Monday, 7 December 2020

محمد علیم اسماعیل بطورافسانہ نگار---- تحریر: مخدوم عرفان طاہر (جھنگ، پاکستان)

 محمد علیم اسماعیل بطورافسانہ نگار

تحریر: مخدوم عرفان طاہر (جھنگ، پاکستان)


افسانہ ایک ایسی فکری کہانی ہوتی ہے جس میں کسی ایک خاص واقعہ اورکسی ایک خاص کردار پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ اکیسویں صدی کے اردو افسانے میں محمد علیم اسماعیل کی حیثیت ایک ہمہ جہت تخلیق کار کی ہے۔ وہ جتنے اہم افسانہ نگار ہیں، اسی قدر ایک افسانچہ نگار کے طور پر بھی فنی عظمت کے مالک ہیں۔ وہ ذہنی، جذباتی اور فطری مسرت کی حفاظت کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔ ان کا شمار نمایاں مقام رکھنے والے ادیبوں میں ہوتا ہے۔ علیم اسماعیل نے اپنے افسانوں اور افسانچوں کے ذریعے معاشرے کی چھوٹی چھوٹی برائیوں اور مسائل کو قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔ وہ مہاراشٹر میں شعبہئ تعلیم سے منسلک ہیں اور درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اپنے فن پاروں کے ذریعے انھوں نے ثابت کیا کہ اُن میں افسانہ و افسانچہ نویسی کے جراثیم موجود ہیں اور اس فن میں وہ بھرپور صلاحیت کے مالک ہیں۔ انھوں نے روایتی افسانے بھی لکھے اور تکنیکی تجربے بھی کیے۔ اُن کے افسانوں کی خاص بات یہ ہے کہ پڑھنے والا افسانہ شروع کرتے ہی ان کی گرفت میں آ جاتا ہے اور پھر مکمل افسانہ پڑھے بغیر رہ نہیں سکتا۔ ان کے افسانوں کا مطالعہ کرنے کے دوران قاری مختلف کیفیات سے گزرتا ہے۔ اُن کے موضوعات کا دائرہ کافی وسیع ہے اور ان موضوعات میں جدت و ندرت ہے۔
علیم اسماعیل نے اپنا پہلا مضمون ’علامہ اقبال کی باتیں‘، پہلا افسانہ ’خیالی دنیا‘ اور افسانچہ ’شرمندگی‘ سے لکھنے کا آغاز کیا۔ اب تک اُن کی دو تصانیف منظر عام پر آئی ہیں، جن میں ’الجھن‘ (افسانے و افسانچے) اور ’رنجش‘ (افسانے) شامل ہیں۔ ادبی خدمات پر انھیں مہاراشٹر کی رساستی تنظیم اموس (AMUSS) نے ”طالبِ ادب ایوارڈ 2018“ سے نوازا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ انھیں دیگر انعامات و اعزازات سے بھی سرفراز کیا گیا ہے۔ علیم اسماعیل نے اپنے افسانوں میں دیہی زندگی کے حالات، واقعات اور مسائل، وکیل صاحب کا درد، متوسط طبقے کی کش مکش، مرد کی نفسیات اور معاشرتی ناہمواریاں جیسے اہم موضوعات کو قلم بند کیا۔ان کی تحریریں اپنے وجود کا راز جاننے کی جستجو ہیں۔اس کوشش میں وہ معاشرے، سماج کا درد، انسانوں کے افسردہ چہرے اور مشکل حالات سے گزرتے ہوئے، وقت کے چہرے میں خود کو تلاش کرتے ہیں۔ ان کی کہانیاں ایک نیا روپ لے کر ظاہر ہوتی ہیں اور وہ کہانیاں آج کے زمانے کی تصویر کشی اس طرح کرتی ہیں کہ معاشرے کے مسائل ایک متاثر کن اسلوب میں ہمارے سامنے کھڑے نظر آتے ہیں۔ جن میں سے کچھ مسائل سماج میں جابجا نظر آتے ہیں تو کچھ ان کے تجربات بھی ہیں۔ ان کے اندر معاشرتی اصلاح کا جذبہ ہے۔ انھوں نے حقیقت کی آنکھ سے انسان اور انسانی مسائل کو دیکھا اور ایک سچے فنکار کے مانند انھیں قارئین کے رو بہ رو پیش کیاہے۔مزید انھوں نے علم، بصیرت، مشاہدات اور عمدہ ذوق سے اپنے فن کو استوار کیا ہے۔
محمد علیم اسماعیل کی مختلف خوبیوں میں، ان کے افسانوں میں سادہ زبان کا استعمال بھی ہے۔ انھوں نے دلکش اسلوب کا استعمال کرتے ہوئے، سادہ زبان کا استعمال کیا تاکہ ہر قاری بآسانی ان کی کہانیوں کا مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ بھی سکے۔ انھوں نے اکثر کرداروں کے مکالمے ان کی معاشی اور معاشرتی حیثیت کے مطابق لکھے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ ان کے لیے مکالمے ان کے لہجے اور تلفظ میں ہی تخلیق کیے ہیں، جو اُن کے زبردست مشاہدے کا غماز ہے۔ علیم اسماعیل نے اپنے افسانوں میں زندگی کے ہر دو پہلوؤں المیہ و طربیہ کو سمو دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں ہر طبقے کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح مجموعی حوالے سے دیکھا جائے تو اُن کے ہاں جذبات نگاری بھی متاثر کرتی ہے۔ ان کا فن تنقید ِحیات ہے اور ترغیب و اصلاح بھی۔ علیم اسماعیل کے افسانے اُن کے اخلاقی، معاشرتی اور سیاسی شعور کی ترجمانی کرتے ہیں، اور یہی وہ معاشرتی اور سیاسی شعور ہے جس نے علیم اسماعیل کو حقیقت پسند افسانہ نگاروں کی صف میں کھڑا کر دیا ہے۔
حقیقت نگاری سے مراد ایک شے کو اُس کے حقیقی خدوخال کے ساتھ بیان کرنے کے ہیں۔ حقیقت نگاری میں چیزوں کو اِس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ وہ زندگی کا جزومعلوم ہوتی ہوں۔ محمد علیم اسماعیل کے افسانے کا ہر موضوع حقیقت کا آئینہ دار ہے۔ افسانہ ’مردہ پرستی‘ سے اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
”عارف کو رسالے سے جواب ملا: آپ نے بہت اچھامضمون قلم بند کیا ہے، لیکن ہمارے یہاں زندہ شخصیات پر مضامین شائع نہیں ہوتے۔“
نہ جانے کس طرح ہمارے ذہنوں میں ایک بات بیٹھ گئی ہے کہ جب تک کوئی فنکار زندہ ہے تو اسے ہاتھ نہیں لگانا، اس کے فن سے قارئین کو متعارف نہیں کروانا۔ دراصل یہ ناقدین کی ذمے داری ہے کہ وہ فنکار کی خدمات کا اعتراف اس کی زندگی میں کریں۔ لیکن یہاں تو یہ رواج ہے کہ بعد مرنے کے ہوتی ہے ایسی پذیرائی کہ بس۔ علیم اسماعیل نے، رنجش، قصور، چھٹی، ریجیکٹ، اجنبی، مولوی صاحب، ادھورے خواب، سودا، ظالم جیسے اہم افسانوں میں معاشرے کے خاص پہلوؤں پر قلم اٹھایاہے۔
افسانہ ’چھُٹّی‘ میں ایک وکیل صاحب کا کردار دکھایا گیا ہے، جو گھر کے سربراہ ہیں۔ وہ اپنے گھر، بیوی بچوں کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنے بھائیوں کی تعلیم و تربیت پر بھی خاصی توجہ دیتے ہیں۔ وکیل صاحب کو چونکہ مرکزی کردار کے طور پر دیکھایا گیا ہے، جو غریبوں اور مستحق لوگوں کے کیس کم فیس پر لڑتے ہیں۔ وکیل صاحب کو ایک بڑی بیماری لاحق ہو جاتی ہے، جس کے بعد وہ کافی عرصہ اسپتال میں زیر علاج رہتے ہیں۔ وہ جینے کی حسرت کے ساتھ گھر جانے کی فکر بھی کرتے ہیں۔ اُن کی خواہش ہوتی ہے کہ جلد چھٹی ملے اور وہ گھر جائیں۔ چھٹی تو ملتی ہے مگر وہ ہمیشہ کے لیے سب سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ نورالحسنین اس کے بارے میں لکھتے ہیں:
”لیکن محمد علیم نے اس افسانے میں جو کرب کی فضا باندھی ہے وہ حقیقت سے اس قدر قریب ہے گویا یہ افسانہ نہیں محمد علیم کی زندگی ہی میں رونما ہونے والا کوئی حقیقی سانحہ ہو۔“
اس کردار کے ذریعے علیم اسماعیل نے انسانی جذبات کو فطری انداز اور تخلیقی آہنگ میں پیش کیا ہے۔ وکیل صاحب کے کردار میں انسان اور انسانیت کی آواز ایک صدائے باز گشت بن جاتی ہے۔ اس افسانہ کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ کہانی نہیں حقیقت ہے جسے علیم اسماعیل نے افسانوی رنگ میں رنگ دیا ہے۔ افسانے سے یہ جملہ دیکھیے:
”دعا کرو میں اچھا ہو جاؤں نہیں تو میرے بچے تنہا رہ جائیں گے۔“
وکیل صاحب کئی جذبوں سے سرشار نظر آتے ہیں۔ لیکن وہ اپنی بے شمار آرزوئیں لیے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔افسانہ چھُٹّی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے پروفیسر بیگ احساس فرماتے ہیں:
”علیم اسماعیل کا افسانہ ’چھُٹّی‘ پڑھا۔ مجھے اچھا لگا۔ علیم نے دل نکال کر رکھ دیا ہے۔ اور خون دل میں انگلیاں ڈبو کر یہ افسانہ لکھا ہے۔ جن سے جذباتی تعلق ہوتا ہے وہ خود لکھوا لیتے ہیں۔ ایسے کئی نوجوان ہیں جنھوں نے گھریلو ذمے داریاں نبھاتے نبھاتے خود کو ختم کر لیا ہے۔ ایک تو بچنے کی امید نہیں، پیسہ خرچ ہو جانے کا اذیت ناک احساس، نا قابل برداشت تکالیف، ایک ایک عضو کا دھیرے دھیرے بے کا ر ہو جانا، قسطوں میں مرنا آسان نہیں ہوتا۔ علیم نے متوسط گھرانے کے کرب کی سچی تصویر کشی کی ہے۔ ایک بھائی کو اس سے بہتر خراجِ عقیدت پیش نہیں کیا جا سکتا۔ مبارک باد دوں کہ پرسہ، سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ ذاتی صدمہ بہترین ادب کی تخلیق میں ممد و معاون ہوتا ہے۔“
افسانہ ’قصور‘ میں ایک غریب انسان کی کہانی پیش کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی غلطی کا کفارہ کس طرح ادا کرتا ہے۔ اور یہی اس افسانے کی بڑی خوبی ہے۔ افسانے کا مرکزی کردار ایک بھلا مانس نوجوان لڑکا ہے۔وہ نوجوان ایک ہوٹل میں ویٹر کا کام کرتا ہے۔ دوران ویٹرنگ وہ ایک مسافر پر بریانی کی پلیٹ گرا دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے مسافر کے کپڑے خراب ہو جاتے ہیں۔ مسافر اپنے کپڑے صاف کرنے جاتا ہے تو اس کی بس چھوٹ جاتی ہے۔ جس سے اس مسافر کو ویٹر پر غصہ آتا ہے۔ ویٹر کے اصرار کرنے پر مسافر وہاں رک جاتا ہے، اور صبح اٹھ کے جب بل دینے کے لیے کاونٹر پر پہنچا تو معلوم ہوتا ہے کہ ویٹر نے بل ادا کر دیا ہے۔ ویٹر محسوس کرتا ہے کہ اس کی وجہ سے بس چھوٹ گئی ہے۔ اس لیے وہ اپنے آپ کو قصور وار سمجھتا ہے۔ افسانہ سے اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
”میں نے کہا۔ ”تم آگے بڑھو میں آتا ہوں۔“
میں نے ہوٹل منیجر کو روم کا کرایہ دینا چاہا لیکن اس نے انکار کر دیا، وجہ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اسی ویٹر نے کرایہ ادا کر دیا ہے۔“
ویٹر اس واقعے کا قصوروار اپنے آپ کو گردانتا ہے۔اسے لگتا ہے کہ شرٹ پر بریانی گرنے سے ہی مصنف کی بس چھوٹی۔ اسے کیا معلوم کہ یہ سارا کھیل قسمت کا ہے۔ افسانہ سے اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
”نہیں صاحب میری وجہ سے آپ کی بس چھوٹ گئی، یہ میں نہیں لوں گا۔“
ویٹر ایک غریب فیملی سے تعلق رکھتا ہے، مگر اپنی غلطی کا کفارہ ادا کرنے میں کافی حساس نظر آتا ہے۔ افسانے کی خوبی یہ ہے کہ علیم اسماعیل نے کرداروں کو بڑی مہارت سے پیش کیا ہے۔ اس افسانے کے پس منظر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ علیم اسماعیل منظر نگاری میں مہارت رکھتے ہیں۔ ویٹر اگر چاہتا تو اس حادثے کو ایک چھوٹا سا واقعہ سمجھ کر اسے اتنی اہمیت نہیں بھی دے سکتا تھا، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو راوی اس کا کیا کر سکتا تھا، کچھ بھی نہیں۔ کچھ لمحوں کے بعد راوی یہ معاملہ بھول جاتا، مگر ویٹر کے اندر احساس ندامت گھر کر گیا۔ اور ایک کہانی وجود میں آئی۔ علیم اسماعیل نے جس طرز میں ویٹر کے کردار کو پیش کیا ہے، آج کے دور میں احساس کا یہ جذبہ شاذ و نادر ہی دکھائی دیتا ہے۔ لیکن جو لوگ حساس ہوتے ہیں، ان کے دل نرم ہوتے ہیں۔
’رنجش‘ افسانے میں دوستی کی مثال پیش کی گئی ہے۔ جس کا مطالعہ کر لینے کے بعد بھی قاری اسی افسانے کے اردگرد گھومتا رہتا ہے۔ کہانی میں تجسّس کا عنصر موجود ہے۔ کاظم کی طبیعت خراب ہونے کے باوجود کاشف کا سوئے رہنے کا ناٹک کرنا اور اس واقعے کی منظر نگاری قاری کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ کاظم مرنے سے قبل اپنی دوستی کے فرائض سرانجام دیتا ہے۔
”کاشف بھیا، جلدی چلیے، آپ کے دوست کاظم کی طبیعت بہت خراب ہو گئی ہے۔ لیکن کاشف نہیں اٹھا، نہ ہی دروازہ کھولا، وہ خاموش اپنے نرم بستر پر پڑا رہا۔“
اچھا دوست وہ ہوتا ہے جو اپنے دوست کا سچا خیر خواہ ہو۔ وہ ہمیشہ اپنے دوست کی بھلائی سوچتا ہو۔
’سودا‘ افسانے میں علیم اسماعیل نے سماج کی بے بسی اور افسردگی کے پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی معاشرے کی کج روی کے خلاف آواز بھی اٹھائی ہے۔ علیم اسماعیل کے یہاں زندگی کی کڑوی حقیقت اور اس کے منفی نتائج بھی بڑی بے باکی سے بیان ہوئے ہیں۔ وہ معاشرہ کی غلط پالیسیوں سے نفرت نہیں کرتے بلکہ انھیں قریب سے دیکھتے ہیں اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہیں۔ افسانہ ’سودا‘ میں عبرت ناک واقعہ پُر اثر اسلوب میں بیان ہوا ہے۔ افسانے سے یہ چند سطریں دیکھیں:
”خبردار جو مجھے ہاتھ لگایا تو۔
میں ہکابکا رہ گیا اور حیرت سے پوچھا۔ کیوں؟
اس نے کہا۔ میں کسی اور سے پیار کرتی ہوں۔“
ہم اس معاشرہ میں سانسیں لے رہے ہیں، جہاں عورت کی شادی اس کی مرضی کے خلاف کر دی جاتی ہے۔ جب ہم اپنے معاشرے پر نظر کرتے ہیں تو شادی بیاہ کے حوالے سے یہ بھی نظر آتا ہے کہ عورتوں کو یہاں تک بے خبر رکھا جاتا ہے کہ ان کی شادی ایک ایسے شخص کے ساتھ کی جارہی ہے جو انتہائی بوڑھا ہے۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ مذکورہ شخص زمین دار اور مال دار ہے۔ اور اگر کسی نہ کسی طرح لڑکی کو یہ علم ہوجاتا ہے تب بھی اسے اس ظلم و بربریت کے خلاف چیخنے چلانے اور احتجاج کرنے کا حق حاصل نہیں ہے اور وہ لڑکی اپنے والدین کے مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ ماں باپ کی ضد کی خاطر لڑکی شادی کرنے پر رضامند تو ہو جاتی ہے مگر بعد ازاں بے شمار مسائل میں گھر جاتی ہے۔ محمد علیم اسماعیل نے معاشرے کے تلخ حقائق کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس کا زہر، قطرہ قطرہ اپنے اندر محسوس کیا۔ اپنے قلم کے ذریعے سماج سے لڑنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے۔ قلم سے نکلے ہوئے لفظ موتی بھی ہوتے ہیں اور خنجر بھی۔ افسانوی مجموعہ’رنجش‘ کے سبھی افسانے کافی متاثر کرتے ہیں۔ اپنے بیش تر افسانوں میں انھوں نے رمزیہ انداز استعمال کیا ہے۔ بہر حال علیم اسماعیل کے یہاں کر دار، پلاٹ، اسلوب حقیقت نگاری، وحدت تاثر، زبان و بیان اور دیگر فنی محاسن ان کی فنِ افسانہ نگاری پر دسترس کے غماز ہیں۔
٭٭٭٭٭
 
x

Thursday, 3 December 2020

رنجش کے پس منظر میں ڈاکٹر نورالصباح (مؤ ناتھ بھنجن)

 رنجش کے پس منظر میں

ڈاکٹر نورالصباح (مؤ ناتھ بھنجن)


