محمد علیم اسماعیل کا ’’قصور‘‘ اور انسانیت
(گفتگو: طاہر انجم صدیقی ، مالیگاؤں، مہاراشٹر)
محمد علیم اسماعیل نے چھوٹے چھوٹے افسانوں سے لکھنے کا آغاز کیا اور رفتہ رفتہ ان کی شناخت ایک نوجوان افسانہ نگار کی بنتی چلی گئی۔ ناندورہ جیسے چھوٹے قصبے سے تعلق رکھنے والے محمد علیم اسماعیل کے دو افسانوی مجموعے ’’الجھن‘‘ اور ’’رنجش‘‘ منظرِعام پر آ کر ان کی شناخت میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔
افسانہ ’’قصور‘‘ ان کے دوسرے افسانوی مجموعہ ’’رنجش‘‘ میں شامل ہے۔
اس افسانے کی ایک خاص بات اس کا بیانیہ ہے۔ افسانے کی کہانی بالکل سیدھی سی ہے۔ اپنی نوکری کے لیے درپیش سفر کے درمیان افسانے کے مرکزی کردار سے افسانے کے راوی کی ملاقات ہوتی ہے۔ وہ کردار ایک ہوٹل میں ویٹر ہے۔ اس کا نام پتہ تک راوی کو معلوم نہیں ہوتا اس لئے افسانے کا قاری بھی اس کا نام و پتہ نہیں جانتا مگر افسانہ اس ڈھنگ سے بُنا گیا ہے کہ قاری اس کردار کو اچھی طرح جان لیتا ہے اور صاف محسوس ہوتا ہے کہ افسانے کے اس کردار کو اپنے ذہن کی سلیٹ سے کھرچ پانا قاری کے لئے اتنا آسان نہیں ہوگا۔
افسانے کا آغاز بہت اچھا ہے۔ اچھا آغاز بھی افسانے کی ایک اہم صفت ہے کہ اس طرح افسانہ نگار بڑی آسانی کے ساتھ اپنی ابتدائی سطور سے ہی قاری کو اپنے ساتھ باندھ لیتا ہے۔ دیکھیں:
’’کیا وہ اس کا قصور تھا؟ یا وہ واقعہ محض ایک اتفاق تھا۔‘‘
تجسس فکشن کی جان ہے اور ایک افسانہ نگار اسی تجسّس کے ذریعے قاری کو اپنے افسانے کے انجام تک کھینچ لے جاتا ہے۔ قاری اسی تجسّس کے سبب افسانہ نگار کے ایک ایک لفظ کے سہارے کہانی کو سمجھتا ہے۔اس کے بیان کردہ مناظر سے لطف اندوز ہوتا ہے اور اس کے پیش کردہ واقعات سے اپنے ادبی ذوق کی تسکین کرتا ہے۔ محمد علیم اسماعیل نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنے افسانے کا آغاز کیا ہے اور قاری کو اپنے افسانے کے ساتھ جوڑ لیا ہے۔ مزید یہ کہ قصور کا دوسرا جملہ بھی سونے پر سہاگہ کا کام کرتا نظر آرہا ہے اور قاری کے تجسّس کو مزید ہوا دے رہا ہے تاکہ وہ سوچے کہ محمد علیم اسماعیل نے جس کے تعلق سے لکھا ہے وہ کون ہے؟ اس کے کس قصور کے تعلق سے انھوں نے لکھا ہے؟ دیکھیں:
’’وہ روز دوڑتا ہے، ٹکراتا ہے، گر جاتا ہے، پھر کھڑا ہوتا ہے اور ہانپتا رہتا ہے۔‘‘
یقینی طور پر قاری ان جملوں کی بدولت سوچنے پر مجبور ہوجائے گا کہ وہ کیوں روز دوڑتا ہے؟ کیوں ٹکراتا ہے؟ کیوں گرتا ہے؟ اور کیوں پھر سے کھڑا ہو کر ہانپنے لگتا ہے؟ اور قاری ان سوالات کے جوابات کی تلاش میں افسانے کو پڑھنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ قاری اس افسانے میں بیان کئے گئے واقعات کو اپنے ذہن کی سطح پر رو بہ عمل دیکھتا ہے اور افسانے کے مرکزی کردار سے پوری پوری ہمدردی کے جذبات اپنے دل میں موجزن پاتا ہے۔
اس افسانے کو پڑھتے ہوئے افسانے کے مرکزی کردار سے میرے دل میں جس قسم کی ہمدردی پیدا ہوئی اسے محسوس کرنے کے بعد مجھے کرشن چندر کا افسانہ ’’کالو بھنگی‘‘ یاد آگیا۔ ’’قصور‘‘ اور ’’الو بھنگی‘‘ کے کرداروں میں جو ایک بات مماثل ہے وہ قاری کے دل میں پیدا ہونے والی ہمدردی ہے بلکہ کرشن چندر کے کردار کا بھی تو نام پتا معلوم پڑ جاتا ہے لیکن محمد علیم اسماعیل کے افسانے کے کردار کا نام تک معلوم نہیں پڑتا اور قاری اپنے دل میں اس کے لیے ہمدردی کے جذبات صاف طور پر محسوس کرتا ہے۔ یہ محمد علیم اسماعیل کے فن کا کمال ہی تو ہے۔
