Wednesday, 16 September 2020

نیا ذہن، نئی سوچ اور نئی جُستجو
حمید ادیبی ناندوروی


میں سب سے پہلے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ میرے شہر ناندورہ (ضلع بلڈانہ، مہاراشٹرا)  میں  ایم۔اے،  بی۔ایڈ،  یو۔جی۔سی۔نیٹ(اردو)،  ایم۔ایچ۔سیٹ (اُردو) جیسی تعلیمی لیاقت والی مسلم شخصیت موجود ہے۔ مزید برآں وہ ایک ادیب ہے۔ اُس کی ایک تخلیق   ”اُلجھن“ (افسانے و افسانچے)کے روپ میں  ۸۱۰۲؁ء میں منظر عام پر آچُکی ہے۔اُس شخص کا نام نامی اسم گرامی محمد علیم اسماعیل ہے۔
 میں اکثر اپنے گاؤں جاتا رہتا ہوں محمد علیم اسماعیل صاحب سے میری ملاقات ہوتی ہے۔ایک ملاقات میں موصوف نے مجھے اپنی کتاب بطو ر ”پُر خلوص تحفہ“ پیش کردی۔ گاؤں میں میرے محلے سے قریب ہی ان کا محلہ ہے۔ وہ ایک سلیم الطبع انسان ہیں اور ضلع پریشد میں بطور مدرس ملازمت کرتے ہیں۔ وہ لوگوں کی عزت کرتے ہیں۔وہ خوش گفتار ہیں۔ان سے گفتگو کرنے میں بڑا مزہ آتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اُن سے بات چیت جاری رہے۔
فی زمانہ افسانے کی تعریف کے تعلق سے کئی باتیں سامنے آئیں اور پڑھنے کو ملیں۔ ایک صاحب نے اپنے افسانوں کے مجموعے کے آخر میں چودہ/۴۱ نامور ادیبوں کے خیالات پیش کردئے،دوسرے صاحب نے اپنے افسانوں کے مجموعے کے اوائل میں گیارہ /۱۱، افسانہ نگاروں کی آرا ء پیش کردی۔ خیالات اور آراء کا مقصد یہ ہے کہ ”افسانہ کیا چیز ہے؟“ جانا جائے اور سمجھا جائے۔ظاہر ہے کہ افسانے کی تعریف ہر ایک نے اپنے اپنے طور سے کی ہوگی اورجو ایک دوسرے سے مختلف ہوگی۔راقم الحروف اُن میں سے سیماب اکبرآبادی کی رائے سے اتفاق کرتا ہے۔سیماب اکبر آبادی نے افسانے کی تعریف یوں کی۔ ”افسانہ اسکو کہتے ہیں جس میں زیادہ سے زیادہ انسانی اور حقیقی باتیں ہوں۔جس میں انسان کو روز انہ زندگی سے گہرا تعلق ہو۔جس میں مشابہت اور تجربات کو سادہ بیانی کے ساتھ پیش کیا گیا ہو۔ جس میں واقفیت ہو اور انسانی فطرت اور ماحول کے لحاظ سے صداقت پر مبنی ہو۔“
مذکورہ افسانے کی تعریف ہم نے معین گریڈ یہوی  Moin Gradeehvi  کے افسانوں کے مجموعے ”آنکھوں کا لہو“ کے صفحہ/ ۲۵۱ سے اخذ کیا ہے۔ باقی افسانہ نگاروں کی آراء ہم نے اس لئے رد کردی کیوں کہ لکھنے والا ہر کسی کے خیال اور رائے کے مطابق نہیں لکھ سکتا۔ متذکرہ تعریف کے پس منظر میں ہم محمد علیم اسماعیل کے افسانچوں اور افسانوں کے مجموعے ”اُلجھن“  پر نظر دوڑارہے ہیں۔
