Monday, 7 December 2020
محمد علیم اسماعیل بطورافسانہ نگار---- تحریر: مخدوم عرفان طاہر (جھنگ، پاکستان)
افسانہ ایک ایسی فکری کہانی ہوتی ہے جس میں کسی ایک خاص واقعہ اورکسی ایک خاص کردار پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ اکیسویں صدی کے اردو افسانے میں محمد علیم اسماعیل کی حیثیت ایک ہمہ جہت تخلیق کار کی ہے۔ وہ جتنے اہم افسانہ نگار ہیں، اسی قدر ایک افسانچہ نگار کے طور پر بھی فنی عظمت کے مالک ہیں۔ وہ ذہنی، جذباتی اور فطری مسرت کی حفاظت کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔ ان کا شمار نمایاں مقام رکھنے والے ادیبوں میں ہوتا ہے۔ علیم اسماعیل نے اپنے افسانوں اور افسانچوں کے ذریعے معاشرے کی چھوٹی چھوٹی برائیوں اور مسائل کو قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔ وہ مہاراشٹر میں شعبہئ تعلیم سے منسلک ہیں اور درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اپنے فن پاروں کے ذریعے انھوں نے ثابت کیا کہ اُن میں افسانہ و افسانچہ نویسی کے جراثیم موجود ہیں اور اس فن میں وہ بھرپور صلاحیت کے مالک ہیں۔ انھوں نے روایتی افسانے بھی لکھے اور تکنیکی تجربے بھی کیے۔ اُن کے افسانوں کی خاص بات یہ ہے کہ پڑھنے والا افسانہ شروع کرتے ہی ان کی گرفت میں آ جاتا ہے اور پھر مکمل افسانہ پڑھے بغیر رہ نہیں سکتا۔ ان کے افسانوں کا مطالعہ کرنے کے دوران قاری مختلف کیفیات سے گزرتا ہے۔ اُن کے موضوعات کا دائرہ کافی وسیع ہے اور ان موضوعات میں جدت و ندرت ہے۔
Thursday, 3 December 2020
رنجش کے پس منظر میں ڈاکٹر نورالصباح (مؤ ناتھ بھنجن)
رنجش کے پس منظر میں
ڈاکٹر نورالصباح (مؤ ناتھ بھنجن)
کہتے ہیں کہ ہر فنکار اپنے عہد کا نباض ہوتا ہے۔ اپنے اطراف میں پڑی چیزوں کو عمیق نظروں سے دیکھتا ہے۔اسے ہر قدم پر ایک کہانی مل جاتی ہے۔ گھر کے اندر ہو یا باہر، دوسروں کے ساتھ پیش آنے والے حادثات ہوں یا اپنے ساتھ، ہر حادثہ ایک اہم واقعہ کی صورت میں اس کی کہانی بن کر لفظوں کے روپ میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ یہاں پر یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ کسی فنکار کے نئے اور پرانے ہونے سے مطلب نہیں ہوتا۔ مطلب ہوتا ہے تو صرف اس بات سے کہ وہ اپنے ارد گرد کی چیزوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے، انھیں کس انداز سے پیش کرتا ہے، اس کا اسلوب کیا ہے، اس کا پیرایہ اظہار کیا ہے، اس کا نقطہ نظر کیا ہوتا ہے، اس کا پلاٹ کیا ہوتا ہے، اس کی بنت کیسی ہے، اس کا زبان و بیان کیسا ہے، کیا قاری کے دل پر اس کی بیان کی ہوئی کہانی نقش ہوتی ہے، اگر ہم ان ساری چیزوں کو مد نظر رکھیں تومحمد علیم اسماعیل جیسے نوجوان قلمکار مذکورہ باتوں پر کھرے اترتے ہیں۔ وہ اپنی کہانیوں کو بہت ہی چابکدستی کے ساتھ بنتے ہیں۔ زبان و بیان سادہ، سلیس اور سہل ہوتا ہے، طرز ادا بیانیہ پرکشش ہوتا ہے۔ وہ معمولی سے معمولی واقعات کو الفاظ کا جامہ اس طرح پہناتے ہیں کہ قاری پر رقت طاری ہوجاتی ہے۔ ان کا قلم ہر قسم کے موضوعات کا احاطہ کرتا ہے۔ داخلی اور خارجی سبھی مسائل ان کے قلم کی زد میں ہوتے ہیں، تعلیم یافتہ فرد کی بے روزگاری، بے روزگاری کی وجہ سے اس کی ذلت، طعن و تشنیع اور پھر ان مسائل کا حل۔ وہ مسئلوں کو پیش بھی کرتے ہیں اور اس کا حل بھی تلاش کرلیتے ہیں، اگرچہ وہ ایک نوجوان قلمکار ہیں۔ ادبی افق پر ابھرتا ہوا ستارہ ہیں، لیکن ان کے موضوعات میں وسعت اور سنجیدگی ہے، جو ان کی انفرادیت کا پتا دیتی ہے۔اس سلسلے میں نورالحسنین صاحب نے بلاشبہ بجا فرمایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
”ان ہی نوجوانوں میں ایک نام محمد علیم اسماعیل کا بھی ہے، جس کے افسانے اور مضامین آج کل مختلف رسائل و اخبارات میں تواتر کے ساتھ شائع ہو رہے ہیں اور جو نہایت تیزی کے ساتھ ادبی افق پر اپنی شناخت بنا رہا ہے۔ اس کے افسانے زندگی کی چھوٹی بڑی حقیقتوں کو نہایت روانی کے ساتھ پیش کرتے ہیں بلکہ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ اس کے ہاتھ وہ سِرا لگ گیا ہے جو فرد کے داخلی اور خارجی مسائل، احساس و فکر کے کچوکوں سے جوجھتے ذہن، سیاسی ہتھکنڈوں میں جکڑی ہوئی بے بسی، تنہائی کا کرب، معاشی گھٹن، رشتوں کی پاسداری اور بے اطمینانی بھی، دکھ اور بیماریاں اور غیرمحفوظ مستقبل کی وہ فکریں بھی، جس کا کرب چاروں طرف دکھائی دیتا ہے۔ بلاشبہ علیم ان موضوعات کو سلیقے سے برت رہا ہے۔“ (ص:10۔رنجش)
