Thursday, 3 December 2020

رنجش کے پس منظر میں ڈاکٹر نورالصباح (مؤ ناتھ بھنجن)

 رنجش کے پس منظر میں

ڈاکٹر نورالصباح (مؤ ناتھ بھنجن)


کہتے ہیں کہ ہر فنکار اپنے عہد کا نباض ہوتا ہے۔ اپنے اطراف میں پڑی چیزوں کو عمیق نظروں سے دیکھتا ہے۔اسے ہر قدم پر ایک کہانی مل جاتی ہے۔ گھر کے اندر ہو یا باہر، دوسروں کے ساتھ پیش آنے والے حادثات ہوں یا اپنے ساتھ، ہر حادثہ ایک اہم واقعہ کی صورت میں اس کی کہانی بن کر لفظوں کے روپ میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ یہاں پر یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ کسی فنکار کے نئے اور پرانے ہونے سے مطلب نہیں ہوتا۔ مطلب ہوتا ہے تو صرف اس بات سے کہ وہ اپنے ارد گرد کی چیزوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے، انھیں کس انداز سے پیش کرتا ہے، اس کا اسلوب کیا ہے، اس کا پیرایہ اظہار کیا ہے، اس کا نقطہ نظر کیا ہوتا ہے، اس کا پلاٹ کیا ہوتا ہے، اس کی بنت کیسی ہے، اس کا زبان و بیان کیسا ہے، کیا قاری کے دل پر اس کی بیان کی ہوئی کہانی نقش ہوتی ہے، اگر ہم ان ساری چیزوں کو مد نظر رکھیں تومحمد علیم اسماعیل جیسے نوجوان قلمکار مذکورہ باتوں پر کھرے اترتے ہیں۔ وہ اپنی کہانیوں کو بہت ہی چابکدستی کے ساتھ بنتے ہیں۔ زبان و بیان سادہ، سلیس اور سہل ہوتا ہے، طرز ادا بیانیہ پرکشش ہوتا ہے۔ وہ معمولی سے معمولی واقعات کو الفاظ کا جامہ اس طرح پہناتے ہیں کہ قاری پر رقت طاری ہوجاتی ہے۔ ان کا قلم ہر قسم کے موضوعات کا احاطہ کرتا ہے۔ داخلی اور خارجی سبھی مسائل ان کے قلم کی زد میں ہوتے ہیں، تعلیم یافتہ فرد کی بے روزگاری، بے روزگاری کی وجہ سے اس کی ذلت، طعن و تشنیع اور پھر ان مسائل کا حل۔ وہ مسئلوں کو پیش بھی کرتے ہیں اور اس کا حل بھی تلاش کرلیتے ہیں، اگرچہ وہ ایک نوجوان قلمکار ہیں۔ ادبی افق پر ابھرتا ہوا ستارہ ہیں، لیکن ان کے موضوعات میں وسعت اور سنجیدگی ہے، جو ان کی انفرادیت کا پتا دیتی ہے۔اس سلسلے میں نورالحسنین صاحب نے بلاشبہ بجا فرمایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
”ان ہی نوجوانوں میں ایک نام محمد علیم اسماعیل کا بھی ہے، جس کے افسانے اور مضامین آج کل مختلف رسائل و اخبارات میں تواتر کے ساتھ شائع ہو رہے ہیں اور جو نہایت تیزی کے ساتھ ادبی افق پر اپنی شناخت بنا رہا ہے۔ اس کے افسانے زندگی کی چھوٹی بڑی حقیقتوں کو نہایت روانی کے ساتھ پیش کرتے ہیں بلکہ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ اس کے ہاتھ وہ سِرا لگ گیا ہے جو فرد کے داخلی اور خارجی مسائل، احساس و فکر کے کچوکوں سے جوجھتے ذہن، سیاسی ہتھکنڈوں میں جکڑی ہوئی بے بسی، تنہائی کا کرب، معاشی گھٹن، رشتوں کی پاسداری اور بے اطمینانی بھی، دکھ  اور بیماریاں اور غیرمحفوظ مستقبل کی وہ فکریں بھی، جس کا کرب چاروں طرف دکھائی دیتا ہے۔ بلاشبہ علیم  ان موضوعات کو سلیقے سے برت رہا ہے۔“ (ص:10۔رنجش)