کہتے ہیں کہ ہر فنکار اپنے عہد کا نباض ہوتا ہے۔ اپنے اطراف میں پڑی چیزوں کو عمیق نظروں سے دیکھتا ہے۔اسے ہر قدم پر ایک کہانی مل جاتی ہے۔ گھر کے اندر ہو یا باہر، دوسروں کے ساتھ پیش آنے والے حادثات ہوں یا اپنے ساتھ، ہر حادثہ ایک اہم واقعہ کی صورت میں اس کی کہانی بن کر لفظوں کے روپ میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ یہاں پر یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ کسی فنکار کے نئے اور پرانے ہونے سے مطلب نہیں ہوتا۔ مطلب ہوتا ہے تو صرف اس بات سے کہ وہ اپنے ارد گرد کی چیزوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے، انھیں کس انداز سے پیش کرتا ہے، اس کا اسلوب کیا ہے، اس کا پیرایہ اظہار کیا ہے، اس کا نقطہ نظر کیا ہوتا ہے، اس کا پلاٹ کیا ہوتا ہے، اس کی بنت کیسی ہے، اس کا زبان و بیان کیسا ہے، کیا قاری کے دل پر اس کی بیان کی ہوئی کہانی نقش ہوتی ہے، اگر ہم ان ساری چیزوں کو مد نظر رکھیں تومحمد علیم اسماعیل جیسے نوجوان قلمکار مذکورہ باتوں پر کھرے اترتے ہیں۔ وہ اپنی کہانیوں کو بہت ہی چابکدستی کے ساتھ بنتے ہیں۔ زبان و بیان سادہ، سلیس اور سہل ہوتا ہے، طرز ادا بیانیہ پرکشش ہوتا ہے۔ وہ معمولی سے معمولی واقعات کو الفاظ کا جامہ اس طرح پہناتے ہیں کہ قاری پر رقت طاری ہوجاتی ہے۔ ان کا قلم ہر قسم کے موضوعات کا احاطہ کرتا ہے۔ داخلی اور خارجی سبھی مسائل ان کے قلم کی زد میں ہوتے ہیں، تعلیم یافتہ فرد کی بے روزگاری، بے روزگاری کی وجہ سے اس کی ذلت، طعن و تشنیع اور پھر ان مسائل کا حل۔ وہ مسئلوں کو پیش بھی کرتے ہیں اور اس کا حل بھی تلاش کرلیتے ہیں، اگرچہ وہ ایک نوجوان قلمکار ہیں۔ ادبی افق پر ابھرتا ہوا ستارہ ہیں، لیکن ان کے موضوعات میں وسعت اور سنجیدگی ہے، جو ان کی انفرادیت کا پتا دیتی ہے۔اس سلسلے میں نورالحسنین صاحب نے بلاشبہ بجا فرمایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
”ان ہی نوجوانوں میں ایک نام محمد علیم اسماعیل کا بھی ہے، جس کے افسانے اور مضامین آج کل مختلف رسائل و اخبارات میں تواتر کے ساتھ شائع ہو رہے ہیں اور جو نہایت تیزی کے ساتھ ادبی افق پر اپنی شناخت بنا رہا ہے۔ اس کے افسانے زندگی کی چھوٹی بڑی حقیقتوں کو نہایت روانی کے ساتھ پیش کرتے ہیں بلکہ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ اس کے ہاتھ وہ سِرا لگ گیا ہے جو فرد کے داخلی اور خارجی مسائل، احساس و فکر کے کچوکوں سے جوجھتے ذہن، سیاسی ہتھکنڈوں میں جکڑی ہوئی بے بسی، تنہائی کا کرب، معاشی گھٹن، رشتوں کی پاسداری اور بے اطمینانی بھی، دکھ  اور بیماریاں اور غیرمحفوظ مستقبل کی وہ فکریں بھی، جس کا کرب چاروں طرف دکھائی دیتا ہے۔ بلاشبہ علیم  ان موضوعات کو سلیقے سے برت رہا ہے۔“ (ص:10۔رنجش)
افسانوی مجموعہ ’رنجش‘ میں شامل افسانے زندگی کے حقائق کو بیان کرتے ہیں۔ انھوں نے عورتوں کے مسائل کی بخوبی عکاسی کی ہے۔ ان کے نفسیاتی مسائل، جذباتی مسائل، ازدواجی مسائل، لڑکیوں کی شادی کے مسائل، ان کی عصمت و عفت کے مسائل کے ساتھ ساتھ خانگی مسائل، داخلی مسائل، خارجی مسائل، بے روزگاری کے مسائل اور اخلاقی اقدار کی پامالی کے مسائل۔
اخلاقی قدروں کے حوالے سے ان کا افسانہ ’قصور‘ انتہائی متاثر کن ہے جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ اس کے متعلق ڈاکٹر صالحہ رشید رقمطراز ہیں:
”حال ہی میں ان کا افسانہ ’قصور‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ افسانے کے شروع کے چار چھ جملوں نے ہی ذہن کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا۔ اس کا موضوع تو برسوں سے برتا جارہا ہے اور وہ ہے اخلاقی قدریں اور کردار وہی عام آدمی ہے جو اخلاقی قدروں کا پاسدار ہے۔“
’قصور‘ کا کردار ہوٹل میں ویٹر کی حیثیت سے کام کرتا ہے جو ظاہر ہے مفلوک الحال ہے لیکن اس کے ہاتھوں، گاہک کے کپڑے خراب ہو جانے کی وجہ سے وہ احساس ندامت کا اس قدر شکار ہوتا ہے کہ گاہک کا ہوٹل سے لے کر بس، کھانے، پینے تک کا کرایہ ادا کرتا ہے۔ اس سے مصنف کی باریک بیں نگاہوں اور عمیق مشاہدے کا اندازہ ہوتا ہے، جس کو انھوں نے ایک عمدہ پیرایہ اظہار عطا کیا اور متاثرکن لہجہ دیا۔ جس میں افسانہ نگار تو افسانہ نگار، قاری بھی محو ہوگیا۔ 
ان کی آواز میں تانیثیت کا لحن بھی سنائی دیتا ہے جو ’اجنبی‘، ’گریما‘، ’شب سرخاب‘، ’سودا‘، اور ’اعتماد‘ میں نظر آتا ہے۔ ’شب سرخاب‘ کا نسوانی کردار خود ایک عورت کے ظلم کا شکار ہوتی ہے۔ اس کا شوہر اور جیٹھانی اس کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ اور وہ اپنی سہیلی شبنم کے خون کا نمونہ اپنی جیٹھانی اجالا کے رگوں میں دوڈا دیتی ہے۔ اور اس کام کو شبنم ہی انجام دیتی ہے۔ کیونکہ شبنم ایڈز کی مریضہ ہے۔ افسانہ نگار نے شبنم کے مرض کا ذکر ایک جگہ کیا ہے، پھر آخر میں بھی اس کا ذکر کیا ہے کہ”شبنم ایڈز کی مریضہ تھی“ انھیں دوبارہ اس جملے کو رقم کرنے کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ یہ جملہ اضافی ہے۔ یہ نہ ہوتا تو افسانے کی تاثیر میں مزید اضافہ ہوتا۔ 
اسی طرح ’گریما‘ کا نسوانی کردار معاشرتی و سماجی رویوں کا شکار تھا، اس کا کالاپن لوگوں کے برے رویے اور بے رخی کی وجہ بن گیا تھا۔ یہ بے رخی اتنی زیادہ ہوگئی تھی کہ اس کی شادی میں بھی روکاوٹ کا باعث بنی اور پھر آخر میں ایک ضعیف العمر شخص سے رشتہ ازدواج میں منسوب کردی گئی۔ نتیجتاً کسی اجنبی کے جال میں پھنس کر زندگی اجیرن بنا بیٹھی۔ یہاں سے کہانی ایک نیا موڑ لیتی ہے۔ نسوانی کردار اس اجنبی سے بچھڑ کر ایک شیلٹر ہوم میں پہنچتا ہے جو شیلٹر ہوم کی جگہ ایک طوائف خانہ ہوتا ہے  وہاں سے بھاگ کر ایک پولیس والے کے ذریعہ کسی سادھو کے ہتھے چڑھ جاتی ہے، جہاں معزز افراد کا بھی آنا جانا ہوتا ہے۔ جو دن کی روشنی میں سفید ہوتے ہیں اور رات کی روشنی میں سیاہ۔ اس موضوع کو ابتدا سے ہی برتا جارہا ہے لیکن علیم کا انداز بیاں نئے عہد نئے زمانے کے مطابق ہے۔ جس میں محافظ ہی بربریت کا عمدہ شاہکار نظر آتے ہیں۔ایسے شاہکار ہمیں خدیجہ مستور اور ہاجرہ مسرور کے افسانوں میں ملتے ہیں۔ قرۃ العین حیدر کے یہاں بھی ایسے محافظ نظر آتے ہیں لیکن فرق اتنا ہے کہ وہ سارے محافظ فرقہ واریت کے خونی ماحول اور فسادات کی بہیمیت کی پیداوار تھے مگر آزادی کے ستر برسوں بعد جبکہ زمانہ اتنی ترقی کرچکا ہے، ہر طرف تعلیم کا بول بالا ہے، انسانیت نوازی کا شور و غوغا ہے۔ ایسے ماحول میں بھی لڑکیوں کی وہی حالت ہے جو ستر برس قبل تھی۔ لڑکیاں خودکشی کرنے پر مجبور ہیں، چاہے وہ تعلیم یافتہ شوہر ہو یا تعلیم یافتہ بھائی یا باپ، سبھی متشکک نگاہوں ہی سے عورتوں کی طرف دیکھتے ہیں، چاہے وہ دوسروں کو خیر کا درس ہی دیتے ہوں۔ اس کا ذکر ان کے افسانہ ّاجنبی‘ میں ملتا ہے۔ اس کا مرکزی کردار مسکان اور کبیر ہیں جو ازدواجی رشتے میں منسلک ہیں اور خوش و خرم زندگی گزارتے ہیں۔ کبیر اپنے شکی دوستوں کو سمجھاتا بھی ہے کہ بیوی کے معاملے میں سمجھداری سے کام لینا چاہیے لیکن خود اپنی بیوی پر اتنا شک کرنے لگتا ہے کہ بیوی بچے کو ساتھ لے کر خود کشی پر آمادہ ہو جاتی ہے۔ ان کے درج ذیل جملے کسی دانشمند انسان سے کم نہیں ہیں:
”کبیر نے اپنے شکی دوست کو سمجھاتے ہوئے کہا تھا۔ میں نے پڑھا تھا کہ رشتوں میں بھروسہ اور موبائی میں نیٹ ورک نہ ہو تو لوگ گیمز کھیلنا شروع کردیتے ہیں۔بھروسہ رشتوں کا حسن ہے۔ ایک دفعہ جب بھروسہ ٹوت جائے تو وہ اپنی خوبصورتی اور مضبوطی کھو دیتا ہے۔“
ایسے سمجھدار انسان کا اپنی بیوی پر شک کرنا اور اسے موت کے لیے مجبور کرنا کسی بھی طرح زیب نہیں دیتا۔وہ بھی بنا کسی تحقیق کے بیوی پر شک کرنا، بنا اس سے پوچھے اس پر جبر کرنا، تشدد کرنا، اور خود کے بچے کو دوسرے کا ٹھہرانا۔ یہ ساری چیزیں انتہائی سطحی انسان کی ہوسکتی ہیں۔ وہ بھی صرف اس لیے کہ اس کی بیوی نے کسی اجنبی کو راستہ بتادیا تھا۔ ہمارا سماج دوسروں کے لیے چاہے جتنا بھی روشن خیال ہوجائے مگر یہ روشن خیالی اپنے معاملے میں نو دو گیارہ ہوجاتی ہے۔مصنف نے اس افسانے کے ذریعہ بین السطور میں بہت کچھ کہنے کی کوشش کی ہے کہ ایک لڑکی جب شادی کر کے دوسرے سے منسلک کردی جاتی ہے تو وہ انتہائی مجبور اور بے سہارا ہوجاتی ہے، نہ تو وہ گھر جاسکتی ہے نہ باہر قدم رکھ سکتی ہے۔ ہر دو صورت میں اس کا حشر وہی ہوتا جو اس افسانے کے مرکزی کردار کا ہوا۔ افسانے کا بین السطور جہیز جیسی لعنت کو بھی ابھارتا ہے، جو والدین کی کمر توڑ دیتا ہے، جس کی بہترین عکاسی دیگر افسانہ نگاروں کے ساتھ ساتھ بلونت سنگھ کے افسانے ”جھرجھری“ میں ہوتی ہے۔ علیم کے زیر تذکرہ افسانے کا نسوانی کردار شوہر کی شکی نگاہوں کی تاب نہ لاکر خودکشی کو اس لیے ترجیح دیتا ہے کہ اس کے والدین اسے جہیز دینے کے بعد اس قابل نہیں ہوتے کہ دوبارہ بیٹی کی کفالت کر سکیں اور بلونت سنگھ کا کردار قرض میں اسقدر ڈوب چکا ہوتا ہے کہ بیٹی کی عین شادی کے دن اس کی موت پر اس کے جسم میں جھرجھری بھر جاتی ہے اس لیے کہ اب اسے قرض خواہوں کو قرض لوٹانے میں آسانی ہوگی۔
اب آتے ہیں ان کے کرداروں کی طرف، ان کے کردار بہت سیدھے سادے اور معصوم سے ہوتے ہیں۔ ان کے اندر کوئی کجی نہیں ہوتی۔ اگر کجی آتی بھی ہے تو معاشرہ اس کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ شاید مصنف اس سے یہ کہنا چاہتے ہوں کہ انسان فطری طور پرکج رو نہیں ہوتا بلکہ ہم جس ماحول کے پروردہ ہوتے ہیں یا جو چیزیں ہمارے اطراف میں ہوتی ہیں، اس سے ہم غیر فطری طور پر اخذ کرتے چلے جاتے ہیں یا تو ہمارے ساتھ برے سلوک ہمیں سیدھے راستے سے بھٹکا دیتے ہیں۔ جس طرح گریما بھٹک کر وحشی درندوں کے چنگل میں پھنستی ہے۔ یا پھر ’اجنبی‘ کی مسکان خودکشی کا آخری قدم اٹھاتی ہے۔
علیم صاحب منظر نگاری میں بھی یکتا ہیں۔ وہ جب  خوشی کے ماحول کی منظر کشی کرتے ہیں تو ساری فضا، نظارہء دلکش کا ایک خوشنما منظر بن جاتی ہے۔ اور جب غمگین فضا کو بیان کرتے ہیں تو قاری کے اندر حزن وملال طاری ہوجاتا ہے اور وہی مضمحل منظر اس کی نظروں کے سامنے رقصاں ہوجاتا ہے۔ چند سطریں نظر نواز ہیں:
”دن بھر زمین پر آگ کے شعلے برسانے کے بعد سورج اب ڈوب چکا تھا۔ ماحول میں گرم ہوا شامل ہوکر لو کے تھپیڑے دینے لگی تھی۔ ٹھہری ٹھہری سی ہوائیں تیز ہوکر جھونکوں میں تبدیل ہوگئی تھیں اور ان جھونکوں کی سنسناہٹ رگ وپے میں سرایت کررہی تھی۔ زمین پر پڑے سوکھے پتے لرز اٹھے تھے۔(افسانہ اعتماد)
مشینی زندگی کی برق رفتاری، زندگی کی گہماگہمی، انسانوں کی بھاگ دوڑ، شاہراہ عام کی بھیڑ بھاڑ کا منظر اور پھر اچانک بلڈنگ پر بیٹھے کبوتروں کی غٹرغوں اور نالی پر رینگتے کیڑوں کی منظر کشی کچھ یوں کرتے ہیں کہ ہم خود کو اسی کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں اور اچانک ٹھٹھک بھی جاتے ہیں۔ کچھ سطریں درج ذیل ہیں:
”زندگی بڑی تیز رفتاری سے بھاگ رہی تھی۔ چہارسو انسان دوڑ رہے تھے، گویا گاڑیوں کی ریس لگی ہوئی تھی۔ صبح کے اجلاے کب سے پھیل چکے تھے۔ صفائی والا اپنے کام میں مصروف تھا۔ بچے اسکول جارہے تھے۔چھن چھن کر آتی سورج کی کرنیں زمین پر رینگتی ہوئی پھیل رہی تھیں۔ بہت سے لوگ چہل قدمی کرتے ہوئے ادھر سے ادھر گزر رہے تھے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ ایک سرور بخش سنگیت سے بھی زیادہ بھلی معلوم ہورہی تھی۔ آسمان میں پرندوں کے غول نظر آرہے تھے۔ سامنے کھلی ہوئی بڑی نالی پر مکھیوں کا جھلڑ بھنبھنا رہا تھا۔قریب کی بلڈنگ پر بیٹھے چند کبوتر غٹرغوں کررہے تھے۔سڑکوں پر چل رہے راہ گیر ان قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہورہے تھے کہ اچانک بھاگتی دوڑتی زندگی تھم گئی۔“
درج بالا اقتباس ”حادثہ“ سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس میں صبح کی منظر کشی موجودہ عہد کی بھاگتی دوڑتی زندگی کے ساتھ کی گئی ہے۔ بچوں کا اسکول جانا، صبح کی روشنی کے ساتھ ہی گاڑیوں کی بھاگم بھاگ، موجودہ عہد کی مشینی زندگی کی عکاس ہے، ساتھ میں ہی انھوں نے کبوتر کی غٹر غوں، آسمان میں پرندوں کے ذکر کے ساتھ نالی پر بھنبھنا رہے کیڑوں کو قدرتی مناظر میں شامل کردیا کہ راہگیر ان مناظر سے لطف اندوز ہورہے تھے، گندے کیڑے قدرت کے مناظر کا حصہ کیسے ہو سکتے ہیں۔ ہاں پرندوں کی چہچہاہٹ، سورج کی روشنی، صبح کے فرحت بخش مناظر، خنک ہوائیں، قدرتی مناظر کا حصہ ہوسکتے ہیں، جس سے لوگ بھی لطف اندوز ہوں اور قاری بھی محظوظ ہو۔ شاید اس سے انھوں نے غریبوں کی بستی کی طرف اشارہ کیا ہو جہاں ایک مفلس شخص کے ساتھ حادثہ پیش آیا۔ 
افسانہ نگار مناظر کی عکاسی کے ساتھ ساتھ کردار کی داخلی اداسی کو چہرے سے عیاں کرنے کا ہنر بخوبی رکھتے ہیں جس سے قاری پہلے ہی جملے میں کردار کی مفلوک الحالی کو سمجھ جائے۔ درج ذیل جملہ دیکھیے:
”گنگا کے چہرے پر اداسی کی لکیریں کچھ زیادہ ہی نمایاں ہوگئی تھیں اور آنکوں کی ویرانی تو شکستہ کھندرات کا نمونہ پیش کررہی تھی۔ وہ چپ چاپ بیٹھی سوچوں میں گم تھی۔“
اس طرح ہم دیکھتے ہیں علیم صاحب افسانہ بیان کرنے کے ہنر سے پوری طرح واقفیت رکھتے ہیں۔ انھیں افسانے کو برتنے، انھیں لفظوں کا جامہ پہنانے، جملوں کی ساخت درست کرنے اور قاری کے دل پر تادیر نقش کرنے کے فن سے آگاہی ہے۔ ان کے بیان میں ندرت، سادگی، صفائی، سہل انگیزی حتی المقدور شامل ہے، جو ان کو منفرد شناخت دینے میں اہمیت کی حامل ہے۔

محمد علیم اسماعیل کا ’’قصور‘‘ اور انسانیت (گفتگو: طاہر انجم صدیقی ، مالیگاؤں، مہاراشٹر)

 محمد علیم اسماعیل کا ’’قصور‘‘ اور انسانیت

(گفتگو: طاہر انجم صدیقی ، مالیگاؤں، مہاراشٹر)


محمد علیم اسماعیل نے چھوٹے چھوٹے افسانوں سے لکھنے کا آغاز کیا اور رفتہ رفتہ ان کی شناخت ایک نوجوان افسانہ نگار کی بنتی چلی گئی۔ ناندورہ جیسے چھوٹے قصبے سے تعلق رکھنے والے محمد علیم اسماعیل کے دو افسانوی مجموعے ’’الجھن‘‘ اور ’’رنجش‘‘ منظرِعام پر آ کر ان کی شناخت میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔

افسانہ ’’قصور‘‘ ان کے دوسرے افسانوی مجموعہ ’’رنجش‘‘ میں شامل ہے۔

اس افسانے کی ایک خاص بات اس کا بیانیہ ہے۔ افسانے کی کہانی بالکل سیدھی سی ہے۔ اپنی نوکری کے لیے درپیش سفر کے درمیان افسانے کے مرکزی کردار سے افسانے کے راوی کی ملاقات ہوتی ہے۔ وہ کردار ایک ہوٹل میں ویٹر ہے۔ اس کا نام پتہ تک راوی کو معلوم نہیں ہوتا اس لئے افسانے کا قاری بھی اس کا نام و پتہ نہیں جانتا مگر افسانہ اس ڈھنگ سے بُنا گیا ہے کہ قاری اس کردار کو اچھی طرح جان لیتا ہے اور صاف محسوس ہوتا ہے کہ افسانے کے اس کردار کو اپنے ذہن کی سلیٹ سے کھرچ پانا قاری کے لئے اتنا آسان نہیں ہوگا۔

افسانے کا آغاز بہت اچھا ہے۔ اچھا آغاز بھی افسانے کی ایک اہم صفت ہے کہ اس طرح افسانہ نگار بڑی آسانی کے ساتھ  اپنی ابتدائی سطور سے ہی قاری کو اپنے ساتھ باندھ لیتا ہے۔ دیکھیں:

