رنجش:ایک تعارف
ڈاکٹر منصور خوشتر
ایڈیٹر سہ ماہی دربھنگہ ٹائمز
محمد علیم اسماعیل نے اپنی تعلیم سے فراغت کے بعد درس و تدریس کے پیشے کو اختیار کیا۔ اردو مضمون میں NETاور SETکرنے پر AIITAنے انہیں ۲۲/ اپریل ۸۱۰۲ء کو اعزاز سے نوازا۔ وہ فکشن ایسویشن ناندورہ کے صدر بھی ہیں۔
پیش نظر کتاب ”رنجش“ سے قبل ان کے افسانوں اور افسانچوں کا مجموعہ ”الجھن“ منظر عام پر آچکا ہے۔ کئی کتابیں زیر طبع ہیں۔ اس مجموعے میں ۱۲/ افسانے اور ۵/ افسانچے ہیں۔ اپنے پیش لفظ ”اپنی بات“ میں محمد علیم اسماعیل لکھتے ہیں:
”ماں باپ کی دعاؤں کے صدقے میں اپنے ہر نیک مقصد میں کامیاب ہوتا رہا۔ میرا دوسرا افسانوی مجموعہ ”رنجش“ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ ۸۱۰۲ء میں میرا پہلا افسانوی مجموعہ ”الجھن“ شائع ہوا تھا۔ ادبی حلقوں میں اس مجموعے کی جو پذیرائی ہوئی، اس کے لیے میں تمام ادب نوازوں کا بے حد ممنون ہوں۔ زیر نظر مجموعے میں جن موضوعات پر قلم اٹھایا، وہ میں نے نہیں چنے بلکہ ان موضوعات نے مجھے مجبور کیا۔“
نورالحسنین، اورنگ آباد، دکن اور محمد بشیر مالیر کوٹلوی نے اپنے تاثرات کا اظہار ان کے افسانوں کے حوالے سے بہت بہترین انداز میں کیا ہے۔ کتاب میں شامل پہلا افسانہ ”چھٹی“ ہے۔ اس افسانے میں گھر کا ایک بڑا بیٹا بڑا ہی وفادار ہے۔ وہ اپنے چھوٹے بھائیوں کی پڑھائی لکھائی کا نظم اس طرح کرتا ہے جیسے ایک باپ اپنے بیٹوں کے لیے کرتا ہے۔ و ہ وکالت کے پیشے سے منسلک ہے۔ وہ اکثر ویسے لوگوں کے مقدمات لڑتا ہے جو ستائے گئے، بے بس اور مظلوم لوگ ہیں۔ ایک دن وہ سخت بیمار پڑجاتا ہے۔اس کی زندگی کافی مایوس کن ہوجاتی ہے۔ وہ اپنے بال بچوں کے بارے میں سوچتا ہے کہ اگر وہ زندگی سے ہار گیا تو اس کے بال بچوں کا کیا ہوگا۔پھر وہی ہوتا ہے جو اس کی سوچ ہے۔ وہ اپنی زندگی سے ہار جاتا ہے۔ افسانہ نگار محمد علیم اسماعیل نے بڑے ہی خوبصورت اور دردناک اندا ز میں اس کہانی کو افسانوی پیکر عطا کیا ہے۔
دوسرا افسانہ قصور کے عنوان سے ہے۔ اس میں افسانہ نگار کے اسلوب اور مکالمے کافی بلند درجے کے ہیں۔ ملاحظہ کریں ان کے اس افسانے کا چھوٹا سا اقتباس:
”میں نے جیب سے موبائیل نکالا اور اس میں مگن ہوگیا۔ پھر اچانک وہ نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ میں نے سکون کی سانس لی، لیکن وہ سامنے سے آتا ہوا دکھائی دیا۔ اس کے ایک ہاتھ میں ناشتہ تو دوسرے ہاتھ میں پانی کی بوتل تھی۔
”صاحب لیجئے ناشتہ!“ اس نے قریب آکر کہا۔
”اس کی کیا ضرورت تھی میں اتنی جلدی ناشتہ نہیں کرتا۔“
”صاحب سفر لمبا ہے۔ ساتھ رکھ لیجیے۔“
اس کی بک بک پھر شروع ہوگئی تھی۔ خود ہی باتیں کرتا، خود ہی ہنستاجاتا۔ میں اس سے چھٹکارا پانا چاہتا تھا۔“
اگلا افسانہ ”رنجش“ ہے جو اس کتاب کا عنوان بھی ہے۔ اس افسانہ میں دو وست کی کہانی ہے۔ کاشف اور کاظم دو گہرے دوست تھے۔ ایک دن کاظم سخت بیمار پڑ جاتا ہے۔ اس کے دوست کی بیوی اسے جگانے آتی ہے۔ وہ زور زور سے دروازے کھٹکھتاتی ہے اور آواز دیتی ہے لیکن کاشف نہیں جاگ پاتا ہے اور اگر جاگ بھی جاتا ہے تو سستی میں اپنے نرم بستر پر پڑا رہتا ہے۔ اس کی بیوی مایوس ہوکر چلی جاتی ہے۔ کچھ دیر کے بعد وہاں کاشف پہنچتا تو تو دیکھتا ہے کہ اس کے دوست کی بیوی رو رہی ہے۔ پتہ چلتا ہے اس کا دوست کاظم اللہ کے پاس جاچکا ہے۔
