(افسانوی مجموعہ ’رنجش‘ سے انتخاب)
افسانے کا مستقبل:علیم اسماعیل
محمد بشیر مالیر کوٹلوی
جدیدیت کی بات کریں تو ادب کے اس دور نے اردو افسانے کو بہت نقصان پہنچایا۔ افسانے کی ہیئت اور اس کی روح سے کھلواڑ کیا۔ بے چارے افسانے سے پلاٹ چھین لیا گیا تھا اور اس کے اسلوب کو بھی بدل ڈالا گیا تھا۔ ہم لوگ نقال ہیں۔ آغاز سے ہی مغربی ادب کی نقل کرتے آئے ہیں۔ اس کے نئے نئے فیشن اپناتے چلے آئے ہیں۔ تجریدیت بھی مغربی ادبی فیشن کی دین تھی۔ ہوا یوں کہ سیدھی سادی بیانیہ کی ڈگر چھوڑ کر زیادہ تر افسانہ نگار اشاروں اور کنایوں میں بات کرنے لگے۔ عام قاری تو ان کے اشاروں اور علامتوں کو کیا سمجھتا، تخلیق کار خود ایک دوسرے کو سمجھ نہیں سکتے تھے۔ علامتیں اس دور میں ادب کے معیار کی ضامن بن گئی تھیں۔ علامتی ادیب ایک کڑوی سچائی کو بھول گئے کہ دنیا کا ہر ادب قاری کی پسندیدگی کا محتاج ہوتا ہے۔ وہی ادب نمو پاتا ہے جو قاری کی چاہت کے مطابق ہو۔ علامتی ادب کا بھی حال یہی ہوا۔ الجھی ہوئی علامتوں سے قاری بہت جلد اکتا گیا۔ لیکن کچھ ایسے جیالے افسانہ نگار بھی تھے جو علامتوں کے دور میں بھی بیانیہ افسانے تخلیق کرتے رہے۔ وقت نے افسانے سے علامت، تجرید اور تمثیل نوچ کر پھینک دی۔ کچھ زیادہ پڑھے لکھے افسانہ نگار آج بھی علامت کی بیساکھیوں اور شاعرانہ لفاظی کے سہارے چل رہے ہیں۔ افسانوں کی محفل میں جب ایسے افسانہ نگار افسانہ پڑھتے ہیں تو ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ سننے والوں کے چہرے لٹک جاتے ہیں۔ کیوں کہ الجھی ہوئی علامتیں حاضرین کی سمجھ سے بالاتر ہوتی ہیں۔ پاکستان میں علامتی افسانے آج بھی لکھے اور پڑھے جاتے ہیں۔ لاہور کی ایک افسانوی تقریب میں ایک صاحب نے مجھ سے سوال کیا کہ میرے افسانوں میں علامت کیوں نہیں ہوتی؟ میرا جواب تھا کہ بھائی میں دنیا کی بڑی جمہوریت کا شہری ہوں۔ بولنے اور براہ راست لکھنے کا مجھے قانونی حق حاصل ہے۔ میں اشاروں اور کنایوں میں بات کیوں کروں۔ علامت آپ کی مجبوری ہے، میری نہیں۔
علیم اسماعیل خالص بیانیہ افسانے تخلیق کرتا ہے۔ اگر میں کہوں کہ علیم اردو افسانے کا مستقبل ہے تو شاید درست ہی ہوگا۔ جب ہم اس جہاں سے چلے جائیں گے تو اردو ادب کی خدمت یہی نوجوان نسل کرے گی۔ ادب کی ذمے داری ان ہی کے کاندھوں پر ہوگی۔ جب ہم نوجوان تھے تو جوگندر پال، فکر تونسوی، ظفر پیامی، رام لعل وغیرہ بزرگ ہمیں دیکھ کر کہتے تھے کہ ہم ادب کا مستقل ہیں۔ اب ہمارے سامنے علیم اسماعیل، سلمان عبدالصمد، عمران عاکف خان، وسیم عقیل شاہ، ارشد منیم اور غزالہ اعجاز ہیں جو ادب کا مستقبل ہیں۔ ہمیں ان سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ علیم اپنے ہم عصروں سے خصوصاً الگ ہے۔ علیم افسانے اور افسانچے ہی تخلیق نہیں کرتا، اپنے سینئرز کی تخلیقات کے تجزیے بھی کرتا ہے، ان کے فن اور شخصیت پر بھی لکھتا ہے۔
افسانوں پر تجزیہ وہی ادیب یا نقاد کرسکتا ہے جو افسانے کے رموز سے واقف ہو۔ میں تخلیق سے تنقید کو زیادہ مشکل کام سمجھتا ہوں۔ یہ دور علیم کے ادبی سفر کا آغاز ہی ہے۔ ابھی سے یہ ہونہار ادیب تنقید کی طرف راغب ہو گیا تو آگے چل کر کیا ہوگا۔ میں علیم کو اکثر کہا کرتا ہوں کہ علیم تنقید کا مستقبل مجھے تاریک ہی نظر آتا ہے۔ تم تنقید پہ زیادہ کام کرو تو بہتر ہے۔ فن کار مشورے تو سب کے سنتا ہے مگر چلتا اس ڈگر پر ہے جس طرف اس کی طبیعت کا رجحان ہو۔ علیم میں ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنے بڑوں کی بات سنجیدگی سے سنتا ہے، بحث نہیں کرتا، اپنے سینئرز کی عزت کرتا ہے۔ اس کی یہی عادت اسے ایک دن بڑا ادیب بنائے گی۔ ان شاء اللہ!
