Monday, 7 December 2020

محمد علیم اسماعیل بطورافسانہ نگار---- تحریر: مخدوم عرفان طاہر (جھنگ، پاکستان)

 محمد علیم اسماعیل بطورافسانہ نگار

تحریر: مخدوم عرفان طاہر (جھنگ، پاکستان)


افسانہ ایک ایسی فکری کہانی ہوتی ہے جس میں کسی ایک خاص واقعہ اورکسی ایک خاص کردار پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ اکیسویں صدی کے اردو افسانے میں محمد علیم اسماعیل کی حیثیت ایک ہمہ جہت تخلیق کار کی ہے۔ وہ جتنے اہم افسانہ نگار ہیں، اسی قدر ایک افسانچہ نگار کے طور پر بھی فنی عظمت کے مالک ہیں۔ وہ ذہنی، جذباتی اور فطری مسرت کی حفاظت کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔ ان کا شمار نمایاں مقام رکھنے والے ادیبوں میں ہوتا ہے۔ علیم اسماعیل نے اپنے افسانوں اور افسانچوں کے ذریعے معاشرے کی چھوٹی چھوٹی برائیوں اور مسائل کو قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔ وہ مہاراشٹر میں شعبہئ تعلیم سے منسلک ہیں اور درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اپنے فن پاروں کے ذریعے انھوں نے ثابت کیا کہ اُن میں افسانہ و افسانچہ نویسی کے جراثیم موجود ہیں اور اس فن میں وہ بھرپور صلاحیت کے مالک ہیں۔ انھوں نے روایتی افسانے بھی لکھے اور تکنیکی تجربے بھی کیے۔ اُن کے افسانوں کی خاص بات یہ ہے کہ پڑھنے والا افسانہ شروع کرتے ہی ان کی گرفت میں آ جاتا ہے اور پھر مکمل افسانہ پڑھے بغیر رہ نہیں سکتا۔ ان کے افسانوں کا مطالعہ کرنے کے دوران قاری مختلف کیفیات سے گزرتا ہے۔ اُن کے موضوعات کا دائرہ کافی وسیع ہے اور ان موضوعات میں جدت و ندرت ہے۔
علیم اسماعیل نے اپنا پہلا مضمون ’علامہ اقبال کی باتیں‘، پہلا افسانہ ’خیالی دنیا‘ اور افسانچہ ’شرمندگی‘ سے لکھنے کا آغاز کیا۔ اب تک اُن کی دو تصانیف منظر عام پر آئی ہیں، جن میں ’الجھن‘ (افسانے و افسانچے) اور ’رنجش‘ (افسانے) شامل ہیں۔ ادبی خدمات پر انھیں مہاراشٹر کی رساستی تنظیم اموس (AMUSS) نے ”طالبِ ادب ایوارڈ 2018“ سے نوازا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ انھیں دیگر انعامات و اعزازات سے بھی سرفراز کیا گیا ہے۔ علیم اسماعیل نے اپنے افسانوں میں دیہی زندگی کے حالات، واقعات اور مسائل، وکیل صاحب کا درد، متوسط طبقے کی کش مکش، مرد کی نفسیات اور معاشرتی ناہمواریاں جیسے اہم موضوعات کو قلم بند کیا۔ان کی تحریریں اپنے وجود کا راز جاننے کی جستجو ہیں۔اس کوشش میں وہ معاشرے، سماج کا درد، انسانوں کے افسردہ چہرے اور مشکل حالات سے گزرتے ہوئے، وقت کے چہرے میں خود کو تلاش کرتے ہیں۔ ان کی کہانیاں ایک نیا روپ لے کر ظاہر ہوتی ہیں اور وہ کہانیاں آج کے زمانے کی تصویر کشی اس طرح کرتی ہیں کہ معاشرے کے مسائل ایک متاثر کن اسلوب میں ہمارے سامنے کھڑے نظر آتے ہیں۔ جن میں سے کچھ مسائل سماج میں جابجا نظر آتے ہیں تو کچھ ان کے تجربات بھی ہیں۔ ان کے اندر معاشرتی اصلاح کا جذبہ ہے۔ انھوں نے حقیقت کی آنکھ سے انسان اور انسانی مسائل کو دیکھا اور ایک سچے فنکار کے مانند انھیں قارئین کے رو بہ رو پیش کیاہے۔مزید انھوں نے علم، بصیرت، مشاہدات اور عمدہ ذوق سے اپنے فن کو استوار کیا ہے۔
محمد علیم اسماعیل کی مختلف خوبیوں میں، ان کے افسانوں میں سادہ زبان کا استعمال بھی ہے۔ انھوں نے دلکش اسلوب کا استعمال کرتے ہوئے، سادہ زبان کا استعمال کیا تاکہ ہر قاری بآسانی ان کی کہانیوں کا مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ بھی سکے۔ انھوں نے اکثر کرداروں کے مکالمے ان کی معاشی اور معاشرتی حیثیت کے مطابق لکھے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ ان کے لیے مکالمے ان کے لہجے اور تلفظ میں ہی تخلیق کیے ہیں، جو اُن کے زبردست مشاہدے کا غماز ہے۔ علیم اسماعیل نے اپنے افسانوں میں زندگی کے ہر دو پہلوؤں المیہ و طربیہ کو سمو دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں ہر طبقے کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح مجموعی حوالے سے دیکھا جائے تو اُن کے ہاں جذبات نگاری بھی متاثر کرتی ہے۔ ان کا فن تنقید ِحیات ہے اور ترغیب و اصلاح بھی۔ علیم اسماعیل کے افسانے اُن کے اخلاقی، معاشرتی اور سیاسی شعور کی ترجمانی کرتے ہیں، اور یہی وہ معاشرتی اور سیاسی شعور ہے جس نے علیم اسماعیل کو حقیقت پسند افسانہ نگاروں کی صف میں کھڑا کر دیا ہے۔