’’کیا وہ اس کا قصور تھا؟ یا وہ واقعہ محض ایک اتفاق تھا۔‘‘

تجسس فکشن کی جان ہے اور ایک افسانہ نگار اسی تجسّس کے ذریعے قاری کو اپنے افسانے کے انجام تک کھینچ لے جاتا ہے۔ قاری اسی تجسّس کے سبب افسانہ نگار کے ایک ایک لفظ کے سہارے کہانی کو سمجھتا ہے۔اس کے بیان کردہ مناظر سے لطف اندوز ہوتا ہے اور اس کے پیش کردہ واقعات سے اپنے ادبی ذوق کی تسکین کرتا ہے۔ محمد علیم اسماعیل نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنے افسانے کا آغاز کیا ہے اور قاری کو اپنے افسانے کے ساتھ جوڑ لیا ہے۔ مزید یہ کہ قصور کا دوسرا جملہ بھی سونے پر سہاگہ کا کام کرتا نظر آرہا ہے اور قاری کے تجسّس کو مزید ہوا دے رہا ہے تاکہ وہ سوچے کہ محمد علیم اسماعیل نے جس کے تعلق سے لکھا ہے وہ کون ہے؟ اس کے کس قصور کے تعلق سے انھوں نے لکھا ہے؟ دیکھیں:

’’وہ روز دوڑتا ہے، ٹکراتا ہے، گر جاتا ہے، پھر کھڑا ہوتا ہے اور ہانپتا رہتا ہے۔‘‘

یقینی طور پر قاری ان جملوں کی بدولت سوچنے پر مجبور ہوجائے گا کہ وہ کیوں روز دوڑتا ہے؟ کیوں ٹکراتا ہے؟ کیوں گرتا ہے؟ اور کیوں پھر سے کھڑا ہو کر ہانپنے لگتا ہے؟ اور قاری ان سوالات کے جوابات کی تلاش میں افسانے کو پڑھنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ قاری اس افسانے میں بیان کئے گئے واقعات کو اپنے ذہن کی سطح پر رو بہ عمل دیکھتا ہے اور افسانے کے مرکزی کردار سے پوری پوری ہمدردی کے جذبات اپنے دل میں موجزن پاتا ہے۔

اس افسانے کو پڑھتے ہوئے افسانے کے مرکزی کردار سے میرے دل میں جس قسم کی ہمدردی پیدا ہوئی اسے محسوس کرنے کے بعد مجھے کرشن چندر کا افسانہ ’’کالو بھنگی‘‘ یاد آگیا۔ ’’قصور‘‘ اور ’’الو بھنگی‘‘ کے کرداروں میں جو ایک بات مماثل ہے وہ قاری کے دل میں پیدا ہونے والی ہمدردی ہے بلکہ کرشن چندر کے کردار کا بھی تو نام پتا معلوم پڑ جاتا ہے لیکن محمد علیم اسماعیل کے افسانے کے کردار کا نام تک معلوم نہیں پڑتا اور قاری اپنے دل میں اس کے لیے ہمدردی کے جذبات صاف طور پر محسوس کرتا ہے۔ یہ محمد علیم اسماعیل کے فن کا کمال ہی تو ہے۔

انھوں نے ایک چھوٹی سی بات کو افسانہ بنا دیا ہے اور بڑا تاثر انگیز افسانہ بنایا ہے۔ افسانہ پڑھ لینے کے بعد جی کرتا ہے کہ افسانے کے مرکزی کردار سے ملاقات کی جائے محمد علیم اسماعیل نے ’’قصور‘‘ کے ابتدائی پیراگراف میں ایک جگہ لکھا ہے:

’’اگر میرے اختیار میں ہوتا یا میرے پاس کوئی جادو ہوتا تو میں وقت کی طنابیں کھینچ کر وقت کو پیچھے لےجاتا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیتا۔ پھر خوب باتیں کرتا۔ اس نے تو میرے قدموں تلے اپنی آنکھیں بچھا دی تھیں اور میں ان کو روندتا ہوا گزر گیا۔‘‘

راوی کا یہی احساس قاری کا احساس بن جاتا ہے اور وہ کچوکے قاری اپنے دل پر بھی محسوس کرتا ہے جو افسانے کے راوی کے دل پر لگتے ہیں اور قاری صاف طور پر محسوس کرتا ہے کہ افسانے کے اس مرکزی کردار کے ساتھ کچھ تو بھی غلط ہوا ہے تبھی تو افسانے کا راوی بھی اس کے لیے اپنے دل میں اس قسم کے ہمدردانہ جذبات کو محسوس کر رہا ہے۔ بلکہ اس اقتباس کے آخری جملے کو پڑھ کر یقین کر لیتا ہے کہ راوی نے اس کردار کے ساتھ بڑی بے اعتنائی برتی ہوگی اور اس خلوص کے پیکر کے جذبات کو مجروح کر گیا ہو گا۔ وہ جملے دوبارہ دیکھیں:

’’اس نے تو میرے قدموں میں اپنی آنکھیں بچھا دی تھیں اور میں ان آنکھوں کو روندتا ہوا آگے بڑھ گیا۔‘‘

محمد علیم اسماعیل کا مذکورہ بالا بیان بڑا متاثرین بیان ہے۔ پر بیان ہے۔ یہ بیان راست دل پر چوٹ کر رہا ہے۔ کسی کا خلوص سے آنکھیں بچھانا اور کسی کا ان آنکھوں کو روند کر گزر جانا ایک حساس دل کو متاثر کرنے والا بیان ہے۔

اس تاثر انگیز بیان کے بعد افسانے کی سطور بتاتی ہیں کہ افسانے کا مرکزی کردار ایک ہوٹل میں ویٹر ہے اور افسانے کا راوی اسی ہوٹل میں کھانا کھانے کے لئے بس سے اترتا ہے لیکن بریانی کی پلیٹ راوی پر گر جانے کی وجہ سے راوی کے واش روم میں صفائی کرنے کے درمیان بس اسے چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔ حالانکہ آسانی سے بس راوی کو چھوڑ کر چلی جاتی ہے اسی آسانی سے افسانے کے اس واقعہ پر اعتراض بھی درج کیا جاسکتا ہے۔

بس کے چھوٹ جانے کے بعد اس ویٹر کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور وہ اس کا کفارہ ادا کرنے کے لیے کسی ہوٹل کے کمرے میں ہی راوی کو دوسری بس کے آنے تک ٹھہر جانے کا انتظام اپنے ذاتی خرچ سے کر دیتا ہے۔

 دوسری بس کے آجانے پر جب راوی روم کا کرایہ ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے معلوم پڑتا ہے کہ وہی ویٹر اس کا کرایہ ادا کرچکا ہے  پھر وہ بس میں بیٹھ جاتا ہے اور راوی ویٹر کے ہنس ہنس کر باتیں کرنے کا مطلب احسان جتانا سمجھتا ہے اور وہ اسے ٹالنے کے لئے اس سے سیب منگواتا ہے۔

ویٹر بغیر رقم لئے سیب لانے کے لئے دوڑ پڑتا ہے مگر اس کے آنے سے پہلے ہی بس چل پڑتی ہے۔ ویٹر سیب بھری کیری بیگ لئے بس کے پیچھے پیچھے بھاگنے لگتا ہے۔ بس کی رفتار بڑھ جاتی ہے اور اسے پکڑ لینے کے جوش میں ویٹر دھڑام سے گرجاتاہے۔ سیب بکھر جاتے ہیں اور بس میں موجود کنڈیکٹر کو جب راوی اپنا کرایا دینا چاہتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ وہی ویٹر بس کا کرایہ بھی دے چکا ہے۔

تب شرمندگی کا کھیل راوی کے لئے شروع ہوتا ہے اور یہی احساسِ ندامت افسانے کو انسانی نفسیات کا مظہر بنا کر قاری کے دل میں اس ویٹر کے لئے ہمدردی کے جذبات پیدا کرجاتا ہے جس کا اسے نام، پتہ تک معلوم نہیں ہوتا۔

محمد علیم اسماعیل اپنے ’’قصور‘‘ کے توسط سے اپنے قاری تک یہ پیغام پہنچانے میں کامیاب ہیں کہ انسانیت چھوٹوں اور کمزوروں سے ہمدردی کا نام ہے۔


Sunday, 27 September 2020

 کامران غنی صبا

شعبہئ اردو نتیشورکالج، مظفرپور

علیم اسماعیل کا تخلیقی شعور اور”رنجش“

حُسنِ ذات سے حُسن کائنات اور کربِ ذات سے کربِ کائنات کا سفر کیے بغیر تخلیقی شعور کا حصول ناممکن ہے۔ بات چاہے نثری ادب کی ہو یا شعری، ایک تخلیق کار اُسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب وہ کائنات کے حسن کو، کائنات کے غم کوبلکہ یوں کہہ لیجیے کہ کائنات کو اس کی تمام جزئیات سمیت اپنے اندر ضم کرنے کی صلاحیت پیدا کر لے۔اس مقام تک پہنچنے کے لیے اپنی ذات کو آئینہ بنانا پڑتا ہے۔ ایک ایسا آئینہ جس کے سامنے بھلی بری ہر طرح کی شکلیں آتی ہوں اور وہ خاموشی سے ہر منظر کی گواہی دیتا ہو۔ اس کی گواہی میں چیخ تو ہو لیکن ہر کسی کو سنائی نہ دے، جھنجلاہٹ بھی ہو، لیکن ہر کسی کو دکھائی نہ دے۔تخلیق کا فن ہر لحظہ ”ھل من مزید“ کا متقاضی ہوتا ہے۔ اسی لیے ایک کامیاب تخلیق کار کبھی اپنی ذات سے مطمئن نظر نہیں آتا۔ وہ کبھی کائنات کے حُسن سے ”شرابِ حسن“ کشید کرتا ہے اور کبھی غمِ کائنات سے ”شرابِ حزن و ملال۔ یہ شرابیں وقتی طور پر ایک تخلیق کار کو آسودہ کر سکتی ہیں لیکن جب وہ نشے کی کیفیت سے باہر آتا ہے تو پھر مختلف طرح کے نظارے اس کا تعاقب کرتے ہیں۔وہ ہر نظارے کو ایک نئی تخلیقی صورت دینے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ عمل متواترجاری رہتا ہے۔ اس پورے عمل میں تخلیق کار کن کن اذیتوں سے گزرتا ہے یہ وہی جانتا ہے۔ ماہرین فن کی نظر میں ایک اچھا تخلیق کار بننے کے لیے وسیع المطالعہ، وسیع المشاہدہ اور حساس ہونا ضروری ہے لیکن سچ پوچھیے تو ایک تخلیق کار کے تخلیقی شعور کی اساس ”رنجیدگی“ ہے۔ وہ اگر حُسن کی بات کر رہا ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ جو نظارے حسن سے خالی ہیں تخلیق کار ان نظاروں سے رنجیدہ ہے۔ موسم خزاں کی رنجش نہ ہو تو موسمِ بہار کا حسن بھلا کس کام کا؟ذات اور کائنات کی ’رنجش‘ سے ہی تخلیق کا فن وجود میں آتا ہے۔ 

اس طویل تمہیدی گفتگو کے بعد میں نوجوان افسانہ نگار محمد علیم اسماعیل کے تازہ افسانوی مجموعہ ”رنجش“ سے آپ کو روبرو کروانا چاہتا ہوں۔ علیم اسماعیل کا نام اردو فکشن کی دنیا میں اب بہت زیادہ تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ ادبی حلقے میں ان کا نام اپنے تعارف کے لیے کافی ہے۔ بہت کم وقت میں انہوں نے فکشن کی دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ علیم اسماعیل کے افسانوں کے موضوعات گرچہ بہت انوکھے نہیں ہیں لیکن ان کے افسانوں میں ہمیں امکانات کی ایک روشن دنیا نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کا ذکر میں نے اوپر کیا یعنی علیم اسماعیل کے افسانوں میں حسن ذات سے حسن کائنات اور کرب ذات سے کربِ کائنات کا سفر ملتا ہے۔”رنجش“ کا پہلا افسانہ ”چھٹی“ صد فی صد سچ پر مبنی ہے۔ یہاں افسانہ نگار کا کرب ”چھٹی“ کے بعد بھی ختم نہیں ہوتا بلکہ چھٹی کے ساتھ ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتا ہے۔ اس افسانہ کی قرأت قاری کو رنجیدہ کرتی ہے۔ ”رنجش“کا پہلا افسانہ ہی قاری کے دل میں افسانہ نگار کے تئیں ہمدردی کا بیچ بو دیتا ہے۔ 

”افسانہ“ قصور علیم اسماعیل کے نمائندہ افسانوں میں سے ایک ہے۔ افسانہ کا مرکزی خیال ایک غریب ویٹر کی حساسیت ہے۔ وہ اپنی ایک چھوٹی سی غلطی کا کفارہ ادا کرنا چاہتا ہے۔ ویٹر کی معمولی سی غلطی سے صاحب کے کپڑے پر چکن بریانی کی پوری پلیٹ گر گئی ہے۔ واش روم سے فریش ہوکر آنے میں اتنا وقت لگ جاتا ہے کہ بس نکل چکی ہوتی ہے۔دوسری بس آنے میں کافی تاخیر ہے۔ ویٹر، صاحب کو ہوٹل میں ایک کمرے میں ٹھہراتا ہے، خاموشی سے کمرے کا کرایہ ادا کرتا ہے۔ دوسری بس آتی ہے تو انہیں بس تک چھوڑتا ہے۔ راستے کے لیے انہیں ناشتہ اور پانی کی بوتل پیش کرتا ہے۔ صاحب پاس کی دکان سے سیب لانے کے لیے اسے پیسہ دینا چاہتے ہیں لیکن وہ بنا پیسہ لیے ہی پھل کی دکان کی طرف لپک پڑتا ہے۔ اس بیچ بس چلنے لگتی ہے۔ وہ بس کا تعاقب کرنا چاہتا ہے لیکن ناکام ہو جاتا ہے۔ وہ گر پڑتا ہے۔ اس کے ہاتھ سے سیب گر کر بکھر جاتے ہیں۔ اس عالم میں بھی وہ اپنی چوٹ کی پروا کیے بغیر اپنے ہاتھ ہلا کر صاحب کو الوداع کہنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہاں پہنچ کر صاحب (واحد متکلم) کا سویا ہوا انسان جاگ اٹھتا ہے لیکن اب کافی دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ افسانہ کا اخری حصہ ملاحظہ فرمائیں:

”میں نے بس کی نشست سے ٹیک لگاتے ہوئے ایک لمبی سانس لی اور اپنے دونوں ہاتھوں کو چہرے پر پھیرا۔ میرا چہرہ تمتما گیا تھا۔ کان دہکتا ہوا شعلہ بن گئے تھے۔ جسم سے آگ کی لپٹیں نکل رہی تھیں۔ باہر کھڑکی سے آنے والی سرد

 تبصرہ و تجزیہ

افسانہ ”آپ نے کہانی پڑھی؟“ ایک تجزیہ

(محمودہ قریشی، آگرہ)


اکیسویں صدی کے اہم افسانہ نگاروں میں نوجوانوں افسانہ نگار محمد علیم اسماعیل کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ بہت کم وقت میں وہ اردو دنیا میں اپنا سکہ جما چکے ہیں۔ اب تک ان کے دو افسانوی مجموعے ’الجھن‘ (2018) اور ’رنجش‘ (2020) اشاعت عمل میں آچکے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ادبی مضامین بھی منظر عام پر آچکے ہیں۔ اور وقتاً فوقتاً ان کے افسانے، افسانچے اور مضامین معیاری اخبارات و رسائل کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی آپ کافی سرگرم ہیں۔ فیس بک پر انھوں نے مشہور افسانہ نگاروں کی افسانہ نگاری اور ان کی ادبی خدمات  پر تبصرے کے حوالے سے کافی متاثر کن سلسلہ شروع کیا ہے۔

واٹس ایپ گروپ ’بزمِ افسانہ‘ میں محمد علیم اسماعیل کا افسانہ ’چھُٹّی‘ برائے تنقید و تبصرہ پیش ہوا تھا۔ جہاں مشہور و معروف افسانہ نگار سلام بن رزاق فرماتے ہیں:

”کہانی اچھی ہے۔ شعور کی رو کے تحت اکہرے بیانیہ میں کہانی بُننا آسان نہیں ہوتا۔ تاہم علیم نے اپنی رواں اور شستہ نثر کے سہارے کہانی کو بچالیا۔ علیم اسماعیل ایک ہونہار، ذہین اور محنتی قلم کار ہیں۔ ان کی تحریروں کا میں بھی مداح ہوں۔“

اور عہد حاضر کے ممتاز فکشن نگار سید محمد اشرف لکھتے ہیں:

”یہ افسانہ نگار اپنے اندر بیان کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے اور افسانے میں کوئی تو ایسی چیز ہے جو قاری کو افسانہ نگار کے غم میں دیر تک شریک رکھتی ہے۔ یہ بھی کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ محمد علیم اسماعیل کے لیے بہت سی دعائیں اور نیک خواہشات۔“

  موصوف کا ایک غیر مطبوعہ افسانہ ’آپ نے کہانی پڑھی؟‘ ہے۔ جس نے ہمیں کافی متاثر کیا ہے۔ جس کا آخری جملہ، ”کیا آپ نے کہانی پڑھی؟“ ایک سوالیہ انداز پیش کرتا ہے۔ افسانہ بیانیاں ہیت میں لکھا گیا ہے۔ جو کہ موصوف کا لکھنے کا انداز ہے۔ افسانہ بہت زیادہ طویل نہیں ہے۔ لیکن اس میں ایک کشیش ہے۔ جو قاری کو پڑھنے کے لیے اُکساتی ہے۔ پلاٹ مربوط اور گتھا ہوا ہے۔ افسانے میں صرف دو مرکزی کردار ہیں۔ زبان و بیان کے اعتبار سے بھی افسانہ کہیں گراں نہیں گزرتا۔ افسانہ اپنے پڑھنے والے پر ایک گہری چھاپ چھوڑ جاتا یے۔ افسانہ نگار نے افسانے میں ڈیجیٹلازیشن، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی اہمیت و افادیت کو پیش کرتے ہوئے اس کے نقصانات کو بھی دیکھایا ہے۔ اس افسانے کے ذریعے علیم اسماعیل نے عہد حاضر کی اہم سچچائی کو عیاں کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔ افسانے کا مرکزی کردار ’عامر‘ ہے۔ جس کے گرد ساری کہانی گھومتی ہے۔ جو کہ ایک طالب علم ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ کہانیاں بھی لکھتا ہے۔ اس کو انتظار تھا کہ کب اس کی کہانی کسی رسالے میں شائع ہو گی۔ اور وہ دن بھی آجاتا ہے کہ ہندوستان کے معیاری ادبی رسالے میں اس کی کہانی شائع ہو جاتی ہے۔ لیکن اس کی الجھن پھر بھی ختم نہیں ہوتی کیونکہ اس کے اور استاد کے علاوہ اس کی کہانی کوئی بھی نہیں پڑھتا۔

عامر رسالے کو ادبی حلقوں میں، شہر کے لوگوں کے پاس لے کر جاتا ہے، لکین سبھی رسالے کو بس الٹ پلٹ واپس اس کے ہاتھوں میں تھما دیتے ہیں۔ جسے کوئی پڑھنا ہی نہیں چاہتا تو اس پر تبصرہ یا اپنی ذاتی رائے کیسے دے سکتا ہے، جو کہ عامر چاہتا تھا۔ کہانی میں میں علیم اسماعیل نے ایک نو جوان قلم کار کی ٹوٹتی ہوئی ہمّت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ 

عامر پر طاری گھٹن کو ظاہر کرنے کے لیے افسانہ نگار نے کرشن چندر کی کہانی ’شہزادہ‘ سے اس کے مرکزی کردار ’سدھا‘ سے تشبیہ دی ہے۔ عامر ایک تصوراتی دنیا میں جی رہا تھا۔ اس کی اس پریشانی کو دور کرنے کے لیے استاد شمس الضحٰی جو کہ افسانے میں دوسرا اہم کردار ہے، عامر کو سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں۔