پچھلے دھاکے سے مہاراشٹر میں تو جیسے افسانچوں کی باڑھ آگئی۔ جسے دیکھو دو چار سو افسانچے لکھے بیٹھا ہے اور ادب میں سیندھ لگانے کی کوشش میں ہے۔ یار لوگوں نے افسانچہ تخلیق کرنا اتنا آسان سمجھ لیا۔ افسانہ سے افسانچہ تخلیق کرنا بہت مشکل ہے۔ اس افسانچوں کی باڑھ نے افسانچے کا معیار گھٹا دیا۔ علیم کی خوبی یہ ہے کہ یہ دوسرے افسانچہ نگاروں کی طرح تھوک میں افسانچے تخلیق نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ علیم کے افسانچوں میں معیار نظر آتا ہے۔ علیم کے افسانچوں کی بات کریں تو افسانچہ ”مسکراہٹ“ سیاسی لوگوں پر بھرپور طنز ہے۔ وزیر صاحب باتھ روم پر لکھا ہوا لفظ Sheنہیں پڑھ پاتے اور عورتوں کے باتھ روم میں گھس جاتے ہیں۔ آج کل الیکشن میں کوالیفکیشن دیکھی جانے لگی ہے۔ اسی لیے سیاسی لوگ الیکشن کمیشن کو جعلی سرٹیفکیٹ پیش کرنے لگے ہیں، یہ الگ موضوع ہے۔ افسانچہ ”پردہ“ میں اچھا طنز ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے مسلم خواتین مارکیٹ میں برقعہ پہن کر کھلے منہ گھومتی پھرتی ہیں اور جہاں کوئی جاننے والا دیکھا وہی پردہ گرا لیا۔ ”جنون“ یہ ایک منی کہانی ہے، جس میں لڑکا فیس بک پر ایک لڑکی پر فدا ہو جاتا ہے۔ میسج کے ذریعے عاشقی جنون کی حد تک پہنچ جاتی ہے۔ میسجز آنے بند ہو جاتے ہیں تو وہ اور بے چین ہو اٹھتا ہے۔ آخر میں ایک پیغام آتا ہے:
”معاف کرنا بھائی میں بھی ایک لڑکا ہی ہوں۔“
کوئی لڑکا اسے لڑکی بن کر بے وقوف بناتا رہا۔ دلچسپ کلائمکس ہے۔ آج کل ایسا ہونے لگا ہے۔ افسانچہ ”مردہ پرستی“ اچھا ہے، حقیقت کے قریب ہے۔ اس دور میں واقعی کسی ادیب کی موت کے بعد ہی اس کی تصویر ٹائٹل پرچھپتی ہے۔ اس پر گوشے نکلتے ہیں، نمبر نکلتے ہیں۔ زندہ ادیب اگر مدیران کا نقدی مطالبہ پورا کردے تو اس کا بھی گوشہ نکلتا ہے۔ مردہ ادیب کے لواحقین سے بھی مدیران جیب بھر لیا کرتے ہیں۔ بھائی لوگوں نے ادب کو گھٹیا تجارت کا درجہ دے رکھا ہے۔ کچھ باضمیر مدیران بھی ہے جو لالچ کی ان بیماریوں سے پاک ہیں۔ اردو ادب سے دو لوگ ہی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ نمبر1 مدیران نمبر2 پبلشر صاحبان، ادیب توبے چارہ کسمپرسی کی حالت میں ہی رہتا ہے۔
آئیے علیم کے افسانوں پر نظر ڈالیں۔ ادیب کسی جان لیوا غم کی وجہ سے درد سے بھر جائے تو اس کے لیے اظہار،وہ بھی قلم کے ذریعے مداوا ہوتا ہے۔ افسانہ ”چھٹی“ علیم کی زندگی میں المناک مرحلے کے گزرنے کا اظہار ہے۔ اس کے بڑے بھائی جو اچھے انسان اور شہر کے معروف وکیل تھے، گزر گئے۔ اس المیہ کو کاغذ کی چھاتی پر پھیلا کر موصوف کو ضرور کچھ راحت ملی ہوگی۔ افسانہ طویل ہے کیونکہ وکیل بھائی کی زندگی کے کچھ حالات کی عکاسی کرنا ضروری تھا۔ افسانہ ”چھٹی“ پڑھ کر قاری بھی غمگین ہو اٹھتا ہے۔ ایک فکشن نگار کا یہی وصف ہوتا ہے کہ قاری کا ہنسنا، رونا اور دلچسپی اپنی گرفت میں لے لے۔”ریجیکٹ“ اچھا افسانہ ہے۔ آخری جملے کی کاٹ اچھی ہے۔ یہ جملہ ملاحظہ فرمائیں: ”نہیں بھائی.....وہ گاڑی کوئی نہیں خریدے گا،جس کا انجن کھُل گیا ہو۔“