افسانوی مجموعہ ’رنجش‘ میں شامل افسانے زندگی کے حقائق کو بیان کرتے ہیں۔ انھوں نے عورتوں کے مسائل کی بخوبی عکاسی کی ہے۔ ان کے نفسیاتی مسائل، جذباتی مسائل، ازدواجی مسائل، لڑکیوں کی شادی کے مسائل، ان کی عصمت و عفت کے مسائل کے ساتھ ساتھ خانگی مسائل، داخلی مسائل، خارجی مسائل، بے روزگاری کے مسائل اور اخلاقی اقدار کی پامالی کے مسائل۔
اخلاقی قدروں کے حوالے سے ان کا افسانہ ’قصور‘ انتہائی متاثر کن ہے جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ اس کے متعلق ڈاکٹر صالحہ رشید رقمطراز ہیں:
”حال ہی میں ان کا افسانہ ’قصور‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ افسانے کے شروع کے چار چھ جملوں نے ہی ذہن کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا۔ اس کا موضوع تو برسوں سے برتا جارہا ہے اور وہ ہے اخلاقی قدریں اور کردار وہی عام آدمی ہے جو اخلاقی قدروں کا پاسدار ہے۔“
’قصور‘ کا کردار ہوٹل میں ویٹر کی حیثیت سے کام کرتا ہے جو ظاہر ہے مفلوک الحال ہے لیکن اس کے ہاتھوں، گاہک کے کپڑے خراب ہو جانے کی وجہ سے وہ احساس ندامت کا اس قدر شکار ہوتا ہے کہ گاہک کا ہوٹل سے لے کر بس، کھانے، پینے تک کا کرایہ ادا کرتا ہے۔ اس سے مصنف کی باریک بیں نگاہوں اور عمیق مشاہدے کا اندازہ ہوتا ہے، جس کو انھوں نے ایک عمدہ پیرایہ اظہار عطا کیا اور متاثرکن لہجہ دیا۔ جس میں افسانہ نگار تو افسانہ نگار، قاری بھی محو ہوگیا۔
ان کی آواز میں تانیثیت کا لحن بھی سنائی دیتا ہے جو ’اجنبی‘، ’گریما‘، ’شب سرخاب‘، ’سودا‘، اور ’اعتماد‘ میں نظر آتا ہے۔ ’شب سرخاب‘ کا نسوانی کردار خود ایک عورت کے ظلم کا شکار ہوتی ہے۔ اس کا شوہر اور جیٹھانی اس کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ اور وہ اپنی سہیلی شبنم کے خون کا نمونہ اپنی جیٹھانی اجالا کے رگوں میں دوڈا دیتی ہے۔ اور اس کام کو شبنم ہی انجام دیتی ہے۔ کیونکہ شبنم ایڈز کی مریضہ ہے۔ افسانہ نگار نے شبنم کے مرض کا ذکر ایک جگہ کیا ہے، پھر آخر میں بھی اس کا ذکر کیا ہے کہ”شبنم ایڈز کی مریضہ تھی“ انھیں دوبارہ اس جملے کو رقم کرنے کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ یہ جملہ اضافی ہے۔ یہ نہ ہوتا تو افسانے کی تاثیر میں مزید اضافہ ہوتا۔
اسی طرح ’گریما‘ کا نسوانی کردار معاشرتی و سماجی رویوں کا شکار تھا، اس کا کالاپن لوگوں کے برے رویے اور بے رخی کی وجہ بن گیا تھا۔ یہ بے رخی اتنی زیادہ ہوگئی تھی کہ اس کی شادی میں بھی روکاوٹ کا باعث بنی اور پھر آخر میں ایک ضعیف العمر شخص سے رشتہ ازدواج میں منسوب کردی گئی۔ نتیجتاً کسی اجنبی کے جال میں پھنس کر زندگی اجیرن بنا بیٹھی۔ یہاں سے کہانی ایک نیا موڑ لیتی ہے۔ نسوانی کردار اس اجنبی سے بچھڑ کر ایک شیلٹر ہوم میں پہنچتا ہے جو شیلٹر ہوم کی جگہ ایک طوائف خانہ ہوتا ہے وہاں سے بھاگ کر ایک پولیس والے کے ذریعہ کسی سادھو کے ہتھے چڑھ جاتی ہے، جہاں معزز افراد کا بھی آنا جانا ہوتا ہے۔ جو دن کی روشنی میں سفید ہوتے ہیں اور رات کی روشنی میں سیاہ۔ اس موضوع کو ابتدا سے ہی برتا جارہا ہے لیکن علیم کا انداز بیاں نئے عہد نئے زمانے کے مطابق ہے۔ جس میں محافظ ہی بربریت کا عمدہ شاہکار نظر آتے ہیں۔ایسے شاہکار ہمیں خدیجہ مستور اور ہاجرہ مسرور کے افسانوں میں ملتے ہیں۔ قرۃ العین حیدر کے یہاں بھی ایسے محافظ نظر آتے ہیں لیکن فرق اتنا ہے کہ وہ سارے محافظ فرقہ واریت کے خونی ماحول اور فسادات کی بہیمیت کی پیداوار تھے مگر آزادی کے ستر برسوں بعد جبکہ زمانہ اتنی ترقی کرچکا ہے، ہر طرف تعلیم کا بول بالا ہے، انسانیت نوازی کا شور و غوغا ہے۔ ایسے ماحول میں بھی لڑکیوں کی وہی حالت ہے جو ستر برس قبل تھی۔ لڑکیاں خودکشی کرنے پر مجبور ہیں، چاہے وہ تعلیم یافتہ شوہر ہو یا تعلیم یافتہ بھائی یا باپ، سبھی متشکک نگاہوں ہی سے عورتوں کی طرف دیکھتے ہیں، چاہے وہ دوسروں کو خیر کا درس ہی دیتے ہوں۔ اس کا ذکر ان کے افسانہ ّاجنبی‘ میں ملتا ہے۔ اس کا مرکزی کردار مسکان اور کبیر ہیں جو ازدواجی رشتے میں منسلک ہیں اور خوش و خرم زندگی گزارتے ہیں۔ کبیر اپنے شکی دوستوں کو سمجھاتا بھی ہے کہ بیوی کے معاملے میں سمجھداری سے کام لینا چاہیے لیکن خود اپنی بیوی پر اتنا شک کرنے لگتا ہے کہ بیوی بچے کو ساتھ لے کر خود کشی پر آمادہ ہو جاتی ہے۔ ان کے درج ذیل جملے کسی دانشمند انسان سے کم نہیں ہیں:
”کبیر نے اپنے شکی دوست کو سمجھاتے ہوئے کہا تھا۔ میں نے پڑھا تھا کہ رشتوں میں بھروسہ اور موبائی میں نیٹ ورک نہ ہو تو لوگ گیمز کھیلنا شروع کردیتے ہیں۔بھروسہ رشتوں کا حسن ہے۔ ایک دفعہ جب بھروسہ ٹوت جائے تو وہ اپنی خوبصورتی اور مضبوطی کھو دیتا ہے۔“
ایسے سمجھدار انسان کا اپنی بیوی پر شک کرنا اور اسے موت کے لیے مجبور کرنا کسی بھی طرح زیب نہیں دیتا۔وہ بھی بنا کسی تحقیق کے بیوی پر شک کرنا، بنا اس سے پوچھے اس پر جبر کرنا، تشدد کرنا، اور خود کے بچے کو دوسرے کا ٹھہرانا۔ یہ ساری چیزیں انتہائی سطحی انسان کی ہوسکتی ہیں۔ وہ بھی صرف اس لیے کہ اس کی بیوی نے کسی اجنبی کو راستہ بتادیا تھا۔ ہمارا سماج دوسروں کے لیے چاہے جتنا بھی روشن خیال ہوجائے مگر یہ روشن خیالی اپنے معاملے میں نو دو گیارہ ہوجاتی ہے۔مصنف نے اس افسانے کے ذریعہ بین السطور میں بہت کچھ کہنے کی کوشش کی ہے کہ ایک لڑکی جب شادی کر کے دوسرے سے منسلک کردی جاتی ہے تو وہ انتہائی مجبور اور بے سہارا ہوجاتی ہے، نہ تو وہ گھر جاسکتی ہے نہ باہر قدم رکھ سکتی ہے۔ ہر دو صورت میں اس کا حشر وہی ہوتا جو اس افسانے کے مرکزی کردار کا ہوا۔ افسانے کا بین السطور جہیز جیسی لعنت کو بھی ابھارتا ہے، جو والدین کی کمر توڑ دیتا ہے، جس کی بہترین عکاسی دیگر افسانہ نگاروں کے ساتھ ساتھ بلونت سنگھ کے افسانے ”جھرجھری“ میں ہوتی ہے۔ علیم کے زیر تذکرہ افسانے کا نسوانی کردار شوہر کی شکی نگاہوں کی تاب نہ لاکر خودکشی کو اس لیے ترجیح دیتا ہے کہ اس کے والدین اسے جہیز دینے کے بعد اس قابل نہیں ہوتے کہ دوبارہ بیٹی کی کفالت کر سکیں اور بلونت سنگھ کا کردار قرض میں اسقدر ڈوب چکا ہوتا ہے کہ بیٹی کی عین شادی کے دن اس کی موت پر اس کے جسم میں جھرجھری بھر جاتی ہے اس لیے کہ اب اسے قرض خواہوں کو قرض لوٹانے میں آسانی ہوگی۔
اب آتے ہیں ان کے کرداروں کی طرف، ان کے کردار بہت سیدھے سادے اور معصوم سے ہوتے ہیں۔ ان کے اندر کوئی کجی نہیں ہوتی۔ اگر کجی آتی بھی ہے تو معاشرہ اس کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ شاید مصنف اس سے یہ کہنا چاہتے ہوں کہ انسان فطری طور پرکج رو نہیں ہوتا بلکہ ہم جس ماحول کے پروردہ ہوتے ہیں یا جو چیزیں ہمارے اطراف میں ہوتی ہیں، اس سے ہم غیر فطری طور پر اخذ کرتے چلے جاتے ہیں یا تو ہمارے ساتھ برے سلوک ہمیں سیدھے راستے سے بھٹکا دیتے ہیں۔ جس طرح گریما بھٹک کر وحشی درندوں کے چنگل میں پھنستی ہے۔ یا پھر ’اجنبی‘ کی مسکان خودکشی کا آخری قدم اٹھاتی ہے۔
علیم صاحب منظر نگاری میں بھی یکتا ہیں۔ وہ جب خوشی کے ماحول کی منظر کشی کرتے ہیں تو ساری فضا، نظارہء دلکش کا ایک خوشنما منظر بن جاتی ہے۔ اور جب غمگین فضا کو بیان کرتے ہیں تو قاری کے اندر حزن وملال طاری ہوجاتا ہے اور وہی مضمحل منظر اس کی نظروں کے سامنے رقصاں ہوجاتا ہے۔ چند سطریں نظر نواز ہیں:
”دن بھر زمین پر آگ کے شعلے برسانے کے بعد سورج اب ڈوب چکا تھا۔ ماحول میں گرم ہوا شامل ہوکر لو کے تھپیڑے دینے لگی تھی۔ ٹھہری ٹھہری سی ہوائیں تیز ہوکر جھونکوں میں تبدیل ہوگئی تھیں اور ان جھونکوں کی سنسناہٹ رگ وپے میں سرایت کررہی تھی۔ زمین پر پڑے سوکھے پتے لرز اٹھے تھے۔(افسانہ اعتماد)
مشینی زندگی کی برق رفتاری، زندگی کی گہماگہمی، انسانوں کی بھاگ دوڑ، شاہراہ عام کی بھیڑ بھاڑ کا منظر اور پھر اچانک بلڈنگ پر بیٹھے کبوتروں کی غٹرغوں اور نالی پر رینگتے کیڑوں کی منظر کشی کچھ یوں کرتے ہیں کہ ہم خود کو اسی کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں اور اچانک ٹھٹھک بھی جاتے ہیں۔ کچھ سطریں درج ذیل ہیں:
”زندگی بڑی تیز رفتاری سے بھاگ رہی تھی۔ چہارسو انسان دوڑ رہے تھے، گویا گاڑیوں کی ریس لگی ہوئی تھی۔ صبح کے اجلاے کب سے پھیل چکے تھے۔ صفائی والا اپنے کام میں مصروف تھا۔ بچے اسکول جارہے تھے۔چھن چھن کر آتی سورج کی کرنیں زمین پر رینگتی ہوئی پھیل رہی تھیں۔ بہت سے لوگ چہل قدمی کرتے ہوئے ادھر سے ادھر گزر رہے تھے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ ایک سرور بخش سنگیت سے بھی زیادہ بھلی معلوم ہورہی تھی۔ آسمان میں پرندوں کے غول نظر آرہے تھے۔ سامنے کھلی ہوئی بڑی نالی پر مکھیوں کا جھلڑ بھنبھنا رہا تھا۔قریب کی بلڈنگ پر بیٹھے چند کبوتر غٹرغوں کررہے تھے۔سڑکوں پر چل رہے راہ گیر ان قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہورہے تھے کہ اچانک بھاگتی دوڑتی زندگی تھم گئی۔“
درج بالا اقتباس ”حادثہ“ سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس میں صبح کی منظر کشی موجودہ عہد کی بھاگتی دوڑتی زندگی کے ساتھ کی گئی ہے۔ بچوں کا اسکول جانا، صبح کی روشنی کے ساتھ ہی گاڑیوں کی بھاگم بھاگ، موجودہ عہد کی مشینی زندگی کی عکاس ہے، ساتھ میں ہی انھوں نے کبوتر کی غٹر غوں، آسمان میں پرندوں کے ذکر کے ساتھ نالی پر بھنبھنا رہے کیڑوں کو قدرتی مناظر میں شامل کردیا کہ راہگیر ان مناظر سے لطف اندوز ہورہے تھے، گندے کیڑے قدرت کے مناظر کا حصہ کیسے ہو سکتے ہیں۔ ہاں پرندوں کی چہچہاہٹ، سورج کی روشنی، صبح کے فرحت بخش مناظر، خنک ہوائیں، قدرتی مناظر کا حصہ ہوسکتے ہیں، جس سے لوگ بھی لطف اندوز ہوں اور قاری بھی محظوظ ہو۔ شاید اس سے انھوں نے غریبوں کی بستی کی طرف اشارہ کیا ہو جہاں ایک مفلس شخص کے ساتھ حادثہ پیش آیا۔
افسانہ نگار مناظر کی عکاسی کے ساتھ ساتھ کردار کی داخلی اداسی کو چہرے سے عیاں کرنے کا ہنر بخوبی رکھتے ہیں جس سے قاری پہلے ہی جملے میں کردار کی مفلوک الحالی کو سمجھ جائے۔ درج ذیل جملہ دیکھیے:
”گنگا کے چہرے پر اداسی کی لکیریں کچھ زیادہ ہی نمایاں ہوگئی تھیں اور آنکوں کی ویرانی تو شکستہ کھندرات کا نمونہ پیش کررہی تھی۔ وہ چپ چاپ بیٹھی سوچوں میں گم تھی۔“
اس طرح ہم دیکھتے ہیں علیم صاحب افسانہ بیان کرنے کے ہنر سے پوری طرح واقفیت رکھتے ہیں۔ انھیں افسانے کو برتنے، انھیں لفظوں کا جامہ پہنانے، جملوں کی ساخت درست کرنے اور قاری کے دل پر تادیر نقش کرنے کے فن سے آگاہی ہے۔ ان کے بیان میں ندرت، سادگی، صفائی، سہل انگیزی حتی المقدور شامل ہے، جو ان کو منفرد شناخت دینے میں اہمیت کی حامل ہے۔
محمد علیم اسماعیل کا ’’قصور‘‘ اور انسانیت (گفتگو: طاہر انجم صدیقی ، مالیگاؤں، مہاراشٹر)
محمد علیم اسماعیل کا ’’قصور‘‘ اور انسانیت
(گفتگو: طاہر انجم صدیقی ، مالیگاؤں، مہاراشٹر)
محمد علیم اسماعیل نے چھوٹے چھوٹے افسانوں سے لکھنے کا آغاز کیا اور رفتہ رفتہ ان کی شناخت ایک نوجوان افسانہ نگار کی بنتی چلی گئی۔ ناندورہ جیسے چھوٹے قصبے سے تعلق رکھنے والے محمد علیم اسماعیل کے دو افسانوی مجموعے ’’الجھن‘‘ اور ’’رنجش‘‘ منظرِعام پر آ کر ان کی شناخت میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔
افسانہ ’’قصور‘‘ ان کے دوسرے افسانوی مجموعہ ’’رنجش‘‘ میں شامل ہے۔
اس افسانے کی ایک خاص بات اس کا بیانیہ ہے۔ افسانے کی کہانی بالکل سیدھی سی ہے۔ اپنی نوکری کے لیے درپیش سفر کے درمیان افسانے کے مرکزی کردار سے افسانے کے راوی کی ملاقات ہوتی ہے۔ وہ کردار ایک ہوٹل میں ویٹر ہے۔ اس کا نام پتہ تک راوی کو معلوم نہیں ہوتا اس لئے افسانے کا قاری بھی اس کا نام و پتہ نہیں جانتا مگر افسانہ اس ڈھنگ سے بُنا گیا ہے کہ قاری اس کردار کو اچھی طرح جان لیتا ہے اور صاف محسوس ہوتا ہے کہ افسانے کے اس کردار کو اپنے ذہن کی سلیٹ سے کھرچ پانا قاری کے لئے اتنا آسان نہیں ہوگا۔
افسانے کا آغاز بہت اچھا ہے۔ اچھا آغاز بھی افسانے کی ایک اہم صفت ہے کہ اس طرح افسانہ نگار بڑی آسانی کے ساتھ اپنی ابتدائی سطور سے ہی قاری کو اپنے ساتھ باندھ لیتا ہے۔ دیکھیں:
’’کیا وہ اس کا قصور تھا؟ یا وہ واقعہ محض ایک اتفاق تھا۔‘‘
تجسس فکشن کی جان ہے اور ایک افسانہ نگار اسی تجسّس کے ذریعے قاری کو اپنے افسانے کے انجام تک کھینچ لے جاتا ہے۔ قاری اسی تجسّس کے سبب افسانہ نگار کے ایک ایک لفظ کے سہارے کہانی کو سمجھتا ہے۔اس کے بیان کردہ مناظر سے لطف اندوز ہوتا ہے اور اس کے پیش کردہ واقعات سے اپنے ادبی ذوق کی تسکین کرتا ہے۔ محمد علیم اسماعیل نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنے افسانے کا آغاز کیا ہے اور قاری کو اپنے افسانے کے ساتھ جوڑ لیا ہے۔ مزید یہ کہ قصور کا دوسرا جملہ بھی سونے پر سہاگہ کا کام کرتا نظر آرہا ہے اور قاری کے تجسّس کو مزید ہوا دے رہا ہے تاکہ وہ سوچے کہ محمد علیم اسماعیل نے جس کے تعلق سے لکھا ہے وہ کون ہے؟ اس کے کس قصور کے تعلق سے انھوں نے لکھا ہے؟ دیکھیں:
’’وہ روز دوڑتا ہے، ٹکراتا ہے، گر جاتا ہے، پھر کھڑا ہوتا ہے اور ہانپتا رہتا ہے۔‘‘
یقینی طور پر قاری ان جملوں کی بدولت سوچنے پر مجبور ہوجائے گا کہ وہ کیوں روز دوڑتا ہے؟ کیوں ٹکراتا ہے؟ کیوں گرتا ہے؟ اور کیوں پھر سے کھڑا ہو کر ہانپنے لگتا ہے؟ اور قاری ان سوالات کے جوابات کی تلاش میں افسانے کو پڑھنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ قاری اس افسانے میں بیان کئے گئے واقعات کو اپنے ذہن کی سطح پر رو بہ عمل دیکھتا ہے اور افسانے کے مرکزی کردار سے پوری پوری ہمدردی کے جذبات اپنے دل میں موجزن پاتا ہے۔
اس افسانے کو پڑھتے ہوئے افسانے کے مرکزی کردار سے میرے دل میں جس قسم کی ہمدردی پیدا ہوئی اسے محسوس کرنے کے بعد مجھے کرشن چندر کا افسانہ ’’کالو بھنگی‘‘ یاد آگیا۔ ’’قصور‘‘ اور ’’الو بھنگی‘‘ کے کرداروں میں جو ایک بات مماثل ہے وہ قاری کے دل میں پیدا ہونے والی ہمدردی ہے بلکہ کرشن چندر کے کردار کا بھی تو نام پتا معلوم پڑ جاتا ہے لیکن محمد علیم اسماعیل کے افسانے کے کردار کا نام تک معلوم نہیں پڑتا اور قاری اپنے دل میں اس کے لیے ہمدردی کے جذبات صاف طور پر محسوس کرتا ہے۔ یہ محمد علیم اسماعیل کے فن کا کمال ہی تو ہے۔
انھوں نے ایک چھوٹی سی بات کو افسانہ بنا دیا ہے اور بڑا تاثر انگیز افسانہ بنایا ہے۔ افسانہ پڑھ لینے کے بعد جی کرتا ہے کہ افسانے کے مرکزی کردار سے ملاقات کی جائے محمد علیم اسماعیل نے ’’قصور‘‘ کے ابتدائی پیراگراف میں ایک جگہ لکھا ہے:
’’اگر میرے اختیار میں ہوتا یا میرے پاس کوئی جادو ہوتا تو میں وقت کی طنابیں کھینچ کر وقت کو پیچھے لےجاتا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیتا۔ پھر خوب باتیں کرتا۔ اس نے تو میرے قدموں تلے اپنی آنکھیں بچھا دی تھیں اور میں ان کو روندتا ہوا گزر گیا۔‘‘
راوی کا یہی احساس قاری کا احساس بن جاتا ہے اور وہ کچوکے قاری اپنے دل پر بھی محسوس کرتا ہے جو افسانے کے راوی کے دل پر لگتے ہیں اور قاری صاف طور پر محسوس کرتا ہے کہ افسانے کے اس مرکزی کردار کے ساتھ کچھ تو بھی غلط ہوا ہے تبھی تو افسانے کا راوی بھی اس کے لیے اپنے دل میں اس قسم کے ہمدردانہ جذبات کو محسوس کر رہا ہے۔ بلکہ اس اقتباس کے آخری جملے کو پڑھ کر یقین کر لیتا ہے کہ راوی نے اس کردار کے ساتھ بڑی بے اعتنائی برتی ہوگی اور اس خلوص کے پیکر کے جذبات کو مجروح کر گیا ہو گا۔ وہ جملے دوبارہ دیکھیں:
’’اس نے تو میرے قدموں میں اپنی آنکھیں بچھا دی تھیں اور میں ان آنکھوں کو روندتا ہوا آگے بڑھ گیا۔‘‘
محمد علیم اسماعیل کا مذکورہ بالا بیان بڑا متاثرین بیان ہے۔ پر بیان ہے۔ یہ بیان راست دل پر چوٹ کر رہا ہے۔ کسی کا خلوص سے آنکھیں بچھانا اور کسی کا ان آنکھوں کو روند کر گزر جانا ایک حساس دل کو متاثر کرنے والا بیان ہے۔
اس تاثر انگیز بیان کے بعد افسانے کی سطور بتاتی ہیں کہ افسانے کا مرکزی کردار ایک ہوٹل میں ویٹر ہے اور افسانے کا راوی اسی ہوٹل میں کھانا کھانے کے لئے بس سے اترتا ہے لیکن بریانی کی پلیٹ راوی پر گر جانے کی وجہ سے راوی کے واش روم میں صفائی کرنے کے درمیان بس اسے چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔ حالانکہ آسانی سے بس راوی کو چھوڑ کر چلی جاتی ہے اسی آسانی سے افسانے کے اس واقعہ پر اعتراض بھی درج کیا جاسکتا ہے۔
بس کے چھوٹ جانے کے بعد اس ویٹر کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور وہ اس کا کفارہ ادا کرنے کے لیے کسی ہوٹل کے کمرے میں ہی راوی کو دوسری بس کے آنے تک ٹھہر جانے کا انتظام اپنے ذاتی خرچ سے کر دیتا ہے۔
دوسری بس کے آجانے پر جب راوی روم کا کرایہ ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے معلوم پڑتا ہے کہ وہی ویٹر اس کا کرایہ ادا کرچکا ہے پھر وہ بس میں بیٹھ جاتا ہے اور راوی ویٹر کے ہنس ہنس کر باتیں کرنے کا مطلب احسان جتانا سمجھتا ہے اور وہ اسے ٹالنے کے لئے اس سے سیب منگواتا ہے۔
