Saturday, 5 September 2020

محمدعلیم اسماعیل ’رنجش‘ کے آئینے میں
از قلم :  حوالدار سلیم الدین عامر (شیگاؤں)


علیم اسماعیل افق ادب پر ایک چمکتا ہوا ستارہ ہیں۔ آپ کو جہاں تک میں نے پڑھا ہے، 34 افسانوں اور 64 افسانچوں کے خالق ہیں۔ صرف پانچ برسوں میں تقریباً 100 افسانچوں اور افسانوں کے علاوہ مختلف عنوانات پر نپے تلے انداز میں مضامین کا تحریر کرنا موصوف کی تحریری صلاحیتوں کا بین ثبوت ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ الجھن  (اشاعت 2018) میں آپ نے 13 افسانے اور 59 افسانچے پیش کیے تھے، جبکہ زیر نظر کتاب ”رنجش“ (اشاعت 2020) میں 21 افسانے اور 5 افسانچے یکجا کیے گئے ہیں۔
افسانہ ’چھٹی‘ کے یہ دو فقرے، جو افسانے کا اہم کردار اپنے مشفق و مہربان بھائی کے جنازے سے دور، گھر کے باہر بے بسی کی حالت میں، عالم تخیل میں زبان حال سے ادا کرتا ہے:
”تمھاری تکلیف نا قابل برداشت تھی۔ اور آج تمھارا سکون بھی دیکھنا میرے لیے ممکن نہیں ہے۔“
بڑے بھائی کی جدائی پر بے حد محبت رکھنے والے ایک حساس طبیعت بھائی کی زبان سے ادا ہوئے جملے ہیں، جو انتہائی کربناک داستان اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ جو سخت سے سخت دل، قاری  کے دل کو بھی موم کی طرح پگھلا دینے کے لیے کافی ہیں۔ تخلیق کار کے دل کی چوٹ براہ راست قاری کے شیشہ ئدل کو پاش پاش کر ردیتی ہے۔اور ایک غمزدہ بھائی کا پیار ہمیشہ کے لیے بچھڑے ہوئے بھائی کے تئیں اپنی پر تقدس چھبی دلوں پر چھوڑ جاتا ہے۔
اسی افسانے سے یہ عبارت:
”........دیکھو وکیل صاحب جن غریبوں کے کیس تم کم فیس پر یا مفت میں لڑتے تھے وہ تمہارے جنازے کے پاس بار بار آ رہے ہیں، تمھیں دیکھ رہے ہیں اور اپنے آنسوؤں کو پونچھتے جا رہے ہیں۔ شاید انھیں یقین نہیں آ رہا ہے کہ اب تم اس دنیا میں نہیں۔“
 پڑھ کر قاری حیرت زدہ ہوئے بغیر نہیں رہتا کہ اس خود غرض اور فراڈ دنیا میں آج بھی ان وکیل صاحب جیسے فرشتہ صفت چند ایک نفوس ہیں جو انسانیت کی ہچکولے کھاتی کشتی کو بحفاظت ساحل تک پہنچانے کے لیے خاموشی سے کوشاں ہیں۔ مجموعی طور پر افسانہ ”چھٹی“ خونی اور قومی رشتوں کے تقدس کے اظہار کی کامیاب عکاسی ہے۔
افسانہ ’قصور‘ ایک ایسے ویٹر کی شریف النفسی اور زندہ ضمیری کو اجاگر کرتا ہے جو دل شکنی کو پاپ سمجھتا ہے۔ اور اگر بے خیالی کے سبب  وہ سرزد ہو بھی جائے تو اس کے ازالہ کے لیے ہر ممکن تدبیر اختیار کرلینا اپنا اخلاقی فریضہ مانتا ہے۔ کہانی کا پلاٹ اور پیش کش عمدہ ہے۔