مصنف نے زیر نظر کتاب میں انساٹھ /۹۵، افسانچے اور تیرا /۳۱، افسانے پیش کئے ہیں۔کتاب کے اوائل میں پانچ /۵ مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک مضمون ”سُخن قلب“ خو دمصنف کا رقم کیا ہوا ہے۔کتاب کے آخر میں ایک صفحہ پر مشتمل تاثرات شامل ہیں۔
  ذہن نشین رہے کہ کتاب ”انتساب“سے  خالی ہے کیوں کہ مصنف نے اپنی تخلیق کسی کو منسوب نہیں کی یعنی انتساب کی رویت کو توڑدیاگیا ہے۔
ہم نے پوری کتاب پڑھ ڈالی افسانچے بہت خوب ہیں۔ افسانچے کے بارے میں ہماری ذاتی رائے یہ ہے کہ افسانچہ کتنا ہی اچھا ہو اُسے ایک لطیفہ نما ہی تصور کیا جاتا ہے لطیفہ اور افسانے میں فرق صرف یہ ہے کہ لطیفے کے آخر میں لبوں پر مسکرا ہٹ کھیل جاتی ہے اور افسانچے کی بدولت ذہن و دل غور وفکر میں ڈوب جاتے ہیں۔افسانچہ نگار اُسے افسانچہ کہتے ہیں۔ یہ نا مناسب ہے۔اُسے ”طنزانچہ“ کہنا چاہئے۔ کیونکہ سیدھی بات ہے کہ لطیف چیز پیش کی جائے تو لطیفہ ا ور طنزیہ چیز پیش کی جائے تو طنزانچہ۔ کاش ہماری یہ بات افسانہ نگاروں تک پہنچ جائے۔ کسی کا منہ روکا نہیں جا سکتا۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ جن کے پاس کسی نکتہ پر قوت بیانیہ  Power of Expression نہیں ہوتی وہ مختصر طور سے لکھ کر اکتفا کر لیتے ہیں اور اُسے افسانچہ کہتے ہیں یہ بات افسانچہ نگاروں کے لئے لمحہء فکریہ ہے۔ یہ اُنھیں سمجھ لینا چاہئے۔کسی بھی کتاب میں ایک مضمون بصورت حمایت کافی ہوتا ہے۔تخلیق ”اُلجھن“ میں پانچ /۵، مضامین ڈالے گئے ہیں۔ جو قاری کے مطالعہ پر بار گذرتے ہیں۔
بہر حال خامیاں اور کوتاہیاں تو ہر کام میں ہر کسی سے سرزد ہوتی رہتی ہیں۔ مذکورہ غلطیوں کو نظر انداز کیا جائے تو مجموعی اعتبار سے محمد علیم اسماعیل صاحب کی تخلیق ”اُلجھن“(افسانے و افسانچے) نیا ذہن، نئی سوچ، نیا طرز تحریر اور نئی جستجو سے گردانا جا سکتا ہے۔ اس میں پیش کردہ افسانچے اور افسانے اچھے اور متاثر کن ہیں۔ کچھ افسانے تو سبق آموز ہیں۔پورا مواد دلچسپ بھی ہے اور قاری کو غور و فکر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ مصنف کے ادبی سفر کی یہ پہلی منزل ہے۔ ہمیں ان میں طویل ادبی سفر طے کرنے والی استطاعت نظر آتی ہے اس لئے اُمید قوی ہے کہ وہ ایسی متعدد منزلیں طے کر کے عوام کو اپنی تحریروں سے محفوظ کریں گے۔ کتاب کا سرورق بہت خوبصورت اور جاذب نظر ہے۔ لگتا ہے وسیم صاحب شارپ لائن (ناندورہ)نے بڑی جستجو کے بعد منظر تلاش کیاہے۔ موصوف مبارکباد کے مستحق ہیں۔کتاب کی قیمت اس دورِ گرانہ میں بھی مناسب ہے۔
٭٭٭٭٭

No comments:

Post a Comment