”عامر، زمانہ بدل گیا ہے۔ طریقے بدل گئے ہیں۔ یہ ڈیجیٹلازیشن کا دور ہے۔ تم نوجوان ہو، انٹرنیٹ چلانا اچھے سے جانتے ہو، سوشل میڈیا سے جڑے ہوئے ہو،۔۔۔۔“

عامر استاد کے اس مشورہ پر عمل کرتے ہوئے اپنے افسانے کی فوٹوں سوشل میڈیا پر شیئر کرتا ہے۔ جہاں اس کو کافی پزیرائی ملتی ہے۔ کافی کمینٹ، لائیکس حاصل ہوتے ہیں۔ جس کا عامر کو انتظار تھا لکین جب وہ کچھ لوگوں سے یہ سوال کرتا ہے۔

”کیا آپ نے کہانی پڑھی؟“

تب اس کو کوئی جواب نہیں ملتا۔ جس کے ساتھ افسانہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیادہ تر لوگ بنا پڑھے ہی، یہاں تک کہ پوسٹ کو ٹھیک سے دیکھے بغیر ہی لائیک، کمینٹ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ سب ہی لوگ ایسا کرتے ہیں۔ لکین زیادہ تر معاشرے میں ایسا ہی چلن ہے۔ انٹرنیٹ اور اس سے جڑے لوگوں کی اس خرابی کی طرف افسانہ نگار نے ہمارا ذہن متوجہ کیا ہے۔ اس لیے اگر ہم یہ سوچتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ کمینٹس اور لائیکس حاصل کر کے ہم انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی دنیا پر چھا جائجں گے تو ایسا نہیں ہے۔ ترقی کام سے حاصل کی جاتی ہے نہ کہ نام سے، اور اگر صرف ہمارے نام سے لائیکس اور کمینٹس مل رہے ہیں تو یہ ٹھیک نہیں ہے۔

خاص کر افسانہ نگار نے ’آپ نے کہانی پڑھی‘ میں جو پہلو اٹھایا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے نو جوان قلم کار پزیرائی نہ ملنے کے سبب، مایوس ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنے قلمی سفر کو ترک کرنے پر آمدہ ہو جاتے ہیں۔

اس لیے ہمارے ادبی حلقوں میں ان نو جوان قلم کاروں کی حوصلا آفزائی بے حد ضروری ہے۔ جس پر ہمارے معاشرے میں کافی لوگ و انجمنیں کامزن بھی ہیں۔ اصل چیز تخلیقی صلاحیت ہوتی ہے۔ اگر وہ آپ میں موجود ہے، تو آپ کو آگے بڑھنے، ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ہاں وقت ضرور لگ سکتا ہے۔ جس کے لیے افسانہ نگار نے افسانے میں راستہ بھی بتا دیا ہے کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا آج کے دور میں ایک قلم کار کی صلاحیت کو اُجاگر کرنے میں کافی مدد و معاون ہے، جو کہ افسانہ نگار کا ذاتی تجربہ بھی ہے۔ جیسا کہ ہمارے استاد محترم کہتے ہیں آپ کام کیجیے، نام میں کیا رکھا ہے، نام تو ہو ہی جائے گا۔


ہنر میں پھر روانی ہو گئی ہے

قلم کی ترجمانی ہو گئی ہے

زمانہ آیا سوشل میڈیا کا

”یہ دنیا اب پرانی ہو گئی ہے۔“

٭٭٭



Wednesday, 16 September 2020

(افسانوی مجموعہ ’’الجھن‘‘ سے)

متجسس فنکار

  اعجاز پروانہ ؔ ناندوروی  


    انسان اور حیوان میں بنیادی فرق نطق اور شعور کا ہے۔ان دو خدادادصلاحیتوں نے انسان کو نہ صرف اشرف المخلوقات کا درجہ دیابلکہ اسے کائنات کے ان اسرارورموز سے بھی آشنا کیا جو اسے ذہنی اور روحانی ترقی کی معراج تک لے جاسکتے ہیں۔بولا ہوا لفظ ہو یا لکھا ہوا لفظ،نسل در نسل علم کی منتقلی کا سب سے مؤثر وسیلہ ہے۔لکھے ہوئے لفظ کی عمر بولے ہوئے لفظ سے زیادہ ہوتی ہے۔اسی لئے انسان نے تحریر کا فن ایجاد کیا۔کتابیں لفظوں کا ذخیرہ ہیں اور اسی نسبت سے مختلف علوم و فنون کا سرچشمہ ہیں۔
 جب انسان کو کافی فرصت تھی تب وہ ایسے قصے سنتا اور پڑھتاتھا جو کافی طویل ہوتے تھے۔اس زمانے میں وہ قصے اور کہانیوں میں عقل کو دنگ کردینے والی چیزوں اور باتوں پر یقین کرلیتا تھا۔موجودہ زمانے میں انسان کی مصروفیت میں اضافہ ہو گیا،جس کی وجہ سے اس نے غیر ضروری طوالت سے بچتے ہوئے داستان سے، ناول،ناول سے ناولٹ، ناولٹ سے افسانہ اور مختصر و منی افسانہ کو اظہار کا وسیلہ بنایا۔ساتھ ہی فوق الفطری عناصر سے دامن بچا کر حقیقی واقعات کو اپنی کہانی کا موضوع بنایا۔افسانہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس میں زندگی کے پورے واقعات بیان نہیں کئے جا سکتے۔اس میں زندگی کے کسی ایک رخ یا کردار کے کسی ایک پہلو پر روشنی ڈالی جا تی ہے۔
شہر ناندورہ کے اعلی تعلیم یافتہ نوجوان، محمد علیم اسماعیل (مدرس)نے درجہ ہفتم تک نگر پریشد اردو اسکول، ناندورہ اور درجہ ہشتم سے درجہ دوازدہم،عنایتیہ ہائی اسکول و جونیئر کالج، ناندورہ بعدہٗ ڈی۔ایڈ،بی۔اے،ایم۔اے،بی۔ایڈ،ایم ایچ سیٹ اور یو جی سی۔ نیٹ(اردو) جیسے مشکل ترین امتحانات میں نمایاں طور پر کامیابی حاصل کی۔ لکھنے پڑھنے کے شوق نے انھیں چین سے بیٹھے نہیں دیا۔عموماََ ڈگریاں پانے اور ملازمت مل جانے کے بعد لوگ کتابوں سے رشتہ توڑ لیتے ہیں۔پڑھنے کے اسی شوق نے انھیں کہانی کار وافسانہ نگار بنادیا۔موصوف نے اس کتاب کو خود ہی ان پیج میں لکھ کر کتابی شکل میں سیٹنگ بھی خود ہی کی ہیں اور انھیں مہاراشٹر اسٹیٹ سرٹیفیکیٹآف انفارمیشن ٹیکنالوجی (MSCIT) کے آ ن لائن امتحان میں سو فیصد نمبرات حاصل کرنے کا اعزازبھی حاصل ہے۔
      الجھن محمد علیم اسماعیل کے افسانچوں اور افسانوں کا مجموعہ ہے۔یہ ایک خوبصورت گلدستے کی مانند ہے جس میں طرح طرح کی کہانیاں ہیں۔کہانی ’خیالی دنیا‘ میں جدید ذرائع ابلاغ، موبائیل اور واٹس ایپ کی خیالی دنیا میں وقت برباد کرنے کی بجائے حقیقی دنیا سے رشتہ استوار کرنے پر زور دیا گیا۔کہانی ”انتظار“ میں ایک ٹیچر کے کرب کوبیان کیا گیا ہے۔ افسانہ ”تاک جھانک“ ایک غریب بچے کی ٹوٹتی بکھرتی امیدوں کی پر درد کہانی ہے۔ افسانہ ”خوف ارواح“ ایک بھائی اپنی بہن کی محبت میں کس حد تک جا سکتا ہے،اس بات کو بتایا گیا ہے۔افسانہ ”خطا“ میں مصنف نے بتایا ہے کہ ایک چھوٹی سی غلطی کس طرح مشکلات پیدا کر کے زندگی بربادکر سکتی ہے۔
افسانچہ ایجاز و اختصار کا فن ہے۔تخلیقی تجسس کے بغیر افسانچوں کو سمجھنا مشکل ہے۔اور جوگندر پال صاحب نے افسانچوں کو سمجھنے کی ذمہ داری قاری کو سونپ دی ہے۔ اس لیے افسانچہ لکھنا کوئی کھیل تماشہ نہیں۔محمد علیم اسماعیل ایک متجسس طبیعت کے مالک ہیں اورا نھوں نے افسانچہ نگاری پر اچھی خاصی پکڑ حاصل کر لی ہے۔ محمد علیم کے افسانچوں کے کلائمکس سے طمانچوں کی گونج سنائی دیتی ہے اور قاری کو ایک نا معلوم وچونکانے والا نشتر لگتا ہے۔
 جب کوئی واقعہ محمد علیم کے مشاہدے میں آتاہے تو اسے اپنے پر اثر پیرائے میں بیان کر کے ایک نئی کہانی وجود میں لانے کی سعی کرتے ہیں،جس سے قاری محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔موصوف نے سہل اور سیدھے سادے الفاظ استعمال کر کے کہانیوں کے ذریعے اپنے قلم کا جادو جگانے کی حتی الامکان کو شش کی ہے۔ہم علم دوست محمد علیم کو اپنی اس کاوش پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں ان کے قلم سے اسی طرح اور بھی کتابیں منظر عام پر آئیں۔      


(افسانوی مجموعہ ’’الجھن‘‘ سے)

کارِ شیشہ گری

قدرت ناظم،ؔ ناندورہ


بڑی خوشی کی بات ہے ہمارے شہر ناندورہ کے نوجوان قلم کار محمد علیم اسماعیل کی تخلیقی سرگرمیاں روز افزوں تیز تر ہوتی جا رہی ہیں۔میں نے ایک عرصہ پہلے ان کی بچوں کے لیے لکھی ہوئی کہانیاں ممبئی اردو نیوز میں پڑھی تھیں۔ ان سے ملاقات کے دوران انھوں نے کئی افسانچے بھی سنائے، جو مجھے بے حد پسند آئے تھے۔
شوق کی کوئی منزل نہیں ہوتی شرر ہاتھ آئے تو وہ ستارے کی طرف لپکتا ہے، اور جب ستارے تک رسائی ہو جائے تو وہ چاند پر کمندیں ڈالنے میں سرگرداں ہو جاتا ہے۔ علیم اسماعیل بھی ان گوناگوں خوبیوں کے مالک ہیں، بڑی فعال اور ہمہ جہت شخصیت ہیں۔
موصوف اعلی تعلیم یافتہ، برسرروزگار، ساتھ ہی ساتھ اردو میں نیٹ اور سیٹ کا امتحان بھی پاس کر چکے ہیں۔
اہل ادب جانتے ہیں کہ افسانچے اور منی افسانہ لکھنا کار شیشہ گری سے کم نہیں ہے۔ موصوف نے بھی اس شیشہ گری والی صنف کو اپنے اظہار خیال کا ذریعہ بنایا ہے اور کئی بہترین افسانے و افسانچے تحریر کیے ہیں جو وقفے وقفے سے اخبارات و رسائل کی زینت بنتے رہے ہیں۔
”الجھن“ ان کے افسانچوں اور افسانوں کا مجموعہ ہے، جس میں انھوں نے اختصار سے  کا م لیتے ہوئے نہایت ہی چابکدستی سے اپنی مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔وہ فکشن ایسو سی ایشن، ناندورہ کے صدر بھی ہیں۔
میں اپنے یہ اشعار ان کے عزم اور حوصلے کی نذر کر رہا ہوں۔
اس کو نزدیک جاکے دیکھا ہے
خوب جانچا ہے خوب پرکھا ہے 
خاک  کا  ہو  نہ  ہو  مگر  ناظمؔ 
آدمی   جستجو   کا   پتلا  ہے

(افسانوی مجموعہ ’’الجھن‘‘ سے)

اردو افسانچہ روایت اور محمد علیم اسماعیل
معین الدین عثمانی


اردو ادب میں افسانے کی روایت نے داستان کے  بطن سے جنم لیا۔ اور یہ سفر داستان گوئی،قصہ،کہانی سے ہو کر آج افسانچے تک آگیا۔دور بدلتا ہے تو اقدار میں تبدیلی نا گریز ہو جاتی ہے۔مگر اس کے باوجود بنیادی روایتیں اپنی جگہ برقرار رہتی ہیں۔اسی لیے مختلف ادوار میں مختلف تبدیلیاں وقوع پذیر ہونے کے باوجود افسانے کی ساخت آج بھی برقرار ہے۔
افسانچے کے ساتھ المیہ یہ ہے کہ نو واردانِ بساط عجلت پسندی میں افسانے کے بنیادی ستونوں میں سے محض کسی ایک پر افسانچے کی عمارت کھڑی کرنے کی ناکام کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔جس کے سبب عرصہ گزرنے کے بعد بھی افسانچے کی کٹیا کے دیوارودر واضح نہ ہو سکے ہیں۔مگر عجلت پسندوں کی اس بھیڑ میں چند جیالے ایسے بھی ہیں جو روایت کے دامن سے لپٹے ہوئے ہیں اور افسانچے کی آبیاری میں اپنا خون جگر صرف کر رہے ہیں۔محمد علیم اسماعیل کا شمار ایسے ہی فنکاروں میں کیا جائے گا۔ کیونکہ انھیں افسانچے کے توسط سے اپنی بات کہنے کا ہی نہیں پیش کرنے کا بھی سلیقہ ہے۔ توقع ہے کہ جب تک انسانی فطرت میں تجسس کی روش برقرار رہے گی محمد علیم اسماعیل جیسے ادیب اردو کی اس نوزائیدہ روایت کو مضبوط و مستحکم کرتے رہیں گے۔
ایک طرف شاعری نغمگی کے وسیلے سے انسانی دل ودماغ کو سرشار کرتی آرہی ہے تو دوسری طرف کہانی کہنے اور سننے کی فطرت نے تجسس اور خیالی دنیا کی سیر نے ذہن وقلوب  کو مسخر کر کے ادبی ذخار میں اضافہ کیا ہے۔مصروفیت کی اس مشینی دور میں افسانچہ ادب کے بحر ذخار میں کتنی دور اور دیر تک ساتھ نبھائے گا اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا مگر زمام کار آج محمد علیم اسماعیل جیسوں نے سنبھال رکھی ہے تو روشن مستقبل کی امید بندھتی ہے۔یہ بات خوش آئند ہے اس لیے ان کے مزید سفر کے لیے نیک خواہشات۔
اللہ کرے ذوق افسانچہ اور زیادہ....


(افسانوی مجموعہ ’’الجھن‘‘ سے)

چنگاریاں ضرور ایک دن شعلہ بنیں گی
ڈاکٹر اسلم جمشید پوری


اردو افسانے اور افسانچے کے میدان میں چار پانچ برسوں سے جو چند نوجوان سامنے آئے ہیں، انھوں نے اردو فکشن کی شمع روشن رکھنے کی امید جگائی ہے۔ اس نسل کے ایک بے حد فعال اور محنتی افسانہ اور افسانچہ نگار محمد علیم اسماعیل ہیں۔
مختلف رسائل میں علیم اسماعیل کے متعدد افسانے اور افسانچے میری نظر سے گزرے ہیں۔ جب کبھی میں ان کی تخلیق پڑھتا تو میرے ذہن میں یہی خیال آتا کہ اس ادیب کے اندر چنگاریاں ہیں، جنھیں مناسب رہنمائی اور توانائی کی ضرورت ہے۔ جس کے بعد یہ چنگاریاں ضرور ایک دن شعلہ بنیں گی۔  
علیم اسماعیل کے زیادہ تر افسانچے اور افسانے سماجی مسائل کا عکس ہیں، جوان کی امنگیں ہیں، اصلاح کا جذبہ ہے اور کچھ نیا کرنے کی دھن ہے۔ زیادہ تر افسانوں میں اخلاقی درس ہے۔ سماجی تعمیر و تشکیل میں جن مثبت اقدار کی ضرورت ہوتی ہے، اور جو اب ہمارے معاشرے سے ختم ہوتی جا رہی ہیں، علیم کے افسانے اور افسانچے ان کے ثبات میں کوشاں ہیں۔
جہاں تک ان کی تحریروں کو فنی کسوٹی پر جانچنے کی بات ہے تو میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ علیم فن سے واقفیت رکھتے ہیں۔ لیکن ابھی قصے کی پیش کش کو مؤثر بنانے کے ہنر میں مزید بہتری کی گنجائش ہے۔ان کے یہاں جذبات ہیں، پیش کرنے کا ڈھنگ بھی ہے لیکن
 برجستگی اورcompactnessمشق کی متقاضی ہے۔
”الجھن“ ان کا پہلا مجموعہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ مستقبل میں مزید بہتر افسانے /افسانچے تخلیق کریں گے اور ایک کامیاب افسانہ نگار بن کر ابھریں گے۔ میری دعا ہے کہ ان کی یہ کتاب ان کے ادبی سفر کی پہلی منزل ثابت ہو اور وہ ایسی متعدد منزلیں عبور کریں۔ 


(افسانوی مجموعہ ’’الجھن‘‘ سے)

بڑی تیزی سے اُبھرتا ایک باشعور افسانچہ نگار
ڈاکٹر ایم۔اے۔حق


صوبہ مہاراشٹر کے ناند ورہ،ضلع بلڈانہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان فنکار، محمد علیم اسماعیل نے اُردو کی ایک مشکل ترین صنف ”افسانچہ“ کے بال و پر سنوارنے کا دل میں پکّا ارادہ کر لیا ہے اور ایک منصوبہ بند طریقے سے اس میدان میں کامیاب ہونے کے لیے اپنی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اُن کی پہل اس لحاظ سے  بالکل منفرد ہے کہ اُنھوں نے دوسرے افسانچہ نگاروں کی طرح  بغیر کسی تیّاری کے افسانچے تحریر کرنا شروع نہیں کر دیے بلکہ پہلے افسانچے کے فن پر لکھی گئی کتابوں کا مطالعہ کیا،ملک کے معروف افسانچہ نگاروں کی تصنیفات کا گہرائی سے جائزہ لیا۔ اُس کے بعد اُنھوں نے ملک کے نامور افسانچہ نگاروں سے رابطہ قائم کیا اور اُن سے افسانچے کے رموز ِ اوقاف سمجھنے کی کوشش کی۔
 اُن کی پہلی تحریر،مضمون”علامہ اقبال کی باتیں“ ۳۱۰۲ میں اُردو ٹائمز ممبئی میں شائع ہوئی۔ اس پہلی کامیابی نے اُنھیں بے انتہا خوشی عطا کی۔اور پہلا افسانہ ”خیالی دنیا“ ۶۱۰۲ میں ممبئی اردو نیوز میں شائع ہوا۔انھوں نے ۵۱۰۲ سے ہی افسانچوں پر محنت شروع کردی تھی۔
جب اُنھیں یقین ہو گیا کہ اُن کی تصنیف کردہ تخلیقات اُردو ٹائمز ممبئی،انقلاب ممبئی اور  ممبئی اردو نیوز جیسے اخبارات کی زینت بن سکتی ہیں تو کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُنھوں نے مکمل دو سال تک اپنے افسانچے کسی اخبار یا رسالے میں اشاعت کی غرض سے نہیں بھیجے۔Slow and steady wins the race کی معنویت پر عمل کرتے ہوئے اُن کا پہلاافسانچہ ایک انٹرنیشنل رسالے میں، ۷۱۰۲ میں شائع ہوا،جو معیاری افسانچے شائع کرنے میں عالمی سطح پر مشہور ہے۔اب محمد علیم کی افسانچہ نگاری نے رفتار پکڑ لی ہے۔لیکن اُن کی تیز رفتاری نے افسانچے کے معیار کو کبھی مجروح نہیں کیا۔یہی وجہ ہے کہ زیر نظر مجموعہ ”الجھن“ میں اُن کے افسانچے اس صنف کے شرائط پر کھرے اُترتے ہیں۔زبان و بیان کو اور پر اثر بنانے کی ضرورت ہے۔مجھے قوی اُمید ہے کہ مشاہدے کی آنچ میں تپ کر اُس میں مزید نکھار آ جائے گا۔ 


