Monday, 7 December 2020

محمد علیم اسماعیل بطورافسانہ نگار---- تحریر: مخدوم عرفان طاہر (جھنگ، پاکستان)

 محمد علیم اسماعیل بطورافسانہ نگار

تحریر: مخدوم عرفان طاہر (جھنگ، پاکستان)


افسانہ ایک ایسی فکری کہانی ہوتی ہے جس میں کسی ایک خاص واقعہ اورکسی ایک خاص کردار پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ اکیسویں صدی کے اردو افسانے میں محمد علیم اسماعیل کی حیثیت ایک ہمہ جہت تخلیق کار کی ہے۔ وہ جتنے اہم افسانہ نگار ہیں، اسی قدر ایک افسانچہ نگار کے طور پر بھی فنی عظمت کے مالک ہیں۔ وہ ذہنی، جذباتی اور فطری مسرت کی حفاظت کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔ ان کا شمار نمایاں مقام رکھنے والے ادیبوں میں ہوتا ہے۔ علیم اسماعیل نے اپنے افسانوں اور افسانچوں کے ذریعے معاشرے کی چھوٹی چھوٹی برائیوں اور مسائل کو قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔ وہ مہاراشٹر میں شعبہئ تعلیم سے منسلک ہیں اور درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اپنے فن پاروں کے ذریعے انھوں نے ثابت کیا کہ اُن میں افسانہ و افسانچہ نویسی کے جراثیم موجود ہیں اور اس فن میں وہ بھرپور صلاحیت کے مالک ہیں۔ انھوں نے روایتی افسانے بھی لکھے اور تکنیکی تجربے بھی کیے۔ اُن کے افسانوں کی خاص بات یہ ہے کہ پڑھنے والا افسانہ شروع کرتے ہی ان کی گرفت میں آ جاتا ہے اور پھر مکمل افسانہ پڑھے بغیر رہ نہیں سکتا۔ ان کے افسانوں کا مطالعہ کرنے کے دوران قاری مختلف کیفیات سے گزرتا ہے۔ اُن کے موضوعات کا دائرہ کافی وسیع ہے اور ان موضوعات میں جدت و ندرت ہے۔
علیم اسماعیل نے اپنا پہلا مضمون ’علامہ اقبال کی باتیں‘، پہلا افسانہ ’خیالی دنیا‘ اور افسانچہ ’شرمندگی‘ سے لکھنے کا آغاز کیا۔ اب تک اُن کی دو تصانیف منظر عام پر آئی ہیں، جن میں ’الجھن‘ (افسانے و افسانچے) اور ’رنجش‘ (افسانے) شامل ہیں۔ ادبی خدمات پر انھیں مہاراشٹر کی رساستی تنظیم اموس (AMUSS) نے ”طالبِ ادب ایوارڈ 2018“ سے نوازا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ انھیں دیگر انعامات و اعزازات سے بھی سرفراز کیا گیا ہے۔ علیم اسماعیل نے اپنے افسانوں میں دیہی زندگی کے حالات، واقعات اور مسائل، وکیل صاحب کا درد، متوسط طبقے کی کش مکش، مرد کی نفسیات اور معاشرتی ناہمواریاں جیسے اہم موضوعات کو قلم بند کیا۔ان کی تحریریں اپنے وجود کا راز جاننے کی جستجو ہیں۔اس کوشش میں وہ معاشرے، سماج کا درد، انسانوں کے افسردہ چہرے اور مشکل حالات سے گزرتے ہوئے، وقت کے چہرے میں خود کو تلاش کرتے ہیں۔ ان کی کہانیاں ایک نیا روپ لے کر ظاہر ہوتی ہیں اور وہ کہانیاں آج کے زمانے کی تصویر کشی اس طرح کرتی ہیں کہ معاشرے کے مسائل ایک متاثر کن اسلوب میں ہمارے سامنے کھڑے نظر آتے ہیں۔ جن میں سے کچھ مسائل سماج میں جابجا نظر آتے ہیں تو کچھ ان کے تجربات بھی ہیں۔ ان کے اندر معاشرتی اصلاح کا جذبہ ہے۔ انھوں نے حقیقت کی آنکھ سے انسان اور انسانی مسائل کو دیکھا اور ایک سچے فنکار کے مانند انھیں قارئین کے رو بہ رو پیش کیاہے۔مزید انھوں نے علم، بصیرت، مشاہدات اور عمدہ ذوق سے اپنے فن کو استوار کیا ہے۔
