Sunday, 27 September 2020

 تبصرہ و تجزیہ

افسانہ ”آپ نے کہانی پڑھی؟“ ایک تجزیہ

(محمودہ قریشی، آگرہ)


اکیسویں صدی کے اہم افسانہ نگاروں میں نوجوانوں افسانہ نگار محمد علیم اسماعیل کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ بہت کم وقت میں وہ اردو دنیا میں اپنا سکہ جما چکے ہیں۔ اب تک ان کے دو افسانوی مجموعے ’الجھن‘ (2018) اور ’رنجش‘ (2020) اشاعت عمل میں آچکے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ادبی مضامین بھی منظر عام پر آچکے ہیں۔ اور وقتاً فوقتاً ان کے افسانے، افسانچے اور مضامین معیاری اخبارات و رسائل کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی آپ کافی سرگرم ہیں۔ فیس بک پر انھوں نے مشہور افسانہ نگاروں کی افسانہ نگاری اور ان کی ادبی خدمات  پر تبصرے کے حوالے سے کافی متاثر کن سلسلہ شروع کیا ہے۔

واٹس ایپ گروپ ’بزمِ افسانہ‘ میں محمد علیم اسماعیل کا افسانہ ’چھُٹّی‘ برائے تنقید و تبصرہ پیش ہوا تھا۔ جہاں مشہور و معروف افسانہ نگار سلام بن رزاق فرماتے ہیں:

”کہانی اچھی ہے۔ شعور کی رو کے تحت اکہرے بیانیہ میں کہانی بُننا آسان نہیں ہوتا۔ تاہم علیم نے اپنی رواں اور شستہ نثر کے سہارے کہانی کو بچالیا۔ علیم اسماعیل ایک ہونہار، ذہین اور محنتی قلم کار ہیں۔ ان کی تحریروں کا میں بھی مداح ہوں۔“

اور عہد حاضر کے ممتاز فکشن نگار سید محمد اشرف لکھتے ہیں:

”یہ افسانہ نگار اپنے اندر بیان کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے اور افسانے میں کوئی تو ایسی چیز ہے جو قاری کو افسانہ نگار کے غم میں دیر تک شریک رکھتی ہے۔ یہ بھی کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ محمد علیم اسماعیل کے لیے بہت سی دعائیں اور نیک خواہشات۔“

  موصوف کا ایک غیر مطبوعہ افسانہ ’آپ نے کہانی پڑھی؟‘ ہے۔ جس نے ہمیں کافی متاثر کیا ہے۔ جس کا آخری جملہ، ”کیا آپ نے کہانی پڑھی؟“ ایک سوالیہ انداز پیش کرتا ہے۔ افسانہ بیانیاں ہیت میں لکھا گیا ہے۔ جو کہ موصوف کا لکھنے کا انداز ہے۔ افسانہ بہت زیادہ طویل نہیں ہے۔ لیکن اس میں ایک کشیش ہے۔ جو قاری کو پڑھنے کے لیے اُکساتی ہے۔ پلاٹ مربوط اور گتھا ہوا ہے۔ افسانے میں صرف دو مرکزی کردار ہیں۔ زبان و بیان کے اعتبار سے بھی افسانہ کہیں گراں نہیں گزرتا۔ افسانہ اپنے پڑھنے والے پر ایک گہری چھاپ چھوڑ جاتا یے۔ افسانہ نگار نے افسانے میں ڈیجیٹلازیشن، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی اہمیت و افادیت کو پیش کرتے ہوئے اس کے نقصانات کو بھی دیکھایا ہے۔ اس افسانے کے ذریعے علیم اسماعیل نے عہد حاضر کی اہم سچچائی کو عیاں کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔ افسانے کا مرکزی کردار ’عامر‘ ہے۔ جس کے گرد ساری کہانی گھومتی ہے۔ جو کہ ایک طالب علم ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ کہانیاں بھی لکھتا ہے۔ اس کو انتظار تھا کہ کب اس کی کہانی کسی رسالے میں شائع ہو گی۔ اور وہ دن بھی آجاتا ہے کہ ہندوستان کے معیاری ادبی رسالے میں اس کی کہانی شائع ہو جاتی ہے۔ لیکن اس کی الجھن پھر بھی ختم نہیں ہوتی کیونکہ اس کے اور استاد کے علاوہ اس کی کہانی کوئی بھی نہیں پڑھتا۔