حقیقت نگاری سے مراد ایک شے کو اُس کے حقیقی خدوخال کے ساتھ بیان کرنے کے ہیں۔ حقیقت نگاری میں چیزوں کو اِس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ وہ زندگی کا جزومعلوم ہوتی ہوں۔ محمد علیم اسماعیل کے افسانے کا ہر موضوع حقیقت کا آئینہ دار ہے۔ افسانہ ’مردہ پرستی‘ سے اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
”عارف کو رسالے سے جواب ملا: آپ نے بہت اچھامضمون قلم بند کیا ہے، لیکن ہمارے یہاں زندہ شخصیات پر مضامین شائع نہیں ہوتے۔“
نہ جانے کس طرح ہمارے ذہنوں میں ایک بات بیٹھ گئی ہے کہ جب تک کوئی فنکار زندہ ہے تو اسے ہاتھ نہیں لگانا، اس کے فن سے قارئین کو متعارف نہیں کروانا۔ دراصل یہ ناقدین کی ذمے داری ہے کہ وہ فنکار کی خدمات کا اعتراف اس کی زندگی میں کریں۔ لیکن یہاں تو یہ رواج ہے کہ بعد مرنے کے ہوتی ہے ایسی پذیرائی کہ بس۔ علیم اسماعیل نے، رنجش، قصور، چھٹی، ریجیکٹ، اجنبی، مولوی صاحب، ادھورے خواب، سودا، ظالم جیسے اہم افسانوں میں معاشرے کے خاص پہلوؤں پر قلم اٹھایاہے۔
افسانہ ’چھُٹّی‘ میں ایک وکیل صاحب کا کردار دکھایا گیا ہے، جو گھر کے سربراہ ہیں۔ وہ اپنے گھر، بیوی بچوں کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنے بھائیوں کی تعلیم و تربیت پر بھی خاصی توجہ دیتے ہیں۔ وکیل صاحب کو چونکہ مرکزی کردار کے طور پر دیکھایا گیا ہے، جو غریبوں اور مستحق لوگوں کے کیس کم فیس پر لڑتے ہیں۔ وکیل صاحب کو ایک بڑی بیماری لاحق ہو جاتی ہے، جس کے بعد وہ کافی عرصہ اسپتال میں زیر علاج رہتے ہیں۔ وہ جینے کی حسرت کے ساتھ گھر جانے کی فکر بھی کرتے ہیں۔ اُن کی خواہش ہوتی ہے کہ جلد چھٹی ملے اور وہ گھر جائیں۔ چھٹی تو ملتی ہے مگر وہ ہمیشہ کے لیے سب سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ نورالحسنین اس کے بارے میں لکھتے ہیں:
”لیکن محمد علیم نے اس افسانے میں جو کرب کی فضا باندھی ہے وہ حقیقت سے اس قدر قریب ہے گویا یہ افسانہ نہیں محمد علیم کی زندگی ہی میں رونما ہونے والا کوئی حقیقی سانحہ ہو۔“
اس کردار کے ذریعے علیم اسماعیل نے انسانی جذبات کو فطری انداز اور تخلیقی آہنگ میں پیش کیا ہے۔ وکیل صاحب کے کردار میں انسان اور انسانیت کی آواز ایک صدائے باز گشت بن جاتی ہے۔ اس افسانہ کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ کہانی نہیں حقیقت ہے جسے علیم اسماعیل نے افسانوی رنگ میں رنگ دیا ہے۔ افسانے سے یہ جملہ دیکھیے:
”دعا کرو میں اچھا ہو جاؤں نہیں تو میرے بچے تنہا رہ جائیں گے۔“
وکیل صاحب کئی جذبوں سے سرشار نظر آتے ہیں۔ لیکن وہ اپنی بے شمار آرزوئیں لیے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔افسانہ چھُٹّی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے پروفیسر بیگ احساس فرماتے ہیں:
”علیم اسماعیل کا افسانہ ’چھُٹّی‘ پڑھا۔ مجھے اچھا لگا۔ علیم نے دل نکال کر رکھ دیا ہے۔ اور خون دل میں انگلیاں ڈبو کر یہ افسانہ لکھا ہے۔ جن سے جذباتی تعلق ہوتا ہے وہ خود لکھوا لیتے ہیں۔ ایسے کئی نوجوان ہیں جنھوں نے گھریلو ذمے داریاں نبھاتے نبھاتے خود کو ختم کر لیا ہے۔ ایک تو بچنے کی امید نہیں، پیسہ خرچ ہو جانے کا اذیت ناک احساس، نا قابل برداشت تکالیف، ایک ایک عضو کا دھیرے دھیرے بے کا ر ہو جانا، قسطوں میں مرنا آسان نہیں ہوتا۔ علیم نے متوسط گھرانے کے کرب کی سچی تصویر کشی کی ہے۔ ایک بھائی کو اس سے بہتر خراجِ عقیدت پیش نہیں کیا جا سکتا۔ مبارک باد دوں کہ پرسہ، سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ ذاتی صدمہ بہترین ادب کی تخلیق میں ممد و معاون ہوتا ہے۔“
افسانہ ’قصور‘ میں ایک غریب انسان کی کہانی پیش کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی غلطی کا کفارہ کس طرح ادا کرتا ہے۔ اور یہی اس افسانے کی بڑی خوبی ہے۔ افسانے کا مرکزی کردار ایک بھلا مانس نوجوان لڑکا ہے۔وہ نوجوان ایک ہوٹل میں ویٹر کا کام کرتا ہے۔ دوران ویٹرنگ وہ ایک مسافر پر بریانی کی پلیٹ گرا دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے مسافر کے کپڑے خراب ہو جاتے ہیں۔ مسافر اپنے کپڑے صاف کرنے جاتا ہے تو اس کی بس چھوٹ جاتی ہے۔ جس سے اس مسافر کو ویٹر پر غصہ آتا ہے۔ ویٹر کے اصرار کرنے پر مسافر وہاں رک جاتا ہے، اور صبح اٹھ کے جب بل دینے کے لیے کاونٹر پر پہنچا تو معلوم ہوتا ہے کہ ویٹر نے بل ادا کر دیا ہے۔ ویٹر محسوس کرتا ہے کہ اس کی وجہ سے بس چھوٹ گئی ہے۔ اس لیے وہ اپنے آپ کو قصور وار سمجھتا ہے۔ افسانہ سے اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