محمد علیم اسماعیل کی مختلف خوبیوں میں، ان کے افسانوں میں سادہ زبان کا استعمال بھی ہے۔ انھوں نے دلکش اسلوب کا استعمال کرتے ہوئے، سادہ زبان کا استعمال کیا تاکہ ہر قاری بآسانی ان کی کہانیوں کا مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ بھی سکے۔ انھوں نے اکثر کرداروں کے مکالمے ان کی معاشی اور معاشرتی حیثیت کے مطابق لکھے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ ان کے لیے مکالمے ان کے لہجے اور تلفظ میں ہی تخلیق کیے ہیں، جو اُن کے زبردست مشاہدے کا غماز ہے۔ علیم اسماعیل نے اپنے افسانوں میں زندگی کے ہر دو پہلوؤں المیہ و طربیہ کو سمو دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں ہر طبقے کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح مجموعی حوالے سے دیکھا جائے تو اُن کے ہاں جذبات نگاری بھی متاثر کرتی ہے۔ ان کا فن تنقید ِحیات ہے اور ترغیب و اصلاح بھی۔ علیم اسماعیل کے افسانے اُن کے اخلاقی، معاشرتی اور سیاسی شعور کی ترجمانی کرتے ہیں، اور یہی وہ معاشرتی اور سیاسی شعور ہے جس نے علیم اسماعیل کو حقیقت پسند افسانہ نگاروں کی صف میں کھڑا کر دیا ہے۔
حقیقت نگاری سے مراد ایک شے کو اُس کے حقیقی خدوخال کے ساتھ بیان کرنے کے ہیں۔ حقیقت نگاری میں چیزوں کو اِس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ وہ زندگی کا جزومعلوم ہوتی ہوں۔ محمد علیم اسماعیل کے افسانے کا ہر موضوع حقیقت کا آئینہ دار ہے۔ افسانہ ’مردہ پرستی‘ سے اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
”عارف کو رسالے سے جواب ملا: آپ نے بہت اچھامضمون قلم بند کیا ہے، لیکن ہمارے یہاں زندہ شخصیات پر مضامین شائع نہیں ہوتے۔“
نہ جانے کس طرح ہمارے ذہنوں میں ایک بات بیٹھ گئی ہے کہ جب تک کوئی فنکار زندہ ہے تو اسے ہاتھ نہیں لگانا، اس کے فن سے قارئین کو متعارف نہیں کروانا۔ دراصل یہ ناقدین کی ذمے داری ہے کہ وہ فنکار کی خدمات کا اعتراف اس کی زندگی میں کریں۔ لیکن یہاں تو یہ رواج ہے کہ بعد مرنے کے ہوتی ہے ایسی پذیرائی کہ بس۔ علیم اسماعیل نے، رنجش، قصور، چھٹی، ریجیکٹ، اجنبی، مولوی صاحب، ادھورے خواب، سودا، ظالم جیسے اہم افسانوں میں معاشرے کے خاص پہلوؤں پر قلم اٹھایاہے۔
افسانہ ’چھُٹّی‘ میں ایک وکیل صاحب کا کردار دکھایا گیا ہے، جو گھر کے سربراہ ہیں۔ وہ اپنے گھر، بیوی بچوں کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنے بھائیوں کی تعلیم و تربیت پر بھی خاصی توجہ دیتے ہیں۔ وکیل صاحب کو چونکہ مرکزی کردار کے طور پر دیکھایا گیا ہے، جو غریبوں اور مستحق لوگوں کے کیس کم فیس پر لڑتے ہیں۔ وکیل صاحب کو ایک بڑی بیماری لاحق ہو جاتی ہے، جس کے بعد وہ کافی عرصہ اسپتال میں زیر علاج رہتے ہیں۔ وہ جینے کی حسرت کے ساتھ گھر جانے کی فکر بھی کرتے ہیں۔ اُن کی خواہش ہوتی ہے کہ جلد چھٹی ملے اور وہ گھر جائیں۔ چھٹی تو ملتی ہے مگر وہ ہمیشہ کے لیے سب سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ نورالحسنین اس کے بارے میں لکھتے ہیں:
”لیکن محمد علیم نے اس افسانے میں جو کرب کی فضا باندھی ہے وہ حقیقت سے اس قدر قریب ہے گویا یہ افسانہ نہیں محمد علیم کی زندگی ہی میں رونما ہونے والا کوئی حقیقی سانحہ ہو۔“
اس کردار کے ذریعے علیم اسماعیل نے انسانی جذبات کو فطری انداز اور تخلیقی آہنگ میں پیش کیا ہے۔ وکیل صاحب کے کردار میں انسان اور انسانیت کی آواز ایک صدائے باز گشت بن جاتی ہے۔ اس افسانہ کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ کہانی نہیں حقیقت ہے جسے علیم اسماعیل نے افسانوی رنگ میں رنگ دیا ہے۔ افسانے سے یہ جملہ دیکھیے:
”دعا کرو میں اچھا ہو جاؤں نہیں تو میرے بچے تنہا رہ جائیں گے۔“
وکیل صاحب کئی جذبوں سے سرشار نظر آتے ہیں۔ لیکن وہ اپنی بے شمار آرزوئیں لیے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔افسانہ چھُٹّی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے پروفیسر بیگ احساس فرماتے ہیں:
”علیم اسماعیل کا افسانہ ’چھُٹّی‘ پڑھا۔ مجھے اچھا لگا۔ علیم نے دل نکال کر رکھ دیا ہے۔ اور خون دل میں انگلیاں ڈبو کر یہ افسانہ لکھا ہے۔ جن سے جذباتی تعلق ہوتا ہے وہ خود لکھوا لیتے ہیں۔ ایسے کئی نوجوان ہیں جنھوں نے گھریلو ذمے داریاں نبھاتے نبھاتے خود کو ختم کر لیا ہے۔ ایک تو بچنے کی امید نہیں، پیسہ خرچ ہو جانے کا اذیت ناک احساس، نا قابل برداشت تکالیف، ایک ایک عضو کا دھیرے دھیرے بے کا ر ہو جانا، قسطوں میں مرنا آسان نہیں ہوتا۔ علیم نے متوسط گھرانے کے کرب کی سچی تصویر کشی کی ہے۔ ایک بھائی کو اس سے بہتر خراجِ عقیدت پیش نہیں کیا جا سکتا۔ مبارک باد دوں کہ پرسہ، سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ ذاتی صدمہ بہترین ادب کی تخلیق میں ممد و معاون ہوتا ہے۔“
افسانہ ’قصور‘ میں ایک غریب انسان کی کہانی پیش کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی غلطی کا کفارہ کس طرح ادا کرتا ہے۔ اور یہی اس افسانے کی بڑی خوبی ہے۔ افسانے کا مرکزی کردار ایک بھلا مانس نوجوان لڑکا ہے۔وہ نوجوان ایک ہوٹل میں ویٹر کا کام کرتا ہے۔ دوران ویٹرنگ وہ ایک مسافر پر بریانی کی پلیٹ گرا دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے مسافر کے کپڑے خراب ہو جاتے ہیں۔ مسافر اپنے کپڑے صاف کرنے جاتا ہے تو اس کی بس چھوٹ جاتی ہے۔ جس سے اس مسافر کو ویٹر پر غصہ آتا ہے۔ ویٹر کے اصرار کرنے پر مسافر وہاں رک جاتا ہے، اور صبح اٹھ کے جب بل دینے کے لیے کاونٹر پر پہنچا تو معلوم ہوتا ہے کہ ویٹر نے بل ادا کر دیا ہے۔ ویٹر محسوس کرتا ہے کہ اس کی وجہ سے بس چھوٹ گئی ہے۔ اس لیے وہ اپنے آپ کو قصور وار سمجھتا ہے۔ افسانہ سے اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
”میں نے کہا۔ ”تم آگے بڑھو میں آتا ہوں۔“
میں نے ہوٹل منیجر کو روم کا کرایہ دینا چاہا لیکن اس نے انکار کر دیا، وجہ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اسی ویٹر نے کرایہ ادا کر دیا ہے۔“
ویٹر اس واقعے کا قصوروار اپنے آپ کو گردانتا ہے۔اسے لگتا ہے کہ شرٹ پر بریانی گرنے سے ہی مصنف کی بس چھوٹی۔ اسے کیا معلوم کہ یہ سارا کھیل قسمت کا ہے۔ افسانہ سے اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
”نہیں صاحب میری وجہ سے آپ کی بس چھوٹ گئی، یہ میں نہیں لوں گا۔“
ویٹر ایک غریب فیملی سے تعلق رکھتا ہے، مگر اپنی غلطی کا کفارہ ادا کرنے میں کافی حساس نظر آتا ہے۔ افسانے کی خوبی یہ ہے کہ علیم اسماعیل نے کرداروں کو بڑی مہارت سے پیش کیا ہے۔ اس افسانے کے پس منظر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ علیم اسماعیل منظر نگاری میں مہارت رکھتے ہیں۔ ویٹر اگر چاہتا تو اس حادثے کو ایک چھوٹا سا واقعہ سمجھ کر اسے اتنی اہمیت نہیں بھی دے سکتا تھا، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو راوی اس کا کیا کر سکتا تھا، کچھ بھی نہیں۔ کچھ لمحوں کے بعد راوی یہ معاملہ بھول جاتا، مگر ویٹر کے اندر احساس ندامت گھر کر گیا۔ اور ایک کہانی وجود میں آئی۔ علیم اسماعیل نے جس طرز میں ویٹر کے کردار کو پیش کیا ہے، آج کے دور میں احساس کا یہ جذبہ شاذ و نادر ہی دکھائی دیتا ہے۔ لیکن جو لوگ حساس ہوتے ہیں، ان کے دل نرم ہوتے ہیں۔