نیا ذہن، نئی سوچ اور نئی جُستجو
حمید ادیبی ناندوروی


میں سب سے پہلے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ میرے شہر ناندورہ (ضلع بلڈانہ، مہاراشٹرا)  میں  ایم۔اے،  بی۔ایڈ،  یو۔جی۔سی۔نیٹ(اردو)،  ایم۔ایچ۔سیٹ (اُردو) جیسی تعلیمی لیاقت والی مسلم شخصیت موجود ہے۔ مزید برآں وہ ایک ادیب ہے۔ اُس کی ایک تخلیق   ”اُلجھن“ (افسانے و افسانچے)کے روپ میں  ۸۱۰۲؁ء میں منظر عام پر آچُکی ہے۔اُس شخص کا نام نامی اسم گرامی محمد علیم اسماعیل ہے۔
 میں اکثر اپنے گاؤں جاتا رہتا ہوں محمد علیم اسماعیل صاحب سے میری ملاقات ہوتی ہے۔ایک ملاقات میں موصوف نے مجھے اپنی کتاب بطو ر ”پُر خلوص تحفہ“ پیش کردی۔ گاؤں میں میرے محلے سے قریب ہی ان کا محلہ ہے۔ وہ ایک سلیم الطبع انسان ہیں اور ضلع پریشد میں بطور مدرس ملازمت کرتے ہیں۔ وہ لوگوں کی عزت کرتے ہیں۔وہ خوش گفتار ہیں۔ان سے گفتگو کرنے میں بڑا مزہ آتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اُن سے بات چیت جاری رہے۔
فی زمانہ افسانے کی تعریف کے تعلق سے کئی باتیں سامنے آئیں اور پڑھنے کو ملیں۔ ایک صاحب نے اپنے افسانوں کے مجموعے کے آخر میں چودہ/۴۱ نامور ادیبوں کے خیالات پیش کردئے،دوسرے صاحب نے اپنے افسانوں کے مجموعے کے اوائل میں گیارہ /۱۱، افسانہ نگاروں کی آرا ء پیش کردی۔ خیالات اور آراء کا مقصد یہ ہے کہ ”افسانہ کیا چیز ہے؟“ جانا جائے اور سمجھا جائے۔ظاہر ہے کہ افسانے کی تعریف ہر ایک نے اپنے اپنے طور سے کی ہوگی اورجو ایک دوسرے سے مختلف ہوگی۔راقم الحروف اُن میں سے سیماب اکبرآبادی کی رائے سے اتفاق کرتا ہے۔سیماب اکبر آبادی نے افسانے کی تعریف یوں کی۔ ”افسانہ اسکو کہتے ہیں جس میں زیادہ سے زیادہ انسانی اور حقیقی باتیں ہوں۔جس میں انسان کو روز انہ زندگی سے گہرا تعلق ہو۔جس میں مشابہت اور تجربات کو سادہ بیانی کے ساتھ پیش کیا گیا ہو۔ جس میں واقفیت ہو اور انسانی فطرت اور ماحول کے لحاظ سے صداقت پر مبنی ہو۔“
مذکورہ افسانے کی تعریف ہم نے معین گریڈ یہوی  Moin Gradeehvi  کے افسانوں کے مجموعے ”آنکھوں کا لہو“ کے صفحہ/ ۲۵۱ سے اخذ کیا ہے۔ باقی افسانہ نگاروں کی آراء ہم نے اس لئے رد کردی کیوں کہ لکھنے والا ہر کسی کے خیال اور رائے کے مطابق نہیں لکھ سکتا۔ متذکرہ تعریف کے پس منظر میں ہم محمد علیم اسماعیل کے افسانچوں اور افسانوں کے مجموعے ”اُلجھن“  پر نظر دوڑارہے ہیں۔
مصنف نے زیر نظر کتاب میں انساٹھ /۹۵، افسانچے اور تیرا /۳۱، افسانے پیش کئے ہیں۔کتاب کے اوائل میں پانچ /۵ مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک مضمون ”سُخن قلب“ خو دمصنف کا رقم کیا ہوا ہے۔کتاب کے آخر میں ایک صفحہ پر مشتمل تاثرات شامل ہیں۔
  ذہن نشین رہے کہ کتاب ”انتساب“سے  خالی ہے کیوں کہ مصنف نے اپنی تخلیق کسی کو منسوب نہیں کی یعنی انتساب کی رویت کو توڑدیاگیا ہے۔
ہم نے پوری کتاب پڑھ ڈالی افسانچے بہت خوب ہیں۔ افسانچے کے بارے میں ہماری ذاتی رائے یہ ہے کہ افسانچہ کتنا ہی اچھا ہو اُسے ایک لطیفہ نما ہی تصور کیا جاتا ہے لطیفہ اور افسانے میں فرق صرف یہ ہے کہ لطیفے کے آخر میں لبوں پر مسکرا ہٹ کھیل جاتی ہے اور افسانچے کی بدولت ذہن و دل غور وفکر میں ڈوب جاتے ہیں۔افسانچہ نگار اُسے افسانچہ کہتے ہیں۔ یہ نا مناسب ہے۔اُسے ”طنزانچہ“ کہنا چاہئے۔ کیونکہ سیدھی بات ہے کہ لطیف چیز پیش کی جائے تو لطیفہ ا ور طنزیہ چیز پیش کی جائے تو طنزانچہ۔ کاش ہماری یہ بات افسانہ نگاروں تک پہنچ جائے۔ کسی کا منہ روکا نہیں جا سکتا۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ جن کے پاس کسی نکتہ پر قوت بیانیہ  Power of Expression نہیں ہوتی وہ مختصر طور سے لکھ کر اکتفا کر لیتے ہیں اور اُسے افسانچہ کہتے ہیں یہ بات افسانچہ نگاروں کے لئے لمحہء فکریہ ہے۔ یہ اُنھیں سمجھ لینا چاہئے۔کسی بھی کتاب میں ایک مضمون بصورت حمایت کافی ہوتا ہے۔تخلیق ”اُلجھن“ میں پانچ /۵، مضامین ڈالے گئے ہیں۔ جو قاری کے مطالعہ پر بار گذرتے ہیں۔
بہر حال خامیاں اور کوتاہیاں تو ہر کام میں ہر کسی سے سرزد ہوتی رہتی ہیں۔ مذکورہ غلطیوں کو نظر انداز کیا جائے تو مجموعی اعتبار سے محمد علیم اسماعیل صاحب کی تخلیق ”اُلجھن“(افسانے و افسانچے) نیا ذہن، نئی سوچ، نیا طرز تحریر اور نئی جستجو سے گردانا جا سکتا ہے۔ اس میں پیش کردہ افسانچے اور افسانے اچھے اور متاثر کن ہیں۔ کچھ افسانے تو سبق آموز ہیں۔پورا مواد دلچسپ بھی ہے اور قاری کو غور و فکر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ مصنف کے ادبی سفر کی یہ پہلی منزل ہے۔ ہمیں ان میں طویل ادبی سفر طے کرنے والی استطاعت نظر آتی ہے اس لئے اُمید قوی ہے کہ وہ ایسی متعدد منزلیں طے کر کے عوام کو اپنی تحریروں سے محفوظ کریں گے۔ کتاب کا سرورق بہت خوبصورت اور جاذب نظر ہے۔ لگتا ہے وسیم صاحب شارپ لائن (ناندورہ)نے بڑی جستجو کے بعد منظر تلاش کیاہے۔ موصوف مبارکباد کے مستحق ہیں۔کتاب کی قیمت اس دورِ گرانہ میں بھی مناسب ہے۔
٭٭٭٭٭

Monday, 7 September 2020

افسانہ ”خوفِ ارواح“ ایک تجزیہ
ڈاکٹر نورالصباح ، ریسرچ اسکالر دہلی یونیورسٹی

کہا جاتا ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے جو انسانی کی طمانیت کا ذریعہ ہوتی ہے اور یہی طمانیت اسے تکمیلیت کا درجہ عطا کرتی ہے۔ اسی طرح ضرورت کے تحت فرصت کے اوقات میں داستان طرازی نے تولید پائی اور پھر عدیم الفرصتی کے باعث اسی کے بطن سے افسانہ طرازی نے ایجادی صورت اختیار کی اور مزید ہنگامہ آرائی اور افرا تفری و مشینی ماحول کے سبب افسانچوں کی تشکیل ہوئی تاکہ اس تشکیلیت سے انسان قلبی سکون کے ساتھ ساتھ زمانے کے نشیب وفراز اور سیاسی وسماجی رویوں سے واقفیت و عوام کی ذہنی اپج مع ان کے مابین پھیلی بداعتقادیوں وتوہم پرستی کے جال میں بنی ہوئی باتوں سے روشناس ہوسکے۔ جس کی روشنی میں خامیوں سے پردہ اٹھاکر اس کو نیست ونابود کیا جاسکے اور اچھائی کو پھیلایا جاسکے۔ غلط رویوں کے خلاف آواز بلند کی جاسکے اور اپنے حقوق کی آبیاری کی جاسکے۔ توہم پرستی کو مٹایا جاسکے اور مذہب پرستی کو عام کیا جاسکے۔
آسمان ادب کے افق پر نظریں دوڑائی جائیں تو وہاں بے شمار کہکشائیں جھلملاتی ہوئی نظر آجائیں گی۔ ان میں کوئی قطب مشتری ہے تو کوئی عطارد کوئی زحل اور کوئی زہرہ کے مانند اپنی ضوفشانیوں سے عوام کی راہوں کو منور کرتا ہوا اپنی تابونیوں کو جاوداں کرنے میں منہمک و مستعد ہے۔ انھیں ستاروں کے درمیان سے ایک ستارہ محمد علیم اسماعیل کی صورت میں نمودار ہوکر آسمان ادب کو ضیابار کررہا ہے۔
موصوف ایک فعالی کرادار کی حیثیت سے ادبی دنیا میں اپنی شناخت قائم کرچکے ہیں۔ اور دائمی صورت اختیار کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کے قلم سے نکلا ہوا ہر لفظ لعل وگہر کی حیثیت رکھتا ہے۔ لعل وگہر کہنے میں مجھے نہیں لگتا کہ کوئی مبالغہ آرائی ہے۔ کیوں کہ ان کا افسانہ ”خوف ارواح“ معاشرتی دنیا کی کثرت سے نکلا ہوا ایک وحدت محسوس ہوتا ہے۔ جو ان کے افسانے کو توانائی، تسلسل، ایک بحر بیکراں اور محویت عطا کرتا ہے۔
افسانہ ”خوفِ ارواح“ کی پہلی قرات نے مجھے جمیل جالبی کی کہانی، جو انھوں نے بچوں کے لیے تخلیق کی تھی یاد دلادی۔ جمیل جالبی کی دو کہانیوں کا مجموعہ ”حیرت ناک کہانیاں“ کے نام سے ہے۔ جس میں، چھن چھن چھن چھن اور بید کی کہانی شامل ہیں۔ مذکورہ کہانیوں میں انھوں نے پاکستان ہجرت سے قبل اپنے اوپر پیش آنے والے واقعات کو قلمبند کیا ہے۔ یہی واقعات انھیں پاکستان میں بھی پیش آئے تھے، جو ہندوستان میں پیش آچکے تھے۔ لہٰذا انھوں نے پیش کردہ واقعات کو اپنے بچوں کے لیے صفحہ قرطاس پر محفوظ کرلیا۔ 
علیم اسماعیل کا افسانہ پڑھنے کے بعد دوبارہ جمیل جالبی کی کہانیوں کو بھی پڑھا جس کا عکس ان کے افسانے میں نظر آتا ہے۔ میری دانست میں یہ بہت بڑی بات ہے کہ کسی اعلی پائے کے ادیب، نقاد، تاریخ داں، صحافی اور انشاپرداز ادیب کی جھلکیاں ایسے افسانہ نگار میں نظر آئیں جو اپنی شناخت کے لیے سرگرداں ہو۔یہ کامیابی کی ضمانت اور ذہانت کی دلیل ہے۔
علیم اسماعیل اپنے ہر افسانہ کے ذریعہ سماج کو ایک پیغام دینا چاہتے ہیں۔ چاہے ان کا افسانہ، انتظار ہو یا الجھن، ہر افسانہ کسی نہ کسی معاشرتی پہلو کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس میں مثبت پہلو کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اور منفی پہلو کے انہدام کی راہیں نکالی گئی ہیں۔ ان کے انہماک اور درس اخلاق و مثبت اقدار سے متعلق اسلم جمشید پوری رقمطراز ہیں:
”علیم اسماعیل کے زیادہ تر افسانچے اور افسانے سماجی مسائل کا عکس ہیں، جو ان کی امنگیں ہیں، اصلاح کا جذبہ ہے اور کچھ نیا کرنے کی دھن ہے۔ زیادہ تر افسانوں میں اخلاقی درس ہے، سماجی تعمیر تشکیل میں جن مثبت اقدار کی ضرورت ہوتی ہے، اور جو اب ہمارے معاشرے سے ختم ہوتی جارہی ہیں، علیم کے افسانے اور افسانچے اس کے ثبات میں کوشاں ہیں۔“
ان کے افسانوں کے جائزے اور تجزیے سے مذکورہ سطور میں صداقت محسوس ہوتی ہے۔ جو موصوف کی باریک بیں نظر کی غماز اور سوز دروں کی عکاس ہے۔ 
علیم اسماعیل کتاب ”الجھن“ کے دیباچے میں فرماتے ہیں:
”دور حاضر کا افسانہ نگار معاشرے سے غافل نہیں، وہ معاشرے کی برائیوں اور برے کرداروں پر برابر نشتر چلا رہا ہے، زندگی سے قریب ہوکر زندگی کی تلخ حقیقتوں کی ترجمانی کررہا ہے، تحقیقی رنگ میں زندگی کے مسائل، کشمکش، اتار چڑھاؤ، خارجی اور داخلی تصادم، خوشی ومسرت، عداوت کدورت، بغاوت، نفرت، حسد وغیرہ کو موضوع بنا کر سماج اور معاشرے میں زندگی سے جوجھ رہے کرداروں کو ہیرو بنا کر زندگی کی حقیقی تصویر پیش کر رہا ہے۔“
یہی حقیقی تصویریں ان کے بھی افسانوں کا مظہر ہیں۔وہ سماجی مسائل کو پیش کرنے کے ساتھ اس میں پنپ رہی توہم پرستی اور خوف کو بھی بیان کرتے ہیں۔ ایسا خوف جو توہم پرستی کی وجہ سے عوام الناس میں سرایت کرگیا ہے۔ اس خوف کو ایک بہن کی موت کے ذریعہ دور کرتے ہیں۔ افسانے میں پیپل کے پیڑ کو خوف کی علامت کی شکل میں پیش کیا گیا ہے جس پر بھوت کا بسیرا ہوتا ہے۔ سبھی اس کی وجہ سے خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔ وہاں پر بہت ساری اموات کسی نہ کسی وجوہات کی بنا پر ہوئی ہیں۔ وہیں پر سنیل کی بہن سواتی کی موت ایک حادثے میں واقع ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے مرکزی کردار موت کا خوہش مند ہو جاتا ہے اور رات کے 12 بجے پیپل کے پیڑ کے پاس چلا جاتا ہے۔ یہ خواہش بہن کی محبت میں ہوتی ہے جو اسے ارواح کے خوف سے مبرا کردیتی ہے۔ افسانے کی آخری چند سطریں ملاحظہ ہوں:
”بیٹا تو جانتا ہے نا اس پیپل کے درخت پر روحوں کا بسیرا ہے۔ تجھے تو بھوتوں سے بہت ڈر لگتا ہے بیٹا، پھر تو وہاں کیوں گیا تھا۔ وہ دیوار پر ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا اور ماں سے کہا بھوتوں کا ڈر میرے اندر سے ختم ہوگیا ماں۔ جن ارواح سے میں خوف کھاتا تھا وہ خوف مجھ میں اب نہیں رہا ماں۔ مجھے سواتی سے ملنا ہے ماں۔“
درج بالا افسانے کی آخری سطر میں بھائی اور بہن کی شدید محبت عیاں ہے کہ ایک انتہائی بزدل اور خوف زدہ لڑکا بہن کی موت کے غم میں پیپل کے درخت کے پاس موت کی آرزو کے ساتھ جاتا ہے لیکن اس کی آرزو کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام الناس پیپل کے درخت کے تئیں توہم پرستی کا شکار ہے۔
موجودہ زمانے کا حال بھی یہی ہے کہ جہاں کہیں پیپل کا درخت نظر آیا لوگ اس کے متعلق قسم قسم کی باتوں میں غلطاں چہ میگویاں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ شاید افسانہ نگار کا منشا اس سے توہم پرستی کو دور کرنا ہو۔ اور بھائی بہن کے درمیان محبت کو عیاں کرنا ہو۔ کیونکہ ایک بہن ہی بھائی کی عمدہ صلاح کار اور مخلص دوست و ہمدرد کے مانند پیش آتی ہے۔ راوی کا مقصد سماج کی اصلاح اور اخوت وبھائی چارے کو پیش کرنا ہے اور بہن کی محبت میں بھائی کی حدود کو بھی ظاہر کرنا ہے کہ یہ محبت ایسی ہوتی ہے جو کچھ بھی کرگزرنے کے لیے ہمہ تن تیار رہتی ہے ورنہ دوسری محبتیں عارضی ہوتی ہیں جو محض مطلب ہرستی اور خودغرضی پر قائم رہتی ہیں۔
افسانے کی مقصدیت کے بعد اب آتے ہیں اس کی منظر کشی پر جو قاری کو اس طرح اپنی گرفت میں لے لیتی ہے کہ خود وہ خوف کے سائے میں آگے بڑھتا ہے اور پوری توجہ کردار و فضا پر ہوتی ہے کہ کب اس کو کوئی آکر اپنے مضبوط پنجوں میں دبوچ لے۔ موصوف کی منظر کشی پیش کرنے سے قبل جمیل جالبی کی منظرکشی کے  چند ٹکڑے پیش کرنا مناسب سمجھتی ہوں جو ان کی منظر کشی کی عکاس ہیں، جو قاری کے اوپر بھی خوف طاری کردیتی ہے:
”ابھی میں تھوڑی دور ہی چلا ہوں گا کہ میں نے محسوس کیا کہ گھونگھرو کی سی آواز میرے پیچھے سے آرہی ہے۔ چھن چھن، چھن چھن، چھن چھن، یہ آواز ایسی تھی جیسے گھنگھرو کسی پالتو جانور کے پیروں میں بندھے ہوں اور اس کے چلنے سے چھن چھن کی آواز پیدا ہورہی ہو۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو ایک بکری جیسا جانور مجھ سے چند گز کے فاصلے پر تھا۔ وہ میرے پیچھے پیچھے آرہا تھا۔ اسے دیکھ کر میری رفتار خود بخود تیز ہوگئی۔ اب میں نے محسوس کیا کہ چھن چھن کی آواز میرے قریب آگئی ہے۔ اس وقت میرا برا حال تھا۔ ایک ایک قدم سو سو من کا ہوگیا تھا۔ میں اپنے خیال میں بہت تیز چل رہا تھا۔ ڈگی سے پلیا کا فاصلہ، جو پلک جھپکتے میں طے ہوجاتا تھا اب میلوں کا فاصلہ معلوم ہورہا تھا۔ میں نے اپنی رفتار کو اور تیز کردیا۔“
اب علیم اسماعیل کا افسانہ ”خوفِ ارواح“ ابتدائی چند سطریں دیکھیے، جو خوفناک منظر کشی کو اس طرح پیش کرتی ہیں کہ قاری بھی اس میں مبتلا ہوجاتا ہے:
”اسے یاد ہے وہ رات بہت بھاری ہوگئی تھی، جب وہ شہر سے اپنے گاؤں جا رہا تھا۔ رات کے گیارہ بج گئے تھے اور وہ پیدل چل رہا تھا۔ چاروں طرف سیاہ تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ اندھیرے میں جب وہ وہاں سے گزر رہا تھا نہ جانے کیسی کیسی آوازیں اس کے کانوں میں پارہ بھر رہی تھیں۔ ان آوازوں کو وہ سننا تو نہیں چاہتا تھا پر کان اسی پر لگے ہوئے تھے۔ خود کی آوازِ پا صاف سنائی دے رہی تھی جو اسے کھٹک رہی تھی، ناگوار معلوم ہورہی تھی۔ دل کی دھڑکنیں ریل کے انجن کی طرح دھک دھک کر رہی تھیں۔ اس جانب وہ دیکھنا تو نہیں چاہتا تھا لیکن نا چاہتے ہوئے بھی نظریں ترچھی ہورہی تھیں۔ پیپل کا وہ قدیم درخت اور اس کی شاخوں سے لٹکی ہوئی لاشوں کا تصور اسے اپنی جانب کھینچ رہا تھا۔ وہ تیز قدموں سے چل رہا تھا لیکن قدم کہیں کے کہیں پڑ رہے تھے۔ وہ بجلی کی رفتار سے گزرنا چاہتا تھا پر قدم ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ اسے محسوس ہورہا تھا کوئی اس کے قدموں پر چل رہا ہو۔“
مذکورہ دونوں اقتباسات طوالت کے متقاضی اس لیے ہوئے کہ دونوں میں خوف کے وہی مناظر ہیں۔ پہلے اقتباس میں بھی پیپل کا درخت ہے آخرالذکر میں بھی اسی درخت کو پیش کیا گیا ہے۔ اول الذکر میں بھی قدموں کی چاپ کو اس انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ حالت خوف میں اکثر لوگوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ آخرالذکر میں میری نظر میں قدموں کے چاپ کو مزید عمدہ پیرائے اظہار کا لباس پہنایا گیا ہے۔ اول الذکر میں قدموں کی چاپ کو گھونگھرو سے تشبیہ دی گئی ہے اور آخرالذکر میں بجلی کی سی رفتار سے تشبیہ دی گئی ہے۔اول الذکر میں مزید اضافہ دل کی دھڑکنوں کو ریل کے انجن سے کیا گیا ہے۔ جو خود میں ایک اعلی مثال ہے۔ 
میرا مقصد دونوں میں موازنہ کرنا نہیں ہے بلکہ جمیل جالبی صاحب اور نوجوان افسانہ نگار علیم اسماعیل کے اظہار بیان اور منظر کشی کو پیش کرنا تھا کہ ایک نئے افسانہ نگار نے کتنی عمدگی کے ساتھ عمدہ تشبیہ واستعارات کے استعمال سے خوفناک فضا کو مزید خوفناک بنا دیا جو قاری کی دلچسپی کا باعث بنا۔ افسانے کی یہ ابتدائی چند سطریں قاری کو اس طرح گرفت میں لے لیتی ہیں کہ قاری پوری کہانی مکمل کیے بنا نہیں رہ سکتا۔ پورا افسانہ شعور ولاشعور اور خوف کے سایے میں آگے بڑھتا ہوا اختتام کو پہنچتا ہے۔ کرداروں کے جم غفیر سے بچتے ہوئے متعدد لاشوں کے تذکرے ابتدا میں ہی آگیے ہیں جو ان کی فنی نگارشات کی عمدگی کے غماز ہیں۔ ایک ہی کردار پوری فضا پر حاوی ہے۔ جو ان کی فنکاری کی بہترین علامت ہے۔ ورنہ کرداروں کے جمگھٹے مکالماتی سطح کو بڑھاوا دیتے اور پھر یہ سطحیں زمین دوز ہوکر افسانویت کو ختم کردیتیں۔
اب رہا سوال ان کی زبان کا تو زبان میں کسی بھی شک کی گنجائش ہی نہیں ہے اور اسلوب ندرت لیے ہوئے ہے۔ ان کے یہاں ہر موضوع ایک نئے پیرائے میں بیان ہوتا ہے، جو ان کی جدت کا مظہر ہے۔ افسانہ ان کی مشاہداتی فطرت اور باریک بیں نظر پیش کرتا ہے۔ انداز بیان اتنے حسین پیکر میں لپٹا ہوتا ہے کہ قاری ذرا بھی اکتاہٹ کا شکار نہ ہو۔ ان کے افسانے مستقبل میں ابھرنے والے ایک عظیم افسانہ نگار کے شاہد ہیں۔
٭٭٭