عامر رسالے کو ادبی حلقوں میں، شہر کے لوگوں کے پاس لے کر جاتا ہے، لکین سبھی رسالے کو بس الٹ پلٹ واپس اس کے ہاتھوں میں تھما دیتے ہیں۔ جسے کوئی پڑھنا ہی نہیں چاہتا تو اس پر تبصرہ یا اپنی ذاتی رائے کیسے دے سکتا ہے، جو کہ عامر چاہتا تھا۔ کہانی میں میں علیم اسماعیل نے ایک نو جوان قلم کار کی ٹوٹتی ہوئی ہمّت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ 

عامر پر طاری گھٹن کو ظاہر کرنے کے لیے افسانہ نگار نے کرشن چندر کی کہانی ’شہزادہ‘ سے اس کے مرکزی کردار ’سدھا‘ سے تشبیہ دی ہے۔ عامر ایک تصوراتی دنیا میں جی رہا تھا۔ اس کی اس پریشانی کو دور کرنے کے لیے استاد شمس الضحٰی جو کہ افسانے میں دوسرا اہم کردار ہے، عامر کو سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں۔

”عامر، زمانہ بدل گیا ہے۔ طریقے بدل گئے ہیں۔ یہ ڈیجیٹلازیشن کا دور ہے۔ تم نوجوان ہو، انٹرنیٹ چلانا اچھے سے جانتے ہو، سوشل میڈیا سے جڑے ہوئے ہو،۔۔۔۔“

عامر استاد کے اس مشورہ پر عمل کرتے ہوئے اپنے افسانے کی فوٹوں سوشل میڈیا پر شیئر کرتا ہے۔ جہاں اس کو کافی پزیرائی ملتی ہے۔ کافی کمینٹ، لائیکس حاصل ہوتے ہیں۔ جس کا عامر کو انتظار تھا لکین جب وہ کچھ لوگوں سے یہ سوال کرتا ہے۔

”کیا آپ نے کہانی پڑھی؟“

تب اس کو کوئی جواب نہیں ملتا۔ جس کے ساتھ افسانہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیادہ تر لوگ بنا پڑھے ہی، یہاں تک کہ پوسٹ کو ٹھیک سے دیکھے بغیر ہی لائیک، کمینٹ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ سب ہی لوگ ایسا کرتے ہیں۔ لکین زیادہ تر معاشرے میں ایسا ہی چلن ہے۔ انٹرنیٹ اور اس سے جڑے لوگوں کی اس خرابی کی طرف افسانہ نگار نے ہمارا ذہن متوجہ کیا ہے۔ اس لیے اگر ہم یہ سوچتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ کمینٹس اور لائیکس حاصل کر کے ہم انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی دنیا پر چھا جائجں گے تو ایسا نہیں ہے۔ ترقی کام سے حاصل کی جاتی ہے نہ کہ نام سے، اور اگر صرف ہمارے نام سے لائیکس اور کمینٹس مل رہے ہیں تو یہ ٹھیک نہیں ہے۔

خاص کر افسانہ نگار نے ’آپ نے کہانی پڑھی‘ میں جو پہلو اٹھایا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے نو جوان قلم کار پزیرائی نہ ملنے کے سبب، مایوس ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنے قلمی سفر کو ترک کرنے پر آمدہ ہو جاتے ہیں۔

اس لیے ہمارے ادبی حلقوں میں ان نو جوان قلم کاروں کی حوصلا آفزائی بے حد ضروری ہے۔ جس پر ہمارے معاشرے میں کافی لوگ و انجمنیں کامزن بھی ہیں۔ اصل چیز تخلیقی صلاحیت ہوتی ہے۔ اگر وہ آپ میں موجود ہے، تو آپ کو آگے بڑھنے، ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ہاں وقت ضرور لگ سکتا ہے۔ جس کے لیے افسانہ نگار نے افسانے میں راستہ بھی بتا دیا ہے کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا آج کے دور میں ایک قلم کار کی صلاحیت کو اُجاگر کرنے میں کافی مدد و معاون ہے، جو کہ افسانہ نگار کا ذاتی تجربہ بھی ہے۔ جیسا کہ ہمارے استاد محترم کہتے ہیں آپ کام کیجیے، نام میں کیا رکھا ہے، نام تو ہو ہی جائے گا۔


ہنر میں پھر روانی ہو گئی ہے

قلم کی ترجمانی ہو گئی ہے

زمانہ آیا سوشل میڈیا کا

”یہ دنیا اب پرانی ہو گئی ہے۔“

٭٭٭



No comments:

Post a Comment