کہانی”چھٹی“کا تجزیاتی مطالعہ
احمد رشیدعلیگ
(گلی رہٹ والا کنواں،سرائے رحمن علی گڑھ۔202001)
علم کی ہر شاخ میں انسان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اس کی زندگی کا کوئی نہ کوئی شعبہ درس وتدریس کا موضوع ہوتاہے۔علم معاشیات میں دولت وتجارت کے تعلق سے اس کا برتاؤ۔علم سیاسیات میں انسان کا سیاسی برتاؤ(Political Behaviour)یہی صورت حال دیگر مضامین کی ہے۔لیکن ادب میں کلّی طور سے انسان کی زندگی کے ہر گوشے کا ذکرہوتاہے۔نفسیاتی الجھنیں،جنسی گرہیں (Complexes)سیاسی مکاریاں اور معاشی بدحالیوں کے علاوہ دیگر انسانی کربناکیوں کا بیان بھی فنی تقاضوں کا دھیان رکھتے ہوئے تخلیقی فن پاروں میں کیاجاتاہے جہاں اس کے ادراکی اورشعوری رویوں کو خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔لیکن یہ سوچ کر انسان کے جذباتی اور حسّی رویوں سے اجتناب برتنا چاہیے تو یہ ادھورے انسان کی کیفیتوں کا عکس ہوگا۔انسانوں کی تکمیل Reasoningکی بنیاد کے علاوہ اس کی جذباتی اور حسیاتی کمزوریوں اور رویوں کا بیان بھی ہے۔
محمد علیم اسماعیل کی کہانی”چھٹی“بھی انسان کی غم ناک کیفیتوں کا اظہار ہے اور جذب واحساس سے مملو وکیل کی رودادبھی ہے۔ وکیل،مذکورہ کہانی کا مرکزی کردار ہے اور واحد متکلم کے ذریعے بیانیہ طرز میں کہی جانے والی اس کہانی کا راوی مرکزی کردار کا برادرخورد ہے۔تو ظاہر ہے کہ کہانی کے افق پر ابتدا سے اختتام تک ایک المناک کیفیت کی دھندچھائے رہناکوئی حیرت کی بات نہیں:
”گھر میں سب کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہوگئی ہیں اور وہ آنسوآنکھوں میں جم سے گئے ہیں جو نہ سوکھتے ہیں نہ ہی برستے ہیں۔“(چھٹی۔ص:......)
آنسوؤں کا سوکھ جانا،غم کی انتہاہے۔قاری بھی انسان ہوتاہے،انسانی دردسے لبریزہوتاہے۔اس کی آنکھیں بھی موت کا منظرنامہ دیکھ کر نم ناک ہوجاتی ہیں۔جب کہ موت اور بیماری کا کھیل کائنات میں ہر لمحہ چلتارہتاہے۔پھر بھی انسان اس کا عادی نہیں ہوسکا۔وکیل کو اسپتال سے چھٹی مل جاتی ہے۔ اس طرح کہانی کا عنوان حسب مطابق ہونے کے سبب پُرمعنی ہوجاتاہے۔
کہانی کی ابتدا ہی میں مصنف وکیل کی موت کی خبر دے دیتاہے۔خاتمہ بھی موت ہی پر ہوتاہے۔کہانی کے وسط میں موت تک پہنچنے کی رودادبیان ہوئی۔
مرکزی کردار پیشہ کے لحاظ سے وکیل ہے جس کی وکالت کا ڈنکا پورے شہر میں بجتاہے۔اس کے اہم اوصاف، حسنِ سلوک اور صلہ رحمی ہیں۔عام طور سے وکیل اپنے پیشے کی نسبت سے شقی القلب،سنگ دل ہوتے ہیں۔رُورعایت اور ترحم کے جذبے سے عاری ہوتے ہیں۔یہاں صورت حال دوسری ہے۔لوگوں کے کام آنا،غرباکی امداد کرنا،ضرورت مندوں کے مقدمات کی مفت پیروی کرنا:
”بے سہارا غریب پریوارو ں کو تم نے حکومت کی ”نیرادھار“بے سہارااسکیم کے تحت پنشن جاری کرائی۔“(چھٹی۔ص:......)
