(افسانوی مجموعہ ’’الجھن‘‘ سے)
کارِ شیشہ گری
قدرت ناظم،ؔ ناندورہ
بڑی خوشی کی بات ہے ہمارے شہر ناندورہ کے نوجوان قلم کار محمد علیم اسماعیل کی تخلیقی سرگرمیاں روز افزوں تیز تر ہوتی جا رہی ہیں۔میں نے ایک عرصہ پہلے ان کی بچوں کے لیے لکھی ہوئی کہانیاں ممبئی اردو نیوز میں پڑھی تھیں۔ ان سے ملاقات کے دوران انھوں نے کئی افسانچے بھی سنائے، جو مجھے بے حد پسند آئے تھے۔
شوق کی کوئی منزل نہیں ہوتی شرر ہاتھ آئے تو وہ ستارے کی طرف لپکتا ہے، اور جب ستارے تک رسائی ہو جائے تو وہ چاند پر کمندیں ڈالنے میں سرگرداں ہو جاتا ہے۔ علیم اسماعیل بھی ان گوناگوں خوبیوں کے مالک ہیں، بڑی فعال اور ہمہ جہت شخصیت ہیں۔
موصوف اعلی تعلیم یافتہ، برسرروزگار، ساتھ ہی ساتھ اردو میں نیٹ اور سیٹ کا امتحان بھی پاس کر چکے ہیں۔
اہل ادب جانتے ہیں کہ افسانچے اور منی افسانہ لکھنا کار شیشہ گری سے کم نہیں ہے۔ موصوف نے بھی اس شیشہ گری والی صنف کو اپنے اظہار خیال کا ذریعہ بنایا ہے اور کئی بہترین افسانے و افسانچے تحریر کیے ہیں جو وقفے وقفے سے اخبارات و رسائل کی زینت بنتے رہے ہیں۔
”الجھن“ ان کے افسانچوں اور افسانوں کا مجموعہ ہے، جس میں انھوں نے اختصار سے کا م لیتے ہوئے نہایت ہی چابکدستی سے اپنی مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔وہ فکشن ایسو سی ایشن، ناندورہ کے صدر بھی ہیں۔
میں اپنے یہ اشعار ان کے عزم اور حوصلے کی نذر کر رہا ہوں۔
اس کو نزدیک جاکے دیکھا ہے
خوب جانچا ہے خوب پرکھا ہے
خاک کا ہو نہ ہو مگر ناظمؔ
آدمی جستجو کا پتلا ہے
No comments:
Post a Comment