مجموعے کا تیسرا افسانہ ’رنجش‘ اصل میں مجموعے کا ٹائٹل افسانہ ہے۔ اس افسانے کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ افسانہ اس کلائمکس پر ختم ہوتا ہے جہاں دوستی کی عظمت دم توڑتے توڑتے یکایک قاری کے قلب و جگر کو اپنے قبضے میں لے لیتی ہے۔ اور قاری پلٹ کر تادیر کہانی کی مختلف کڑیوں میں کھو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ مئی 2020 میں اردوپرتی لیپی (Urdu Pratilipi) نامی خود اشاعتی پورٹل کی جانب سے ’عالمی تحریری مقابلہ‘ عنوان سے کہانی مقابلہ منعقد کیا گیا تھا، جس میں پوری دنیا سے 500 سے زائد کہانیاں شاملِ مقابلہ ہوئی تھیں اور جس میں ابتدائی دس کہانیاں جیت کی حقدار قرار پائی تھیں۔ اس مقابلے میں محمد علیم اسماعیل کے اسی افسانے ’رنجش‘ نے چھٹا مقام حاصل کیا تھا۔ جیتنے والوں میں ہندوستان سے علیم اسماعیل اکیلے تھے۔ (بحوالہ: روزنامہ ممبئی اردو نیوز، بروز سنیچر 13 جون 2020)
افسانہ ’شب سرخاب‘ ارقم اور اجالا (دیور، بھاوج) کے شیطانی و شہوانی تعلقات کی کرب ناک کہانی ہے۔ اگر یہ کسی حقیقی واقعہ کی بازگشت یا کاپی ہے تو اسکی پیروی حد درجہ قابل مذمت ہے۔ اور اگر تخیلاتی تانے بانے کی اپج ہے تو خدا اس کی تقلید سے نوجوان نسل کو محفوظ رکھے (آمین)۔ یہ افسانہ پڑھ کر محسن انسانیت حضرت محمد صل اللہ علیہ و سلم کے ایک فرمان مبارک کا مفہوم بر محل افق ذہن پر آنے لگتا ہے: ”دیور تو بھابی کے لیے موت ہے۔“ اسی افسانے کی عبارت ”اس کے بعد ارقم کو میں نے کبھی روکنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ دونوں روز ملتے رہے اور تل تل مرتے رہے۔“ یہ دو جملے بیگم ارقم کے انتقام کی آگ کی شدت کا پتہ دیتے ہیں۔ کس طرح ایک پھول کو حالات نے انگارہ بنا دیا تھا، سمجھانے میں علیم اسماعیل کا قلم کامیاب ہے۔
کہانی ’ریجیکٹ‘ اور ’حادثہ‘ کے پلاٹ مضبوط ہیں۔ خود سروں اور دولت کے پجاریوں اور لالچیوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے ایک یاد دہانی ہے، ایک تازیانہ ہے۔
”۔۔۔۔بھروسہ رشتوں کا حسن ہے۔ ایک دفعہ جب بھروسہ ٹوٹ جائے تو وہ اپنی خوبصورتی اور مضبوطی کھو دیتا ہے۔“
یہ کہانی ’اجنبی‘ کے بد قسمت کردار کے وہ بول ہیں جن سے چشم پوشی و اغماض نے خود اس سے اس کی اپنی دنیا چھین لی۔ علیم اسماعیل کے لفظوں کا انتخاب اور جملوں کی بندش بہت خوب ہے۔
افسانہ ’سودا‘ ایک زوال آمادہ معاشرے کی کہانی ہے۔جہاں نہ عورت کا مقام و مرتبہ کوئی اہمیت رکھتا ہے، نہ اس کے تقدس کا خیال کیا جاتا ہے اور نہ ازدواجی تعلقات کا لحاظ۔ بس ذہنوں پر جھوٹا پیار اور پیسہ سوار ہے۔ یہ دھوکہ، فراڈ اور نا فرمانی کی انتہائی کرب ناک داستان ہے، جس میں نوجوانوں کی مذہب بیزاری،بے دینی اور بے راہ روی کا تذکرہ پڑھ کر ایک غیرت مند قاری کا دل افسردہ ہو جاتا ہے۔ افسانے کی کردار ’روشنی‘ کی طرح کتنی ہی لڑکیاں ہیں جو خود پسندی اور خود فریبی کا شکار ہو کر اپنی زندگیاں ہی نہیں اپنا ایمان بھی برباد کر لیتی ہیں۔