’رنجش‘ افسانے میں دوستی کی مثال پیش کی گئی ہے۔ جس کا مطالعہ کر لینے کے بعد بھی قاری اسی افسانے کے اردگرد گھومتا رہتا ہے۔ کہانی میں تجسّس کا عنصر موجود ہے۔ کاظم کی طبیعت خراب ہونے کے باوجود کاشف کا سوئے رہنے کا ناٹک کرنا اور اس واقعے کی منظر نگاری قاری کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ کاظم مرنے سے قبل اپنی دوستی کے فرائض سرانجام دیتا ہے۔
”کاشف بھیا، جلدی چلیے، آپ کے دوست کاظم کی طبیعت بہت خراب ہو گئی ہے۔ لیکن کاشف نہیں اٹھا، نہ ہی دروازہ کھولا، وہ خاموش اپنے نرم بستر پر پڑا رہا۔“
اچھا دوست وہ ہوتا ہے جو اپنے دوست کا سچا خیر خواہ ہو۔ وہ ہمیشہ اپنے دوست کی بھلائی سوچتا ہو۔
’سودا‘ افسانے میں علیم اسماعیل نے سماج کی بے بسی اور افسردگی کے پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی معاشرے کی کج روی کے خلاف آواز بھی اٹھائی ہے۔ علیم اسماعیل کے یہاں زندگی کی کڑوی حقیقت اور اس کے منفی نتائج بھی بڑی بے باکی سے بیان ہوئے ہیں۔ وہ معاشرہ کی غلط پالیسیوں سے نفرت نہیں کرتے بلکہ انھیں قریب سے دیکھتے ہیں اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہیں۔ افسانہ ’سودا‘ میں عبرت ناک واقعہ پُر اثر اسلوب میں بیان ہوا ہے۔ افسانے سے یہ چند سطریں دیکھیں:
”خبردار جو مجھے ہاتھ لگایا تو۔
میں ہکابکا رہ گیا اور حیرت سے پوچھا۔ کیوں؟
اس نے کہا۔ میں کسی اور سے پیار کرتی ہوں۔“
ہم اس معاشرہ میں سانسیں لے رہے ہیں، جہاں عورت کی شادی اس کی مرضی کے خلاف کر دی جاتی ہے۔ جب ہم اپنے معاشرے پر نظر کرتے ہیں تو شادی بیاہ کے حوالے سے یہ بھی نظر آتا ہے کہ عورتوں کو یہاں تک بے خبر رکھا جاتا ہے کہ ان کی شادی ایک ایسے شخص کے ساتھ کی جارہی ہے جو انتہائی بوڑھا ہے۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ مذکورہ شخص زمین دار اور مال دار ہے۔ اور اگر کسی نہ کسی طرح لڑکی کو یہ علم ہوجاتا ہے تب بھی اسے اس ظلم و بربریت کے خلاف چیخنے چلانے اور احتجاج کرنے کا حق حاصل نہیں ہے اور وہ لڑکی اپنے والدین کے مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ ماں باپ کی ضد کی خاطر لڑکی شادی کرنے پر رضامند تو ہو جاتی ہے مگر بعد ازاں بے شمار مسائل میں گھر جاتی ہے۔ محمد علیم اسماعیل نے معاشرے کے تلخ حقائق کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس کا زہر، قطرہ قطرہ اپنے اندر محسوس کیا۔ اپنے قلم کے ذریعے سماج سے لڑنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے۔ قلم سے نکلے ہوئے لفظ موتی بھی ہوتے ہیں اور خنجر بھی۔ افسانوی مجموعہ’رنجش‘ کے سبھی افسانے کافی متاثر کرتے ہیں۔ اپنے بیش تر افسانوں میں انھوں نے رمزیہ انداز استعمال کیا ہے۔ بہر حال علیم اسماعیل کے یہاں کر دار، پلاٹ، اسلوب حقیقت نگاری، وحدت تاثر، زبان و بیان اور دیگر فنی محاسن ان کی فنِ افسانہ نگاری پر دسترس کے غماز ہیں۔
٭٭٭٭٭
 
x

1 comment:

  1. علیم اسماعیل ہماری نسل کے ایک بہت ہی قابل افسانہ نگار ہیں ـ آپ نے ان کی فکر و فن پر بے لاگ گفتگو کر کے اعتراف کیا ہے کہ عصر حاضر میں کہانی لکھی جا رہی اور علیم اسماعیل جیسے نوجوان کہانی کا علم اٹھائے آگے ہی آگے بڑھتے جا رہے ہیں ـ

    ReplyDelete