ویٹر بغیر رقم لئے سیب لانے کے لئے دوڑ پڑتا ہے مگر اس کے آنے سے پہلے ہی بس چل پڑتی ہے۔ ویٹر سیب بھری کیری بیگ لئے بس کے پیچھے پیچھے بھاگنے لگتا ہے۔ بس کی رفتار بڑھ جاتی ہے اور اسے پکڑ لینے کے جوش میں ویٹر دھڑام سے گرجاتاہے۔ سیب بکھر جاتے ہیں اور بس میں موجود کنڈیکٹر کو جب راوی اپنا کرایا دینا چاہتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ وہی ویٹر بس کا کرایہ بھی دے چکا ہے۔
تب شرمندگی کا کھیل راوی کے لئے شروع ہوتا ہے اور یہی احساسِ ندامت افسانے کو انسانی نفسیات کا مظہر بنا کر قاری کے دل میں اس ویٹر کے لئے ہمدردی کے جذبات پیدا کرجاتا ہے جس کا اسے نام، پتہ تک معلوم نہیں ہوتا۔
محمد علیم اسماعیل اپنے ’’قصور‘‘ کے توسط سے اپنے قاری تک یہ پیغام پہنچانے میں کامیاب ہیں کہ انسانیت چھوٹوں اور کمزوروں سے ہمدردی کا نام ہے۔
Sunday, 27 September 2020
کامران غنی صبا
شعبہئ اردو نتیشورکالج، مظفرپور
علیم اسماعیل کا تخلیقی شعور اور”رنجش“
حُسنِ ذات سے حُسن کائنات اور کربِ ذات سے کربِ کائنات کا سفر کیے بغیر تخلیقی شعور کا حصول ناممکن ہے۔ بات چاہے نثری ادب کی ہو یا شعری، ایک تخلیق کار اُسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب وہ کائنات کے حسن کو، کائنات کے غم کوبلکہ یوں کہہ لیجیے کہ کائنات کو اس کی تمام جزئیات سمیت اپنے اندر ضم کرنے کی صلاحیت پیدا کر لے۔اس مقام تک پہنچنے کے لیے اپنی ذات کو آئینہ بنانا پڑتا ہے۔ ایک ایسا آئینہ جس کے سامنے بھلی بری ہر طرح کی شکلیں آتی ہوں اور وہ خاموشی سے ہر منظر کی گواہی دیتا ہو۔ اس کی گواہی میں چیخ تو ہو لیکن ہر کسی کو سنائی نہ دے، جھنجلاہٹ بھی ہو، لیکن ہر کسی کو دکھائی نہ دے۔تخلیق کا فن ہر لحظہ ”ھل من مزید“ کا متقاضی ہوتا ہے۔ اسی لیے ایک کامیاب تخلیق کار کبھی اپنی ذات سے مطمئن نظر نہیں آتا۔ وہ کبھی کائنات کے حُسن سے ”شرابِ حسن“ کشید کرتا ہے اور کبھی غمِ کائنات سے ”شرابِ حزن و ملال۔ یہ شرابیں وقتی طور پر ایک تخلیق کار کو آسودہ کر سکتی ہیں لیکن جب وہ نشے کی کیفیت سے باہر آتا ہے تو پھر مختلف طرح کے نظارے اس کا تعاقب کرتے ہیں۔وہ ہر نظارے کو ایک نئی تخلیقی صورت دینے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ عمل متواترجاری رہتا ہے۔ اس پورے عمل میں تخلیق کار کن کن اذیتوں سے گزرتا ہے یہ وہی جانتا ہے۔ ماہرین فن کی نظر میں ایک اچھا تخلیق کار بننے کے لیے وسیع المطالعہ، وسیع المشاہدہ اور حساس ہونا ضروری ہے لیکن سچ پوچھیے تو ایک تخلیق کار کے تخلیقی شعور کی اساس ”رنجیدگی“ ہے۔ وہ اگر حُسن کی بات کر رہا ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ جو نظارے حسن سے خالی ہیں تخلیق کار ان نظاروں سے رنجیدہ ہے۔ موسم خزاں کی رنجش نہ ہو تو موسمِ بہار کا حسن بھلا کس کام کا؟ذات اور کائنات کی ’رنجش‘ سے ہی تخلیق کا فن وجود میں آتا ہے۔
اس طویل تمہیدی گفتگو کے بعد میں نوجوان افسانہ نگار محمد علیم اسماعیل کے تازہ افسانوی مجموعہ ”رنجش“ سے آپ کو روبرو کروانا چاہتا ہوں۔ علیم اسماعیل کا نام اردو فکشن کی دنیا میں اب بہت زیادہ تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ ادبی حلقے میں ان کا نام اپنے تعارف کے لیے کافی ہے۔ بہت کم وقت میں انہوں نے فکشن کی دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ علیم اسماعیل کے افسانوں کے موضوعات گرچہ بہت انوکھے نہیں ہیں لیکن ان کے افسانوں میں ہمیں امکانات کی ایک روشن دنیا نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کا ذکر میں نے اوپر کیا یعنی علیم اسماعیل کے افسانوں میں حسن ذات سے حسن کائنات اور کرب ذات سے کربِ کائنات کا سفر ملتا ہے۔”رنجش“ کا پہلا افسانہ ”چھٹی“ صد فی صد سچ پر مبنی ہے۔ یہاں افسانہ نگار کا کرب ”چھٹی“ کے بعد بھی ختم نہیں ہوتا بلکہ چھٹی کے ساتھ ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتا ہے۔ اس افسانہ کی قرأت قاری کو رنجیدہ کرتی ہے۔ ”رنجش“کا پہلا افسانہ ہی قاری کے دل میں افسانہ نگار کے تئیں ہمدردی کا بیچ بو دیتا ہے۔