افسانوی مجموعہ ’رنجش‘ میں شامل افسانے زندگی کے حقائق کو بیان کرتے ہیں۔ انھوں نے عورتوں کے مسائل کی بخوبی عکاسی کی ہے۔ ان کے نفسیاتی مسائل، جذباتی مسائل، ازدواجی مسائل، لڑکیوں کی شادی کے مسائل، ان کی عصمت و عفت کے مسائل کے ساتھ ساتھ خانگی مسائل، داخلی مسائل، خارجی مسائل، بے روزگاری کے مسائل اور اخلاقی اقدار کی پامالی کے مسائل۔
اخلاقی قدروں کے حوالے سے ان کا افسانہ ’قصور‘ انتہائی متاثر کن ہے جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ اس کے متعلق ڈاکٹر صالحہ رشید رقمطراز ہیں:
”حال ہی میں ان کا افسانہ ’قصور‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ افسانے کے شروع کے چار چھ جملوں نے ہی ذہن کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا۔ اس کا موضوع تو برسوں سے برتا جارہا ہے اور وہ ہے اخلاقی قدریں اور کردار وہی عام آدمی ہے جو اخلاقی قدروں کا پاسدار ہے۔“
’قصور‘ کا کردار ہوٹل میں ویٹر کی حیثیت سے کام کرتا ہے جو ظاہر ہے مفلوک الحال ہے لیکن اس کے ہاتھوں، گاہک کے کپڑے خراب ہو جانے کی وجہ سے وہ احساس ندامت کا اس قدر شکار ہوتا ہے کہ گاہک کا ہوٹل سے لے کر بس، کھانے، پینے تک کا کرایہ ادا کرتا ہے۔ اس سے مصنف کی باریک بیں نگاہوں اور عمیق مشاہدے کا اندازہ ہوتا ہے، جس کو انھوں نے ایک عمدہ پیرایہ اظہار عطا کیا اور متاثرکن لہجہ دیا۔ جس میں افسانہ نگار تو افسانہ نگار، قاری بھی محو ہوگیا۔ 
ان کی آواز میں تانیثیت کا لحن بھی سنائی دیتا ہے جو ’اجنبی‘، ’گریما‘، ’شب سرخاب‘، ’سودا‘، اور ’اعتماد‘ میں نظر آتا ہے۔ ’شب سرخاب‘ کا نسوانی کردار خود ایک عورت کے ظلم کا شکار ہوتی ہے۔ اس کا شوہر اور جیٹھانی اس کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ اور وہ اپنی سہیلی شبنم کے خون کا نمونہ اپنی جیٹھانی اجالا کے رگوں میں دوڈا دیتی ہے۔ اور اس کام کو شبنم ہی انجام دیتی ہے۔ کیونکہ شبنم ایڈز کی مریضہ ہے۔ افسانہ نگار نے شبنم کے مرض کا ذکر ایک جگہ کیا ہے، پھر آخر میں بھی اس کا ذکر کیا ہے کہ”شبنم ایڈز کی مریضہ تھی“ انھیں دوبارہ اس جملے کو رقم کرنے کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ یہ جملہ اضافی ہے۔ یہ نہ ہوتا تو افسانے کی تاثیر میں مزید اضافہ ہوتا۔ 