”میں نے کہا۔ ”تم آگے بڑھو میں آتا ہوں۔“
میں نے ہوٹل منیجر کو روم کا کرایہ دینا چاہا لیکن اس نے انکار کر دیا، وجہ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اسی ویٹر نے کرایہ ادا کر دیا ہے۔“
ویٹر اس واقعے کا قصوروار اپنے آپ کو گردانتا ہے۔اسے لگتا ہے کہ شرٹ پر بریانی گرنے سے ہی مصنف کی بس چھوٹی۔ اسے کیا معلوم کہ یہ سارا کھیل قسمت کا ہے۔ افسانہ سے اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
”نہیں صاحب میری وجہ سے آپ کی بس چھوٹ گئی، یہ میں نہیں لوں گا۔“
ویٹر ایک غریب فیملی سے تعلق رکھتا ہے، مگر اپنی غلطی کا کفارہ ادا کرنے میں کافی حساس نظر آتا ہے۔ افسانے کی خوبی یہ ہے کہ علیم اسماعیل نے کرداروں کو بڑی مہارت سے پیش کیا ہے۔ اس افسانے کے پس منظر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ علیم اسماعیل منظر نگاری میں مہارت رکھتے ہیں۔ ویٹر اگر چاہتا تو اس حادثے کو ایک چھوٹا سا واقعہ سمجھ کر اسے اتنی اہمیت نہیں بھی دے سکتا تھا، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو راوی اس کا کیا کر سکتا تھا، کچھ بھی نہیں۔ کچھ لمحوں کے بعد راوی یہ معاملہ بھول جاتا، مگر ویٹر کے اندر احساس ندامت گھر کر گیا۔ اور ایک کہانی وجود میں آئی۔ علیم اسماعیل نے جس طرز میں ویٹر کے کردار کو پیش کیا ہے، آج کے دور میں احساس کا یہ جذبہ شاذ و نادر ہی دکھائی دیتا ہے۔ لیکن جو لوگ حساس ہوتے ہیں، ان کے دل نرم ہوتے ہیں۔
’رنجش‘ افسانے میں دوستی کی مثال پیش کی گئی ہے۔ جس کا مطالعہ کر لینے کے بعد بھی قاری اسی افسانے کے اردگرد گھومتا رہتا ہے۔ کہانی میں تجسّس کا عنصر موجود ہے۔ کاظم کی طبیعت خراب ہونے کے باوجود کاشف کا سوئے رہنے کا ناٹک کرنا اور اس واقعے کی منظر نگاری قاری کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ کاظم مرنے سے قبل اپنی دوستی کے فرائض سرانجام دیتا ہے۔
”کاشف بھیا، جلدی چلیے، آپ کے دوست کاظم کی طبیعت بہت خراب ہو گئی ہے۔ لیکن کاشف نہیں اٹھا، نہ ہی دروازہ کھولا، وہ خاموش اپنے نرم بستر پر پڑا رہا۔“
اچھا دوست وہ ہوتا ہے جو اپنے دوست کا سچا خیر خواہ ہو۔ وہ ہمیشہ اپنے دوست کی بھلائی سوچتا ہو۔
’سودا‘ افسانے میں علیم اسماعیل نے سماج کی بے بسی اور افسردگی کے پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی معاشرے کی کج روی کے خلاف آواز بھی اٹھائی ہے۔ علیم اسماعیل کے یہاں زندگی کی کڑوی حقیقت اور اس کے منفی نتائج بھی بڑی بے باکی سے بیان ہوئے ہیں۔ وہ معاشرہ کی غلط پالیسیوں سے نفرت نہیں کرتے بلکہ انھیں قریب سے دیکھتے ہیں اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہیں۔ افسانہ ’سودا‘ میں عبرت ناک واقعہ پُر اثر اسلوب میں بیان ہوا ہے۔ افسانے سے یہ چند سطریں دیکھیں:
”خبردار جو مجھے ہاتھ لگایا تو۔
میں ہکابکا رہ گیا اور حیرت سے پوچھا۔ کیوں؟
اس نے کہا۔ میں کسی اور سے پیار کرتی ہوں۔“
ہم اس معاشرہ میں سانسیں لے رہے ہیں، جہاں عورت کی شادی اس کی مرضی کے خلاف کر دی جاتی ہے۔ جب ہم اپنے معاشرے پر نظر کرتے ہیں تو شادی بیاہ کے حوالے سے یہ بھی نظر آتا ہے کہ عورتوں کو یہاں تک بے خبر رکھا جاتا ہے کہ ان کی شادی ایک ایسے شخص کے ساتھ کی جارہی ہے جو انتہائی بوڑھا ہے۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ مذکورہ شخص زمین دار اور مال دار ہے۔ اور اگر کسی نہ کسی طرح لڑکی کو یہ علم ہوجاتا ہے تب بھی اسے اس ظلم و بربریت کے خلاف چیخنے چلانے اور احتجاج کرنے کا حق حاصل نہیں ہے اور وہ لڑکی اپنے والدین کے مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ ماں باپ کی ضد کی خاطر لڑکی شادی کرنے پر رضامند تو ہو جاتی ہے مگر بعد ازاں بے شمار مسائل میں گھر جاتی ہے۔ محمد علیم اسماعیل نے معاشرے کے تلخ حقائق کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس کا زہر، قطرہ قطرہ اپنے اندر محسوس کیا۔ اپنے قلم کے ذریعے سماج سے لڑنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے۔ قلم سے نکلے ہوئے لفظ موتی بھی ہوتے ہیں اور خنجر بھی۔ افسانوی مجموعہ’رنجش‘ کے سبھی افسانے کافی متاثر کرتے ہیں۔ اپنے بیش تر افسانوں میں انھوں نے رمزیہ انداز استعمال کیا ہے۔ بہر حال علیم اسماعیل کے یہاں کر دار، پلاٹ، اسلوب حقیقت نگاری، وحدت تاثر، زبان و بیان اور دیگر فنی محاسن ان کی فنِ افسانہ نگاری پر دسترس کے غماز ہیں۔
٭٭٭٭٭
 