’گریما‘، سماجی رجحان پر مبنی ایک حالات کی ماری، بھولی بھالی دوشیزہ کی الم ناک روداد ہے، جسے سفاک ذہنیت نے،پاپیوں کے پاپ دھونے والی ایک میلی سی گنگا بنا کر اس دوراہے پر لا کھڑا کیا جہاں وہ طے نہیں کر پاتی کہ کس طرف جائے۔ آیا اس طرف جہاں اپنوں کی شعلہ بار آنکھوں سے اگلتی ہوئی نفرت اسے بھسم کر دینے کے در پے ہوگی یا اس دشا میں چل پڑے جہاں آتم ہتیا کی مرتکب ہو کر سماج کی گریما کے تابوت میں مزید ایک کیل ٹھونک دے۔
افسانہ ’وقت‘ کے ان جملوں کی کاٹ دیکھیے:
”پیسے کے لیے ناطہ توڑنے والے اب پیسے چھپانے کے لیے رشتہ دار ڈھونڈ رہے تھے۔ جن لوگوں نے نوٹ کی بجائے دوست جمع کیے تھے انھیں کوئی پریشانی نہیں تھی، کیونکہ دوست تو پرانے بھی چل رہے تھے۔“
نہایت کارگر اور تیر بہدف جملے ہیں۔ چار برس پہلے نوٹ بندی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے ناگفتہ بہ حالات پر ایک خوبصورت تنقید ہے،جو کم سخن ناقد علیم اسماعیل کی نوک قلم سے اس شان سے نکلی ہے کہ پیسے کے پجاری اگر اس کی عظمت کو سمجھ لیں تو آج بھی کئی جانوں کو بے وقت کی موت سے بچایا جا سکتا ہے۔ اور غربا کی دل جوئی کا سامان کر کے خود مختار بھارت کے سپنے کو ساکار کیا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ میں پہلے بھی ایک موقع پر یہ کہہ چکا ہوں کہ علیم اسماعیل کے افسانوی ادب میں تفہیم عہد کی جھلک، سماج کی سفاکانہ ذہنیت سے پردہ کشائی کے علاوہ سماجی، معاشی اور اقتصادی نظام الوقت پر سنجیدہ تنقید بآسانی دیکھی جا سکتی ہے۔ عصری حقائق کی پردہ فاشی اور سماجی نا ہمواری ان کے افسانوں اور افسانچوں کا موضوع و محور ہے۔ کہانی ’زہر‘ کا یہ پیراگراف ملاحظہ فرمائیں۔
”اب دوبارہ الیکشن ہونے والے تھے اور وہ (سپنوں کا سوداگر،سیاسی لیڈر) پریشان ہو گیا تھا۔ اس کا جادو پھیکا پڑ رہا تھا۔ لوگ اس کی چال بازیوں کو سمجھ چکے تھے۔ بے روزگار نوجوان سڑکوں پر جلوس نکال کر اس کی مخالفت میں اتر آئے تھے۔ اب وہ سوچ رہا تھا کہ ایسا کوئی کرشمہ ہو جائے، یکایک فضا بدل جائے اور ماحول اس کے لیے سازگار ہو جائے۔“
انسانوں کے بھیس میں موجود بھیڑیوں کی نفسیات کو ظاہر کرتا ہے، جو اپنے شیطانی منصوبوں کو پائے تکمیل تک پہنچانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتے۔ بے گناہوں اور معصوموں کے لہو کی ان کی نظر میں کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ کہانی کے وسط کی یہ چند سطریں کہانی کے آغاز اور انجام سے کچھ اس طرح مربوط ہیں کہ قاری بخوبی یہاں رک کر اندازہ کر لیتا ہے کہ کہانی کا اختتام ایک بھیانک واردات پر ہی ہونا ہے۔ مگر کیسے؟ یہ جاننے کے لیے اگلے فقرے اور واقعات آخر تک اس کے تجسس کو برقرار رکھتے ہیں۔