اسی طرح ’گریما‘ کا نسوانی کردار معاشرتی و سماجی رویوں کا شکار تھا، اس کا کالاپن لوگوں کے برے رویے اور بے رخی کی وجہ بن گیا تھا۔ یہ بے رخی اتنی زیادہ ہوگئی تھی کہ اس کی شادی میں بھی روکاوٹ کا باعث بنی اور پھر آخر میں ایک ضعیف العمر شخص سے رشتہ ازدواج میں منسوب کردی گئی۔ نتیجتاً کسی اجنبی کے جال میں پھنس کر زندگی اجیرن بنا بیٹھی۔ یہاں سے کہانی ایک نیا موڑ لیتی ہے۔ نسوانی کردار اس اجنبی سے بچھڑ کر ایک شیلٹر ہوم میں پہنچتا ہے جو شیلٹر ہوم کی جگہ ایک طوائف خانہ ہوتا ہے  وہاں سے بھاگ کر ایک پولیس والے کے ذریعہ کسی سادھو کے ہتھے چڑھ جاتی ہے، جہاں معزز افراد کا بھی آنا جانا ہوتا ہے۔ جو دن کی روشنی میں سفید ہوتے ہیں اور رات کی روشنی میں سیاہ۔ اس موضوع کو ابتدا سے ہی برتا جارہا ہے لیکن علیم کا انداز بیاں نئے عہد نئے زمانے کے مطابق ہے۔ جس میں محافظ ہی بربریت کا عمدہ شاہکار نظر آتے ہیں۔ایسے شاہکار ہمیں خدیجہ مستور اور ہاجرہ مسرور کے افسانوں میں ملتے ہیں۔ قرۃ العین حیدر کے یہاں بھی ایسے محافظ نظر آتے ہیں لیکن فرق اتنا ہے کہ وہ سارے محافظ فرقہ واریت کے خونی ماحول اور فسادات کی بہیمیت کی پیداوار تھے مگر آزادی کے ستر برسوں بعد جبکہ زمانہ اتنی ترقی کرچکا ہے، ہر طرف تعلیم کا بول بالا ہے، انسانیت نوازی کا شور و غوغا ہے۔ ایسے ماحول میں بھی لڑکیوں کی وہی حالت ہے جو ستر برس قبل تھی۔ لڑکیاں خودکشی کرنے پر مجبور ہیں، چاہے وہ تعلیم یافتہ شوہر ہو یا تعلیم یافتہ بھائی یا باپ، سبھی متشکک نگاہوں ہی سے عورتوں کی طرف دیکھتے ہیں، چاہے وہ دوسروں کو خیر کا درس ہی دیتے ہوں۔ اس کا ذکر ان کے افسانہ ّاجنبی‘ میں ملتا ہے۔ اس کا مرکزی کردار مسکان اور کبیر ہیں جو ازدواجی رشتے میں منسلک ہیں اور خوش و خرم زندگی گزارتے ہیں۔ کبیر اپنے شکی دوستوں کو سمجھاتا بھی ہے کہ بیوی کے معاملے میں سمجھداری سے کام لینا چاہیے لیکن خود اپنی بیوی پر اتنا شک کرنے لگتا ہے کہ بیوی بچے کو ساتھ لے کر خود کشی پر آمادہ ہو جاتی ہے۔ ان کے درج ذیل جملے کسی دانشمند انسان سے کم نہیں ہیں:
”کبیر نے اپنے شکی دوست کو سمجھاتے ہوئے کہا تھا۔ میں نے پڑھا تھا کہ رشتوں میں بھروسہ اور موبائی میں نیٹ ورک نہ ہو تو لوگ گیمز کھیلنا شروع کردیتے ہیں۔بھروسہ رشتوں کا حسن ہے۔ ایک دفعہ جب بھروسہ ٹوت جائے تو وہ اپنی خوبصورتی اور مضبوطی کھو دیتا ہے۔“
ایسے سمجھدار انسان کا اپنی بیوی پر شک کرنا اور اسے موت کے لیے مجبور کرنا کسی بھی طرح زیب نہیں دیتا۔وہ بھی بنا کسی تحقیق کے بیوی پر شک کرنا، بنا اس سے پوچھے اس پر جبر کرنا، تشدد کرنا، اور خود کے بچے کو دوسرے کا ٹھہرانا۔ یہ ساری چیزیں انتہائی سطحی انسان کی ہوسکتی ہیں۔ وہ بھی صرف اس لیے کہ اس کی بیوی نے کسی اجنبی کو راستہ بتادیا تھا۔ ہمارا سماج دوسروں کے لیے چاہے جتنا بھی روشن خیال ہوجائے مگر یہ روشن خیالی اپنے معاملے میں نو دو گیارہ ہوجاتی ہے۔مصنف نے اس افسانے کے ذریعہ بین السطور میں بہت کچھ کہنے کی کوشش کی ہے کہ ایک لڑکی جب شادی کر کے دوسرے سے منسلک کردی جاتی ہے تو وہ انتہائی مجبور اور بے سہارا ہوجاتی ہے، نہ تو وہ گھر جاسکتی ہے نہ باہر قدم رکھ سکتی ہے۔ ہر دو صورت میں اس کا حشر وہی ہوتا جو اس افسانے کے مرکزی کردار کا ہوا۔ افسانے کا بین السطور جہیز جیسی لعنت کو بھی ابھارتا ہے، جو والدین کی کمر توڑ دیتا ہے، جس کی بہترین عکاسی دیگر افسانہ نگاروں کے ساتھ ساتھ بلونت سنگھ کے افسانے ”جھرجھری“ میں ہوتی ہے۔ علیم کے زیر تذکرہ افسانے کا نسوانی کردار شوہر کی شکی نگاہوں کی تاب نہ لاکر خودکشی کو اس لیے ترجیح دیتا ہے کہ اس کے والدین اسے جہیز دینے کے بعد اس قابل نہیں ہوتے کہ دوبارہ بیٹی کی کفالت کر سکیں اور بلونت سنگھ کا کردار قرض میں اسقدر ڈوب چکا ہوتا ہے کہ بیٹی کی عین شادی کے دن اس کی موت پر اس کے جسم میں جھرجھری بھر جاتی ہے اس لیے کہ اب اسے قرض خواہوں کو قرض لوٹانے میں آسانی ہوگی۔
اب آتے ہیں ان کے کرداروں کی طرف، ان کے کردار بہت سیدھے سادے اور معصوم سے ہوتے ہیں۔ ان کے اندر کوئی کجی نہیں ہوتی۔ اگر کجی آتی بھی ہے تو معاشرہ اس کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ شاید مصنف اس سے یہ کہنا چاہتے ہوں کہ انسان فطری طور پرکج رو نہیں ہوتا بلکہ ہم جس ماحول کے پروردہ ہوتے ہیں یا جو چیزیں ہمارے اطراف میں ہوتی ہیں، اس سے ہم غیر فطری طور پر اخذ کرتے چلے جاتے ہیں یا تو ہمارے ساتھ برے سلوک ہمیں سیدھے راستے سے بھٹکا دیتے ہیں۔ جس طرح گریما بھٹک کر وحشی درندوں کے چنگل میں پھنستی ہے۔ یا پھر ’اجنبی‘ کی مسکان خودکشی کا آخری قدم اٹھاتی ہے۔
علیم صاحب منظر نگاری میں بھی یکتا ہیں۔ وہ جب  خوشی کے ماحول کی منظر کشی کرتے ہیں تو ساری فضا، نظارہء دلکش کا ایک خوشنما منظر بن جاتی ہے۔ اور جب غمگین فضا کو بیان کرتے ہیں تو قاری کے اندر حزن وملال طاری ہوجاتا ہے اور وہی مضمحل منظر اس کی نظروں کے سامنے رقصاں ہوجاتا ہے۔ چند سطریں نظر نواز ہیں:
”دن بھر زمین پر آگ کے شعلے برسانے کے بعد سورج اب ڈوب چکا تھا۔ ماحول میں گرم ہوا شامل ہوکر لو کے تھپیڑے دینے لگی تھی۔ ٹھہری ٹھہری سی ہوائیں تیز ہوکر جھونکوں میں تبدیل ہوگئی تھیں اور ان جھونکوں کی سنسناہٹ رگ وپے میں سرایت کررہی تھی۔ زمین پر پڑے سوکھے پتے لرز اٹھے تھے۔(افسانہ اعتماد)
مشینی زندگی کی برق رفتاری، زندگی کی گہماگہمی، انسانوں کی بھاگ دوڑ، شاہراہ عام کی بھیڑ بھاڑ کا منظر اور پھر اچانک بلڈنگ پر بیٹھے کبوتروں کی غٹرغوں اور نالی پر رینگتے کیڑوں کی منظر کشی کچھ یوں کرتے ہیں کہ ہم خود کو اسی کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں اور اچانک ٹھٹھک بھی جاتے ہیں۔ کچھ سطریں درج ذیل ہیں:
”زندگی بڑی تیز رفتاری سے بھاگ رہی تھی۔ چہارسو انسان دوڑ رہے تھے، گویا گاڑیوں کی ریس لگی ہوئی تھی۔ صبح کے اجلاے کب سے پھیل چکے تھے۔ صفائی والا اپنے کام میں مصروف تھا۔ بچے اسکول جارہے تھے۔چھن چھن کر آتی سورج کی کرنیں زمین پر رینگتی ہوئی پھیل رہی تھیں۔ بہت سے لوگ چہل قدمی کرتے ہوئے ادھر سے ادھر گزر رہے تھے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ ایک سرور بخش سنگیت سے بھی زیادہ بھلی معلوم ہورہی تھی۔ آسمان میں پرندوں کے غول نظر آرہے تھے۔ سامنے کھلی ہوئی بڑی نالی پر مکھیوں کا جھلڑ بھنبھنا رہا تھا۔قریب کی بلڈنگ پر بیٹھے چند کبوتر غٹرغوں کررہے تھے۔سڑکوں پر چل رہے راہ گیر ان قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہورہے تھے کہ اچانک بھاگتی دوڑتی زندگی تھم گئی۔“
درج بالا اقتباس ”حادثہ“ سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس میں صبح کی منظر کشی موجودہ عہد کی بھاگتی دوڑتی زندگی کے ساتھ کی گئی ہے۔ بچوں کا اسکول جانا، صبح کی روشنی کے ساتھ ہی گاڑیوں کی بھاگم بھاگ، موجودہ عہد کی مشینی زندگی کی عکاس ہے، ساتھ میں ہی انھوں نے کبوتر کی غٹر غوں، آسمان میں پرندوں کے ذکر کے ساتھ نالی پر بھنبھنا رہے کیڑوں کو قدرتی مناظر میں شامل کردیا کہ راہگیر ان مناظر سے لطف اندوز ہورہے تھے، گندے کیڑے قدرت کے مناظر کا حصہ کیسے ہو سکتے ہیں۔ ہاں پرندوں کی چہچہاہٹ، سورج کی روشنی، صبح کے فرحت بخش مناظر، خنک ہوائیں، قدرتی مناظر کا حصہ ہوسکتے ہیں، جس سے لوگ بھی لطف اندوز ہوں اور قاری بھی محظوظ ہو۔ شاید اس سے انھوں نے غریبوں کی بستی کی طرف اشارہ کیا ہو جہاں ایک مفلس شخص کے ساتھ حادثہ پیش آیا۔ 
افسانہ نگار مناظر کی عکاسی کے ساتھ ساتھ کردار کی داخلی اداسی کو چہرے سے عیاں کرنے کا ہنر بخوبی رکھتے ہیں جس سے قاری پہلے ہی جملے میں کردار کی مفلوک الحالی کو سمجھ جائے۔ درج ذیل جملہ دیکھیے:
”گنگا کے چہرے پر اداسی کی لکیریں کچھ زیادہ ہی نمایاں ہوگئی تھیں اور آنکوں کی ویرانی تو شکستہ کھندرات کا نمونہ پیش کررہی تھی۔ وہ چپ چاپ بیٹھی سوچوں میں گم تھی۔“
اس طرح ہم دیکھتے ہیں علیم صاحب افسانہ بیان کرنے کے ہنر سے پوری طرح واقفیت رکھتے ہیں۔ انھیں افسانے کو برتنے، انھیں لفظوں کا جامہ پہنانے، جملوں کی ساخت درست کرنے اور قاری کے دل پر تادیر نقش کرنے کے فن سے آگاہی ہے۔ ان کے بیان میں ندرت، سادگی، صفائی، سہل انگیزی حتی المقدور شامل ہے، جو ان کو منفرد شناخت دینے میں اہمیت کی حامل ہے۔

No comments:

Post a Comment