x

Thursday, 3 December 2020

رنجش کے پس منظر میں ڈاکٹر نورالصباح (مؤ ناتھ بھنجن)

 رنجش کے پس منظر میں

ڈاکٹر نورالصباح (مؤ ناتھ بھنجن)


کہتے ہیں کہ ہر فنکار اپنے عہد کا نباض ہوتا ہے۔ اپنے اطراف میں پڑی چیزوں کو عمیق نظروں سے دیکھتا ہے۔اسے ہر قدم پر ایک کہانی مل جاتی ہے۔ گھر کے اندر ہو یا باہر، دوسروں کے ساتھ پیش آنے والے حادثات ہوں یا اپنے ساتھ، ہر حادثہ ایک اہم واقعہ کی صورت میں اس کی کہانی بن کر لفظوں کے روپ میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ یہاں پر یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ کسی فنکار کے نئے اور پرانے ہونے سے مطلب نہیں ہوتا۔ مطلب ہوتا ہے تو صرف اس بات سے کہ وہ اپنے ارد گرد کی چیزوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے، انھیں کس انداز سے پیش کرتا ہے، اس کا اسلوب کیا ہے، اس کا پیرایہ اظہار کیا ہے، اس کا نقطہ نظر کیا ہوتا ہے، اس کا پلاٹ کیا ہوتا ہے، اس کی بنت کیسی ہے، اس کا زبان و بیان کیسا ہے، کیا قاری کے دل پر اس کی بیان کی ہوئی کہانی نقش ہوتی ہے، اگر ہم ان ساری چیزوں کو مد نظر رکھیں تومحمد علیم اسماعیل جیسے نوجوان قلمکار مذکورہ باتوں پر کھرے اترتے ہیں۔ وہ اپنی کہانیوں کو بہت ہی چابکدستی کے ساتھ بنتے ہیں۔ زبان و بیان سادہ، سلیس اور سہل ہوتا ہے، طرز ادا بیانیہ پرکشش ہوتا ہے۔ وہ معمولی سے معمولی واقعات کو الفاظ کا جامہ اس طرح پہناتے ہیں کہ قاری پر رقت طاری ہوجاتی ہے۔ ان کا قلم ہر قسم کے موضوعات کا احاطہ کرتا ہے۔ داخلی اور خارجی سبھی مسائل ان کے قلم کی زد میں ہوتے ہیں، تعلیم یافتہ فرد کی بے روزگاری، بے روزگاری کی وجہ سے اس کی ذلت، طعن و تشنیع اور پھر ان مسائل کا حل۔ وہ مسئلوں کو پیش بھی کرتے ہیں اور اس کا حل بھی تلاش کرلیتے ہیں، اگرچہ وہ ایک نوجوان قلمکار ہیں۔ ادبی افق پر ابھرتا ہوا ستارہ ہیں، لیکن ان کے موضوعات میں وسعت اور سنجیدگی ہے، جو ان کی انفرادیت کا پتا دیتی ہے۔اس سلسلے میں نورالحسنین صاحب نے بلاشبہ بجا فرمایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
”ان ہی نوجوانوں میں ایک نام محمد علیم اسماعیل کا بھی ہے، جس کے افسانے اور مضامین آج کل مختلف رسائل و اخبارات میں تواتر کے ساتھ شائع ہو رہے ہیں اور جو نہایت تیزی کے ساتھ ادبی افق پر اپنی شناخت بنا رہا ہے۔ اس کے افسانے زندگی کی چھوٹی بڑی حقیقتوں کو نہایت روانی کے ساتھ پیش کرتے ہیں بلکہ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ اس کے ہاتھ وہ سِرا لگ گیا ہے جو فرد کے داخلی اور خارجی مسائل، احساس و فکر کے کچوکوں سے جوجھتے ذہن، سیاسی ہتھکنڈوں میں جکڑی ہوئی بے بسی، تنہائی کا کرب، معاشی گھٹن، رشتوں کی پاسداری اور بے اطمینانی بھی، دکھ  اور بیماریاں اور غیرمحفوظ مستقبل کی وہ فکریں بھی، جس کا کرب چاروں طرف دکھائی دیتا ہے۔ بلاشبہ علیم  ان موضوعات کو سلیقے سے برت رہا ہے۔“ (ص:10۔رنجش)
افسانوی مجموعہ ’رنجش‘ میں شامل افسانے زندگی کے حقائق کو بیان کرتے ہیں۔ انھوں نے عورتوں کے مسائل کی بخوبی عکاسی کی ہے۔ ان کے نفسیاتی مسائل، جذباتی مسائل، ازدواجی مسائل، لڑکیوں کی شادی کے مسائل، ان کی عصمت و عفت کے مسائل کے ساتھ ساتھ خانگی مسائل، داخلی مسائل، خارجی مسائل، بے روزگاری کے مسائل اور اخلاقی اقدار کی پامالی کے مسائل۔
اخلاقی قدروں کے حوالے سے ان کا افسانہ ’قصور‘ انتہائی متاثر کن ہے جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ اس کے متعلق ڈاکٹر صالحہ رشید رقمطراز ہیں:
”حال ہی میں ان کا افسانہ ’قصور‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ افسانے کے شروع کے چار چھ جملوں نے ہی ذہن کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا۔ اس کا موضوع تو برسوں سے برتا جارہا ہے اور وہ ہے اخلاقی قدریں اور کردار وہی عام آدمی ہے جو اخلاقی قدروں کا پاسدار ہے۔“
’قصور‘ کا کردار ہوٹل میں ویٹر کی حیثیت سے کام کرتا ہے جو ظاہر ہے مفلوک الحال ہے لیکن اس کے ہاتھوں، گاہک کے کپڑے خراب ہو جانے کی وجہ سے وہ احساس ندامت کا اس قدر شکار ہوتا ہے کہ گاہک کا ہوٹل سے لے کر بس، کھانے، پینے تک کا کرایہ ادا کرتا ہے۔ اس سے مصنف کی باریک بیں نگاہوں اور عمیق مشاہدے کا اندازہ ہوتا ہے، جس کو انھوں نے ایک عمدہ پیرایہ اظہار عطا کیا اور متاثرکن لہجہ دیا۔ جس میں افسانہ نگار تو افسانہ نگار، قاری بھی محو ہوگیا۔ 