افسانہ ”عقلمند“ ایک سبق آموز کہانی ہے۔ ”قصور“ کو علیم کی نمائندہ کہانی کہا جاسکتا ہے۔ یہ افسانہ علیم کو بھی بہت پسند ہے۔ ایک حساس اور غریب ویٹر اپنی غلطی کا کفارہ کس طرح ادا کرتا ہے، وہ بیان کیا گیا ہے۔ افسانہ پڑھ کر شک گزرتا ہے کہ اس دور میں ایسے بھلے لوگ بھی سانس لے رہے ہیں؟افسانہ ”رنجش“ میں دوستی کی ایک اچھی مثال پیش کی گئی ہے۔ کاظم کو گفٹ کاشف کے مرجانے کے بعد ملتا ہے، اچھا کلائمکس ہے۔کہانی”منٹو“ پڑھ کر بہت اچھا لگا۔ عنوان منٹو کی بجائے کوئی اور ہوتا تو بہتر تھا۔ عنوان سے راز کھل جاتا ہے کہ افسانے میں کچھ منٹو کے بارے میں ہی ہوگا۔ اچھا خیال ہے۔ منٹو کے دور کی تصویر کشی اچھی کی گئی ہے۔ جو لوگ منٹو کی مخالفت کرتے تھے، وہ منٹو کو پڑھتے بھی ضرور تھے۔ افسانہ اس جملے پر مکمل ہوجاتا ہے:
”اچھا تو تو نے بھی ایک کاپی چرالی ہے۔“
علیم کی ”رنجش“ میں شامل سبھی افسانے اچھے ہیں۔
ہم سینئر لوگ یہاں ایک مشترکہ غلطی کر جاتے ہیں کہ نئے لکھنے والوں کو اپنے تجربات کی عینک سے دیکھنے لگتے ہیں،یہ نہیں سوچتے کہ ابھی اس جونیئر کے سفر کا آغاز ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہماری عمر میں پہنچ کر یہ کس قدر پختہ اور جامع قلم کار بن جائے گا۔ علیم کو ابھی پانچ چھ سال ہی ہوئے ہیں کہ اس نے ادب میں اپنا پاؤں رکھا ہے۔ اتنے قلیل عرصے میں اتنا کچھ کر گزرنا بڑی بات ہے۔ میں واضح طور پر علیم کے اندر ایک اچھا فن کار دیکھ رہا ہوں۔ علیم سے میری بہت سی امیدیں وابستہ ہوگئی ہیں۔ میں اپنے اس عزیز کو ایک اچھا نقاد بھی دیکھنا چاہوں گا اور یہ تبھی ممکن ہے جب یہ افسانے کے خدوخال کو اچھی طرح سمجھ لے۔ کیونکہ کسی پر تنقید کرنا بہت مشکل کام ہے۔ اگر نقاد ہلکی بات کر دے تو تماشا بن جاتا ہے۔ بہت سے نقادوں کو ہم جب پڑھتے ہیں تو سوائے افسانوں کی تعریفیں اور اپنی قابلیت کا سکہ جمانے کے اور کچھ بھی نہیں پاتے۔ تکنیکی غلطیوں کو تو وہ فراموش ہی کر جاتے ہیں۔
آخر میں بزرگ ہونے کے ناطے میں علیم سے کہوں گا کہ وہ اپنے افسانوں کے موضوعات چننے میں عجلت سے کام نہ لیا کریں۔ میری دعا ہے کہ افسانے کے متعلق علیم کی لگن یوں ہی قائم رہے اور یہ ادب کی بلندیوں کو چھو لے۔ آمین!
٭٭٭
No comments:
Post a Comment