا مرکزی کردار ’عامر‘ ہے۔ جس کے گرد ساری کہانی گھومتی ہے۔ جو کہ ایک طالب علم ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ کہانیاں بھی لکھتا ہے۔ اس کو انتظار تھا کہ کب اس کی کہانی کسی رسالے میں شائع ہو گی۔ اور وہ دن بھی آجاتا ہے کہ ہندوستان کے معیاری ادبی رسالے میں اس کی کہانی شائع ہو جاتی ہے۔ لیکن اس کی الجھن پھر بھی ختم نہیں ہوتی کیونکہ اس کے اور استاد کے علاوہ اس کی کہانی کوئی بھی نہیں پڑھتا۔

عامر رسالے کو ادبی حلقوں میں، شہر کے لوگوں کے پاس لے کر جاتا ہے، لکین سبھی رسالے کو بس الٹ پلٹ واپس اس کے ہاتھوں میں تھما دیتے ہیں۔ جسے کوئی پڑھنا ہی نہیں چاہتا تو اس پر تبصرہ یا اپنی ذاتی رائے کیسے دے سکتا ہے، جو کہ عامر چاہتا تھا۔ کہانی میں میں علیم اسماعیل نے ایک نو جوان قلم کار کی ٹوٹتی ہوئی ہمّت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ 

عامر پر طاری گھٹن کو ظاہر کرنے کے لیے افسانہ نگار نے کرشن چندر کی کہانی ’شہزادہ‘ سے اس کے مرکزی کردار ’سدھا‘ سے تشبیہ دی ہے۔ عامر ایک تصوراتی دنیا میں جی رہا تھا۔ اس کی اس پریشانی کو دور کرنے کے لیے استاد شمس الضحٰی جو کہ افسانے میں دوسرا اہم کردار ہے، عامر کو سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں۔

”عامر، زمانہ بدل گیا ہے۔ طریقے بدل گئے ہیں۔ یہ ڈیجیٹلازیشن کا دور ہے۔ تم نوجوان ہو، انٹرنیٹ چلانا اچھے سے جانتے ہو، سوشل میڈیا سے جڑے ہوئے ہو،۔۔۔۔“

عامر استاد کے اس مشورہ پر عمل کرتے ہوئے اپنے افسانے کی فوٹوں سوشل میڈیا پر شیئر کرتا ہے۔ جہاں اس کو کافی پزیرائی ملتی ہے۔ کافی کمینٹ، لائیکس حاصل ہوتے ہیں۔ جس کا عامر کو انتظار تھا لکین جب وہ کچھ لوگوں سے یہ سوال کرتا ہے۔

”کیا آپ نے کہانی پڑھی؟“

تب اس کو کوئی جواب نہیں ملتا۔ جس کے ساتھ افسانہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیادہ تر لوگ بنا پڑھے ہی، یہاں تک کہ پوسٹ کو ٹھیک سے دیکھے بغیر ہی لائیک، کمینٹ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ سب ہی لوگ ایسا کرتے ہیں۔ لکین زیادہ تر معاشرے میں ایسا ہی چلن ہے۔ انٹرنیٹ اور اس سے جڑے لوگوں کی اس خرابی کی طرف افسانہ نگار نے ہمارا ذہن متوجہ کیا ہے۔ اس لیے اگر ہم یہ سوچتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ کمینٹس اور لائیکس حاصل کر کے ہم انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی دنیا پر چھا جائجں گے تو ایسا نہیں ہے۔ ترقی کام سے حاصل کی جاتی ہے نہ کہ نام سے، اور اگر صرف ہمارے نام سے لائیکس اور کمینٹس مل رہے ہیں تو یہ ٹھیک نہیں ہے۔

خاص کر افسانہ نگار نے ’آپ نے کہانی پڑھی‘ میں جو پہلو اٹھایا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے نو جوان قلم کار پزیرائی نہ ملنے کے سبب، مایوس ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنے قلمی سفر کو ترک کرنے پر آمدہ ہو جاتے ہیں۔

اس لیے ہمارے ادبی حلقوں میں ان نو جوان قلم کاروں کی حوصلا آفزائی بے حد ضروری ہے۔ جس پر ہمارے معاشرے میں کافی لوگ و انجمنیں کامزن بھی ہیں۔ اصل چیز تخلیقی صلاحیت ہوتی ہے۔ اگر وہ آپ میں موجود ہے، تو آپ کو آگے بڑھنے، ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ہاں وقت ضرور لگ سکتا ہے۔ جس کے لیے افسانہ نگار نے افسانے میں راستہ بھی بتا دیا ہے کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا آج کے دور میں ایک قلم کار کی صلاحیت کو اُجاگر کرنے میں کافی مدد و معاون ہے، جو کہ افسانہ نگار کا ذاتی تجربہ بھی ہے۔ جیسا کہ ہمارے استاد محترم کہتے ہیں آپ کام کیجیے، نام میں کیا رکھا ہے، نام تو ہو ہی جائے گا۔


ہنر میں پھر روانی ہو گئی ہے

قلم کی ترجمانی ہو گئی ہے

زمانہ آیا سوشل میڈیا کا

”یہ دنیا اب پرانی ہو گئی ہے۔“

٭٭٭