ان کی آواز میں تانیثیت کا لحن بھی سنائی دیتا ہے جو ’اجنبی‘، ’گریما‘، ’شب سرخاب‘، ’سودا‘، اور ’اعتماد‘ میں نظر آتا ہے۔ ’شب سرخاب‘ کا نسوانی کردار خود ایک عورت کے ظلم کا شکار ہوتی ہے۔ اس کا شوہر اور جیٹھانی اس کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ اور وہ اپنی سہیلی شبنم کے خون کا نمونہ اپنی جیٹھانی اجالا کے رگوں میں دوڈا دیتی ہے۔ اور اس کام کو شبنم ہی انجام دیتی ہے۔ کیونکہ شبنم ایڈز کی مریضہ ہے۔ افسانہ نگار نے شبنم کے مرض کا ذکر ایک جگہ کیا ہے، پھر آخر میں بھی اس کا ذکر کیا ہے کہ”شبنم ایڈز کی مریضہ تھی“ انھیں دوبارہ اس جملے کو رقم کرنے کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ یہ جملہ اضافی ہے۔ یہ نہ ہوتا تو افسانے کی تاثیر میں مزید اضافہ ہوتا۔ 
اسی طرح ’گریما‘ کا نسوانی کردار معاشرتی و سماجی رویوں کا شکار تھا، اس کا کالاپن لوگوں کے برے رویے اور بے رخی کی وجہ بن گیا تھا۔ یہ بے رخی اتنی زیادہ ہوگئی تھی کہ اس کی شادی میں بھی روکاوٹ کا باعث بنی اور پھر آخر میں ایک ضعیف العمر شخص سے رشتہ ازدواج میں منسوب کردی گئی۔ نتیجتاً کسی اجنبی کے جال میں پھنس کر زندگی اجیرن بنا بیٹھی۔ یہاں سے کہانی ایک نیا موڑ لیتی ہے۔ نسوانی کردار اس اجنبی سے بچھڑ کر ایک شیلٹر ہوم میں پہنچتا ہے جو شیلٹر ہوم کی جگہ ایک طوائف خانہ ہوتا ہے  وہاں سے بھاگ کر ایک پولیس والے کے ذریعہ کسی سادھو کے ہتھے چڑھ جاتی ہے، جہاں معزز افراد کا بھی آنا جانا ہوتا ہے۔ جو دن کی روشنی میں سفید ہوتے ہیں اور رات کی روشنی میں سیاہ۔ اس موضوع کو ابتدا سے ہی برتا جارہا ہے لیکن علیم کا انداز بیاں نئے عہد نئے زمانے کے مطابق ہے۔ جس میں محافظ ہی بربریت کا عمدہ شاہکار نظر آتے ہیں۔ایسے شاہکار ہمیں خدیجہ مستور اور ہاجرہ مسرور کے افسانوں میں ملتے ہیں۔ قرۃ العین حیدر کے یہاں بھی ایسے محافظ نظر آتے ہیں لیکن فرق اتنا ہے کہ وہ سارے محافظ فرقہ واریت کے خونی ماحول اور فسادات کی بہیمیت کی پیداوار تھے مگر آزادی کے ستر برسوں بعد جبکہ زمانہ اتنی ترقی کرچکا ہے، ہر طرف تعلیم کا بول بالا ہے، انسانیت نوازی کا شور و غوغا ہے۔ ایسے ماحول میں بھی لڑکیوں کی وہی حالت ہے جو ستر برس قبل تھی۔ لڑکیاں خودکشی کرنے پر مجبور ہیں، چاہے وہ تعلیم یافتہ شوہر ہو یا تعلیم یافتہ بھائی یا باپ، سبھی متشکک نگاہوں ہی سے عورتوں کی طرف دیکھتے ہیں، چاہے وہ دوسروں کو خیر کا درس ہی دیتے ہوں۔ اس کا ذکر ان کے افسانہ ّاجنبی‘ میں ملتا ہے۔ اس کا مرکزی کردار مسکان اور کبیر ہیں جو ازدواجی رشتے میں منسلک ہیں اور خوش و خرم زندگی گزارتے ہیں۔ کبیر اپنے شکی دوستوں کو سمجھاتا بھی ہے کہ بیوی کے معاملے میں سمجھداری سے کام لینا چاہیے لیکن خود اپنی بیوی پر اتنا شک کرنے لگتا ہے کہ بیوی بچے کو ساتھ لے کر خود کشی پر آمادہ ہو جاتی ہے۔ ان کے درج ذیل جملے کسی دانشمند انسان سے کم نہیں ہیں:
”کبیر نے اپنے شکی دوست کو سمجھاتے ہوئے کہا تھا۔ میں نے پڑھا تھا کہ رشتوں میں بھروسہ اور موبائی میں نیٹ ورک نہ ہو تو لوگ گیمز کھیلنا شروع کردیتے ہیں۔بھروسہ رشتوں کا حسن ہے۔ ایک دفعہ جب بھروسہ ٹوت جائے تو وہ اپنی خوبصورتی اور مضبوطی کھو دیتا ہے۔“
ایسے سمجھدار انسان کا اپنی بیوی پر شک کرنا اور اسے موت کے لیے مجبور کرنا کسی بھی طرح زیب نہیں دیتا۔وہ بھی بنا کسی تحقیق کے بیوی پر شک کرنا، بنا اس سے پوچھے اس پر جبر کرنا، تشدد کرنا، اور خود کے بچے کو دوسرے کا ٹھہرانا۔ یہ ساری چیزیں انتہائی سطحی انسان کی ہوسکتی ہیں۔ وہ بھی صرف اس لیے کہ اس کی بیوی نے کسی اجنبی کو راستہ بتادیا تھا۔ ہمارا سماج دوسروں کے لیے چاہے جتنا بھی روشن خیال ہوجائے مگر یہ روشن خیالی اپنے معاملے میں نو دو گیارہ ہوجاتی ہے۔مصنف نے اس افسانے کے ذریعہ بین السطور میں بہت کچھ کہنے کی کوشش کی ہے کہ ایک لڑکی جب شادی کر کے دوسرے سے منسلک کردی جاتی ہے تو وہ انتہائی مجبور اور بے سہارا ہوجاتی ہے، نہ تو وہ گھر جاسکتی ہے نہ باہر قدم رکھ سکتی ہے۔ ہر دو صورت میں اس کا حشر وہی ہوتا جو اس افسانے کے مرکزی کردار کا ہوا۔ افسانے کا بین السطور جہیز جیسی لعنت کو بھی ابھارتا ہے، جو والدین کی کمر توڑ دیتا ہے، جس کی بہترین عکاسی دیگر افسانہ نگاروں کے ساتھ ساتھ بلونت سنگھ کے افسانے ”جھرجھری“ میں ہوتی ہے۔ علیم کے زیر تذکرہ افسانے کا نسوانی کردار شوہر کی شکی نگاہوں کی تاب نہ لاکر خودکشی کو اس لیے ترجیح دیتا ہے کہ اس کے والدین اسے جہیز دینے کے بعد اس قابل نہیں ہوتے کہ دوبارہ بیٹی کی کفالت کر سکیں اور بلونت سنگھ کا کردار قرض میں اسقدر ڈوب چکا ہوتا ہے کہ بیٹی کی عین شادی کے دن اس کی موت پر اس کے جسم میں جھرجھری بھر جاتی ہے اس لیے کہ اب اسے قرض خواہوں کو قرض لوٹانے میں آسانی ہوگی۔