”افسانہ“ قصور علیم اسماعیل کے نمائندہ افسانوں میں سے ایک ہے۔ افسانہ کا مرکزی خیال ایک غریب ویٹر کی حساسیت ہے۔ وہ اپنی ایک چھوٹی سی غلطی کا کفارہ ادا کرنا چاہتا ہے۔ ویٹر کی معمولی سی غلطی سے صاحب کے کپڑے پر چکن بریانی کی پوری پلیٹ گر گئی ہے۔ واش روم سے فریش ہوکر آنے میں اتنا وقت لگ جاتا ہے کہ بس نکل چکی ہوتی ہے۔دوسری بس آنے میں کافی تاخیر ہے۔ ویٹر، صاحب کو ہوٹل میں ایک کمرے میں ٹھہراتا ہے، خاموشی سے کمرے کا کرایہ ادا کرتا ہے۔ دوسری بس آتی ہے تو انہیں بس تک چھوڑتا ہے۔ راستے کے لیے انہیں ناشتہ اور پانی کی بوتل پیش کرتا ہے۔ صاحب پاس کی دکان سے سیب لانے کے لیے اسے پیسہ دینا چاہتے ہیں لیکن وہ بنا پیسہ لیے ہی پھل کی دکان کی طرف لپک پڑتا ہے۔ اس بیچ بس چلنے لگتی ہے۔ وہ بس کا تعاقب کرنا چاہتا ہے لیکن ناکام ہو جاتا ہے۔ وہ گر پڑتا ہے۔ اس کے ہاتھ سے سیب گر کر بکھر جاتے ہیں۔ اس عالم میں بھی وہ اپنی چوٹ کی پروا کیے بغیر اپنے ہاتھ ہلا کر صاحب کو الوداع کہنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہاں پہنچ کر صاحب (واحد متکلم) کا سویا ہوا انسان جاگ اٹھتا ہے لیکن اب کافی دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ افسانہ کا اخری حصہ ملاحظہ فرمائیں:
”میں نے بس کی نشست سے ٹیک لگاتے ہوئے ایک لمبی سانس لی اور اپنے دونوں ہاتھوں کو چہرے پر پھیرا۔ میرا چہرہ تمتما گیا تھا۔ کان دہکتا ہوا شعلہ بن گئے تھے۔ جسم سے آگ کی لپٹیں نکل رہی تھیں۔ باہر کھڑکی سے آنے والی سرد
تبصرہ و تجزیہ
افسانہ ”آپ نے کہانی پڑھی؟“ ایک تجزیہ
(محمودہ قریشی، آگرہ)
اکیسویں صدی کے اہم افسانہ نگاروں میں نوجوانوں افسانہ نگار محمد علیم اسماعیل کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ بہت کم وقت میں وہ اردو دنیا میں اپنا سکہ جما چکے ہیں۔ اب تک ان کے دو افسانوی مجموعے ’الجھن‘ (2018) اور ’رنجش‘ (2020) اشاعت عمل میں آچکے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ادبی مضامین بھی منظر عام پر آچکے ہیں۔ اور وقتاً فوقتاً ان کے افسانے، افسانچے اور مضامین معیاری اخبارات و رسائل کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی آپ کافی سرگرم ہیں۔ فیس بک پر انھوں نے مشہور افسانہ نگاروں کی افسانہ نگاری اور ان کی ادبی خدمات پر تبصرے کے حوالے سے کافی متاثر کن سلسلہ شروع کیا ہے۔
واٹس ایپ گروپ ’بزمِ افسانہ‘ میں محمد علیم اسماعیل کا افسانہ ’چھُٹّی‘ برائے تنقید و تبصرہ پیش ہوا تھا۔ جہاں مشہور و معروف افسانہ نگار سلام بن رزاق فرماتے ہیں:
”کہانی اچھی ہے۔ شعور کی رو کے تحت اکہرے بیانیہ میں کہانی بُننا آسان نہیں ہوتا۔ تاہم علیم نے اپنی رواں اور شستہ نثر کے سہارے کہانی کو بچالیا۔ علیم اسماعیل ایک ہونہار، ذہین اور محنتی قلم کار ہیں۔ ان کی تحریروں کا میں بھی مداح ہوں۔“
اور عہد حاضر کے ممتاز فکشن نگار سید محمد اشرف لکھتے ہیں:
”یہ افسانہ نگار اپنے اندر بیان کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے اور افسانے میں کوئی تو ایسی چیز ہے جو قاری کو افسانہ نگار کے غم میں دیر تک شریک رکھتی ہے۔ یہ بھی کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ محمد علیم اسماعیل کے لیے بہت سی دعائیں اور نیک خواہشات۔“
موصوف کا ایک غیر مطبوعہ افسانہ ’آپ نے کہانی پڑھی؟‘ ہے۔ جس نے ہمیں کافی متاثر کیا ہے۔ جس کا آخری جملہ، ”کیا آپ نے کہانی پڑھی؟“ ایک سوالیہ انداز پیش کرتا ہے۔ افسانہ بیانیاں ہیت میں لکھا گیا ہے۔ جو کہ موصوف کا لکھنے کا انداز ہے۔ افسانہ بہت زیادہ طویل نہیں ہے۔ لیکن اس میں ایک کشیش ہے۔ جو قاری کو پڑھنے کے لیے اُکساتی ہے۔ پلاٹ مربوط اور گتھا ہوا ہے۔ افسانے میں صرف دو مرکزی کردار ہیں۔ زبان و بیان کے اعتبار سے بھی افسانہ کہیں گراں نہیں گزرتا۔ افسانہ اپنے پڑھنے والے پر ایک گہری چھاپ چھوڑ جاتا یے۔ افسانہ نگار نے افسانے میں ڈیجیٹلازیشن، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی اہمیت و افادیت کو پیش کرتے ہوئے اس کے نقصانات کو بھی دیکھایا ہے۔ اس افسانے کے ذریعے علیم اسماعیل نے عہد حاضر کی اہم سچچائی کو عیاں کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔ افسانے کا مرکزی کردار ’عامر‘ ہے۔ جس کے گرد ساری کہانی گھومتی ہے۔ جو کہ ایک طالب علم ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ کہانیاں بھی لکھتا ہے۔ اس کو انتظار تھا کہ کب اس کی کہانی کسی رسالے میں شائع ہو گی۔ اور وہ دن بھی آجاتا ہے کہ ہندوستان کے معیاری ادبی رسالے میں اس کی کہانی شائع ہو جاتی ہے۔ لیکن اس کی الجھن پھر بھی ختم نہیں ہوتی کیونکہ اس کے اور استاد کے علاوہ اس کی کہانی کوئی بھی نہیں پڑھتا۔