علیم اسماعیل ایک ابھرتا ہوا قلم کار
راحیل بن انجم، ناندورہ

شہرِ ناندورہ کی زمین ادبی لحاظ سے زرخیز رہی ہے۔ بات شاعری کی ہوتو تو نیرنگ ناندوروی و عبدالقادر رازؔ سے لیکر وسیم اندازؔ تک شعرا کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ وہی اگر ہم نثری میدان میں نظر دوڑائے تو یہاں فہرست چند ناموں تک ہی محیط ہوجاتی ہے۔ شہرِ عزیز کے نمایاں افسانہ نگاروں میں سب سے پہلے حمید ادیبیؔ ناندوروی کانام آتا ہے۔ جن کی نثری کاوشیں قابلِ تعریف ہیں۔موصوف کو شہر کے پہلے صاحب کتاب ہونے کا فخر بھی حاصل ہے۔ موصوف کی اب تک پانچ کتابیں منظرِ عام پر آچکی ہیں۔دیگر کچھ لوگوں نے بھی نثر میں اپنے ہاتھ آزمائے ہیں لیکن بات اگر افسانچے کے بارے میں ہو تو اس صنف کے لیے علیم اسماعیل کو کلّی طور پر شہرِ عزیز کا پہلا افسانچہ نگار کہتے ہوئے مجھے کوئی جھجک نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ وہ افسانہ نگاری کے فن سے بھی واقفیت رکھتے ہیں۔اور ان کے افسانے بھی ادبی حلقوں میں پسند کیے جا رہے ہیں۔
علیم اسماعیل کچھ عرصہ قبل اچانک شہر کے ادبی افق پر نمودار ہوئے اور اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر شہر کے ادبی حلقوں میں اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوئے۔علیم اسماعیل نے پہلے پہل بچوں کی کہانیاں لکھی۔ پیشے سے استاد ہونے کے سبب انھوں نے بچوں کی نفسیات کو پرکھتے ہوئے اپنی ابتدا ہی اس صنف سے کی۔ میں نے جب علیم اسماعیل کی کچھ کہانیاں اخبار میں پڑھیں تومتاثر ہوئے بغیر نہیں رہا۔ وہ اعلی تعلیم یافتہ شخصیت ہیں۔ ایم۔ اے، بی۔ ایڈ ہونے کے ساتھ موصوف کو ایم۔ایچ۔سیٹ اور یو۔ سی۔ جی۔نیٹ (اردو) جیسے مشکل ترین امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ اور اس نمایان کامیابی کے لیے آئیٹا کی جانب سے علیم اسماعیل کو توصیفی سند سے سرفراز بھی کیا گیا ہے۔
عموما    لوگ تعلیم مکمل کرنے اور نوکری ملنے کے بعد کتابوں سے رشتہ ختم کردیتے ہیں، لیکن اس کے برخلاف علیم اسماعیل درس و تدریس سے منسلک ہونے کے بعد اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے اور آج نتیجتاً ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ”الجھن“ کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔جس میں 13 افسانے اور 59 افسانچے ہیں۔جس میں انھوں نے بڑی بیباکی سے ہمارے سامنے سماجی الجھنیں پیش کی ہیں۔ان کی ایک کہانی ”انتظار“نے سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا کے سا تھ ساتھ شہر کے ادبی حلقے میں بہت دھوم مچائی۔ وہ میرے دل میں اپنی اسی کہانی کے ساتھ داخل ہوئے۔ اپنے قرب وجوار میں ہونے والے واقعات و مشاہدات کو افسانوی رنگ میں جس طرح سے موصوف نے رنگا ہے یہ انکی تخلیقی صلاحیتوں کا بین ثبوت ہے۔ اس کہانی کے متعلق مشہور و معروف افسانہ نگار سلام بن رزاق فرماتے ہیں:
”تمہاری کہانی ”انتظار“ پڑھی، کہانی مجھے اچھی لگی۔ تم نے ایک ٹیچر کے کرب کو جس طرح بیان کیا ہے وہ ایک ٹیچر ہی کر سکتا ہے۔چونکہ میں بھی ایک ٹیچر رہ چکا ہوں اس لیے مسائل کو سمجھ سکتا ہوں۔حالانکہ ہم اتنے سنگین مسئلے سے نہیں گزرے لیکن اس کے باوجود آج کے مسائل کی گہرائی کو سمجھ سکتے ہیں۔زبان و بیان بھی ماشاء اللہ اچھا ہے تمہارا۔ اللہ تمھیں اچھا رکھے۔“
میں نے علیم اسماعیل کو جب جب بھی پڑھا میری تمنا ہر بار یہی رہی کہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بس اسی صنف کی زلف گیری کے اسیر رہیں۔ علیم اسماعیل ان چند لوگوں میں سے جو بے پناہ امکانات سے بھرے ہوئے ہیں، جس طرح پستول گولی و بارود سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔ان کی تخلیقی صلاحیت صرف افسانے و افسانچے تک محیط نہیں بلکہ انھوں اس رہ گزر کا بھی سفر شروع کیا ہے جہاں جانے سے لوگ کتراتے ہیں، اور وہ ہے شخصیت شناسی، شخصیت کا باریک بینی سے مطالعہ کرنا۔ کسی ادبی شخصیت اور اس کے فن کو اپنے مطالعہ کی بنیاد پر صفحہِ قرطاس پر اتارناکوئی معمولی فن نہیں۔ اور اس فن میں علیم اسماعیل برق رفتاری سے اپنی تخلیقی فتوحات میں اضافہ کررہے ہیں۔ ان کے مضامین ڈاکٹر ایم۔ اے۔حق، ڈاکٹر اسلم جمشید پوری، معین عثمانی،محمد بشیر مالیر کوٹلوی، ڈاکٹر عظیم راہی سے لیکر ابھی ابھی ان کا ایک مضمون نورالحسنین کی شخصیت پر میری نظروں سے گزرا ہے۔
 ان کا شہرِ عزیز ناندورہ کی ادبی سرگرمیوں و ادبی فضا کے عنوان سے ایک مضمون زیرِ قلم ہیں جس میں شہر کے تمام بقیدِ حیات شعراء و ادبا کے ادبی سفر کی روداد شامل ہے اور جلد ہی ان شاء اللہ شخصیت نامے پر ان کی ایک اور کتاب منظرِ عام پر آجائے گی۔اگرمقامی سطح کی بات کروں توانھوں نے ناندورہ میں ایک فعال ادبی بزم”فکشن ایسو سی ایشن“کے نام سے قائم کی،جس کے وہ صدر بھی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ کچھ نئے نثر نگاروں کی ایک ٹیم بھی بنالی ہے جس میں سید اسمٰعیل گوہر، اشفاق حمید انصاری، راحیل انجم اوروسیم انداز کے نام نمایاں طور پر لیے جاسکتے ہیں۔اخیر میں میں علیم اسماعیل کے مزید بہتر ادبی مستقبل کی دعا کے سا تھ اپنی گفتگو ختم کرتا ہوں۔ 
٭٭٭

محمد علیم اسماعیل کی کہانیوں میں 
سماجی مسائل کی عکاسی
 تنویر کوثر(عریبہ خان)، اتر پردیش

یہ دیکھ کر نہایت ہی خوشی ہوتی ہے کہ ہماری نوجوان نسل میں کئی ایسے فنکار سامنے آئے ہیں۔ جنھوں نے نہ صرف اردو ادب کی فلاح کے لیے قدم اٹھایا بلکہ اس کی ترقی و بہبودی کے لیے ہر وقت متحرک نظر آتے ہیں۔ محمد علیم اسماعیل کا نام اُن ہی نوجوان قلم کاروں کی فہرست میں آتا ہے۔ علیم کے افسانے و افسانچے اردو کے کئی رسالوں میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ انکا افسانوی مجموعہ ”الجھن“ منظر عام پر آ چکا ہے۔ جس کے ابتدائی صفحات پر ڈاکٹر ایم۔اے۔حق،ڈاکٹر اسلم جمشید پوری، معین الدین عثمانی، قدرت ناظم اور اعجاز پروانہ کے مضامین شامل ہیں۔ مضامین میں علیم کی کہانیوں پر مختصر روشی ڈالی گئی ہے۔ مجموعہ میں کل 59 افسانچے اور 13 افسانے شامل ہیں۔
تمام افسانے دلچسپ اور حقیقت پر مبنی ہیں۔ علیم نے بیشتر کہانیوں میں موجودہ دور کی معاشرتی پریشانیوں پر روشنی ڈالی ہے۔ کچھ افسانوں میں اس قدر حقیقت کی عکاسی کی گئی ہے کہ افسانے کا واقعہ آنکھوں دیکھا حال معلوم ہوتاہے۔ ”شوکت پہ زوال“،”مٹھا“، ”الجھن“ افسانوں میں حقیقت نگاری کا عنصر کثرت سے واضح ہوا ہے۔ ان افسانوں کی زبان و بیان سادہ و سلیس ہے۔ کہانی میں شروع سے آخر تک دلچسپی قائم رہتی ہے۔ 
افسانہ ”مٹھا“ میں علیم نے ایک خاص طبقے کی اصلاح کرنے کی کوشش کی۔ غور کیا جائے تو گاؤں میں یہی صورتحال ہے۔ جہاں پر بچے حقیقت میں تعلیم کو بوجھ سمجھتے ہیں اور اساتذہ کا خوف انھیں اسکول سے دور رکھتا ہے۔ اس لیے بچے اسکول سے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض اساتذہ کی سختی اور لاپرواہی اوسط رفتار سے سیکھنے والے بچوں کا مستقبل برباد کر دیتی ہے۔ اس طرح کے بچے ساتویں آٹھویں جماعت میں آکر پڑھنا لکھنا بھی سیکھ نہیں پاتے۔ ان بچوں میں بھی سیکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے لیکن اساتذہ بچوں کو اور ان کے حالات کو سمجھے بغیر ان پر سختیاں شروع کر دیتے ہیں۔ یہیں سے بچوں کل زوال شروع ہو جاتا ہے۔ اس افسانہ میں علیم نے بہت اہم موضوع کو بڑی کامیابی کے ساتھ برتا ہے افسانہ ”مٹھا“ کی آخری اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
''میں نے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا---- کیا ارمان نہیں آیا؟ نہیں سر وہ نہیں آیا اس کے ابا نے کہا کہ ارمان ساتویں جماعت میں آگیا ہے لیکن ابھی تک اسے پڑھنا لکھنا نہیں آرہا ہے۔ اس سے بہتر یہی ہے کہ وہ محنت مزدوری کرے اور ہمارا سہارا بنے اس لیے ارمان اب سے کام پر جائے گا اسکول نہیں آئے گا۔“
 افسانہ ”اشک پشیمانی کے“ اصلاحی افسانہ ہے۔ افسانہ کا مرکزی کردار روشنی ہے۔ جو اپنے شوہر کی ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی عادت کو موضوع بنا کر ان سے بحث کرتی ہے لیکن ایک حادثہ کے بعد اسے احساس ہو جاتا ہے کہ اس کے شوہر لوگوں کی مدد کرکے بھلائی کا کام کرتے ہیں۔
 افسانہ ”تاک جھانک“ غریب بچوں کی حسرتوں کی ترجمانی کرتا ہے۔ دانیال اپنی تمام حسرتوں کو مار مار کر زندگی گزار رہا ہے۔ لیکن جب اس کے ساتھی اس کے پھٹے ہوئے اسکولی بیگ کو لے کر مذاق اڑاتے ہیں تو وہ اپنی ماں سے ایک نئے بیگ کی فرمائش کرتا ہے۔ اس کے والدین نیا بیگ دلانے کا صرف وعدہ کرتے ہیں۔ دانیال کو جب یہ خبر ملتی ہے کہ اسکول کے چیئر مین صاحب تمام بچوں کو نیا بیگ اور یونیفارم دینے والے ہیں تو خوشی میں اسے رات بھر نیند نہیں آتی افسانہ ”تاک جھانک“ سے ایک اقتباس پیش کرتی ہوں:
”کل نیا بستہ اور نیا ڈریس ملنے والا ہے اس خوشی میں دانیال کو رات بھر نیند بھی نہیں آئی۔ وہ رات بھر نیا بستہ اور نیا ڈریس کے متعلق سوچتا اور من ہی من خوش ہوتا۔ پھر اس نے سوچا اب سو جانا چاہیے ورنہ نیند کا خمار آنکھوں میں باقی رہنے کی وجہ سے کل صبح کوئی پریشانی نہ ہو جائے لیکن ایک عجیب سی خوشی جو اس کے سینے میں پھڑ پھڑا رہی تھی اس خوشی کے مارے اس کی آنکھیں ہی جھپکنا بھول گئی تھیں۔“
افسانہ ”انتظار“ نان گرانٹ اسکولوں کے اساتذہ کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس کی کہانی دلچسپ اور موثر ہے۔ افسانہ کا اختتام اس قدر غموں میں ڈوبا ہوا ہے کہ قارئین کو جھکجھور کر رکھ دیتا ہے۔ افسانہ کی آخری چند لائنیں پیش کرتی ہوں:
”دھیرے دھیرے بالوں میں سفیدی اترتی گئی نظر کی عینک لگ گئی آنکھوں پر لگی عینک تو لوگوں نے دیکھی لیکن اسکے پیچھے چشم پر آب کسی کو نظر نہ آئی اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ گھونٹ کر سال در سال گزر گئے۔۔۔۔ وقت پر لگا کر اڑتا رہا اور میں نان گرانٹ پر ہی ریٹایر ہو گیا۔“
 افسانہ ”انتظار“ پر تبصرہ کرتے ہوئے سلام بن رزاق رقم طراز ہیں۔۔
 ”تمہاری کہانی انتظار پڑھی کہانی مجھے اچھی لگی تم نے ایکٹیچر کے کرب کو جس طرح بیان کیا ہے وہ ایک ٹیچر ہی کر سکتا ہے چونکہ میں بھی ایک ٹیچر رہ چکا ہوں اس لیے مسائل کو سمجھ سکتا ہوں۔“
 سلام بن رزاق کے اس اقتباس سے اتفاق کرتے ہوئے میں اپنے رائے بتانا چاہتی ہوں کہ علیم نے اپنے افسانوں میں ٹیچر کا کرب، طالب علموں کا کرب، غریب بچوں کا کرب اور والدین کا کرب پیش کیا ہے۔ جو یقیناً پورے سماج کا کرب ہے۔ افسانوں کے اسلوب سادہ ہیں۔ زبان آسان اور عام فہم ہے۔ کہیں کہیں پروف ریڈنگ کی غلطیاں ہیں۔ ایک دو افسانے کی زبان زیادہ بہتر ہے۔ افسانہ ”خطا“ کا انداز بیان دلکش ہے۔ امید ہے کہ آئندہ علیم کے افسانوں میں اور بھی نکھار اور دلکشی ہوں گی۔
٭٭٭