اب آتے ہیں ان کے کرداروں کی طرف، ان کے کردار بہت سیدھے سادے اور معصوم سے ہوتے ہیں۔ ان کے اندر کوئی کجی نہیں ہوتی۔ اگر کجی آتی بھی ہے تو معاشرہ اس کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ شاید مصنف اس سے یہ کہنا چاہتے ہوں کہ انسان فطری طور پرکج رو نہیں ہوتا بلکہ ہم جس ماحول کے پروردہ ہوتے ہیں یا جو چیزیں ہمارے اطراف میں ہوتی ہیں، اس سے ہم غیر فطری طور پر اخذ کرتے چلے جاتے ہیں یا تو ہمارے ساتھ برے سلوک ہمیں سیدھے راستے سے بھٹکا دیتے ہیں۔ جس طرح گریما بھٹک کر وحشی درندوں کے چنگل میں پھنستی ہے۔ یا پھر ’اجنبی‘ کی مسکان خودکشی کا آخری قدم اٹھاتی ہے۔
علیم صاحب منظر نگاری میں بھی یکتا ہیں۔ وہ جب  خوشی کے ماحول کی منظر کشی کرتے ہیں تو ساری فضا، نظارہء دلکش کا ایک خوشنما منظر بن جاتی ہے۔ اور جب غمگین فضا کو بیان کرتے ہیں تو قاری کے اندر حزن وملال طاری ہوجاتا ہے اور وہی مضمحل منظر اس کی نظروں کے سامنے رقصاں ہوجاتا ہے۔ چند سطریں نظر نواز ہیں:
”دن بھر زمین پر آگ کے شعلے برسانے کے بعد سورج اب ڈوب چکا تھا۔ ماحول میں گرم ہوا شامل ہوکر لو کے تھپیڑے دینے لگی تھی۔ ٹھہری ٹھہری سی ہوائیں تیز ہوکر جھونکوں میں تبدیل ہوگئی تھیں اور ان جھونکوں کی سنسناہٹ رگ وپے میں سرایت کررہی تھی۔ زمین پر پڑے سوکھے پتے لرز اٹھے تھے۔(افسانہ اعتماد)
مشینی زندگی کی برق رفتاری، زندگی کی گہماگہمی، انسانوں کی بھاگ دوڑ، شاہراہ عام کی بھیڑ بھاڑ کا منظر اور پھر اچانک بلڈنگ پر بیٹھے کبوتروں کی غٹرغوں اور نالی پر رینگتے کیڑوں کی منظر کشی کچھ یوں کرتے ہیں کہ ہم خود کو اسی کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں اور اچانک ٹھٹھک بھی جاتے ہیں۔ کچھ سطریں درج ذیل ہیں:
”زندگی بڑی تیز رفتاری سے بھاگ رہی تھی۔ چہارسو انسان دوڑ رہے تھے، گویا گاڑیوں کی ریس لگی ہوئی تھی۔ صبح کے اجلاے کب سے پھیل چکے تھے۔ صفائی والا اپنے کام میں مصروف تھا۔ بچے اسکول جارہے تھے۔چھن چھن کر آتی سورج کی کرنیں زمین پر رینگتی ہوئی پھیل رہی تھیں۔ بہت سے لوگ چہل قدمی کرتے ہوئے ادھر سے ادھر گزر رہے تھے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ ایک سرور بخش سنگیت سے بھی زیادہ بھلی معلوم ہورہی تھی۔ آسمان میں پرندوں کے غول نظر آرہے تھے۔ سامنے کھلی ہوئی بڑی نالی پر مکھیوں کا جھلڑ بھنبھنا رہا تھا۔قریب کی بلڈنگ پر بیٹھے چند کبوتر غٹرغوں کررہے تھے۔سڑکوں پر چل رہے راہ گیر ان قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہورہے تھے کہ اچانک بھاگتی دوڑتی زندگی تھم گئی۔“
درج بالا اقتباس ”حادثہ“ سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس میں صبح کی منظر کشی موجودہ عہد کی بھاگتی دوڑتی زندگی کے ساتھ کی گئی ہے۔ بچوں کا اسکول جانا، صبح کی روشنی کے ساتھ ہی گاڑیوں کی بھاگم بھاگ، موجودہ عہد کی مشینی زندگی کی عکاس ہے، ساتھ میں ہی انھوں نے کبوتر کی غٹر غوں، آسمان میں پرندوں کے ذکر کے ساتھ نالی پر بھنبھنا رہے کیڑوں کو قدرتی مناظر میں شامل کردیا کہ راہگیر ان مناظر سے لطف اندوز ہورہے تھے، گندے کیڑے قدرت کے مناظر کا حصہ کیسے ہو سکتے ہیں۔ ہاں پرندوں کی چہچہاہٹ، سورج کی روشنی، صبح کے فرحت بخش مناظر، خنک ہوائیں، قدرتی مناظر کا حصہ ہوسکتے ہیں، جس سے لوگ بھی لطف اندوز ہوں اور قاری بھی محظوظ ہو۔ شاید اس سے انھوں نے غریبوں کی بستی کی طرف اشارہ کیا ہو جہاں ایک مفلس شخص کے ساتھ حادثہ پیش آیا۔ 
افسانہ نگار مناظر کی عکاسی کے ساتھ ساتھ کردار کی داخلی اداسی کو چہرے سے عیاں کرنے کا ہنر بخوبی رکھتے ہیں جس سے قاری پہلے ہی جملے میں کردار کی مفلوک الحالی کو سمجھ جائے۔ درج ذیل جملہ دیکھیے:
”گنگا کے چہرے پر اداسی کی لکیریں کچھ زیادہ ہی نمایاں ہوگئی تھیں اور آنکوں کی ویرانی تو شکستہ کھندرات کا نمونہ پیش کررہی تھی۔ وہ چپ چاپ بیٹھی سوچوں میں گم تھی۔“
اس طرح ہم دیکھتے ہیں علیم صاحب افسانہ بیان کرنے کے ہنر سے پوری طرح واقفیت رکھتے ہیں۔ انھیں افسانے کو برتنے، انھیں لفظوں کا جامہ پہنانے، جملوں کی ساخت درست کرنے اور قاری کے دل پر تادیر نقش کرنے کے فن سے آگاہی ہے۔ ان کے بیان میں ندرت، سادگی، صفائی، سہل انگیزی حتی المقدور شامل ہے، جو ان کو منفرد شناخت دینے میں اہمیت کی حامل ہے۔

