(افسانوی مجموعہ ’’الجھن‘‘ سے)
بڑی تیزی سے اُبھرتا ایک باشعور افسانچہ نگار
ڈاکٹر ایم۔اے۔حق
صوبہ مہاراشٹر کے ناند ورہ،ضلع بلڈانہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان فنکار، محمد علیم اسماعیل نے اُردو کی ایک مشکل ترین صنف ”افسانچہ“ کے بال و پر سنوارنے کا دل میں پکّا ارادہ کر لیا ہے اور ایک منصوبہ بند طریقے سے اس میدان میں کامیاب ہونے کے لیے اپنی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اُن کی پہل اس لحاظ سے بالکل منفرد ہے کہ اُنھوں نے دوسرے افسانچہ نگاروں کی طرح بغیر کسی تیّاری کے افسانچے تحریر کرنا شروع نہیں کر دیے بلکہ پہلے افسانچے کے فن پر لکھی گئی کتابوں کا مطالعہ کیا،ملک کے معروف افسانچہ نگاروں کی تصنیفات کا گہرائی سے جائزہ لیا۔ اُس کے بعد اُنھوں نے ملک کے نامور افسانچہ نگاروں سے رابطہ قائم کیا اور اُن سے افسانچے کے رموز ِ اوقاف سمجھنے کی کوشش کی۔
اُن کی پہلی تحریر،مضمون”علامہ اقبال کی باتیں“ ۳۱۰۲ میں اُردو ٹائمز ممبئی میں شائع ہوئی۔ اس پہلی کامیابی نے اُنھیں بے انتہا خوشی عطا کی۔اور پہلا افسانہ ”خیالی دنیا“ ۶۱۰۲ میں ممبئی اردو نیوز میں شائع ہوا۔انھوں نے ۵۱۰۲ سے ہی افسانچوں پر محنت شروع کردی تھی۔
جب اُنھیں یقین ہو گیا کہ اُن کی تصنیف کردہ تخلیقات اُردو ٹائمز ممبئی،انقلاب ممبئی اور ممبئی اردو نیوز جیسے اخبارات کی زینت بن سکتی ہیں تو کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُنھوں نے مکمل دو سال تک اپنے افسانچے کسی اخبار یا رسالے میں اشاعت کی غرض سے نہیں بھیجے۔Slow and steady wins the race کی معنویت پر عمل کرتے ہوئے اُن کا پہلاافسانچہ ایک انٹرنیشنل رسالے میں، ۷۱۰۲ میں شائع ہوا،جو معیاری افسانچے شائع کرنے میں عالمی سطح پر مشہور ہے۔اب محمد علیم کی افسانچہ نگاری نے رفتار پکڑ لی ہے۔لیکن اُن کی تیز رفتاری نے افسانچے کے معیار کو کبھی مجروح نہیں کیا۔یہی وجہ ہے کہ زیر نظر مجموعہ ”الجھن“ میں اُن کے افسانچے اس صنف کے شرائط پر کھرے اُترتے ہیں۔زبان و بیان کو اور پر اثر بنانے کی ضرورت ہے۔مجھے قوی اُمید ہے کہ مشاہدے کی آنچ میں تپ کر اُس میں مزید نکھار آ جائے گا۔
No comments:
Post a Comment