محمد علیم اسماعیل کی ’الجھن‘
استوتی اگروال، مدھیہ پردیش

محمد علیم اسماعیل نے سماجی مسائل کو محسوس کیا اور بہترین اسلوب میں ان مسائل کو ”الجھن“ کی شکل میں ہمارے سامنے پیش کردیا۔ جس طرح میرؔ کی آپ بیتی جگ بیتی بن گئی ہے، اسی طرح محمد علیم اسماعیل کی پیش کردہ الجھنیں ہر شخص کی اپنی ہوگئی ہیں۔ محمد علیم اسماعیل نئے لکھنے والوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اردو ادب میں ان کی کہانیاں کافی مقبولیت حاصل کر رہی ہیں کیونکہ ان کے افسانے مختصر ضرور ہیں پر ہمارے حالات کی عکاسی کرتے ہیں۔ میں ان کے افسانے کئی رسائل میں بھی پڑھ چکی ہوں جیسے بیباک،شاعر وغیرہ۔ ان کا تازہ ترین افسانوی مجموعہ ”الجھن“ بھی منظرِ عام پر آ چکا ہے۔ اس افسانوی مجموعے میں 13 کہانیاں ہیں۔ الجھن، انتظار،خطا،خوفِ ارواح، شوکت پہ زوال، قربان، تاک جھانک،خیالی دنیا، مٹھا، اشک پشیمانی کے، وفا، پریشانی اور کرب۔ مجموعے میں درجنوں افسانچے بھی ہیں جن میں قیامت،ندامت، شرط، مصروفیت وغیرہ نمایاں ہیں۔ کچھ لکھنے سے پہلے میں ڈاکٹر ایم اے حق کی رائے کا ایک اقتباس پیش کرتی ہوں:
”محمد علیم اسماعیل کی افسانچہ نگاری نے رفتار پکڑ لی ہے،لیکن ان کی تیز رفتار نے افسانچے کے معیار کو کبھی مجروح نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ زیر نظر مجموعہ ”الجھن“ میں ان کے افسانچے اس صنف کی شرائط پر کھرے اترتے ہیں۔“
علیم اسماعیل نے دلچسپ انداز میں افسانے لکھے ہیں۔ افسانہ ”وفا“ میں انھوں نے والد کی سچی محبت اور بیٹے کی بد سلوکی کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ جس طرح ماں باپ اپنے بچوں کی تربیت کرنے میں ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور جی جان لگا دیتے ہیں کہ ان کا بچہ ترقی کرے اور کامیابی سے ہم کنار ہو،کامیابی اس کے قدم چومے،لوگ اس کی عزت کریں اور بھی ہر ممکن کوشش کرنے کو تیار رہتے ہیں،بلکہ حد تو یہ ہے ناممکن کو بھی ممکن بنا دیتے ہیں،لیکن بچے کیا کرتے ہیں جب ان کا مستقبل سنور جاتا ہے اور اچھی طرح سیٹل (settle) ہو جاتے ہیں تو انھیں گھر سے باہر نکال دیتے ہیں۔ انھیں بوجھ سمجھنے لگتے ہیں،کوشش کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ جلدی سے وہ اس دنیا سے رخصت ہو جائیں اور اولڈ ایج ہومز یعنی وردھا آشرم میں بھیج دیتے ہیں اور بے چارے ماں باپ چپ چاپ بغیر کچھ کہے چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح اس کہانی میں جس باپ نے بچے کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھا، بچے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا اسی بچے نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے دھکے مار کر گھر سے نکال دیا کہ ”آپ نے ہماری زندگی کو دوزخ بنا دیا ہے۔“ اس بات کو علیم اسماعیل نے اتنی خوبصورتی سے پیش کیا ہے، جس کے چند اقتباس پیش ہیں: 
”باپ بیٹے میں آج پھر توتو میں میں ہو گئی تھی۔بیٹے نے کہا: ”آپ ہماری زندگی کو اور جہنم کیوں بنا رہے ہیں۔ آپ ہم کو اکیلا چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔“باپ کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں،اور بھرائی آواز میں کہا:”جب سب کی پریشانی کی وجہ میں ہوں، تو میں اس گھر میں کیا کررہا ہوں۔؟بیٹا۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ تم ہمیشہ خوش رہو۔۔۔۔۔۔تم جیو اپنی زندگی۔۔۔۔ میں چلا اس گھر سے۔۔۔۔یہ کہہ کر باپ جانے لگا تو بیٹے نے روک لیا اور کہا”آپ یوں ہی چلے جائیں گے تو اس میں ہماری بدنامی ہوگی،لوگ ہم کو برا کہیں گے۔میں آپ کو آشرم چھوڑ دوں گا،آپ اپنی تیاری کرلیں۔“
بیٹا اپنے پتا کو اشرم چھوڑ آیا اور بہت خوش ہوا،لیکن راستے میں لوٹتے وقت اس نے پُل پر کھڑے ایک شخص کو دیکھا جس نے پانی میں بلّی کے بچے کو پھینک دیا ہے اور وہ بلّی کا بچہ بار بار پانی میں ڈوب جاتا ہے،لیکن باہر آنے کی پوری پوری کوشش کرتا۔ اگر آج کی جنریشن میں دیکھا جائے تو بلی اور تمام جانور انسانوں سے اچھے ہیں، کم سے کم ہار تو نہیں مانتے۔ اسی بیچ اس کی ملاقات اپنے والد کے ایک پرانے دوست سے ہوئی۔ انھوں نے اسے ایک تصویر دکھاتے ہوئے کہا کہ بیٹا! دیکھویہ تصویر میں تمہارے والد تمہیں گود میں پکڑے ہوئے ہیں۔ یہ تصویر تمہارے والد کے مشہور کاٹیج کی ہے جو انھوں نے تمہارے علاج کے لیے بیچ دی تھی۔یہ سن کر بیٹے پر ایک سکتہ سا طاری ہو گیا اور وہ سب بھول گیا۔ اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس بلی کے بچے کو نہیں،بلکہ اسے گہرائی میں پھینک دیا گیا ہو۔ محمد علیم اسماعیل نے اس کہانی میں ایک سچائی کو اجاگر کیا ہے۔
ان کا افسانہ ”خیالی دنیا“ بھی ایک ایسا ہی دلچسپ افسانہ ہے۔ اس افسانے میں ایک شخص جو بڑا ہی خوش مزاج تھا۔ ہمیشہ نرم و نازک لہجے میں بات کرنا پسند کرتا تھا، اپنے دوستوں کے لیے جان دینے کو تیار رہتا، ہمیشہ خوش رہتا، بہت ہر د ل عزیزشخصیت کا مالک تھا۔ ایک دن اس کے پاس اچانک ایک میسج آیا جس میں لکھا تھا: ”آپ کا انٹرنیٹ ڈاٹا ختم ہو نے والا ہے۔“ اس نے سوچا میرا انٹرنیٹ ڈاٹا ختم ہو اس سے پہلے ہی ریچارچ کرا لینا مناسب ہے اور وہ تیزی سے گاڑی بھگاتے ہوئے جا رہا تھا کہ اچانک ایک کار والے نے اسے ٹکر ماردی اور بھاگ گیا۔ وہ خون سے لت پت پڑا رہا۔ پھر آس پاس کے لوگوں نے اسے اسپتال پہنچایا۔ اس کے گھروالے ماں بھائی، بہن سب دوڑے دوڑے آ گئے، ان کی آنکھیں نم تھیں، سب اس کی صحت یابی کی دعا کر رہے تھے۔ اور جب اسے ہوش آیا تو اس نے دیکھا کہ جن کے لیے اس کے پاس کبھی وقت نہیں ہوتا تھا۔ وہی لوگ اس کے ارد گرد جمع ہیں اور اس کے لیے پریشان ہیں، وہی لوگ اس کے اپنے ہیں اور وہ خیالی دنیا سے نکل کر حقیقی دنیا میں آگیا۔
اسی طرح محمد علیم اسماعیل کے سبھی افسانے نصیحت آموز ہیں۔ ان کی ایک کہانی ”انتظار“ سے متعلق سلام بن رزاق صاحب نے بہت خوب لکھا ہے:
”تمہاری کہانی ”انتظار“ پڑھی۔ کہانی مجھے اچھی لگی۔ تم نے ایک ٹیچر کے کرب کو جس طرح بیان کیا ہے وہ ایک ٹیچر ہی کر سکتا ہے، چونکہ میں بھی ایک ٹیچر رہ چکا ہوں اس لیے مسائل کو سمجھ سکتا ہوں۔ زبان و بیان بھی ماشااللہ اچھا ہے تمہارا۔“ان کی تمام کہانیاں پڑھ کر بس میں یہی کہنا چاہوں گی کہ محمد علیم اسماعیل جلد ہی اپنے معاصرین میں ایک منفرد مقام بنا لیں گے۔
٭٭٭

اُلجھن:ایک مطالعہ
منصور خوشتر، ایڈیٹر سہ ماہی دربھنگہ ٹائمز

پیش نظرافسانچے وافسا نوں کا مجموعہ”الجھن“محمد علیم اسماعیل کی تخلیق ہے۔اس کتاب میں کل 60افسانچے اور 13افسانے ہیں۔محمد علیم اسماعیل کی پہلی تحریر”علامہ اقبال کی باتیں“کے عنوان سے2013میں منظر عام پر آئی۔ان کا پہلا افسانہ”خیالی دنیا“2016میں ممبئی اردونیوز میں شائع ہوا۔علیم اسماعیل کے بہت سے افسانے اور افسانچے مختلف رسائل اور جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ان کے افسانچوں اور افسانوں میں سماجی مسائل کی عکاسی،جوانوں کی امنگیں،اصلاح کا جذبہ اور کچھ نیاکردکھانے کا جنون ہے۔بہت سے افسانے اخلاقی درس دیتے ہیں۔
اعجازپروانہ ناندوروی نے اپنی تقریظ میں محمد علیم اسماعیل اور ان کی افسانہ نگاری سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کئی کارآمد باتیں پیش کی ہیں۔ملاحظہ کریں:
”الجھن“میں محمد علیم اسماعیل کے افسانچے اور افسانوں کا مجموعہ ہے۔یہ ایک خوب صورت گلدستہ کی مانندہے جس میں طرح طرح کی کہانیاں ہیں۔کہانی ”خیالی دنیا“میں جدیدذرائع ابلاغ،موبائل اور وہاٹس ایپ کی خیالی دنیا میں وقت برباد کرنے کے بجائے حقیقی دنیا سے رشتہ استوار کرنے پر زور دیاگیا ہے۔کہانی ”انتظار“میں ایک ٹیچر کے کرب کو بیان کیا گیا ہے۔افسانہ ”تانک جھانک“میں ایک غریب بچے کی ٹوٹتی بکھرتی امیدوں کی پردرد کہانی ہے۔افسانہ”خوف ارواح“ میں ایک بھائی اپنی بہن کی محبت میں کس حد تک جاسکتا ہے،اس بات کو بتایاگیاہے۔افسانہ ”خطا“میں مصنف نے بتایاہے کہ ایک چھوٹی سی غلطی کس طرح مشکلات پیداکرکے زندگی برباد کرسکتی ہے۔“
”سخن قلب“کے عنوان سے علیم اسماعیل نے اپنا پیش لفظ تحریرکیاہے۔اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مصنف پروفیسر طارق چھتاری کے مضمون ”جدید افسانے کا فن“سے ایک اقتباس نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”افسانے کا فن بنیادی طورپر کہانی کہنے کا فن ہے۔اگر کسی افسانے میں ”کہانی پن“ نہیں ہے تو وہ افسانہ،مضمون،انشائیہ یا محض نثر کا ایک ٹکڑاہی معلوم ہوگا۔1960کے بعد اردو میں ایسی کہانیاں بھی لکھی گئی ہیں جن میں کہانی پن کا فقدان ہے۔یا ان کا عدم ووجود برابر نظرآتاہے۔مثال کے طورپر سریندرپرکاش کی کہانی”تلقارمس“میں یہ عنصر قطعاً مفقودہے۔کسی افسانے میں کہانی پن ہے یا نہیں اسے پرکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جب کوئی کہانی پڑھ چکے تواس افسانے کی کہانی زبانی سنانے کوکہاجائے۔اگر اس میں کہانی پن ہوگا توخواہ کیسی بھی تجریدی کہانی کیوں نہ ہواور واقعات کو کتنا ہی توڑمروڑکر یا ان کی ترتیب بگاڑکر کیوں نہ پیش کیاگیاہو،زبانی بیان کرتے وقت سنانے والالاشعوری طور پر اپنے حساب سے واقعات کو ترتیب دے کر کہانی سنادے گا۔جیسے انور سجادکی کہانی”مرگی“جو ایک تجریدی کہانی ہے اور بظاہراس کی ہیئت نظر نہیں آتی۔“
کتاب کی شروعات افسانچے سے ہوتی ہے۔تقریباً60افسانچے ہیں۔پہلا افسانچہ ”شرمندگی“کے عنوان سے ہے۔دوسطرکے اس افسانچے میں ہنرمندی ملاحظہ کیجیے:
”رات کا وقت.....پوراہال فانوس کی روشنی سے جگ مگ.....شہر کے ایک بڑے رئیس کی جنم دن کی پارٹی۔ریشمی اور مخملی کپڑوں سے ڈھکی ٹیبل، کرسیاں نیم برہنہ خواتین سے پردہ کررہی تھیں۔“
ایک افسانہ ”عبادت“ہے۔ایک انسان کی تہجدگزاری کوپیش کرتے ہوئے علیم اسماعیل بڑی خوب صورتی سے انسان کے دلی جذبات کا اظہار کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ایک طرف تو حاجی صاحب تہجد گزارہیں اور دوسری جانب انھیں اپنے بھائی سے اتنی نفرت ہے کہ وہ اس سے موبائل پر بات کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔یہ کیسی عبادت ہے۔عبادت سے بھی بڑی کوئی چیزہے وہ انسانیت کے رشتے کو نبھانا ہے۔
ایک اور افسانچہ”کمیشن“کے عنوان سے ہے۔علیم اسماعیل کے اس ایک جملے کے افسانچے میں بہت بڑا طنزنمایاں ہے۔ایک خوب صورت لڑکی ہیروئن بننے کا خواب دیکھتی ہے۔وہ وعدہ کرتی ہے کہ اپنی فیس کا 30فیصدتمھیں بطور کمیشن دے دوں گی۔لیکن پریوڈسر اور ڈائریکٹرکا جی اس سے نہیں بھرتا،وہ کہتا ہے کمیشن تو بعد کی بات ہے،پہلے کیا دوگی۔اس کی بری نگاہ لڑکی کے جسم پرتھی۔
کتاب میں 13افسانے شامل ہیں۔ہر افسانے میں کوئی نہ کوئی نصیحت پوشیدہ ہے۔سماجی،سیاسی،نفسیاتی،تعلیمی حالات کی عکاسی ہے۔افسانہ پڑھتے ہوئے قاری کہیں بھی بوجھ اور بوریت نہیں محسوس کرتا۔آج محبت کا بازار بہت گرم ہے۔لڑکوں کے پاس گرل فرینڈاور لڑکیوں کے پاس بوائے فرینڈز کی فروانی ہے۔حقیقی محبت تو ہے ہی نہیں۔ان محبتوں کی بنیادیاتومادّی ہے یا جسمانی ہے۔علیم اسماعیل نے بڑی خوب صورتی سے اسے اپنے افسانے”خطا“میں پیش کیاہے:
”تمھاری سہیلیاں آپس میں باتیں کررہی تھیں:
”آج میں نے جاوید کو خوب الّو بنایا۔“
”راحیل نے مجھے اپنی موٹر سائیکل پر بٹھاکر بہت گھمایا۔ہم نے بہت انجوائے کیا،خوب مزہ آیا۔“
”میرے بوائے فرینڈ نے میرے مہینے بھر کا انٹر نیٹ اور ٹاک ٹائم ریچارج کروادیا۔“
”میں نے ابھی نیا مرغا پھنسایاہے،پہلے والا بڑا کنجوس تھا کمبخت۔“
اس طرح علیم اسماعیل کے افسانوں میں نصیحت آموز باتوں کے ساتھ ساتھ دل چسپی کے اسباب بھی ہیں۔کہانی مطالعہ طلب ہے۔امید ہے کہ یہ کتاب قارئین کے ذریعے ہاتھوں ہاتھ لی جائے گی۔
٭٭٭

اُلجھن:ایک تاثر
وصیل خان ، ممبئی 

ایک زمانہ تھا جب لوگوں کے پاس فرصت کے لمحات بہت ہوتے تھے، وقت گزاری کے لیے لوگ کھیل کود اور مختلف تفریحات کے خوگر ہوجاتے تھے، اسی طرح ادب میں بھی یہی ذوق و شوق بڑھا ہوا تھالوگ طویل طویل داستانیں قصہ گو حضرات سے سنا کرتے اور محظوظ ہوتے۔پھر جیسے جیسے وقت تنگ ہوتا گیا داستانیں ناولوں میں ناول افسانوں میں اور افسانے افسانچوں میں تبدیل ہوتے گئے۔ لیکن ان تمام تر تبدیلیوں کے باجود تکنیک، کیفیت، ہیئت اورمعیار سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ افسانے طویل ہوں یا انتہائی مختصر،اس کے بنیادی تقاضوں کے بغیر تخلیق تکمیل کے درجہ تک نہیں پہنچ سکتی۔
ناندورہ، بلڈانہ سے تعلق رکھنے والے محمد علیم اسماعیل یوں تو ایک عرصے سے متعدد اخبارات ورسائل میں لکھ رہے ہیں لیکن افسانوں اور افسانچوں پر مشتمل ان کی کتاب ”الجھن“ دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ان کے اندر کا فن کار بہت کچھ کرگزرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بشرطیکہ وہ اپنی نگاہیں منزل پر مرکوز رکھیں اور مبالغہ آمیز تقریظی تحریروں کے سراب میں الجھ کر پانی کی تلاش میں نہ نکل پڑیں اور فریب کاری کے اسیر ہوجائیں۔ خود پر اعتماد کرتے ہوئے بلند فکری اور فن کاری کے ساتھ آگے بڑھنے کا عمل جاری رکھیں۔ ان کے زیادہ تر افسانوں اور افسانچوں میں زندگی کے مسائل نہ صرف پوری طرح موجود ہیں بلکہ ان کے تدارک کا بھی معقول حد تک حل بھی انھوں نے پیش کیا ہے۔الجھن، کرب، انتظار، اشک پشیمانی کے اور خیالی دنیا کو نمائندہ افسانہ کہا جاسکتا ہے اسی طرح افسانچوں میں بھی متعدد افسانے دل ودماغ پر گہرائی سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان کے بہتر مستقبل کی راہیں روشن نظر آرہی ہیں کیونکہ ان کے اندر وہ صلاحیت مترشح ہورہی ہے جس کے زور پر آگے کے راستے کو صاف و شفاف بنایا جاسکتا ہے۔ امید ہی نہیں یقین بھی ہے کہ محمد علیم اسماعیل جلد ہی اپنے فن کی بلندیوں سے آشنا ہوں گے۔
٭٭٭

حساس ادیب کی ’الجھن‘  لفظوں کا آئینہ  
ڈاکٹر عابد الرحمن ، چاندور بسوا (مہاراشٹر)