انھوں نے ایک چھوٹی سی بات کو افسانہ بنا دیا ہے اور بڑا تاثر انگیز افسانہ بنایا ہے۔ افسانہ پڑھ لینے کے بعد جی کرتا ہے کہ افسانے کے مرکزی کردار سے ملاقات کی جائے محمد علیم اسماعیل نے ’’قصور‘‘ کے ابتدائی پیراگراف میں ایک جگہ لکھا ہے:
’’اگر میرے اختیار میں ہوتا یا میرے پاس کوئی جادو ہوتا تو میں وقت کی طنابیں کھینچ کر وقت کو پیچھے لےجاتا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیتا۔ پھر خوب باتیں کرتا۔ اس نے تو میرے قدموں تلے اپنی آنکھیں بچھا دی تھیں اور میں ان کو روندتا ہوا گزر گیا۔‘‘
راوی کا یہی احساس قاری کا احساس بن جاتا ہے اور وہ کچوکے قاری اپنے دل پر بھی محسوس کرتا ہے جو افسانے کے راوی کے دل پر لگتے ہیں اور قاری صاف طور پر محسوس کرتا ہے کہ افسانے کے اس مرکزی کردار کے ساتھ کچھ تو بھی غلط ہوا ہے تبھی تو افسانے کا راوی بھی اس کے لیے اپنے دل میں اس قسم کے ہمدردانہ جذبات کو محسوس کر رہا ہے۔ بلکہ اس اقتباس کے آخری جملے کو پڑھ کر یقین کر لیتا ہے کہ راوی نے اس کردار کے ساتھ بڑی بے اعتنائی برتی ہوگی اور اس خلوص کے پیکر کے جذبات کو مجروح کر گیا ہو گا۔ وہ جملے دوبارہ دیکھیں:
’’اس نے تو میرے قدموں میں اپنی آنکھیں بچھا دی تھیں اور میں ان آنکھوں کو روندتا ہوا آگے بڑھ گیا۔‘‘
محمد علیم اسماعیل کا مذکورہ بالا بیان بڑا متاثرین بیان ہے۔ پر بیان ہے۔ یہ بیان راست دل پر چوٹ کر رہا ہے۔ کسی کا خلوص سے آنکھیں بچھانا اور کسی کا ان آنکھوں کو روند کر گزر جانا ایک حساس دل کو متاثر کرنے والا بیان ہے۔
اس تاثر انگیز بیان کے بعد افسانے کی سطور بتاتی ہیں کہ افسانے کا مرکزی کردار ایک ہوٹل میں ویٹر ہے اور افسانے کا راوی اسی ہوٹل میں کھانا کھانے کے لئے بس سے اترتا ہے لیکن بریانی کی پلیٹ راوی پر گر جانے کی وجہ سے راوی کے واش روم میں صفائی کرنے کے درمیان بس اسے چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔ حالانکہ آسانی سے بس راوی کو چھوڑ کر چلی جاتی ہے اسی آسانی سے افسانے کے اس واقعہ پر اعتراض بھی درج کیا جاسکتا ہے۔
بس کے چھوٹ جانے کے بعد اس ویٹر کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور وہ اس کا کفارہ ادا کرنے کے لیے کسی ہوٹل کے کمرے میں ہی راوی کو دوسری بس کے آنے تک ٹھہر جانے کا انتظام اپنے ذاتی خرچ سے کر دیتا ہے۔
دوسری بس کے آجانے پر جب راوی روم کا کرایہ ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے معلوم پڑتا ہے کہ وہی ویٹر اس کا کرایہ ادا کرچکا ہے پھر وہ بس میں بیٹھ جاتا ہے اور راوی ویٹر کے ہنس ہنس کر باتیں کرنے کا مطلب احسان جتانا سمجھتا ہے اور وہ اسے ٹالنے کے لئے اس سے سیب منگواتا ہے۔
ویٹر بغیر رقم لئے سیب لانے کے لئے دوڑ پڑتا ہے مگر اس کے آنے سے پہلے ہی بس چل پڑتی ہے۔ ویٹر سیب بھری کیری بیگ لئے بس کے پیچھے پیچھے بھاگنے لگتا ہے۔ بس کی رفتار بڑھ جاتی ہے اور اسے پکڑ لینے کے جوش میں ویٹر دھڑام سے گرجاتاہے۔ سیب بکھر جاتے ہیں اور بس میں موجود کنڈیکٹر کو جب راوی اپنا کرایا دینا چاہتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ وہی ویٹر بس کا کرایہ بھی دے چکا ہے۔
تب شرمندگی کا کھیل راوی کے لئے شروع ہوتا ہے اور یہی احساسِ ندامت افسانے کو انسانی نفسیات کا مظہر بنا کر قاری کے دل میں اس ویٹر کے لئے ہمدردی کے جذبات پیدا کرجاتا ہے جس کا اسے نام، پتہ تک معلوم نہیں ہوتا۔
محمد علیم اسماعیل اپنے ’’قصور‘‘ کے توسط سے اپنے قاری تک یہ پیغام پہنچانے میں کامیاب ہیں کہ انسانیت چھوٹوں اور کمزوروں سے ہمدردی کا نام ہے۔
No comments:
Post a Comment