Wednesday, 16 September 2020

(افسانوی مجموعہ ’’الجھن‘‘ سے)

اردو افسانچہ روایت اور محمد علیم اسماعیل
معین الدین عثمانی


اردو ادب میں افسانے کی روایت نے داستان کے  بطن سے جنم لیا۔ اور یہ سفر داستان گوئی،قصہ،کہانی سے ہو کر آج افسانچے تک آگیا۔دور بدلتا ہے تو اقدار میں تبدیلی نا گریز ہو جاتی ہے۔مگر اس کے باوجود بنیادی روایتیں اپنی جگہ برقرار رہتی ہیں۔اسی لیے مختلف ادوار میں مختلف تبدیلیاں وقوع پذیر ہونے کے باوجود افسانے کی ساخت آج بھی برقرار ہے۔
افسانچے کے ساتھ المیہ یہ ہے کہ نو واردانِ بساط عجلت پسندی میں افسانے کے بنیادی ستونوں میں سے محض کسی ایک پر افسانچے کی عمارت کھڑی کرنے کی ناکام کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔جس کے سبب عرصہ گزرنے کے بعد بھی افسانچے کی کٹیا کے دیوارودر واضح نہ ہو سکے ہیں۔مگر عجلت پسندوں کی اس بھیڑ میں چند جیالے ایسے بھی ہیں جو روایت کے دامن سے لپٹے ہوئے ہیں اور افسانچے کی آبیاری میں اپنا خون جگر صرف کر رہے ہیں۔محمد علیم اسماعیل کا شمار ایسے ہی فنکاروں میں کیا جائے گا۔ کیونکہ انھیں افسانچے کے توسط سے اپنی بات کہنے کا ہی نہیں پیش کرنے کا بھی سلیقہ ہے۔ توقع ہے کہ جب تک انسانی فطرت میں تجسس کی روش برقرار رہے گی محمد علیم اسماعیل جیسے ادیب اردو کی اس نوزائیدہ روایت کو مضبوط و مستحکم کرتے رہیں گے۔
ایک طرف شاعری نغمگی کے وسیلے سے انسانی دل ودماغ کو سرشار کرتی آرہی ہے تو دوسری طرف کہانی کہنے اور سننے کی فطرت نے تجسس اور خیالی دنیا کی سیر نے ذہن وقلوب  کو مسخر کر کے ادبی ذخار میں اضافہ کیا ہے۔مصروفیت کی اس مشینی دور میں افسانچہ ادب کے بحر ذخار میں کتنی دور اور دیر تک ساتھ نبھائے گا اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا مگر زمام کار آج محمد علیم اسماعیل جیسوں نے سنبھال رکھی ہے تو روشن مستقبل کی امید بندھتی ہے۔یہ بات خوش آئند ہے اس لیے ان کے مزید سفر کے لیے نیک خواہشات۔
اللہ کرے ذوق افسانچہ اور زیادہ....


No comments:

Post a Comment