محمد علیم اسماعیل کا ’’قصور‘‘ اور انسانیت (گفتگو: طاہر انجم صدیقی ، مالیگاؤں، مہاراشٹر)

 محمد علیم اسماعیل کا ’’قصور‘‘ اور انسانیت

(گفتگو: طاہر انجم صدیقی ، مالیگاؤں، مہاراشٹر)


محمد علیم اسماعیل نے چھوٹے چھوٹے افسانوں سے لکھنے کا آغاز کیا اور رفتہ رفتہ ان کی شناخت ایک نوجوان افسانہ نگار کی بنتی چلی گئی۔ ناندورہ جیسے چھوٹے قصبے سے تعلق رکھنے والے محمد علیم اسماعیل کے دو افسانوی مجموعے ’’الجھن‘‘ اور ’’رنجش‘‘ منظرِعام پر آ کر ان کی شناخت میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔

افسانہ ’’قصور‘‘ ان کے دوسرے افسانوی مجموعہ ’’رنجش‘‘ میں شامل ہے۔

اس افسانے کی ایک خاص بات اس کا بیانیہ ہے۔ افسانے کی کہانی بالکل سیدھی سی ہے۔ اپنی نوکری کے لیے درپیش سفر کے درمیان افسانے کے مرکزی کردار سے افسانے کے راوی کی ملاقات ہوتی ہے۔ وہ کردار ایک ہوٹل میں ویٹر ہے۔ اس کا نام پتہ تک راوی کو معلوم نہیں ہوتا اس لئے افسانے کا قاری بھی اس کا نام و پتہ نہیں جانتا مگر افسانہ اس ڈھنگ سے بُنا گیا ہے کہ قاری اس کردار کو اچھی طرح جان لیتا ہے اور صاف محسوس ہوتا ہے کہ افسانے کے اس کردار کو اپنے ذہن کی سلیٹ سے کھرچ پانا قاری کے لئے اتنا آسان نہیں ہوگا۔

افسانے کا آغاز بہت اچھا ہے۔ اچھا آغاز بھی افسانے کی ایک اہم صفت ہے کہ اس طرح افسانہ نگار بڑی آسانی کے ساتھ  اپنی ابتدائی سطور سے ہی قاری کو اپنے ساتھ باندھ لیتا ہے۔ دیکھیں:

’’کیا وہ اس کا قصور تھا؟ یا وہ واقعہ محض ایک اتفاق تھا۔‘‘

تجسس فکشن کی جان ہے اور ایک افسانہ نگار اسی تجسّس کے ذریعے قاری کو اپنے افسانے کے انجام تک کھینچ لے جاتا ہے۔ قاری اسی تجسّس کے سبب افسانہ نگار کے ایک ایک لفظ کے سہارے کہانی کو سمجھتا ہے۔اس کے بیان کردہ مناظر سے لطف اندوز ہوتا ہے اور اس کے پیش کردہ واقعات سے اپنے ادبی ذوق کی تسکین کرتا ہے۔ محمد علیم اسماعیل نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنے افسانے کا آغاز کیا ہے اور قاری کو اپنے افسانے کے ساتھ جوڑ لیا ہے۔ مزید یہ کہ قصور کا دوسرا جملہ بھی سونے پر سہاگہ کا کام کرتا نظر آرہا ہے اور قاری کے تجسّس کو مزید ہوا دے رہا ہے تاکہ وہ سوچے کہ محمد علیم اسماعیل نے جس کے تعلق سے لکھا ہے وہ کون ہے؟ اس کے کس قصور کے تعلق سے انھوں نے لکھا ہے؟ دیکھیں:

’’وہ روز دوڑتا ہے، ٹکراتا ہے، گر جاتا ہے، پھر کھڑا ہوتا ہے اور ہانپتا رہتا ہے۔‘‘

یقینی طور پر قاری ان جملوں کی بدولت سوچنے پر مجبور ہوجائے گا کہ وہ کیوں روز دوڑتا ہے؟ کیوں ٹکراتا ہے؟ کیوں گرتا ہے؟ اور کیوں پھر سے کھڑا ہو کر ہانپنے لگتا ہے؟ اور قاری ان سوالات کے جوابات کی تلاش میں افسانے کو پڑھنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ قاری اس افسانے میں بیان کئے گئے واقعات کو اپنے ذہن کی سطح پر رو بہ عمل دیکھتا ہے اور افسانے کے مرکزی کردار سے پوری پوری ہمدردی کے جذبات اپنے دل میں موجزن پاتا ہے۔

