محمد علیم اسماعیل کی کہانیوں میں
سماجی مسائل کی عکاسی
تنویر کوثر(عریبہ خان)، اتر پردیش
یہ دیکھ کر نہایت ہی خوشی ہوتی ہے کہ ہماری نوجوان نسل میں کئی ایسے فنکار سامنے آئے ہیں۔ جنھوں نے نہ صرف اردو ادب کی فلاح کے لیے قدم اٹھایا بلکہ اس کی ترقی و بہبودی کے لیے ہر وقت متحرک نظر آتے ہیں۔ محمد علیم اسماعیل کا نام اُن ہی نوجوان قلم کاروں کی فہرست میں آتا ہے۔ علیم کے افسانے و افسانچے اردو کے کئی رسالوں میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ انکا افسانوی مجموعہ ”الجھن“ منظر عام پر آ چکا ہے۔ جس کے ابتدائی صفحات پر ڈاکٹر ایم۔اے۔حق،ڈاکٹر اسلم جمشید پوری، معین الدین عثمانی، قدرت ناظم اور اعجاز پروانہ کے مضامین شامل ہیں۔ مضامین میں علیم کی کہانیوں پر مختصر روشی ڈالی گئی ہے۔ مجموعہ میں کل 59 افسانچے اور 13 افسانے شامل ہیں۔
تمام افسانے دلچسپ اور حقیقت پر مبنی ہیں۔ علیم نے بیشتر کہانیوں میں موجودہ دور کی معاشرتی پریشانیوں پر روشنی ڈالی ہے۔ کچھ افسانوں میں اس قدر حقیقت کی عکاسی کی گئی ہے کہ افسانے کا واقعہ آنکھوں دیکھا حال معلوم ہوتاہے۔ ”شوکت پہ زوال“،”مٹھا“، ”الجھن“ افسانوں میں حقیقت نگاری کا عنصر کثرت سے واضح ہوا ہے۔ ان افسانوں کی زبان و بیان سادہ و سلیس ہے۔ کہانی میں شروع سے آخر تک دلچسپی قائم رہتی ہے۔
افسانہ ”مٹھا“ میں علیم نے ایک خاص طبقے کی اصلاح کرنے کی کوشش کی۔ غور کیا جائے تو گاؤں میں یہی صورتحال ہے۔ جہاں پر بچے حقیقت میں تعلیم کو بوجھ سمجھتے ہیں اور اساتذہ کا خوف انھیں اسکول سے دور رکھتا ہے۔ اس لیے بچے اسکول سے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض اساتذہ کی سختی اور لاپرواہی اوسط رفتار سے سیکھنے والے بچوں کا مستقبل برباد کر دیتی ہے۔ اس طرح کے بچے ساتویں آٹھویں جماعت میں آکر پڑھنا لکھنا بھی سیکھ نہیں پاتے۔ ان بچوں میں بھی سیکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے لیکن اساتذہ بچوں کو اور ان کے حالات کو سمجھے بغیر ان پر سختیاں شروع کر دیتے ہیں۔ یہیں سے بچوں کل زوال شروع ہو جاتا ہے۔ اس افسانہ میں علیم نے بہت اہم موضوع کو بڑی کامیابی کے ساتھ برتا ہے افسانہ ”مٹھا“ کی آخری اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
''میں نے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا---- کیا ارمان نہیں آیا؟ نہیں سر وہ نہیں آیا اس کے ابا نے کہا کہ ارمان ساتویں جماعت میں آگیا ہے لیکن ابھی تک اسے پڑھنا لکھنا نہیں آرہا ہے۔ اس سے بہتر یہی ہے کہ وہ محنت مزدوری کرے اور ہمارا سہارا بنے اس لیے ارمان اب سے کام پر جائے گا اسکول نہیں آئے گا۔“