یہ تو افسانوں کی باتیں ہوئیں۔ اب کچھ باتیں افسانچوں کی کرتا ہوں۔ علیم اسماعیل کے افسانچوں میں بھی ایک معیار نظر آتا ہے۔ ایک افسانچہ ”مسکراہٹ“ اس کتاب میں شامل ہے۔ یہ سیاسی لوگوں پر طنز ہے۔ وزیر صاحب باتھ روم پر لکھا ہوا لفظ Sheنہیں پڑھ پاتے ہیں اور عورتوں کے باتھ روم میں گھس جاتے ہیں۔ اب ان دنوں الیکشن میں کوالی فیکیشن دیکھا جانے لگا ہے تب سے نتیاؤں میں جعلی سرٹیفکیٹ دینے کی ہوڑ لگی ہوئی ہے۔ افسانچہ پردہ میں بھی اچھا طنز کیا گیا ہے۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ مسلم عورتیں برقعہ پہن کر مارکیٹ میں کھلے منہ گھومتی دیکھی جاتی ہیں اور جہاں کوئی جاننے والا سامنے آجاتا ہے تو نقاب سے اپنا چہرہ ڈھک لیتی ہیں۔ یہ کیسا پردہ ہے ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
جنون کے عنوان سے ایک منی کہانی ہے۔ اس کہانی میں ایک لڑکا فیس بک کا دیوانہ ہے۔ وہ فیس بک کے ذریعے ہی ایک لڑکی پر عاشق ہوجاتا ہے۔ میسج کا دور چلتا رہتا ہے۔ عاشقی کافی پروان چڑھنے لگتی ہے۔ ایک دن میسج آنا بند ہوجاتا ہے۔ لڑکا بے چین ہو اٹھتا ہے۔ آخر میں ایک پیغام آتاہے کہ ”یار میں کوئی لڑکی نہیں بلکہ ایک لڑکا ہی ہوں۔ ان دنوں یہ خوب ہورہا ہے کہ لڑکی کے نام پر فیک ایڈریس بناکر پیش کیا جاتا ہے۔ بے وقوف بنانے کا یہ ایک اچھا ذریعہ ہے۔
”ریجیکٹ“ ایک عمدہ افسانہ ہے۔ اس میں منظر کشی اور مکالمہ نگاری عروج پر ہے۔ بیٹے اور ماں کے درمیان گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ ماں بیٹے سے سوال کرتی ہے فوٹو پسند ہے یا نہیں دیکھیے لڑکا کیا جواب دیتا ہے:
”اس دن وہ موبائل پر اپنی امی سے بات کر رہے تھے۔ اور امی نے پوچھا تھا”فوٹو کیسی لگی؟“
”ہاں اچھی ہے۔ لڑکی خوبصورت ہے لیکن لوگ کیسے ہیں؟“
”بڑے شریف لوگ ہیں۔ اور ہاں غریب ہیں لیکن عزت دار بھی۔ لڑکی پڑھی لکھی ہے، خوبصورت ہے، سلیقہ مند ہے، مجھے تو بہت پسند آئی۔“
”ریجیکٹ کردو۔“
”ارے کیوں بیٹا؟“
”میں نے کہا تھا نہ کہ بڑی پارٹی چاہیے۔“
”لیکن بیٹا........“
امی کی بات ادھوری رہ گئی اور اس نے کال کاٹ دی۔
ایک افسانچہ ”تعلیم“ کے عنوان سے ہے۔ اس میں بھی ایک سیاسی رہنما پر طنز ہے۔ وہ چیخ چیخ کر تقریر کرتا ہے کہ ”میرے پیارے بھائیو اور بہنو۔ ہم نے گھر گھر تک تعلیم پہنچائی ہے۔ اب ملک کا ہر شہری پڑھا لکھا ہوگیا ہے۔“
تقریر ختم ہوئی۔ منتری جی ٹوائلٹ گئے۔ الٹے ہی پاؤں وہ واپس لوٹ گئے۔ معلوم ہوا کہ وہ عورتوں کے ٹوائلٹ میں پہنچے ہوئے تھے۔ کیوں کہ ٹوائلٹ پر مرد، عورت لکھا ہوا تھا۔ لیکن منتری جی تو جاہل تھے۔ یعنی اپنی تقریر میں پڑھنے لکھنے کی باتیں کر رہے تھے لیکن خود جاہل تھے۔ یہ ایک بڑا سماجی المیہ ہے۔ ایک بڑی تعداد میں پڑھے لکھے لوگوں کے ذریعہ منتخب کیا ہوا رہنما جاہل ہوتا ہے۔ یہ عجب بات ہے۔
”تجربہ“ ایک افسانچہ ہے۔ اس میں افسانہ نگار علیم اسماعیل نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ انسان کی زندگی میں تجربات و مشاہدات کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ وہ لاکھ پڑھا لکھا ہوا لیکن تجربہ ہر موڑ پر اس کے کام آتا ہے۔ تجربہ کام کرنے سے ہوتا ہے، صرف ڈگریاں حاصل کرنے سے نہیں۔
اس طرح افسانہ نگار نے اپنے افسانوں اور افسانچوں میں ایک پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کے افسانے اور افسانچے قارئین کے ذہن کو جھنجھوڑتے ہیں۔ اسے سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ ان کے افسانوں کی ایک بڑی خوبی ہے۔
٭٭٭
No comments:
Post a Comment