کیمسٹری کا لیکچر چل رہا تھا۔ پوری کلاس خاموش اور استاد محترم کی طرف ہمہ تن گوش تھی۔ بس دو ہی آوازیں آرہی تھیں، جو کلاس کا سکوت توڑ رہی تھیں۔ ایک تو استاد محترم کی آواز اور دوسری ٹک ٹک ٹک ٹک کی مسلسل اور ایک مخصوص لَے میں آنے والی آواز۔ کلاس شروع ہوئے ایک مہینہ ہو گیا تھا لیکن یہ آواز اس سے پہلے کبھی سنائی نہیں دی تھی۔ جب خلل اندازی محسوس ہوئی تو سر نے غور کیا اور خاطی پکڑا گیا۔ دراصل وہ آواز ایک طالب علم کے جوتے کو لگی چین سے آرہی تھی۔ جو اس کے مسلسل پیر ہلانے کی وجہ سے پیدا ہو رہی تھی۔ آج اس طالب علم کا اسکول میں پہلا دن تھا۔ سر کے کہنے سے اس نے پیر ہلانا بند کردیا اور اس طرح وہ آواز بند ہو گئی لیکن کسے پتا تھا کہ اس روز بند کروادی گئی وہ آواز کچھ عرصے بعد کوئی اور روپ دھار کر سماج کی سماعتوں کو جھنجوڑے گی۔ وہ دراصل اس طالب علم کے اندرون کا ارتعاش تھا جو پیر میں منتقل ہوکر اس آواز کا سبب بن رہا تھا۔
کچھ سال پہلے جب میں نے اس کی تخلیق کردہ کہانیاں افسانچے اور افسانے پڑھے تومیرے کانوں میں ٹک ٹک ٹک ٹک کی وہی آواز گونجنے لگی جو سولہ سترہ سال پہلے اس کے جوتے سے آرہی تھی۔ جو آواز کم سنی کے زمانے میں بند کروادی گئی تھی اب اس نے اپنے اظہار کے لیے نشتر نما افسانچوں اور آئینے کے سے افسانوں کا روپ دھار لیا ہے۔ دراصل یہ اس طالب علم کے حساس دل و دماغ کی آوازیں ہیں جو سماج کی خرابی کو دیکھ مرتعش ہوئی ہیں اور یہ ارتعاش قلم سے ہوتے ہوئے لفظوں کی شکل میں قرطاس پر بکھر کر سماج کے لیے لفظوں کا ایک آئینہ بن جاتا ہے کہ وہ اس میں اپنی قبیح صورت دیکھ کر اس کے سدھار کا سامان کرے، کم از کم میک اپ ہی کرلے۔ اب اس طالب علم کے افسانچوں اور افسانوں کا مجموعہ ”الجھن“ شائع ہو چکا ہے۔
 ایک سو اٹھائیس صفحات کی اس کتاب میں تقریباً پانچ درجن افسانچے اور تیرہ افسانے ہیں۔ جن میں اس نے سماج کے ہر پہلو کو اپنے فن کی روشنی سے منور کر نے کی کوشش کی ہے۔ ہر تخلیق میں کوئی نہ کوئی اصلاحی پہلو پوشیدہ ہے، اس کے لیے کہیں کرارے طنز کا سہارا لیا گیا تو کہیں براہ راست گفتگو کا۔ ہمارے ملی سماجی سیاسی مسائل اس کتاب میں بڑی خوبصورتی سے نشان زد کیے گئے ہیں۔ ہمارے معاشرے کے اندر پنپ چکی برائیوں کی نشاندہی دراصل ان کو سدھار نے کی ایک کوشش ہے جو اس کتاب میں جابجا کی گئی ہے۔
اُس کی یہ کتاب ایسی کہانیوں کا مجموعہ ہے جو ہماری اپنی ہیں، ہم روز جن کو بچشم خود دیکھتے ہیں۔ اس کتاب میں وہ کرب بیان کیا گیا ہے جس سے ہمارا معاشرہ جوجھ رہا ہے۔ اس کتاب میں موجود ساٹھ افسانچے ہمارے سماج کو لاحق ساٹھ ایسے ناسوروں کی نشاندہی کر رہے ہیں جو مسلسل رس کر ہمیں اخلاقی روحانی اور دنیاوی اعتبار سے کمزور کر رہے ہیں۔ وہ طالب علم کوئی اور نہیں ابھرتا ہوا نوجوان افسانہ و افسانچہ نگار محمد علیم اسماعیل ہے۔
مجموعہ ”الجھن“ کے افسانچے سوچ و فکر، معاشرت، سیاست اور عبادات میں ہماری منافقت، ہمارے سماج میں روز بروز بڑھتی جارہی بد عنوانی، کرپشن، بد دیانتی، ترقی کی دوڑ میں تیزی سے گرتے اخلاقی اقدار، عریانیت، فحاشی، کمائی میں حلال و حرام کی تمیز کا فقدان اور کھانے میں حلال چھاننے کے دوغلے پن، ہمارے نوجوانوں کی بے راہ روی، ہمارے امیروں کی کم ظرفی، ہماری منفی سیاست، اور والدین کی طرف ہماری عدم توجہی کو اس طرز سے بیان کیا ہے کہ یہ سارے مناظر ایک کے بعد ایک ہمارے ذہن کے پروجیکٹر سے ہماری آنکھوں کے سامنے حقیقت کی طرح چلنے لگے ہوں۔
افسانوں کا بھی یہی حال ہے۔ ان میں کہیں حرص و ہوس بد نیتی اور بد دیانتی کے آرے سے کٹتے خونی رشتے اور اس سے ہونے والی’الجھن‘ کی منظر کشی ہے تو کہیں ملازمت اور مشاہرے کے ’انتظار‘ میں ہمارے تعلیم یافتہ افراد کی مجبوری کی داستان تو کہیں تعلیم کے حصول میں ہماری بچیوں سے سرزد ہو نے والی ’خطا‘ اور پھر اس کے برے نتائج کی نشاندہی ہے تو کہیں یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ رشتہ اگر سچا ہو محبت اگر بے لوث ہو تو جن بھوت کا ڈر اور ’خوف ارواح‘ اس کے سامنے کوئی معنی نہیں رکھتے۔ کہیں انتہائی دل پذیر انداز میں وہ سبب بیان کیا گیا ہے جس سے قوموں کی’شوکت پہ زوال‘ آتا ہے۔ کہیں ہمارے سماج کو جڑ سے کھوکھلا کر نے والے اندھے اعتقاد کو اسطرح پیش کیا گیا ہے کہ جسے پڑھ کر خود بخود اس کی تباہ کاریوں کا ادراک ہو جاتا ہے۔ کہیں اپنے پھٹے لباس سے ’تاک جھانک‘ کرتی ہمارے امیروں کو منھ چڑھاتی ہماری اکثریت کی غربت کی کہانی کو اس انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ اسے پڑھ کرآنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ کہیں حقیقی رشتوں کے سامنے سوشل میڈیا کی ’خیالی دنیا‘ کی بے وقعتی کو اجاگر کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی تو کہیں انتہائی دلچسپ انداز میں یہ بتا یا گیا ہے کہ کمزور طلبہ کے تئیں ہمارے اساتذہ کی غیر ارادی بے توجہی کس طرح انہیں حقیقت میں ’مٹھا‘ بنا کر ان کا مستقبل تاریک کرسکتی ہے۔ کہیں کہانی میں یہ سبق دیا گیا ہے کہ دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ کس طرح ہمیں پشیمانی کے اشک بہانے سے روک سکتا ہے تو کہیں بچوں کی پرورش اور بہتر نگہداشت میں باپ کی قربانی کو افسانے کا منظر بنا کر بچوں میں باپ سے ’وفا‘ کا جذبہ ابھارنے کی کوشش کی گئی ہے تو کہیں اپنے بیٹے وبہو کے ذریعہ ستائی جارہی ایک ماں کا کرب ہے۔    
علیم اسماعیل ایک ایسا نبض شناس افسانہ نگار بن کر ابھرا ہے کہ جس نے فکشن کو لایعنی کہانیوں اور لیلیٰ مجنوں کے قصوں سے نکال کر حقیقت کا جامہ پہنا دیا ہے۔ علیم کی تخلیقات کے فنی پہلو پر تو میں گفتگو نہیں کرسکتا لیکن یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ علیم اسماعیل نے اپنی تخلیقات میں سماج کو لاحق عوارض کی نشاندہی نہایت خوبصورت اور دل پذیر انداز میں کی ہے اور ’الجھن‘ کی صورت میں اسے سماج کے سامنے رکھ دیا ہے۔ اب یہ سماج کی ذمہ داری ہے کہ وہ علیم اسماعیل کی ان تخلیقات سے اپنے مرض کی تشخیص کرے اور اس کا شافی علاج ڈھونڈ نکالے۔  (جمعہ 12جولائی 2019)
٭٭٭

علیم اسماعیل کا فن’الجھن‘ کے آئینے میں 
 اشفاق حمید انصاری ، ناندورہ

محمد علیم اسماعیل ایک نبض شناس قلم کار ہیں۔جنھوں نے قلیل مدت میں اپنی منفرد شناخت بنائی ہے۔وہ نئی نسل کے نمائندہ لکھنے والوں میں سے ہیں۔ان کی تحریریں ہند پاک کے مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔”الجھن“ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔جس میں 60 افسانچے اور 13 افسانے شامل ہیں۔زیر نظر کتاب ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جارہی ہے۔محمد علیم اسماعیل مہاراشٹر کے ایک مقام ناندورہ سے تعلق رکھتے ہیں جہاں افسانہ و افسانچہ نگاری کے لیے ماحول میسر نہیں۔بلاشبہ وہ ناندورہ کے پہلے افسانچہ نگار ہیں۔جب انھیں لکھنے لکھانے کا شوق ہوا تو انھوں نے سوشل میڈیا پر سینئر ادیبوں سے رابطہ قائم کیا۔اور ان سے افسانہ و افسانچہ نگاری کے گر سیکھے۔افسانچہ نگاری میں ڈاکٹر ایم۔اے۔حق ان کے استاد ہیں۔اس کے علاوہ سلام بن رزاق،محمد بشیر مالیرکوٹلوی،ڈاکٹر اسلم جمشید پوری،معین الدین عثمانی،نورالحسنین، ڈاکٹر عظیم راہی،ڈاکٹر شاہد جمیل وغیرہ ادیبوں سے وہ مسلسل رابطے میں ہیں اور ان سے فن کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔موصوف اعلی تعلیم یافتہ،گورنمنٹ اردو اسکول میں پرائمری ٹیچر ہیں۔ ایم۔اے،بی۔ایڈ،اردو میں نیٹ اور سیٹ امتحانات کوالیفائی ہیں۔
زیر تبصرہ کتاب میں ڈاکٹر ایم۔اے۔حق،ڈاکٹر اسلم جمشید پوری،معین الدین عثمانی،قدرت ناظم اور اعجاز پروانہ ناندوروی کے دو/ تین صفحات پر مشتمل مضامین شامل ہیں۔”سخن قلب“ میں فاضل افسانہ نگار نے بہترین زبان و بیان کا استعمال کر کے افسانچہ اور افسانہ کے متعلق جو گفتگو کی ہے وہ قابل تعریف ہیں۔انھوں نے کہانی اور افسانے پر بھی اچھی بحث کی ہے۔
اہل ادب جانتے ہیں کہ افسانچہ و افسانہ تحریر کرنا بچوں کا کھیل نہیں۔یہ ایک فن ہے۔جس کے لیے فن کاری چاہیے۔پروفیسر طارق چھتاری لکھتے ہیں:
”مختصر ترین افسانے لکھنا بہت مشکل کام ہے۔بڑی فنکاری چاہیے۔آپ اس میں کامیاب ہوئے ہیں۔“
ندامت،حق بات،غلط فہمی،عقل،اختیار،عمل،شرمندگی،جانور،نظریہ،مستقبل، خاموش دھماکہ،افسوس،ذمہ داری،سردرد، شرط، سوال، شکایت،فکر،تبدیلی،کامیابی،یہ کیسے۔۔۔،لڑائی،مسیحائی وغیرہ ایسے افسانچے ہیں جنھیں ایک سے زائد بار پڑھنے پر بھی وہی لطف آتا ہے۔ کتاب میں شامل سبھی افسانچوں سے طمانچوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔
کتاب میں شامل افسانچے نہ اقوال ہیں،نہ لطیفے ہیں، نہ فقرے ہیں نہ خبریں ہیں یہ افسانچے ہی ہیں۔ ڈاکٹر ایم۔اے۔حق لکھتے ہیں:”زیر نظر مجموعہ’الجھن‘ میں ان کے افسانچے اس صنف کے شرائط پر کھرے اترتے ہیں۔“
اختتام پر قاری کو چونکا دینا اور سوچنے پر مجبور کر دینا زیر نظر کتاب کے افسانچوں کی نمایاں خصوصیات ہیں۔جس میں سماجی مسائل پر طنز ہے۔ مسائل پر طنز کرنے کا مقصد ان کی اصلاح کرنا ہے۔بیش تر افسانچوں میں سسپینس ہے، تجسس ہے جو اختتام پر ایک دھماکے کے ساتھ کھلتا ہے۔
ناول نگار سلمان عبدالصمد لکھتے ہیں:”آپ کے چند سطری چند افسانچے اس قدر دل چسپ ہیں کہ انھیں بار بار پڑھنے کو دل چاہتا ہے۔سچ یہ ہے کہ میں نے کئی ایک افسانچوں کو کئی ایک بار پڑھا۔میرا ماننا ہے کہ وہی افسانچے کامیاب ہوسکتے ہیں۔جن کی قرأت کے دوران قاری کو کسی بھی لمحے بوجھل پن کا احساس نہ ہو اور نہ ہی وہ کسی فلسفیانہ نکتے پر اٹکے،بلکہ اختتام کے بعد از خودایسی فلسفیانہ فضا قائم ہو جائے کہ قاری ضرور چندسکنڈٹھہر کر اس فلسفیانہ نکتے پر غور وفکر کرے۔آپ کے بیش تر افسانچے اختتام کے بعد سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔افسانچوں کے ذریعہ نئی نسل کی نمائندگی کے لیے مبارکباد۔“
افسانچہ لکھنا بظاہر جتنا آسان نظر آتا ہے اتنا آسان نہیں۔کامیاب افسانچہ نگاری کے لیے چابک دستی اور تخلیقی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے۔زیر تبصرہ کتاب میں شامل افسانچے کسی پٹاخے کی طرح پھٹتے ہیں اور قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔کامران غنی صباؔ کے الفاظ میں:”علیم اسماعیل کی اکثر کہانیاں چونکانے والی ہیں۔بعض کہانیاں صرف چند سطروں پر مشتمل ہیں لیکن قاری کو دیر تک سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔“
ہمیں ضرورت ایسے ادب کی جو لطف اندوزی کے پیرائے میں اخلاقی درس دے۔اور کہانی سے ہمیشہ یہی کام لیا جاتاہے۔بشرطیکہ کہانی دلچسپ ہو اور اس میں بوریت نہ ہو۔ماہنامہ بچوں کا ھلال،رامپور کی مدیرہ سنبلہ کوکب صالحاتی فرماتی ہیں:”جیسے ہی فرصت ملی الجھن کو پڑھا۔مکمل تو نہ پڑھ سکی مگر جتنا بھی پڑھا،الفاظ نہیں ہیں تعریف کے لیے حقیقت سے قریب تر،بہت قریب واہ!!! بہت لطف آیا۔“
اس کتاب کی منفرد خوبی یہ ہے کہ اس میں افسانچے پہلے دیے گئے ہیں، افسانے بعد میں۔اور افسانچے اتنے دلچسپ ہے کہ جو کوئی بھی ایک دو افسانچے پڑھے گا وہ پوری کتاب پڑھے بنا نہیں رہے گا۔
زیرنظر کتاب میں ”الجھن، انتظار،خطا، خوف ارواح، شوکت پہ زوال، قربان، تاک جھانک، خیالی دنیا، مٹھا، اشک پشیمانی کے، وفا، پریشانی،کرب“ افسانے شامل ہیں۔
جن کے موضوعات میں جدت و ندرت،روایت و جدیدیت کا امتزاج ہے۔ ڈاکٹر اسلم جمشید پوری لکھتے ہیں:”علیم اسماعیل کے زیادہ تر افسانچے اور افسانے سماجی مسائل کا عکس ہیں،جو ان کی امنگیں ہیں،اصلاح کا جذبہ ہے اور کچھ نیا کرنے کی دھن ہے۔“ درس و تدریس سے وابستہ ہونے کی وجہ سے محمد علیم اسماعیل کے افسانوں میں تعلیمی مسائل ابھر کر آئے ہیں۔ انتظار، تاک جھانک، مٹھا، تعلیمی مسائل پر منحصر افسانے ہیں۔ افسانہ”الجھن“میں دو بھائیوں کا مضبوط بندھن نفسانیت کا شکار ہو جاتاہے اور کہانی کا اختتام قاری کو چونکا دیتا ہے۔ افسانہ ”انتظار“ نان گرانٹ اسکول پر کام کررہے ایک ٹیچر کی درد بھری کہانی ہے۔یہ مسئلہ مہاراشٹر میں ناسور بن گیا ہے۔اس کہانی کے متعلق سلام بن رزاق فرماتے ہیں: تمہاری کہانی ”انتظار“ پڑھی، کہانی مجھے اچھی لگی۔تم نے ایک ٹیچر کے کرب کو جس طرح بیان کیا ہے وہ ایک ٹیچر ہی کر سکتا ہے۔ افسانہ ”خطا“ وقتی فائدے کے لیے کسی کے جذبات سے کھیلنے اور اس کو صرف استعمال کرنے کا عبرتناک المیہ ہے۔
 افسانہ ”خوف ارواح“ میں ایک بھائی کی اپنی بہن سے والہانہ محبت کو دلکش انداز میں پیش کیا گیا ہے۔اس افسانے میں منظر نگاری کمال کی ہے۔تمام منظر آنکھوں کے سامنے گھوم جاتے ہیں۔ایک بھائی ہے جسے بھوتوں سے بہت ڈر لگتا ہے۔اس نے سن رکھا ہے کہ خود کشی کے بعد مرنے والوں کی روح بھوت بن جاتی ہے اور گاؤں میں موجود قدیم پیپل کے درخت کے ارد گرد بھٹکتی رہتی ہے۔پھر اس کی بہن کی خود کشی سے موت ہو جاتی ہے اور وہ پیپل کے درخت کے پاس بہن کے بھوت سے ملنے چلا جاتا ہے۔ ”شوکت پہ زوال“موجودہ سیاسی ماحول کے پس منظر میں لکھا گیا افسانہ ہے۔ووٹ کی خرید و فروخت،نیتاؤں کی جملے بازی،بھڑکاؤ بیان بازی،پھوٹ ڈالوحکومت کرو اوربے قصورمسلمانوں کوجھوٹے الزامات میں پھنسانا افسانے کا مرکزی خیال ہے۔ افسانہ”قربان“ گھروں میں لڑکیوں کے ساتھ ہونے والے فرق آمیز برتاؤ اور بیٹے کو بیٹی پر فوقیت دینے کی کہانی ہے۔ افسانہ”تاک جھانک“نئے بستے کی چاہت میں ایک غریب بچے کی دم توڑتی امیدوں کی کہانی ہے۔ افسانہ”خیالی دنیا“حقیقی دنیا سے پرے سوشل میڈیا کی خیالی دنیا میں کھو جانے والے لڑکوں کی کہانی ہے۔ افسانہ”مٹھا“ میں بتایا گیا ہے کہ طلبہ کے ساتھ ٹیچر کا غلط رویہ کس طرح طلبہ کو اسکول چھوڑنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ افسانہ”اشک پشیمانی کے“میں ایک سبق آموز واقعہ کے ذریعے ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ افسانہ ”پریشانی“ میں بیٹی کی شادی کا مسئلہ پیش ہوا ہے۔ افسانہ”وفا“ اور”کرب“ میں ماں باپ کے ساتھ بیٹے اور بہو کے برے برتاؤ کو بتایا گیا ہے۔
 ”تاثرات“میں وسیم عقیل شاہ ممبئی،پروفیسر مبین نذیر مالیگاؤں،عقیلہ دہلی،تنویر کوثر یو۔پی اور ایازالدین اشہر کے مختصر تاثرات ہیں۔ آخر میں مصنف کے شخصی کوائف دیے گئے ہیں۔زبان کہیں ادبی تو کہیں عام بول چال کی ہے۔عام قاری بھی اس کتاب کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔بیان میں روانی ہے جو کہیں ٹھہرنے نہیں دیتی۔مکالمے،منظر نگاری،موضوعات،آغاز و اختتام سب کچھ بہترین ہے۔ایسالگتا نہیں کہ یہ موصوف کا پہلا مجموعہ ہے۔کچھ پروف ریڈنگ اور ٹائپنگ کی غلطیاں بھی پائی گئی ہیں۔سرورق نہایت ہی پر کشش اور جاذب نظر ہے۔کاغذ اور طباعت بھی اچھے ہیں۔کتاب کی چھپائی نورانی آفسیٹ پریس مالیگاؤں سے کی گئی ہے جو 128 صفحات پر مشتمل ہے۔ کتاب ملک و بیرون کی مختلف ویب سائٹس پر بھی شائع ہوئی ہے۔     
 ٭٭٭