افسانہ ”اشک پشیمانی کے“ اصلاحی افسانہ ہے۔ افسانہ کا مرکزی کردار روشنی ہے۔ جو اپنے شوہر کی ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی عادت کو موضوع بنا کر ان سے بحث کرتی ہے لیکن ایک حادثہ کے بعد اسے احساس ہو جاتا ہے کہ اس کے شوہر لوگوں کی مدد کرکے بھلائی کا کام کرتے ہیں۔
افسانہ ”تاک جھانک“ غریب بچوں کی حسرتوں کی ترجمانی کرتا ہے۔ دانیال اپنی تمام حسرتوں کو مار مار کر زندگی گزار رہا ہے۔ لیکن جب اس کے ساتھی اس کے پھٹے ہوئے اسکولی بیگ کو لے کر مذاق اڑاتے ہیں تو وہ اپنی ماں سے ایک نئے بیگ کی فرمائش کرتا ہے۔ اس کے والدین نیا بیگ دلانے کا صرف وعدہ کرتے ہیں۔ دانیال کو جب یہ خبر ملتی ہے کہ اسکول کے چیئر مین صاحب تمام بچوں کو نیا بیگ اور یونیفارم دینے والے ہیں تو خوشی میں اسے رات بھر نیند نہیں آتی افسانہ ”تاک جھانک“ سے ایک اقتباس پیش کرتی ہوں:
”کل نیا بستہ اور نیا ڈریس ملنے والا ہے اس خوشی میں دانیال کو رات بھر نیند بھی نہیں آئی۔ وہ رات بھر نیا بستہ اور نیا ڈریس کے متعلق سوچتا اور من ہی من خوش ہوتا۔ پھر اس نے سوچا اب سو جانا چاہیے ورنہ نیند کا خمار آنکھوں میں باقی رہنے کی وجہ سے کل صبح کوئی پریشانی نہ ہو جائے لیکن ایک عجیب سی خوشی جو اس کے سینے میں پھڑ پھڑا رہی تھی اس خوشی کے مارے اس کی آنکھیں ہی جھپکنا بھول گئی تھیں۔“
افسانہ ”انتظار“ نان گرانٹ اسکولوں کے اساتذہ کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس کی کہانی دلچسپ اور موثر ہے۔ افسانہ کا اختتام اس قدر غموں میں ڈوبا ہوا ہے کہ قارئین کو جھکجھور کر رکھ دیتا ہے۔ افسانہ کی آخری چند لائنیں پیش کرتی ہوں:
”دھیرے دھیرے بالوں میں سفیدی اترتی گئی نظر کی عینک لگ گئی آنکھوں پر لگی عینک تو لوگوں نے دیکھی لیکن اسکے پیچھے چشم پر آب کسی کو نظر نہ آئی اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ گھونٹ کر سال در سال گزر گئے۔۔۔۔ وقت پر لگا کر اڑتا رہا اور میں نان گرانٹ پر ہی ریٹایر ہو گیا۔“
افسانہ ”انتظار“ پر تبصرہ کرتے ہوئے سلام بن رزاق رقم طراز ہیں۔۔
”تمہاری کہانی انتظار پڑھی کہانی مجھے اچھی لگی تم نے ایکٹیچر کے کرب کو جس طرح بیان کیا ہے وہ ایک ٹیچر ہی کر سکتا ہے چونکہ میں بھی ایک ٹیچر رہ چکا ہوں اس لیے مسائل کو سمجھ سکتا ہوں۔“
سلام بن رزاق کے اس اقتباس سے اتفاق کرتے ہوئے میں اپنے رائے بتانا چاہتی ہوں کہ علیم نے اپنے افسانوں میں ٹیچر کا کرب، طالب علموں کا کرب، غریب بچوں کا کرب اور والدین کا کرب پیش کیا ہے۔ جو یقیناً پورے سماج کا کرب ہے۔ افسانوں کے اسلوب سادہ ہیں۔ زبان آسان اور عام فہم ہے۔ کہیں کہیں پروف ریڈنگ کی غلطیاں ہیں۔ ایک دو افسانے کی زبان زیادہ بہتر ہے۔ افسانہ ”خطا“ کا انداز بیان دلکش ہے۔ امید ہے کہ آئندہ علیم کے افسانوں میں اور بھی نکھار اور دلکشی ہوں گی۔
٭٭٭
No comments:
Post a Comment