عامر رسالے کو ادبی حلقوں میں، شہر کے لوگوں کے پاس لے کر جاتا ہے، لکین سبھی رسالے کو بس الٹ پلٹ واپس اس کے ہاتھوں میں تھما دیتے ہیں۔ جسے کوئی پڑھنا ہی نہیں چاہتا تو اس پر تبصرہ یا اپنی ذاتی رائے کیسے دے سکتا ہے، جو کہ عامر چاہتا تھا۔ کہانی میں میں علیم اسماعیل نے ایک نو جوان قلم کار کی ٹوٹتی ہوئی ہمّت کی طرف اشارہ کیا ہے۔
عامر پر طاری گھٹن کو ظاہر کرنے کے لیے افسانہ نگار نے کرشن چندر کی کہانی ’شہزادہ‘ سے اس کے مرکزی کردار ’سدھا‘ سے تشبیہ دی ہے۔ عامر ایک تصوراتی دنیا میں جی رہا تھا۔ اس کی اس پریشانی کو دور کرنے کے لیے استاد شمس الضحٰی جو کہ افسانے میں دوسرا اہم کردار ہے، عامر کو سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں۔
”عامر، زمانہ بدل گیا ہے۔ طریقے بدل گئے ہیں۔ یہ ڈیجیٹلازیشن کا دور ہے۔ تم نوجوان ہو، انٹرنیٹ چلانا اچھے سے جانتے ہو، سوشل میڈیا سے جڑے ہوئے ہو،۔۔۔۔“
عامر استاد کے اس مشورہ پر عمل کرتے ہوئے اپنے افسانے کی فوٹوں سوشل میڈیا پر شیئر کرتا ہے۔ جہاں اس کو کافی پزیرائی ملتی ہے۔ کافی کمینٹ، لائیکس حاصل ہوتے ہیں۔ جس کا عامر کو انتظار تھا لکین جب وہ کچھ لوگوں سے یہ سوال کرتا ہے۔
”کیا آپ نے کہانی پڑھی؟“
تب اس کو کوئی جواب نہیں ملتا۔ جس کے ساتھ افسانہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیادہ تر لوگ بنا پڑھے ہی، یہاں تک کہ پوسٹ کو ٹھیک سے دیکھے بغیر ہی لائیک، کمینٹ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ سب ہی لوگ ایسا کرتے ہیں۔ لکین زیادہ تر معاشرے میں ایسا ہی چلن ہے۔ انٹرنیٹ اور اس سے جڑے لوگوں کی اس خرابی کی طرف افسانہ نگار نے ہمارا ذہن متوجہ کیا ہے۔ اس لیے اگر ہم یہ سوچتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ کمینٹس اور لائیکس حاصل کر کے ہم انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی دنیا پر چھا جائجں گے تو ایسا نہیں ہے۔ ترقی کام سے حاصل کی جاتی ہے نہ کہ نام سے، اور اگر صرف ہمارے نام سے لائیکس اور کمینٹس مل رہے ہیں تو یہ ٹھیک نہیں ہے۔
خاص کر افسانہ نگار نے ’آپ نے کہانی پڑھی‘ میں جو پہلو اٹھایا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے نو جوان قلم کار پزیرائی نہ ملنے کے سبب، مایوس ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنے قلمی سفر کو ترک کرنے پر آمدہ ہو جاتے ہیں۔
اس لیے ہمارے ادبی حلقوں میں ان نو جوان قلم کاروں کی حوصلا آفزائی بے حد ضروری ہے۔ جس پر ہمارے معاشرے میں کافی لوگ و انجمنیں کامزن بھی ہیں۔ اصل چیز تخلیقی صلاحیت ہوتی ہے۔ اگر وہ آپ میں موجود ہے، تو آپ کو آگے بڑھنے، ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ہاں وقت ضرور لگ سکتا ہے۔ جس کے لیے افسانہ نگار نے افسانے میں راستہ بھی بتا دیا ہے کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا آج کے دور میں ایک قلم کار کی صلاحیت کو اُجاگر کرنے میں کافی مدد و معاون ہے، جو کہ افسانہ نگار کا ذاتی تجربہ بھی ہے۔ جیسا کہ ہمارے استاد محترم کہتے ہیں آپ کام کیجیے، نام میں کیا رکھا ہے، نام تو ہو ہی جائے گا۔
ہنر میں پھر روانی ہو گئی ہے
قلم کی ترجمانی ہو گئی ہے
زمانہ آیا سوشل میڈیا کا
”یہ دنیا اب پرانی ہو گئی ہے۔“
٭٭٭
Wednesday, 16 September 2020
متجسس فنکار
اعجاز پروانہ ؔ ناندوروی
کارِ شیشہ گری
قدرت ناظم،ؔ ناندورہ
(افسانوی مجموعہ ’’الجھن‘‘ سے)
اردو افسانچہ روایت اور محمد علیم اسماعیل
معین الدین عثمانی
(افسانوی مجموعہ ’’الجھن‘‘ سے)
چنگاریاں ضرور ایک دن شعلہ بنیں گی
ڈاکٹر اسلم جمشید پوری
(افسانوی مجموعہ ’’الجھن‘‘ سے)
بڑی تیزی سے اُبھرتا ایک باشعور افسانچہ نگار
ڈاکٹر ایم۔اے۔حق
نیا ذہن، نئی سوچ اور نئی جُستجو
حمید ادیبی ناندوروی
Monday, 7 September 2020
وصیل خان ، ممبئی
ڈاکٹر عابد الرحمن ، چاندور بسوا (مہاراشٹر)
اشفاق حمید انصاری ، ناندورہ