بیان کردہ اخلاقی خوبیوں کی بنا پر اس کی شہرت پورے شہر میں ہے اور اپنے پیشے میں بھی اس نے ناموری کمائی۔بڑی بات یہ ہے کہ نفسانفسی کے اس دور میں پورے خاندان کی کفالت کا بوجھ اس کے کاندھے پر ہے۔پانچ بھائی،والداور مع اہل وعیال پانچ افراد پر مشتمل خاندان کی تعلیم وتربیت اور کھان پان کا خرچ بھی اس کے ذمے ہے۔
اچانک شوگرکے مرض میں وکیل صاحب مبتلا ہوتے ہیں،دواؤں کے کثرتِ استعمال سے کڈنی فیلیورکے شکارہوتے ہیں۔مرض اتنا مہلک کے ہزارہا جتن کے بعد بھی وہ صحت یاب نہ ہوسکے اور آخر کارموت سے ہم کنارہوکر کہانی بن جاتے ہیں۔
وکیل کا کردار ہمت وحوصلہ کی مثال ہے لیکن وہ اس قدرآزمائشوں سے گزرا ہے کہ اس کی تمام ہمت ٹوٹ کر بکھر گئی جس کا سمیٹنا خوداس کے لیے مشکل ہوگیاتب ہی تومایوسی کے عالم میں اس نے اپنے دکھ کا اظہار اس طرح کیاہے:
”دعا کرو میں اچھا ہوجاؤں نہیں تو میرے بچے تنہا رہ جائیں گے۔“(چھٹی۔ص:......)
تمام اثاثہ بیماری میں خرچ ہوچکا تھااورآخری وقت بیماری نے پھر سے غریبی کی دہلیز پر لاکھڑا کیاتھا۔جب وکیل نے آنکھ کھولی توغریبی کا منہ دیکھا،باپ ایک غریب مزدور تھا۔وکیل اپنی محنت ومشقت اور صلاحیتوں کے بل بوتے پر اس مقام تک پہنچاتھا۔لیکن تقدیر اور کاتب ِتقدیرسے کون لڑسکتاہے۔اب ان کی زندگی رَبر کی طرح وہیں آکر ٹھیر گئی تھی جہاں سے شروع ہوئی تھی۔یہ زندگی کا دائروی چکر کون سمجھ سکتاہے؟راوی،جو خود کہانی کا ضمنی کردار ہے،کہتاہے:
”تم نے جو کچھ جمع کیا تھاکچھ نہ بچا۔علاج میں سارااثاثہ خرچ ہوگیا اور آخری وقت بیماری نے پھر سے غریبی کی دہلیز پر تمھاری لاش لاکررکھ دی ہے۔“(چھٹی۔ص:......)
یعنی زندگی غریبی سے شروع ہوکر ختم بھی غریبی پر ہوئی۔یہاں ضائع ہوناصرف زندگی ہی کا ہی نہیں تھابلکہ ضامن اور مال ومتاع کا زیاں بھی موت سے کم نہیں ہے۔چو ں کہ انسان اپنے بچو ں کا مستقبل سجانے کا خواب دیکھتاہے۔ان کی خوش آئندتعبیر نہ ملنے سے رنجیدہ ہوتاہے۔خوابوں کے ٹوٹنے پر حرماں نصیبی اور مایوسی کا دردبھی اس کے اند رگھر کرنے لگتاہے۔یہی وہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے پوری کہانی میں الم ناک فضا قائم رہی ہے،جس نے جذباتی صورت اختیارکرلی ہے۔
فنی نقطہئ نظر سے قاری کی دل چسپی شروع سے آخرتک برقراررہتی ہے۔وکیل صاحب کا کردار بہت متحرک اور فعال ہے۔بیانیہ طرزِ پیش کش ہونے کے باوجودبھی کہانی انفعالیت اور جمود کا شکار نہیں ہوئی ہے بلکہ اس میں قاری کو باندھے رکھنے کی صلاحیت بھی ہے اور قوت بھی۔مصنف نے انسانی جذبات کا غم ناک پہلو اجاگر کرکے تاثر قائم کر نے کی کوشش کی ہے۔کہانی کی قرأت کے دوران یہ احساس ضرور پیداہوتاہے کہ وکیل صاحب کے انتقال کے بعد اس خاندان کی کیاحالت ہوگی۔
کیفیت چاہے حزنیہ ہویا مسرت آمیز،دونوں ہی کوائف انسانی سرشت کا حصہ ہیں۔پھر جذباتی کیفیت سے کیوں کر انکار ممکن ہے؟کہانی میں انسان کو ارتکازی حیثیت حاصل ہے جس کے ارد گرد وہ گھومتی ہے۔مذکورہ کہانی میں گردوپیش کا ذکر بھی ہوا ہے،اسے منظر نگاری کہیے یا ماحول کی عکاسی۔
بہر کیف مذکورہ کہانی”چھٹی“میں محمد علیم اسماعیل نے ممکنہ طور پر تمام تر لوازمات اور ترکیبی عناصرکا پورا خیال رکھاہے۔آئندہ بھی اور عمدہ کہانیوں کی توقعات مصنف سے وابستہ ہیں۔
mmm
No comments:
Post a Comment