خود کلامی کے پیرائے میں لکھا گیا افسانہ ’یہ ماجرہ کیا ہے!‘ ایک مانوس سے سانحہ کی بازگشت ہے۔ لیکن اس کے بین السطور سے جو پیغام ابھرتا ہے وہ قابل توجہ ہے۔ عام حالات میں مصیبت زدوں کی مدد کا جو تصور ہماری عملی زندگی سے قریب قریب غائب ہو گیا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اہم ترین سچویشن میں بھی ہم ذہنی طور پر اس کے لیے خود کو تیار نہیں کر پاتے کہ ایک تماشائی بنے کھڑے رہنے کی بجائے فوراً سے پیشتر ایک مددگار کا کردار نبھانا چاہیے۔ اور یہی بات اس افسانے کے ذریعے سمجھائی گئی ہے۔
نہی عن المنکر کے علمبردار بھی کبھی کبھی بشری کمزوریوں کا کس طرح شکار ہو جاتے ہیں،
اس کی ایک جھلک افسانہ ’منٹو‘ میں بڑے موثر انداز میں پیش کی گئی ہے۔
’رنجش‘ کے کسی بھی افسانہ کو پڑھتے وقت قاری کو یہ نہیں لگتا کہ وہ کسی جادوئی دنیا میں بھٹک رہا ہے۔ یا خوابوں کی دنیا کی سیر کر رہا ہے۔ کیونکہ یہ تمام افسانے زمینی حقائق پر مشتمل ہیں۔ افسانچے ‘تعلیم‘ اور ’مسکراہٹ‘ موجودہ سیاسی منظر نامہ پر خوبصورت تنقید ہے۔
علیم کے یہاں واقعات منطقی تسلسل کے ساتھ وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ تخیلاتی بیان پر انھیں قدرت حاصل ہے۔ بیانیہ اسلوب پر ان کی مضبوط گرفت کہانی کی تفہیم میں مددگار ثابت ہوتی ہے، جس سے قاری اکتاہٹ کا شکار نہیں ہو پاتا۔ کفایت لفظی کا حتی الامکان خیال رکھتے ہیں، نیز اسراف لفظی شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ افسانہ کے اجزائے ترکیبی جیسے پلاٹ، پس منظر، کردار، مکالمے، زبان و بیان کی سلاست و پاکیزگی اور نقطہئ نظر میں توازن کو صاف محسوس کیا جا سکتا ہے۔
ان کی اکثر کہانیوں میں وحدت تاثر اور کلیت پورے سلیقے سے برتے جاتے ہیں۔ منجملہ یہ کہتے ہوئے مجھے اطمینان ہے کہ زیر نظر مجموعے کے سبھی افسانے، صنف افسانہ کی تعریف پر کھرے اترتے ہیں۔ اور یہ پیشن گوئی کرتے ہوئے مجھے کوئی جھجک بھی نہیں ہے کہ ان شاء اللہ العظیم آپ مستقبل قریب میں بھی اپنے اسی فن کے ذریعے(مثبت تنقید کے سہارے) جہاں اصلاح معاشرہ کا فریضہ بحسن و خوبی انجام دینے کی سعی کرتے رہیں گے وہیں اپنے قلم کو نئے موضوعات کی سمت میں پیش قدمی کا شرف بخشتے ہوئے فن کی اعلی اڑانیں بھر کر اپنی نیک نامی کے نئے باب مرتب کریں گے۔ اس ہدف کو پانے کے لیے انھیں البتہ میانہ روی کا ایک مشورہ ضرور ہے۔
٭٭٭٭٭

No comments:

Post a Comment