اس افسانے کو پڑھتے ہوئے افسانے کے مرکزی کردار سے میرے دل میں جس قسم کی ہمدردی پیدا ہوئی اسے محسوس کرنے کے بعد مجھے کرشن چندر کا افسانہ ’’کالو بھنگی‘‘ یاد آگیا۔ ’’قصور‘‘ اور ’’الو بھنگی‘‘ کے کرداروں میں جو ایک بات مماثل ہے وہ قاری کے دل میں پیدا ہونے والی ہمدردی ہے بلکہ کرشن چندر کے کردار کا بھی تو نام پتا معلوم پڑ جاتا ہے لیکن محمد علیم اسماعیل کے افسانے کے کردار کا نام تک معلوم نہیں پڑتا اور قاری اپنے دل میں اس کے لیے ہمدردی کے جذبات صاف طور پر محسوس کرتا ہے۔ یہ محمد علیم اسماعیل کے فن کا کمال ہی تو ہے۔

انھوں نے ایک چھوٹی سی بات کو افسانہ بنا دیا ہے اور بڑا تاثر انگیز افسانہ بنایا ہے۔ افسانہ پڑھ لینے کے بعد جی کرتا ہے کہ افسانے کے مرکزی کردار سے ملاقات کی جائے محمد علیم اسماعیل نے ’’قصور‘‘ کے ابتدائی پیراگراف میں ایک جگہ لکھا ہے:

’’اگر میرے اختیار میں ہوتا یا میرے پاس کوئی جادو ہوتا تو میں وقت کی طنابیں کھینچ کر وقت کو پیچھے لےجاتا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیتا۔ پھر خوب باتیں کرتا۔ اس نے تو میرے قدموں تلے اپنی آنکھیں بچھا دی تھیں اور میں ان کو روندتا ہوا گزر گیا۔‘‘

راوی کا یہی احساس قاری کا احساس بن جاتا ہے اور وہ کچوکے قاری اپنے دل پر بھی محسوس کرتا ہے جو افسانے کے راوی کے دل پر لگتے ہیں اور قاری صاف طور پر محسوس کرتا ہے کہ افسانے کے اس مرکزی کردار کے ساتھ کچھ تو بھی غلط ہوا ہے تبھی تو افسانے کا راوی بھی اس کے لیے اپنے دل میں اس قسم کے ہمدردانہ جذبات کو محسوس کر رہا ہے۔ بلکہ اس اقتباس کے آخری جملے کو پڑھ کر یقین کر لیتا ہے کہ راوی نے اس کردار کے ساتھ بڑی بے اعتنائی برتی ہوگی اور اس خلوص کے پیکر کے جذبات کو مجروح کر گیا ہو گا۔ وہ جملے دوبارہ دیکھیں:

’’اس نے تو میرے قدموں میں اپنی آنکھیں بچھا دی تھیں اور میں ان آنکھوں کو روندتا ہوا آگے بڑھ گیا۔‘‘

محمد علیم اسماعیل کا مذکورہ بالا بیان بڑا متاثرین بیان ہے۔ پر بیان ہے۔ یہ بیان راست دل پر چوٹ کر رہا ہے۔ کسی کا خلوص سے آنکھیں بچھانا اور کسی کا ان آنکھوں کو روند کر گزر جانا ایک حساس دل کو متاثر کرنے والا بیان ہے۔

اس تاثر انگیز بیان کے بعد افسانے کی سطور بتاتی ہیں کہ افسانے کا مرکزی کردار ایک ہوٹل میں ویٹر ہے اور افسانے کا راوی اسی ہوٹل میں کھانا کھانے کے لئے بس سے اترتا ہے لیکن بریانی کی پلیٹ راوی پر گر جانے کی وجہ سے راوی کے واش روم میں صفائی کرنے کے درمیان بس اسے چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔ حالانکہ آسانی سے بس راوی کو چھوڑ کر چلی جاتی ہے اسی آسانی سے افسانے کے اس واقعہ پر اعتراض بھی درج کیا جاسکتا ہے۔

بس کے چھوٹ جانے کے بعد اس ویٹر کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور وہ اس کا کفارہ ادا کرنے کے لیے کسی ہوٹل کے کمرے میں ہی راوی کو دوسری بس کے آنے تک ٹھہر جانے کا انتظام اپنے ذاتی خرچ سے کر دیتا ہے۔

 دوسری بس کے آجانے پر جب راوی روم کا کرایہ ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے معلوم پڑتا ہے کہ وہی ویٹر اس کا کرایہ ادا کرچکا ہے  پھر وہ بس میں بیٹھ جاتا ہے اور راوی ویٹر کے ہنس ہنس کر باتیں کرنے کا مطلب احسان جتانا سمجھتا ہے اور وہ اسے ٹالنے کے لئے اس سے سیب منگواتا ہے۔

ویٹر بغیر رقم لئے سیب لانے کے لئے دوڑ پڑتا ہے مگر اس کے آنے سے پہلے ہی بس چل پڑتی ہے۔ ویٹر سیب بھری کیری بیگ لئے بس کے پیچھے پیچھے بھاگنے لگتا ہے۔ بس کی رفتار بڑھ جاتی ہے اور اسے پکڑ لینے کے جوش میں ویٹر دھڑام سے گرجاتاہے۔ سیب بکھر جاتے ہیں اور بس میں موجود کنڈیکٹر کو جب راوی اپنا کرایا دینا چاہتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ وہی ویٹر بس کا کرایہ بھی دے چکا ہے۔

تب شرمندگی کا کھیل راوی کے لئے شروع ہوتا ہے اور یہی احساسِ ندامت افسانے کو انسانی نفسیات کا مظہر بنا کر قاری کے دل میں اس ویٹر کے لئے ہمدردی کے جذبات پیدا کرجاتا ہے جس کا اسے نام، پتہ تک معلوم نہیں ہوتا۔

محمد علیم اسماعیل اپنے ’’قصور‘‘ کے توسط سے اپنے قاری تک یہ پیغام پہنچانے میں کامیاب ہیں کہ انسانیت چھوٹوں اور کمزوروں سے ہمدردی کا نام ہے۔